Anchal By Zarish Noor Readelle50111 Episode 10
Rate this Novel
Episode 10
ناول “””دھانی آنچل“““
از قلم زرش نور
قسط نمبر ١٠
پلیز یہاں گاڑی ایک ساٸیڈ پہ روکیں۔
کیوں؟ازلان نے کی پیشانی پر بل پڑ گٸے۔
مجھے ہاسپٹل جانا ہے۔
ہاسپٹل ۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں۔۔۔اس سے سوال کرنے کے ساتھ ہی اس نے گاڑی روک دی۔
وہ بھیا ہاسپٹل میں ہیں۔میں نے اسی لٸے آپ کو کال کر کہ بلایا تھا۔
کون سے ہاسپٹل ہے؟ کیا ہوا ہے اسے ؟ اس نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوۓ اس سے سوال کیا۔
آپ رہنے دیں آپ کو تکلیف ہو گی ۔میں یہاں سے ٹیکسی لے لوں گی۔
اس کی بات سن کر ازلان کا دماغ کھول اٹھا۔
بتاٸیے کون سے ہاسپٹل میں ہے وہ؟آپ کا بھاٸی ہے تو میرا بھی دوست ہے وہ ۔
اس نے غصےسے چبا چبا کر الفاظ ادا کیے۔
مشال اس کے غصے سےڈر کر ہاسپٹل کانام بتا کر خاموش ہو گی۔
کچھ بولیں گی آپ؟
آپ سے پوچھا رہا ہوں کیا ہوا ہے اسے؟
مجھے نہیں پتہ ہم لوگ سکینہ پھپھو کی تدفین کے لٸے ان کے گاٶں گٸے تھے۔واپس آۓ تو پاشا ہمارے گھر کے باہر کھڑا تھا۔اس نے بھیا سے کچھ کہا اور پھر بھیا راتوں رات ہمیں لے کر گاٶں سے چلے آۓ۔لیکن راستے میں ہی ہمارا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔جس میں بھیا کی ایک ٹانگ اور بازو ٹوٹ گٸی۔جبکہ میں اور اریبہ محفوظ رہے ہیں۔
ازلان نے اس کی بات سن کر ہونٹ بھینچ لٸیے۔
رونے کی وجہ سے اس کا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔
ازلان نے اس کی طرف پانی کی بوتل بڑھاٸی۔
جسے وہ ایک ہی سانس میں پی گٸی۔
تم جن کے گھر رہ رہی تھی۔یہ کون لوگ ہیں۔
یہ میری کالج کی دوست ہے۔میں اور اریبہ باری باری بھیا کے پاس ہاسپٹل میں رہتے تھے۔
ایک دن اریبہ اور ایک دن میں تو ہم رات کو اس کے گھر آ جاتے تھے۔
اور وہ آدمی کون تھا۔
وہ ماہ رخ کا کزن تھا۔ اس نے ایک دن مجھے ماہ رخ کے گھر سے نکلتے دیکھ لیا تو اس کے بعد پیچھے ہی پڑھ گیا۔
میں نے اس سے ہی تنگ آ کر آپ کو کال کی تھی۔لیکن آج تو اس نے حد ہی کر دی ۔مولوں صاحب کو لے کر آ گیا۔اگر آپ نہ آتے تو نہ جانے میرا کیا ہوتا۔اس نے جھرجھری لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاسپٹل میں اسے آتا دیکھ کر سیف کی آنکھوں میں ایک خوف سا لہرا گیا۔اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن ازلان نے اسے سہارا دے کر واپس لیٹا دیا۔
کیسے بے وفا ہو یار۔جانتے ہو میں تمہیں کتنی کالز کی ہیں لیکن تمہارا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا۔
میرا موباٸل گم ہو گیا ہے۔
ہمم۔۔۔۔۔
تبھی ڈاکٹر راٶنڈ پر آۓ اور چیک اپ کے بعد سیف کو ڈسچارج کر دیا۔
اس کے ڈسچارج کی بات سن کر اریبہ اور مشال دونوں پریشان ہو گٸیں۔
جو جمع پونجی تھی وہ ہاسپٹل میں خرچ ہو گٸی۔گاٶں وہ لوگ جا نہیں سکتے تھے۔
سیف نے سختی سے منع کیا تھا کہ وہا ں ہماری جانوں کو خطرہ ہے ۔اس لٸے وہاں کے بارے میں تو سوچیں بھی مت
ازلان کسی سے موباٸل پر بات کرتا ہوا باہر نکل گیا۔
اریبہ اور مشال نے پریشانی سے رونا شروع کر دیا۔
پھر سیف کی آواز سناٸی دی۔اریبہ تمہارے گھر چلتے ہیں۔
ہاں کیوں نہیں میرا نہیں وہ آپ کا بھی گھر ہے۔
اس کی بات کے جواب میں وہ کچھ نہیں بولا۔بس خاموش نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
تبھی ازلان کی واپسی ہوٸی۔تم لوگوں نے سامان باندھ لیا ہے؟
جی!آپ جاٸیں ہم لوگ چلے جاٸیں گے۔
ازلان نے گاڑی کی چابی مشال کی طرف بڑھاٸی تم اور بھابھی جا کر گاڑی میں بیٹھو ۔میں سیف کو لے کر آتا ہوں۔
لیکن۔۔۔۔۔۔
لیکن ویکن کچھ نہیں۔جتنا بولا ہے اتنا کرو۔
مشال نے سیف کی طرف دیکھا تو اس نے آنکھ کے اشارے سے جانے کے لٸے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت دوکمروں کے فلیٹ میں موجود تھے۔
سجا سنورا ہر طرح کے فرنیچر سے اراستہ چھوٹا سا فلیٹ بہت خوبصورت تھا۔
سیف کو کمرے میں چھوڑ کر وہ جانے کے لٸے مڑا تو سیف نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے؟۔
بولو!میں سن رہا ہوں۔
تم یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہو؟۔
کیونکہ تم میرے دوست اور تم نے میرے ہر آچھے برے وقت میں میرا ساتھ دیا ہے۔
تو ۔۔۔۔۔۔۔تو پھر
بولو رک کیوں گٸے سیف بولو۔۔
بڑے چوہدری مشال کو کیوں مارنا چاہتے ہیں؟
یہ تم سے کس نے کہا؟۔
انہوں نے پاشا کو کہا تھا کہ وہ مشال کو ختم کر دے۔
ازلان نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں اور کمرے میں چکر کاٹنے لگا۔
اور پھر تیزی سے کمرے سے نکل کر ساتھ والے کمرے میں گیا۔
جو کہ اس کے زیراستعمال تھا۔
یہ فلیٹ اس نے اپنی پڑھاٸی کے دوران لیا تھا۔اور پھر اس کے بعد بھی جب کبھی لاہور آنا ہوتا وہ ہوٹل کی بجاۓ یہی رکتا تھا۔
اس نے الماری میں سے فلیٹ کے پیپرز نکالے اور اپنے وکیل کو کال کر نے لگا۔
تبھی واش روم کا دروازہ کھلا اور مشال شاور لے کر باہر نکلی۔اسے کمرے میں دیکھ کر دروازے میں ہی رک گٸی۔
اس کے بالوں سے گرتی پانی کی بوندیں اس کے چہرے کو بھگو رہی تھی۔
گلے میں پڑا دوپٹہ ایک ساٸیڈ کو ڈھلک گیا تھا۔
ازلان ایک ٹرانس کی کیفیت میں چلتا ہوا اس کےقریب آیا۔
مشال نے اس کی نظروں سے گھبرا کر جلدی سے دوپٹہ ٹھیک کیا۔
سوری مجھے نہیں پتہ تھا یہ آپ کا کمرہ ہے؟
اس کمرے میں آنے کا حق صرف تمہیں ہی تو ہے۔
یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر نہ جانے دونوں کے درمیان کیا بات ہوٸی ۔اور سیف نے مشال سے پوچھے بغیر اس کا نکاح کرنے کا فیصلہ کر لیا۔اسی شام کو ازلان چند گواہوں اور نکاح خواں کے ہمراہ چلاآیا۔
اسے ایک بیگ اریبہ کی طرف بڑھایا جس میں مشال کا ڈریس تھا۔
تھوڑی دیر کے بعد اریبہ نے مشال کو لا کر سیف کے پاس بیڈ پر بٹھا دیا۔
مشال کو ہقین ہی نہیں آ رہا تھا ۔کہ اس کا بھاٸی اس کے ساتھ ایسے بھی کر سکتا ہے۔
وہ ایسے شخص سے کیسے شادی کر سکتی ہے۔جس کی نظر میں عورتوں کی عزت دو کوڑی کی تھی۔اسے ابھی بھی اس کی وہ نظریں یاد تھی ۔جن میں حیوانیت تھی۔
تبھی مولوی صاحب کی آواز گونجی۔
مشال مسعود ولد مسعود احمد آپ کا نکاح ازلان چوہدری ولد سکندر چوہدری حق مہر اکہ راٸج الوقت دا لاکھ روپیہ مقرر کیا گیا ہے۔
آپ کو قبول ہے۔
ازلان چوہدری کا ہر عضو سماعت بن گیا ۔اسے ڈر تھا کہ وہ انکار کر دے گی۔
ایک۔۔۔۔۔۔دو۔۔۔۔۔تین گھڑی کی سوٸیوں کی ٹک ٹک کے ساتھ خاموشی کا دورانیہ طویل ہونے لگا۔
اور ایک پل کے لٸیے ازلا ن کی دھڑکن بھی رک گٸی تھی۔
اس کا دل گھڑی کی سوٸیوں کے ساتھ دھڑک رہا تھا۔
اس نے سفید رنگ کے نفیس سے جوڑے میں ملبوس مشال کے جھکے سر پر ایک نظر ڈالی۔
اور اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔
قبول ہے کی ہلکی سی آواز اس کے کانوں سے ٹکراٸی تو اسے اپنی سماعت پر یقین نہیں آیا۔
مولوی صاحب نے دوبارہ سے وہی الفاظ دوہراۓ تو اب کی بار واضح سناٸی دیا۔ قبول ہے۔
ساٸن کےلٸے نکاح نامہ اس کے آگے رکھا گیا تو تھوڑی سی جھجھک کے بعد اس نے ساٸن کر دٸے۔
ازلان نے اس کے ہاتھ سے پین لینا چاہی تو اس نے اس کے ہاتھ میں دینے کی بجاۓ ٹیبل پر رکھ دی۔
مولوی صاحب کے نکلتے ہی مشال نے سیف کے کندھے پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا۔
ازلان مولوی صاحب اور گواہوں کو رخصت کر کے لوٹا تو وہ اس کی آواز پر سیدھی ہو کر بیٹھ گٸی۔
اسے دیکھ کر اس نے اپنے دوپٹے کا ایک کونہ اپنے چہرے کے آگے کر لیا۔
ایک جاندار مسکراہٹ نے ازلان کے ہونٹ کے کناروں کو چھوا ۔جسے اس نے جلدی سے چھپا لیا۔
اب ہمیں اجازات ہے سیف مجھے جلد سے جلد نکلنا ہو گا ۔مشال اگر رہنا چاہیں تو رہ سکتی ہیں۔
ہاں میں بھیا آپ کے پاس ہی رکوں گی۔اس کی بات سن کر وہ جلدی سے بولی اور سیف سے پہلے ہی بول اٹھی۔
اور تبھی اسے چہرہ چھپانا یاد نہ رہا۔آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی۔جیسے کہہ رہی ہو جاتے کیوں نہیں۔
جبکہ ازلان تو کہہ کر پچھتایا تھا۔اس کے چہرے پر نظر پڑتے اس کا دل کیا ابھی اسے وہاں سےاٹھا کر لے جاۓ۔ساتھ اس بےوقوف پر غصہ بھی آیا۔
کیسے کہہ رہی ہے یہی رہوں گی۔
ایک بار میرے ساتھ چلو دوبارہ کبھی ایسا نہیں کرو گی۔
نہیں ازلان یہ تمہارے ساتھ ہی جاۓ گی۔سیف کی بات سن کر ازلان نے کن اکھیوں سے مشال کی طرف دیکھا ۔جس کا چہرہ اتر گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی میں اس وقت گہری خاموشی تھی۔وہ رخ موڑے دروازے کے ساتھ چپکی بیٹھی تھی۔جبکہ ازلان ڈراٸیو کرتے ہوۓ گاہے بگاۓ ایک نظر اس پر بھی ڈال رہا تھا۔
تھوڑی دیر گزری تھی اس نے دیکھا اس کی گردن ایک طرف کو ڈھلک گٸی تھی۔نہ جانے کتنی راتوں کا رت جگا تھا جو گاڑی میں بیٹھتے ساتھ ہی سو گٸی۔
ازلان نے گاڑی کی سیٹ لمبی کی تو ایک ہاتھ سے اس کے سر کو سہارا دیا۔اسے سیٹ پر لیٹا کر وہ سیدھا ہوا تو نظر اس کی گردن پر موجود تل پر گٸی۔اس کا دل بےایمان ہوا۔
تل سے ہوتی ہوٸی نظر اس کی کلاٸیوں میں موجود سرخ چوڑیوں پر گٸی۔
اس کے ہاتھ کو ایک ہاتھ سے اپنی گرفت میں لیتے ہوۓ اس نے گاڑی آگے بڑھا لی۔
۔
