58.6K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

ناول ””دھانی آنچل““

ازقلم زرش نور

قسط نمبر ١٢ لاسٹ ایپیسوڈ

تُم سے کچھ کہنے کو تھا بھول گیا

ہاۓ،کیا بات تھی کیا بھول گیا

ہو گٸی سینکڑوں باتوں کی وفا

ہنس کے جب تو نے کہا میں بھول گیا۔

وہ ابھی ابھی آفس سے لوٹا تھا۔اس کا آج آخری دن تھا آفس میں کیونکہ یہ حکومت اپنی مدت پوری کر چکی تھی ۔اور اب نٸۓ الیکشن ہونے تھے۔
وہ آنکھیں موندے صوفے کی پشت پہ سر ٹکاۓ بیٹھا تھا۔

اسے اپنے قریب آہٹ محسوس ہوٸی تو اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولی۔اس نے سر جھٹک دوبارہ سے سامنے نظر آتا نظارہ دیکھا۔جہاں لال جوڑے میں ملبوس دونوں ہاتھوں میں بھر بھر کے چوڑیاں ڈالی گٸی تھیں۔نفاست سے دوپٹہ سر پر ٹکاۓ اس کی نظروں کے ارتکاز سے کنفیوژ سی مشال نظریں جھکاۓ کھڑی تھی۔

آپ کے لٸے کھانا لگاٶں؟

ہممم!لگاٶ میں فریش ہو کر آتا ہوں۔
ساتھ ہی کوٹ اپنی بازو پر ڈال کر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ اور اس کے اس طرح اگنور کر نے پر اسے اپنی تیاری پھیکی سی لگی۔

ازلان جانتا تھا وہ اس کے لٸے ہی تیار ہوٸی ہے لیکن وہ بھی گزرے ایک سال کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔اس نے بھی ازلان کو بہت ستایا تھا۔
کہیں کہیں دن تو وہ اس سے بات ہی نہیں کرتی تھی۔لیکن پھر اس کی توجہ اور محبت نے آہستہ آہستہ اس کے دل میں ازلان نے جگہ حاصل کر لی۔
سیف بھی اب بالکل ٹھیک تھا۔ اس نے ازلان کا فلیٹ چھوڑ دیا تھا اور لاہور میں ہی ایک دو کمروں کا گھر کراۓ پر لے لیا تھا۔
اس کی چال میں ہلکی سی لنگڑاہٹ آ گٸی تھی۔لیکن وہ اپنے پاٶں پر کھڑا ہو گیا تھا۔

ازلان کو پارٹی کی طرف سے ٹکٹ آفر کیا گیا تھا لیکن اس نے انکار کر دیا کہ وہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہتا ہے۔

اس بات کی خبر جب حویلی میں پہنچی تو حاکم علی خان اسی وقت پاشا کے ساتھ اسلام آباد کے لٸے روانہ ہو گٸے۔ ان کا خیال تھا وہ ازلان کو قاٸل کر لیں گے۔ وہ اس کے سیاست میں ہونے سے بہت سے مفادات حاصل کرنا چاہتے تھے۔لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ اب پہلے والا ازلان نہیں رہا تھا۔اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ لو گوں کی خدمت جاری رکھے گا ۔لیکن اپنے طریقے سے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ صبح سویرے اٹھ جاتا تھا۔مشال کی صبح لیٹ ہوتی تھی۔وہ نماز پڑھ کر سو جاتی تھی۔
اس وقت بھی وہ لان میں بیٹھا اخبار کی ورق گردانی کر رہا تھا۔تبھی گیٹ وا ہوا اور بلیک مرسڈیز گیراج میں آ کر رکی۔
گاڑی کو پہچانتے ہی وہ استقبال کے لٸے اٹھ کھڑاہوا۔

حاکم علی خان نے بہت جوش سے ازلان کو گلے لگایا۔

تم تو حویلی کا راستہ ہی بھول گٸے ہو؟؟

وہ خاموش ہی رہا اور ملازم کو ناشتہ لگانے کے لٸے کہا۔

آپ اتنی صبح صبح کیسے آ گٸے؟

بس تمہاری یاد کھینچ لاٸی ہے۔

وہ طنزیہ مسکرایا اور سر اثبات میں ہلایا۔

دادا جی میں گاٶں گیا تھا۔

گاٶں گٸے تھے ؟ گاٶں تو تم پچھلے ایک سال سے نہیں آ ۓ ہو۔

اس نے اپنی گہری بھوری آنکھیں حاکم علی کے چہرے پر گاڑھ دیں۔

دادا جی میں گیا تھا۔اور راستے میں مجھے دین محمد ملا تھا زخمی حالت میں۔

آپ جانتے ہیں نہ دین محمد کو؟

حاکم علی کے چہرے پر ایک سایہ سا آ کر لہرا گیا۔

وہ تمہیں کہاں ملا ہے وہ تو۔۔۔۔۔۔

وہ تو آپ کی قید میں تھا تو وہ مجھے کیسے مل گیا۔

بس قدرت کے قانون سے وہ اس قید سے بھاگ نکلا اور میری گاڑی سے ٹکرا گیا۔اور اسے دیکھ کر میری آنکھوں میں بچپن کا ایک دھندلا سا عکس لہرا گیا۔جسے اس کی باتوں نے صاف کر دیا۔
کیا قصور تھا میری ماں کا؟یہی کہ وہ آپ کے بیٹے کی پسند تھی۔۔

آپ کو اس کے باطن سے پیدا ہونے والا بیٹا تو قبول تھا لیکن وہ نہیں۔

آپ میری ماں کے قاتل ہیں۔

اس کی آنکھوں میں ایک درد تھاجس کامدوا شاید ہی ممکن تھا۔
آپ نے اس داٸی کو کتنے پیسے دٸیے تھے۔

حاکم علی جھکے سر سے بیٹھے رہے۔

کھانا کھا کر جاٸیے گا۔یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔جاتے جاتے واپس پلٹا، آپ کو ایک بات تو بتانا بھول ہی گیا۔
میں نے شادی کر لی ہے۔مشال منصور سے میرے ماموں کی بیٹی دین محمد کی پوتی سےتاریخ پھر سے دوراٸی گٸی ہے۔ لیکن اس بار آپ کے سامنے سکندر حاکم علی نہیں ہے بلکہ ازلان سکندر چوہدری ہے۔اور میں اپنی فیملی کی حفاظت کرنا جانتا ہوں۔اور ہاں میں آپ کے ساتھ ہی رہا ہوں آپ کے ہر اگلے قدم پر میری نظر ہو گی۔

لیکن اس سب کے باوجود مجھے آپ کی عزت بہت پیاری ہے ۔میں اپنی بیوی کو نہیں بتا سکا میرا اس سے کوٸی اور رشتہ بھی ہے۔وہ بس اتنا ہی جانتی ہے کہ میں نے اس سے ترس کھا کر شادی کی ہے۔لیکن وہ یہ نہیں جانتی کہ میں تو مدوا کر رہا ہوں اپنوں کے کیے گٸے مظالم کے۔آپ نے ایک غلطی دوبار کیسے کرنے کی کوشش کی دادا جی۔آپ نے اس لڑکی کو بھی مارنا چاہا جو میری زندگی ہے۔
یہ کہہ کر وہ رکا نہیں اور اندر کی طرف بڑھ گیا۔جبکہ ونڈو میں کھڑی یہ سب سنتی مشال نے اپنا ہاتھ دل پر رکھ لیا۔ وہ تو شاک میں تھی سب کچھ جان کر ۔

اسے وہ رات یاد آ رہی تھی جب وہ گاٶں سے لوٹا تھا۔ گرج چمک کے ساتھ بارش جاری تھی۔مشال نے اسے سٹڈی کی طرف جاتے دیکھا تو اس کے پیچھے چل دی ۔کیونکہ وہ تو کہہ کر گیا تھا کہ وہ دوتین دن واپس نہیں لوٹے گا۔

وہ جس وقت سٹڈی میں داخل ہوٸی۔وہاں موجود ہر چیز تہس نہس ہو چکی تھی۔جب وہ اندر داخل ہوٸی تو ایک بھاری فاٸل اڑتی ہوٸی مشال کے سر پر آ لگی۔
مشال کے منہ سے ایک بلند چیخ برآمد ہوٸی تو ازلان نے اس کی سمت دیکھا اور اپنی لال آنکھوں سے اس کی طرف دیکھنے لگا جیسے بچاننے کی کوشش کر رہا ہو۔

اس سے ڈر کر وہ اپنے کمرے میں آ گٸی اور اگلے دن ناشتے پر وہ نارمل تھا۔
ناشتے کے بعد اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے کمرے میں لے آیا اور سر پر موجود ہلکے سے زخم کو غور سے دیکھنے لگا اور بینڈیج کر کے بغیر کچھ کہے آفس کے لٸے نکل گیا تھا۔

حاکم علی بغیر کچھ کہے واپس لوٹ گٸے۔اپنے کمرے سے دیکھتے ازلان کے دل کو کچھ ہوا۔

جو بھی ہو لیکن وہ ا س کے دادا جی تھے ۔انہوں نےبہت لاڈ سے اسے پالا تھا۔
جس وقت وہ گاڑی میں بیٹھنے لگے اس وقت دوڑتی ہوٸی مشال ان کے پاس پہنچی۔
دادا جی کھانا کھا کر جاٸیے گا۔

حاکم علی نے مڑ کر اس کی طرف دیکھ کر اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ دیا۔
سدا سہاگن رہو پتر ان کی آواز میں آنسو کی نمی تھی۔میں ازلان سے ملنے آیا تھا۔واپس آٶں گا تمہاری بی جان کو لے کر اور گاڑی میں بیٹھ گٸے۔

مشال کی زندگی میں ازلان چوہدری بہت اونچے مقام پر بیٹھا تھا۔ جس شادی کے آغاز میں بہت مایوسیوں میں گری تھی۔وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ اس کے رب کا فیصلہ ہے۔

اور بے شک وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

آج مسلسل تیسرا دن تھا وہ کھانے پر اس کا انتظار کر رہی تھی جبکہ وہ تھا کہ گھر ہی نہیں آ رہا تھا۔رات گٸے کہیں گھر لوٹتا اور پھر صبح سویرے نکل جاتا۔ آج بھی مشال مایوس ہو کر کھانا سمیٹ کر کمرے میں آ گٸی۔
وہ نماز پڑھ کر سونے کے لٸے لیٹی تو نہ جانے کیوں اس کی آنکھوں سے آنسو کا ایک ریلہ سا نکلا ۔جب تک وہ اس کے قریب آنا چاہتا تھا ، وہ اس سے دور بھاگتی رہی ۔اور اب جبکہ وہ اس کے پاس آنا چاہتی ہے وہ اس سے بھاگ رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح مشا ل کی آ نکھ کھلی تو اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔اس نے دیکھا تو وہ ازلان چوہدری کی بانہوں کی مضبوط گرفت میں تھی۔وہ تیزی سے پیچھے ہوٸی۔تھوڑی دیر اپنی سانس بحال کی اور پھر اٹھنے سے پہلے وہ ازلان کی طرف جھکی اور اپنے لب اس کی پیشانی پر رکھ دٸیے۔وہ پیچھے ہوٸی تو ازلان آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہا تھا۔مشال شر مندہ ہو گٸی اور تیزی سے بیڈ سے نیچے اترنا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی اس کا بازو ازلان کی گرفت میں تھا۔

میڈم ایسے چوری چھپے یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ہم پر ہم سے زیادہ آپ کا حق ہے۔اس کی بات پر وہ سرشار سی کھلکھلا کر ہنس دی۔
جبکہ ازلان چوہدری اس کی ہنسی میں کہیں کھو سا گیا۔

ختم شد