Anchal By Zarish Noor Readelle50111 Episode 5
Rate this Novel
Episode 5
ناول ””دھانی آنچل ““
از قلم زرش نور
قسط نمبر ٥
رات اپنے پر پھیلاۓ ہر چیز کو تاریکی میں لے چکی تھی۔بڑی حویلی میں خاموشیوں کا راج تھا۔آدھی سے زیادہ رات گزر چکی تھی۔
لیکن ایک وہ تھا جس کا چین سکون ،نیند سب کچھ اس سے روٹھ گیا تھا۔پچھلے دو گھنٹے سے وہ سیگریٹ پہ سیگریٹ پھونک رہا تھا۔
کل اس کی سامعیہ چوہدری سے منگنی تھی۔جب کہ اس نے اپنی زندگی میں تو ایک روگ پال لیا تھا۔آنکھیں بند کرتا تھا تو سامنے بس دو ڈری سہمی سی آنکھیں آ جاتی تھی۔
اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے پڑ گٸے تھے ۔جیسے وہ سالوں کا بیمار ہو۔
جب سے وہ اس حویلی سے ہو کہ گٸی تھی۔اس دن سے ازلان چوہدری کی راتیں ایسے ہی جاگتے ہوۓ گزر رہی تھی۔جوں ہی آنکھیں بند کرتا سامنے کالی چادر سے جھانکتی دو نم آنکھیں چھم سے اس کے تصور میں اتر آتی۔ اور پھر اس کے دل میں ایک درد سا جاگ اٹھتا۔وہ کہیں دن سے ڈیرے پر بھی نہیں گیا تھا۔وہ اس دن کو کوس رہا تھا ۔جس دن اس نے پاشا کو اس لڑکی کو لانے کے لٸے کہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج پوری حویلی کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ازلان چوہدری کی منگنی کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی اعلان کیا گیا کہ اس بار وہ الیکشن بھی لڑے گا۔
سیف نے آج کافی دنوں کے بعد ازلان کو دیکھا تو حیران رہ گیا۔
یار تجھے کیا ہو گیا ہے؟
مجھے کیا ہو گا ؟ اس نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔
یہ آنکھوں کے گرد حلقے یہ رف حلیہ ۔کچھ تو ہو اہے کیا؟
ارے یار تجھے ویسے ہی وہم ہو رہا ہے کچھ بھی تو نہیں ہوا ہے۔
چلو تم کہتے ہو تو مان لیتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الیکشن کی تیاریا ں پورے زوروشور سے چل رہی تھی۔ہر طرف بینرز اور پارٹی جھنڈے لہرا رہے تھے۔ازلان چوہدری سب کچھ بھلا کر الیکشن کمپٸین میں جھٹ گیا تھا ۔گھر گھر جا کر لوگوں سے ووٹ مانگ رہا تھا۔
لوگوں کی ہر طرح کی مدد کی یقین دہانی کرواٸی جا رہی تھی۔
مقابل امیدوار بھی بہت مضبوط تھا۔ازلان کے مقابلے میں اس کا ٹریک ریکارڈ بہت آچھا تھا۔وہ ایک منجھا ہوا سیاستدان تھا۔
دونوں ہی ایک دوسرے پر برتری لے جانے کے چکر میں بھڑ چڑھ کر دعوے اور وعدے کر رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشال اپنی ہی دنیا میں مست تھی۔وہ اب سکول جاتے ہوۓ بہت احتیاط سے جاتی تھی۔اس نے ضد کر کے سیف کو مجبور کیا تھا کہ اب شام کے وقت وہ اسے لینے خود آیا کرے۔
وہ ایک پراٸیوٹ سکول میں ٹیچنگ کرتی تھی۔جو کہ ایک این جی او چلا رہی تھی۔اس کے علاوہ ا س این جی او کے زریعے سے گاٶں میں ایک ڈسپنسری بھی موجود تھی ۔جو لوگوں کو صحت کی فری سہولیات دیتی تھی۔
آج الیکشن کو صرف دو دن رہ گٸے تھے۔اس لٸے انہیں سکول میں چھٹیاں دے دی گٸیں تھیں۔
وہ کافی دیر سیف کا انتظار کرتی رہی ۔لیکن وہ نہیں آیا تو اللہ کا نام لے کر اکیلے ہی چل پڑی۔
آج تو جگہ جگہ لوگ کھڑے تھے۔کوٸی کس امیدوار کے بینرز لگا رہا تھا ۔اور کوٸی کسی کہ سب اپنے اپنے پسندیدہ امیدوار کی حمایت میں میدان میں کود پڑے تھے۔اور لوگوں کو کینوینس کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کا امیدوار ہی اہل ہے۔
وہ اپنے گھر سے تھوڑ ا دور تھی۔جب اس کے پاس ایک بلیک مرسڈیز آ کر رکی۔مشال ڈر کر پیچھے ہو گٸی۔
تبھی ڈراٸیونگ سیٹ والی ساٸیڈ کا دروازہ کھلا تو سامنے گرے کرتا شلوار میں ملبوس آنکھوں پر سن گلاسز چڑھاۓ ازلان چوہدری نیچے اترا ۔گلاسز اتار کر ہاتھوں میں لیتے ہوۓ ۔اپنی گہری بھوری آنکھیں اس کے وجود پر جما دیں۔
مشال نے اپنے آس پاس دیکھا لیکن اس وقت وہاں پر کوٸی بھی نہیں تھا۔اسے عجیب خوف محسوس ہوا۔
ازلان چوہدری نے اس کی طرف قدم بڑھاۓ تو وہ الٹے قدموں چلنے لگی۔
اس کے ڈر اور گھبراہٹ پر اس کے چہرے پر ایک گہری مسکراہٹ آ گٸی۔اس نے بڑی ادا سے ایک طرف اپنا سر جھٹکا۔
تو مس مشال منصور کیا آپ کا ووٹ مجھے ملے گا۔
مشال نے نفی میں سر ہلایا۔
کوٸی بات نہیں جیت تو میری ہی ہو گی۔لیکن یہ جو دل ہے نہ یہ ہمک ہمک کر بس آپ کی طرف دوڑتا ہے۔
مشال نے حیران اور پریشان نظروں سے اسے دیکھا۔
خیر ابھی چلتا ہوں لیکن ہاں وعدہ رہا جیت کر پہلی ملاقات آپ سے ہی ہوگی۔
یہ کہہ کر وہ گاڑی میں بیٹھا اور زن سے گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الیکشن والے دن سارا دن مشال گھر میں ہی بند رہی۔سیف کے پوچھنےپر اس نے بتایا کہ وہ اریبہ کے ساتھ جا کر ووٹ دے آٸی ہے۔
آج وہ اریبہ کے گھر آگٸی تھی۔کیونکہ یہ تو طے تھا کہ سیف بھٸیا نے آج گھر نہیں آنا ہے۔وہ ہر نماز کے ساتھ دعا کر رہی تھی۔اللہ کرے ازلان چوہدری تمہیں شکست ہو۔
لیکن ساری دعاٸیں کہاں قبول ہوتی ہیں۔
رات کو نو بجے ہی گاٶں میں جشن شروع ہو گیا تھا۔ازلان چوہدری کی جیت کا جشن۔
ازلان چوہدری کی جیت کے بعد پورے گاٶں میں میٹھاٸیاں تقسیم کی جا رہی ہیں۔اور ایک تم ہو جو منہ لٹکاۓ بیٹھی ہو۔
جی ہاں کیونکہ میں نے اس غنڈے ازلان چوہدری کو ووٹ نہیں دیا ہے۔
ششش ۔۔۔۔۔چپ بالکل چپ ۔۔۔۔۔جانتی ہے یہ بات تمہارے سیفی بھاٸی کے کانوں میں پڑھ گٸی تو تمہاری خیر نہیں ہے۔
جی جانتی ہوں لیکن یہ بھی جانتی ہوں انہیں آج گھر آنےکی فرصت کہاں سے ملے گی۔ آج ان کے چوہدری ازلا ن صاحب الیکشن جو جیت گٸے ہیں۔
ویسے اتنا آچھا تو ہے وہ ۔تمہیں اس سے کیا مسٸلہ ہے۔
کوٸی ایک ہو تو بتاٶں۔پہلی بات ہمارے بھاٸی کو اس نے اپنے جیسا غنڈہ بنا دیا ہے۔اور نہ جانے کیسی محبت کے جال میں پھنس لیا ہے کہ وہ اس کے کاموں میں گھر کو بھلاۓ کہیں کہیں دن گھر نہیں آتے۔
اور سب سے جو بری چیز ہے اس میں وہ ہے اس کا سامعیہ چوہدری کا منگیتر ہونا ہے۔ اور تیسری وجہ میں بتا نہیں سکتی ۔ وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاٸی۔
ارے جھلیا ۔۔ تجھے اس سے کیسا بھیر ہے۔وہ تو بہت بھلی ہے بس تھوڑا غصے کی تیز ہے۔ اب کی بار جواب اریبہ کی والدہ کی طرف سے آیا تھا۔جو کہ بہت سال حویلی والوں کے کام کرتی رہی تھیں۔
مشال منصور نے بحث کرنا لاحاصل سمجھا اور اٹھ کر چھت پر آ گٸی ۔جہاں سے سارے گاٶں میں ہو رہی آتش بازی سے آج گاٶں روشنی میں نہایا ہوا تھا۔
تبھی اسے پھر سے وہ چوہدری آنکھوں کے سامنے آگیا۔جو اسےنہر کے کنارے سیفی بھاٸی کے ساتھ ملا تھا۔بلیو کلر کے قمیض شلوار میں گھوڑے پرسوار کندھے پر بندوق ٹکاۓ جنگل میں شکار کے لٸے جا رہا تھا۔
اس کے پاس سے جاتے ہوۓ گھوڑے کی سپیڈ آہستہ کی اور سیفی بھیا کے سامنے تحکم سے بولا۔
آج کے بعد یہاں نظر نہ آٶ ۔اس طرف دوسرے گاٶں کی حدود ہے خبردار جو آج کے بعد ادھر نظر آٸی تو۔
اس وقت سوچ کر بھی مشال نے مٹھیاں بھینچ لیں۔
تبھی اسے اپنے پیچھے کسی کی پرچھاٸی نظر آٸی۔اس سے پہلے کہ وہ شور مچاتی یا کچھ کرتی کسی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔ اس شخص کا چہرہ دیکھ کر مشال کو اس کے دو دن پہلے کے کہے گٸے الفاظ یاد آۓ۔
وہ اس کے منہ پر ہاتھ رکھے ۔گہری نظریں اس پر ٹکاۓ ہنس دیا۔
کہا تھا نہ سب سے پہلے تمہارٕے پاس آٶں گا۔
جاننا چاہو گی ۔کیوں سب سے پہلے تمہارٕ ے پاس آیا ہوں۔
مشال نے نفی میں سر ہلایا۔
وہ اس کے منہ پر سے ہاتھ ہٹاتے ہوۓ سر جھکا کر بولو۔
مجھے معاف کر دو ۔جو کچھ میں نےتمہارے ساتھ کیا اس کے لٸے میں تم سے معافی مانگتا ہوں۔
مشال نے منہ پھیر لیا۔
اگر معاف نہیں کرو گی تو میں روز ایسے ہی آتا رہوں گا۔اور تم سے معافی مانگتا رہوں گا۔
اس کی بات پر مشال کو جھٹکا لگا ۔اس نے افسو س سے اس کے جھکے سر کو دیکھا۔
میرے معاف کرنے سے کیا ہو گا۔
میرے دل کو سکون مل جاۓ گا۔
آچھا آپ جیسے بڑے لوگوں کے دل کب سے ہم جیسے چھوٹے لوگوں کی باتوں پر بےسکون ہونے لگے۔
بس جب سے آپ کو دیکھا ہے تب سے ہی۔جواب در جواب آیا تھا۔
مشال نٕے دور ہوتی روشنیوں کو دیکھا جہاں اس شخص کی خوشی میں سارا گاٶں روشن تھا۔اور ایک یہ شخص تھا جو رات کے اندھیرے میں اس کے سامنے کھڑا معافی مانگ رہا تھا۔
اللہ نے اس کی دعا تو سن لی تھی۔وہ جیت تو گیا تھا۔لیکن اس کے پاس اس جیت کو محسوس کرنے کے لٸے دل میں سکون نہں تھا۔
جاٶ ازلان چوہدری میں نے تمہیں اپنے بھاٸی کے صدقے معاف کیا۔ہم جیسے چھوٹے لوگوں کے لٸے اتنا ہی کافی ہے کہ تم جیسا خودپسند شخص معافی کا طلبگار ہے۔
ازلان چوہدری اسے دیکھتا الٹے قدموں چل رہا تھا۔وہ اپنا دل تو اس کے پاس ہی چھوڑے جارہا تھا۔
تمارے بن تو اب ازلان چوہدری کچھ بھی نہیں ۔اور میرا خود سے وعدہ ہے میری زندگی میں بس تم ہی شامل ہو گی ۔نہیں تو کوٸی اور بھی نہیں۔ اس نےدل میں عہد کیا اور چپکے سے اس کی ایک تصویر اپنے موباٸل میں قید کر لی۔
اب جلدی سے لاٸک کریں تاکہ جلدی سےآپکو نیکسٹ ایپیسوڈ مل سکے۔
