Anchal By Zarish Noor Readelle50111 Episode 11
Rate this Novel
Episode 11
ناول ”” دھانی آنچل““
از قلم زرش نور
قسط نمبر ١١
اُس کی جس وقت آنکھ کھلی اس نے خود کو نرم گرم بستر پر پایا۔تھوڑی دیر اپنے اردگرد دیکھتے ہوۓپہچاننے کی کوشش کی وہ اس وقت کہاں ہے؟
سب کچھ یاد آنے پر وہ سر کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر بیٹھ گٸی۔اس کا سر بہت بھاری ہو رہا تھا۔
اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو بھاری اور دبیز پردوں کی وجہ سے پتہ نہیں چل رہا تھا کہ رات ہے یا دن۔
اس نے کمرے کا جاٸزہ لیا جو قیمتی فرنیچر سے آراستہ تھا۔ہر چیز بہت سلیقے سے رکھی ہوٸی تھی۔
وہ بیڈ سے اتر کر باہر آٸی تو یہ کسی گھر کی بالاٸی منزل تھی۔سیدھے ہاتھ سے سیڑھیاں نیچے کی طرف جاتی دیکھاٸی دیں۔
وہ سیڑھیوں سے نیچے آٸی تو آگے لیونگ روم تھا۔
سامنے ٹی وی چل رہا تھا۔جس پر کوٸی نیوز اینکر زور شورسے اپنے سامنے موجود مہمانوں سے بحث ومباحثہ میں مصروف تھا۔
وہ حیران کھڑی تھی کہ نہ جانے ازلان کہاں ہے اور وہ یہاں تک کیسے آٸی؟یہ کس کا گھر ہے؟
تبھی ایک طرف سے ازلان ہاتھ میں کافی کا کپ تھامے آیا اور بت بنی کھڑی مشال کو دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گٸی۔
تم جاگ گٸی ہو ؟ وہ جو پہلے ہی ڈری ہوٸی تھی۔اپنی پشت پر اس کی آواز سن کر ہڑبڑا کر پیچھے ہوٸی ۔اور پیچھے لگے دیوارگیر آٸینے سے جا ٹکراٸی۔
ازلان نے اپنے ہاتھ میں موجود کپ اس کی طرف بڑھایا۔جسے اس نے جلدی سے تھام لیا۔اسے اس کی بہت طلب ہو رہی تھی۔
ازلان واپس مڑ گیا جبکہ وہ چلتی ہوٸی جا کر عین ٹی وی کے آگے بیٹھ گٸی۔
وہ خالی دماغ کے ساتھ ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ ازلان اپنا کپ اٹھاۓ اس کے برابر آ کر بیٹھ گیا ۔لیکن اس نے دیکھا وہ دماغی طور پر حاضر نہیں تھی۔اس نے اس کے سامنے چٹکی بجاٸی تو اس نے اپنی ایزل براٶن آنکھیں ازلان کی ڈارک براٶن آنکھوں سے ٹکراٸی تو اس کی آنکھوں میں لو دیتے جذبوں سے مشال نے نظریں چرا لیں۔
جبکہ ازلان چاہ کر بھی ایک پل کے لٸے اپنی نگاہیں اس پر سے نہیں ہٹا پا رہا تھا۔
گہری خاموشی اور اس کی نگاہوں سے گھبرا کر اس نے ٹاٸم پوچھا۔
ازلان اس کی بےوقوفی پر مسکرا دیا۔وہ جو پورے انہماک سے ٹی وی دیکھ رہی تھی۔اسے سامنے موجود وقت نظر نہیں آ رہا تھا۔
اسے بھی شاید احساس ہو گیا تھا اس لٸے دوبارہ سوال نہیں کیا ۔
رات کے دس بج رہے ہیں۔
مجھے اریبہ سے بات کرنی ہے؟
ازلان نے نمبر ڈاٸل کر کے موباٸل اس کی طرف بڑھا دیا۔جبکہ وہ موباٸل تھامے اوپر کمرےمیں چلی آٸی۔
ہیلو مشال ۔کیسی ہو؟”اس کی آواز سن کر مشال کا دل بھر آیا۔لیکن کنٹرول کر تے ہوٸے بولی۔“
ٹھیک ہوں۔تم کیسی ہو بھیا کیسے ہیں؟
ٹھیک ہیں ۔
پلیز بھیا سے بات کرو ادو۔
مشی وہ ابھی سو رہے ہیں۔
آچھا۔۔۔۔۔چلو میں صبح کو بات کر لوں گی۔
مشی تم ٹھیک ہو نہ۔ازلان بہت آچھا ہے اس نے ہماری بہت مدد کی ہے۔وہ نہ ہوتا تو ہم کہاں جاتے۔
ہمم صیح کہہ رہی ہو۔میں نے بھی اسی لٸے اس سے شادی کر لی نہیں تو میں مر کر بھی ایسے شخص سے کبھی شادی نہ کرتی۔
اسے کھانے کے لٸے بلانے اند ر آ رہے ازلان کے قدم اس کی بات پروہیں رک گٸے۔
لیکن کیوں مشی وہ تو بہت ہینڈسم ہے اتنے بڑے گھر کا بیٹا ہے۔تمہارے بھیا کا بہت آچھا دوست ہے۔ایسے کیوں کہہ رہی ہو۔
ان پڑھ جاہل گنوار ہے۔وہاں گاٶں میں بھی ہر وقت ہاتھ میں بندوق اٹھاۓ کسی کی جان کا دشمن ہی بنا ہوتا تھا۔
مشی وہ رکن پارلمینٹ ہے۔
ہاں تو وہاں جانے کی ساری خصوصیات ہیں نہ اس میں۔
تم اب زیادتی کر رہی ہو مشال۔
اریبہ کی اس کی وکالت سے تنگ آ کر اس نے فون ہی کاٹ دیا۔
جبکہ دروازے کے باہر کھڑے ازلان نے غصہ ضبط کرتے ہوۓ مٹھیاں بھینچ لیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے ڈھونڈتی نیچے آٸی جہاں وہ کھانے کی ٹیبل پر بیٹھا کھانا کھانے میں مصروف تھا۔اس نے نظر اٹھا کر بھی مشال کی طرف نہیں دیکھا۔
بس ہاتھ کے اشارے سے اسے کھانے کے لٸے بولا۔
کھانے کو دیکھ کر مشال کی بھوک چمکی وہ بیٹھی تو اس نے اس کے آگے رکھی پلیٹ میں بریانی ڈال دی۔
اسے شاید بھوک زیادہ لگی تھی تبھی وہ تیز تیز ہاتھ چلانے لگی۔
ازلان اپنا کھانا ختم کر کر سینے پر ہاتھ باندھے اسے کھاتے دیکھنے لگا۔
جب اس کی پلیٹ میں چاول ختم ہونے لگے تو ازلا ن نے پوچھے بغیر مزید چاول ڈال دٸیے۔
اب کی بار شاید شرمندگی سے اس نے ہاتھ کھینچ لیا۔
اس کی شرمندگی بھانپتے ہوۓ ازلان وہاں سے اٹھ گیا۔
کھانے کے بعد برتن دھو کر وہ لاٶنج میں آ کر بیٹھ گٸ۔
کافی دیر گزرنے کے بعد وہ کمرے میں آٸی تو ملگجا سا اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ازلان بیڈ پر نیم دراز تھا۔وہ بیڈ کے قریب کھڑی سوچنے لگی کہاں سوۓ تبھی اسے بیڈ کی دوسری طرف ایک تکیہ اور بلینکٹ نظر آۓ تو وہ تکیہ لے کر بالکل کونے میں لیٹ گٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ازلان کی آنکھ الارم کی آواز پر کھلی ۔گھڑی پر اس وقت صبح کے دس بج رہے تھے۔وہ اٹھنے لگا تبھی اس کی نظر اپنے سینے پر رکھے ہاتھ پر پڑی ۔اس نے گردن موڑ کر اپنے پہلو میں لیٹی مشال پر ایک نظر ڈالی۔ایک ہاتھ گال کے نیچے رکھے جب کہ دوسرا ہاتھ ازلان کے سینے پر موجود تھا۔
ازلان نے اس کے ہاتھ کو اپنی نرم گرفت میں لیا اور اس کی پشت پر اپنے ہونٹ رکھ دٸے۔
اس کا لمس پا کر مشال ہلکا سا کسمساٸی تو ازلان نرمی سے اس کا ہاتھ اپنے سینے سے ہٹاتے ہوۓ اٹھ گیا۔
یہ اس کی زندگی کی خوبصورت صبح تھی۔پچھلے آٹھ ماہ سے وہ روز رات کو یہی تو خواب دیکھتا آ رہا تھا۔
وہ فریش ہو کر باہر آیا تو وہ پاٶں لٹکاۓ بیڈ پر بیٹھی تھی۔
مشال نے بغیر شرٹ کے ازلان کو دیکھ کر نظریں جھکا لیں ۔
ازلان نے اس پر ایک نظر ڈالی اور وارڈروب کی طرف بڑھ گیا۔
نیوی بلیو کلر کی شرٹ نکال کر پہنی اور ہاتھ میں ایک پنک کلر کا نفیس سے کام والا جوڑا لا کر مشال کے پاس رکھ دیا۔اور وہیں کھڑے شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا۔اس کی نظریں مشال کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔
مشال کپڑے ہاتھ میں لے کر تیزی سے واش روم میں گھس گٸی۔وہ باہر نکلی تو وہ کوٹ پہنے ونڈو کے پاس کھڑاا کسی سے فون پر گفتگو میں مصروف تھا۔
مشال ڈریسنگ کے آگے کھڑے ہو کر اپنے بال سلجھانے لگی۔لمبے گھنے بالوں نے اس کی پشت کو ڈھانپ رکھا تھا۔ازلان بات کرتا ہوا غیرارادی طور پر اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا اور آٸینے میں نظر آتے اس کے عکس پر نظریں جما دیں۔مشال کی پشت اس کے سینے سے ٹکرا رہی تھی۔اسے اپنے اتنے قریب دیکھ کر اس کے ہاتھ سے برش گر گیا۔
ازلان مسکرا کر تھوڑا سا آگے کو جھکا اور اسکی کان کی لو پر اپنے لب رکھ دیے۔اس کی اس حرکت پر وہ شرم سے سرخ پڑ گٸی اور خود میں سمٹ گٸی۔
جبکہ ازلان نے سیدھا ہوتے ہوۓ اس کے چہرے پر ایک نظر ڈالی ۔
میں آفس جا رہا ہوں جلدی واپس آ جاٶں گا۔اور کمرے سے نکل گیا۔
اس کے نکلتے ہی مشال دل پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بیڈ پر بیٹھ گٸی۔
یہ مجھے کیا ہو رہا ہے،اس شخص کے سامنے میری زبان کو تالے کیوں لگ جاتے ہیں۔
اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا جو دوگنی رفتار سے دوڑ رہا تھا۔
اس کی حرکت یاد کر کے وہ کان کی لوٶں تک سرخ پڑ گٸی۔
