58.6K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

ناول ”دھانی آنچل “

از قلم زرش نور

قسط نمبر ١
ہر طرف سناٹوں کا راج تھا۔رات کی تاریکی میں دو ہیولے تیز تیز قدم اٹھاتے آگے بڑھ رہے تھے۔
رات کی تاریکی میں وہ دونوں رات کا ہی حصہ لگ رہے تھے۔

بھابھی جلدی چلٸے اگر سیفی بھیا آ گٸے تو ہماری خیر نہیں ہے۔
مشال مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔آٶ لوٹ چلیں ۔

بھابھی اب تو صرف دو منٹ کی دوری ہے ۔اب ہم ایسے ہی واپس نہیں جاٸیں گے۔

مشال اگر اس نے ہماری بات نہ مانی تو ہم کیا کریں گے۔

بلیک عبایا میں دونوں کی صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔

دونوں اس وقت ڈر خوف اور بے یقینی جیسی صورتحال سے دوچار تھی ۔نہ جانے جس کے پاس مدد کے لٸے جا رہے ہیں ۔وہ ان کی مدد کرے گا بھی کہ نہیں۔آخر وہ بھی تو سیفی کا سب سے آچھا دوست اور اس کا چوہدری صاحب تھا۔جس پر سیفی آنکھیں بند کر کے یقین کرتا تھا۔کیا وہ آج ان دونوں کی وجہ سے سیفی سے جھوٹ بولے گا۔

اب دونوں کے قدم سست پڑ گٸے۔سامنے ہی چوہدری ازلان کا ڈیرہ تھا۔جس وقت سارا گاٶں اندھیرے میں ڈوبا سو رہا تھا۔اس وقت اس ڈیرے پر دن سا ساماں تھا۔

مشال اعتماد سے چل رہی تھی ۔جبکہ اس کے پیچھے چلتی اریبہ کو اپنے پیروں سے جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔

ڈیرے کے پاس پہنچ کر سامنے کھڑے گارڈز کو مشال نے ازلان چوہدری سے ملنے کو کہا ۔تو ان دونوں نے سر سے پیر تک ان دونوں کو دیکھا۔
کیوں ملنا ہے؟
کچھ کام ہے۔
ان میں سے ایک گارڈ اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ باہر آیا اور ان دونوں کے لٸے گیٹ وا کر دیا۔
اندر ایک اور آدمی کھڑا تھا ۔اس نے ان دونوں کو سامنے موجود کمروں میں سے ایک کمرے میں جانے کو کہا۔

وہ کمرے میں داخل ہوٸیں تو ازلان چوہدری کروفر سے ٹانگ پہ ٹانگ جماۓ بیٹھا تھا۔وہ اپنے پیچھے کھڑے اپنے خا ص آدمی پاشا کو موباٸل پر کچھ دکھا رہا تھا۔
ان دونوں کے اندر داخل ہونے پر اس نے بغیر دیکھے ان دونوں کو ہاتھ کے اشارے سے سامنے پڑی چارپاٸی پر بیٹھنے کو کہا۔
مشال اور اریبہ آج پہلی بار ازلان چوہدر ی کو دیکھ رہی تھیں ۔جو کہ بلیک قمیض شلوار میں ملبوس گلے میں گرے چادر ڈالے بے نیاز سا بیٹھا تھا۔
بولٸے کیا مسٸلہ جو اس وقت آپ لوگوں کو یہاں آنا پڑا۔
مشال نے اریبہ کو بولنے کا اشارہ کیا۔
اریبہ نے کانپتی آواز میں بولنا شروع کیا! میں سیف منصور کی منکوح ہوں۔کل آپ۔۔۔۔۔۔نے جس شخص کو ہمارے گھر کے قریب سے پکڑ کر لاۓ ہیں۔
جس کے بارے میں سیف نے بتایا کہ وہ کسی لڑکی کے پیچھے ساتھ والے گاٶں سے آیا۔
وہ۔۔۔۔۔وہ۔۔لڑکی میں ہوں۔

میرا اس شخص سے کوٸی تعلق نہیں ہے ۔وہ مجھے اور میری ماں کو وہاں تنگ کرتا تھا۔اس لٸے ہم لوگ وہ گاٶں چھوڑ کر یہاں چلے آۓ۔لیکن میں۔۔۔۔چاہتی ہوں اس بات کا سیف کو نہ پتہ چلے۔

کیوں؟۔۔۔۔۔۔۔

اس کے کیوں کے جواب میں اریبہ خاموش ہو گٸی۔
کیونکہ۔۔۔۔اس شخص کے پاس میری کسی شادی میں کھینچی گٸی تصاویر ہیں ۔اور اگر اس نے سیف کو وہ دیکھا دیں تو وہ مجھے چھوڑ دے گا۔

اب وہ کچھ بھی نہ بولا۔جب ان کے درمیان خاموشی کے سلسلے نے طول پکڑا تو ۔۔۔۔مشال بولی چلو بھابی چلیں ۔اس نے غصے بھری نظر ازلان چوہدری پر ڈالی۔وہ سمجھ گٸی کہ وہ ان کی مدد نہیں کرے گا۔

اس کی آواز پر ازلان چوہدری نے نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا جو دوسری لڑکی کا ہاتھ پکڑے اسے چلنے کے لٸے بول رہی تھی۔

ازلان چوہدری نے اپنی بڑی بڑی بھوری آنکھیں اس لڑکی پر جما دیں۔

پاشا ان لوگوں کو ان کے گھر تک چھوڑ کر آٶ۔

مشال غصے میں اریبہ کو کھینچتی ہوٸی وہاں سے لے گٸی۔

واپسی کا سفر پاشا کی موجودگی کی وجہ سے خاموشی میں کٹا۔
گھر کا تالا کھول کر وہ اندر داخل ہوٸیں تو اریبہ چارپاٸی پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

مشال عبایا اتار کر اس کے برابر بیٹھ گٸی ۔ھابھی آپ پریشان نہ ہوں۔میں بھاٸی کو سمجھا لوں گی۔

اریبہ نے نفی میں سر ہلایا۔وہ میرا یقین نہیں کر گا۔
آپ ایسے ہی وہمی ہو رہی ہیں کچھ نہیں ہو گا۔

تم پہلے مجھے نہ یہ آپ جناب کہنا چھوڑو
نہ جی نہ میں نے تو آج کے بعد بھابھی ہی کہنا ہے۔مجھے سیفی بھیا کی طرف سے سخت قسم کے آرڈر ہوۓ ہیں کہ چونکہ آپ محترمہ مجھ سے عمر میں پوری تین سال بڑی ہیں اس لٸے مجھے آپ کو ادب سے بولنا چاٸیے۔
تبھی اندر سے سکینہ آنٹی کی کھانسنے کی آواز آٸی تو مشال روتی اریبہ پر ایک نظر ڈال کر اندر کمرے کی طرف بڑھ گٸی۔

گلاس میں پانی ڈال کر انہیں سہارا دے کر گلاس ان کے لبوں سے لگا دیا۔
حلق میں پانی جاتے ہی ان کا کھانسی کا دورہ ختم ہو گیا۔انہوں نے ایک تشکر بھری نظر مشال پر ڈالی اور آنکھیں موند لیں۔

دروازے پر دستک کی آواز سن کر مشال باہر آٸی تو اریبہ دروازہ کھولے کھڑی تھی ۔جبکہ سامنے سیف منصور کھڑا تھا۔

مشال کو بھیجو۔
اس کی بات سن کر مشال پہلے ہی باہر آ گٸی اور اریبہ کو گلے لگا کر باہر آ کر سیف کی گاڑی میں بیٹھ گٸی ۔جبکہ اسکے پیچھے آتا سیف واپس پلٹ کر دروازے تک گیا ۔جہاں اریبہ کھڑی انہیں جاتا دیکھ رہی تھی۔
سنو۔
سیف کی آواز پر اریبہ نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

تم روتی رہی ہو؟۔
اس کی بات پر اس نے نظریں چرا لیں۔نہیں میں تو نہیں روٸی وہ اٹک اٹک کر بولی۔

اس کی بات پر وہ گردن اثبات میں ہلاتا ہوا گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا۔

اس پر ایک الوداعی نظر ڈالی اور گاڑی آگے بڑھا دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاشا !

جی چھوٹے چوہدری۔

یہ دوسری لڑکی سیف کی بہن تھی۔
جی چوہدری جی۔پاشا مٶدب بنا کھڑا تھا۔

نام کیا ہے ؟

مشال۔
آج کے بعد یہ نام کسی کی زبان پہ نہیں آنا چاٸیے۔

پاشا بات سمجھتا ہوا اثبات میں سر ہلا گیا۔۔