Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aesa Bhi Hota Hai) Last Episode

یار اتنی جلدی تو بچہ اپنی ماں کی گود میں نہیں چڑھتا جلدی جلدی ہماری دادو اپنا بدل دیتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
احد کی اس فضول کی مثال پر سب نے اسے ایسے دیکھا تھا جیسے یہ پاگل ہو گیا ہو ۔۔۔۔۔
یہ سارا اس احد کا کیا دھرا ہے نہ یہ اتنا فضول مشورہ دیتا اور نہ ہی یہ سب کچھ ہوتا ۔۔۔۔۔
نایا کو تو تپ چڑھی ہوئی تھی ۔۔۔۔
اوئےے ہیلو یہ سب تمہاری اپنی غلطی ہے میرا مشورہ تو سوپر ہٹ گیا تھا تم نے ہی جلد بازی کے چکر میں پلاستر غلط ٹانگ پر چڑھا دیا تھا ۔۔۔۔
احد نے بھی کرارا سا جواب دیا تھا ۔۔
افففففففف تم دونوں تو اپنی زبان بند رکھو اور اب یہ سوچو کہ دادو کو اب کیسے راضی کرنا ہے کیونکہ اب تو دادو ہم پر یقین نہیں کریں گی ۔۔۔۔۔
سعد کے کہنے پر سب لوگ لوگ ایک بار پھر سے پریشان ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔
یار میرا خیال ہے اس بار کوئی ترکیب لڑانے کی بجائے ہمیں دادو سے بات کرنی چاہئے اور انھیں اپنی اپنی محبت کے بارے میں بتانا چاہئے ۔۔۔۔۔۔
تابش نے سمجهداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
تمہارے کہنے کا مطلب ہے ایموشنلی بلیک میلنگ ۔۔۔۔۔
احد نے آنکھیں حیرت سے پھاڑ کر کہا تھا ۔۔۔۔۔
یہ وہ واحد بندہ ہے جس کو پوزیٹویٹی کے اندر بھی نیگیٹوٹی نظر آ ہی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔
سارا نے جل کر کہا تھا ۔۔۔۔


مجھے تو سمجھ نہیں آرہی کہ اب آخر کیا کیا جائے کیونکہ اب تو اماں سے کسی بھی طرح کی کوئی بھی امید لگانا بہت مشکل ہے ۔۔۔۔۔۔
فراز صاحب نے کہا تو سب نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔۔
میں تو کہتی ہوں ان فساد کی جڑوں کو بولاؤ یہاں وہی اپنی شیطانی دماغ لگا کر سوچیں گی کہ آخر اس مسلہ کا کیا حل ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔
اس وقت وہ سب لوگ چھوٹی دادو کے کمرے میں موجود تھے جب ان سے چھوٹی دادو نے کہا تھا ۔۔۔۔
اچھا رکیں میں جا کر بولا کر لاتی ہوں ان کو ۔۔۔۔
چھوٹی بہو نے کہا اور باہر کی طرف چل پڑی ۔۔۔۔
ارے نور بیٹا وہ ساری پلٹون کہاں بیٹھی ہوئی ہے اس وقت ۔۔۔۔
نور جو کہ اس وقت بڑی دادو کو دوائی دے کر واپس کچن میں کپ رکھنے کے لیے جا رہی تھی اس کو چھوٹی بہو نے آواز دے کر روکا تھا ۔۔۔۔۔۔
پتا نہیں آنٹی کہاں ہیں آپ رکیں میں دیکھتی ہوں ۔۔۔۔
ہاں بچے دیکھو اور ان کو ذرا بولا کر چھوٹی دادو کے کمرے میں لے کر آپ بھی آ جاؤ ۔۔۔۔


خواتین و حضرات آپ کو چھوٹی دادو کے کمرے میں بلایا جا رہا ہے تو برائے مہربانی آپ سب وہاں تشریف لے جائیں ۔۔۔۔۔۔
نور نے باہر لان میں آکر کہا تھا جہاں پر وہ سب اداس شکلیں لے کر بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
یا اللّه خیر اب کونسا کام پڑ گیا ہے ان کو ہم سب سے ۔۔۔۔۔
سعد نے کہا تو نور نے کندھے اچکا دیے ۔۔۔۔۔
چلو جی چل کر ہی دیکھتے ہیں کہ اب کونسی قربانی دینی باقی ہے ۔۔۔۔۔
چلو بسم اللہ کرو . ۔۔۔۔
احد کے کہنے پر سب لوگ اٹھ کر اندر کی طرف چل پڑے ۔۔۔۔


ہاں جی آپ لوگوں نے ہمیں یاد کیا تھا کیا ؟؟؟؟
جی پتر جی آپ کو ہم نے ہی یاد فرمایا تھا تا کہ یہاں آکر آپ لوگ ہمیں یہ بتا سکو کہ آخر اب کرنا کیا ہے کیونکہ تم لوگوں کی بڑی دادو تو سارے رشتے توڑ چکی ہے اور نکاح کی دعوت بھی دے چکے ہیں ہم سب لوگ اور آج آٹھائیسواں روزہ بھی گزر چکا ہے اب جو بھی کرنا ہے دو دن کے اندر اندر کرنا ہے تم لوگوں نے ۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ جیسے ہی اندر داخل ہوئے تو چھوٹی دادو نے ان کو کہا تو تب ان سب کو معاملے کی سنگینی کا علم ہوا تھا ۔۔۔۔
ویسے دادو میرے پاس ایک پلان ہے اگر اجازت ہو تو عرض کرو ۔۔۔
سعد نے کہا تو سب نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
ہم سب میں سے کسی نہ کسی کو خود کشی کا ناٹک بڑی دادو کے سامنے کرنا پڑے گا تب ہی جا کر دادو کہیں پگھلیں گی ۔۔۔۔۔۔
واہ واہ شاباش ہے پتر میرے تو میرے کو یہ بتا کہ تجھے کس بیوقوف نے کالج میں لیکچرار رکھا ہے عقل تو ترے گھٹنوں میں بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔
چھوٹی دادو نے کہا تو ساری ینگ پارٹی قہقہ لگا کر ہنس پڑی جبکہ سعد اپنا سا منہ لے کر رہ گیا ۔۔۔۔۔
لیکن دادو اس میں برا کیا ہے کیا پتا دادو مان جائیں ۔۔۔۔۔۔
سعد نے اپنا ہلکا سا دفاع کرنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔
پتر وہ تیری دادی ہے زمانے کی ساری اونچ نیچ اچھے سے جانتی ہے تو تم لوگوں کے اس ڈرامے کا بھی اس کو پتا لگ جانا ہے اس لیے یہ بڑا ہی بيكار مشورہ ہے کچھ اور سوچو ۔۔۔۔
چھوٹی دادو کے کہنے پر سب لوگ پھر سے ایک سوچ میں ڈوب چکے تھے ۔۔۔۔۔۔
میرے پاس ایک آئیڈیا ہے اگر جان کی امان پاؤ تو عرض کرو ۔۔۔۔۔
جی جی ارشاد کیجئے ۔۔۔۔
تابش کے کہنے پر اب کی بار فیاض صاحب نے جواب دیا تھا ۔۔۔۔۔
ماموں کیوں نا دادو کو کہا جائے کہ سعد کو بڑی خطرناک بیماری لگ چکی ہے اور ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اب وہ نہیں بچ سکتا اور اس کی آخری خواہش ہے کہ ہم سب کی آپس میں شادیاں کی جائیں ۔۔۔۔۔۔۔
تابش بیٹا ۔۔۔
طارق صاحب نے بڑی محبت سے بلایا تھا ۔۔۔۔۔
جی بابا ۔۔۔۔
لعنت ہے بیٹا تیری سوچ ہے یہ سب کہنے پر خالہ نے تم سب کی شادیاں کرنے کی بجائے یہ کہنا ہے کہ اس کو لے جا کر کسی ہسپتال میں داخل کروا آؤ پھر جو ایک ادھ نکاح ہونا بھی ہے نہ وہ بھی کینسل ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔
رہنے دو تم سب کے سب بندہ جس بوئے ( دروازے ) سے اندر جاتا ہے نا اسی سے باہر نکلتا ہے ۔۔۔۔
کیا مطلب دادو ہمیں کچھ سمجھ نہیں آئ ۔۔۔۔
دادو کی یہ بات چھوٹے بڑے کسی کی سمجھ میں نہیں آئ تھی ۔۔۔۔۔۔
بس رہنے دو کل افطاری کے بعد سارے آپا کے کمرے میں اکٹھے ہونا پھر میں بتاتی ہوں کہ آگے کیا کرنا ہے ابھی تم سب جاؤ اپنے اپنے کمروں میں ۔۔۔۔۔۔


اگلے دن افطاری کے بعد سب لوگ بڑی دادو کے کمرے میں موجود تھے جبکہ دادو سب کو خشمگیں نظروں سے گھور رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
میں پوچھ سکتی ہوں کہ کیا اس وقت تم سب میرے کمرے میں کونسا ٹوپی ڈرامہ کرنے کے لیے آئے ہو ۔۔۔۔۔۔
بڑی دادو کی آواز کمرے میں گونجی تھی ۔۔۔۔۔
ہم کوئی ڈرامہ کرنے کے لیے نہیں آئے بلکہ میں آپ سے یہاں سب کی موجودگی میں معافی مانگنے آئی ہوں ۔۔۔۔۔۔
جبکہ اب تو سب کو اس بات کا تجسس تھا کہ آخر دونوں بہنوں کے درمیان ایسا ہوا کیا تھا جس کی وجہ سے اتنے عرصے سے ان کے درمیان نا چاقی تھی ۔۔۔۔۔۔
میں جانتی ہوں میری غلطی ہے مجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا لیکن اس میں ان بچوں کا کیا قصور ہے آپ میری غلطی کی سزا ان سے انکی محبت کو جدا کر کہ کیوں لے رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔
چلو شکر ہے تم نے مانا تو سہی کہ تمہاری غلطی تھی مجھے تو لگا تھا کہ تم یہ قبول ہی نہیں کرو گی کبھی ۔۔۔۔۔۔
چھوٹی دادو کے کہنے پر بڑی دادو نے ایک بار پھر سے طنز کیا تھا ۔۔۔۔۔۔
ارے آپا دیکھیں میں اب اپنی غلطی قبول کر رہی ہوں نا اور تو اور میں اپنی غلطی کی تلافی بھی کرنا چاہتی ہوں اور تو اور میں نے وہ جوڑا ابھی تک سلائی بھی نہیں کروایا ابھی تک پڑا ہوا ہے میں آپ کو لا کر دے دو گی ۔۔۔۔۔۔
جبکہ باقی سب حیرت سے منہ کھولے سب سن رہے تھے کہ اتنا عرصہ صرف ایک جوڑے کی وجہ سے ان کے درمیان ایک سب چل رہا تھا ۔۔۔۔۔
لو جی کھودا پہاڑ نکلا چوہا وہ بھی مردار ۔۔۔۔۔۔
تابش نے سعد کے کان میں سرگوشی کی تھی جس پر اس نے با مشکل اپنی ہنسی دبائی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
بس پھر ٹھیک ہے اگر تم اپنی بات پر قائم رہتی ہو تو مجھے کسی بھی رشتے پر کوئی بھی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔۔
چلو جی مبارک ہو مبارک ہو سب کو ۔۔۔۔۔
بڑی دادو کے فیصلہ سنانے پر ہر کو ایک دوسرے کو مبارک دینا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔
ویسے آپس کی بات ہے ایسا بھی کہیں ہوتا ہے کیا ؟؟؟؟؟
نہیں کہیں نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔
تابش نے کہا تو سب ینگ پارٹی نے یک زبان جواب دیا تھا جبکہ باقی سب ہنس دیے تھے ۔۔۔۔۔


اسی طرح آخری روزہ بھی تیاریوں میں گزر گیا تھا اور آخر عید کا دن آ گیا تھا ۔۔۔۔۔
صبح ہی صبح سارے گھر میں رونق لگی ہوئی تھی عورتیں کچن میں شیرخورمہ بنانے میں مصروف تھی جبکہ گھر کے تمام مرد صبح صبح سفید کلف لگے کپڑوں میں عید کی نماز پڑھنے جانے کی تیاری کر رہے تھے سب لڑکیاں بھی کمرے میں گھسی اپنی اپنی تیاری کر رہی تھی نکاح عصر کے بعد رکھا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ عید کی نماز کے بعد وقاص کی فیملی نے بھی یہاں آ جانا تھا کیونکہ ان سب کی دعوت تھی ۔۔۔۔۔۔


اس وقت باہر لان میں بہت خوبصورت سجاوٹ کی گئی تھی مہمان تو چند ایک ہی تھے کیونکہ عید کا دن تھا اس لیے اور صرف نکاح ہونے کی وجہ سے کم ہی لوگوں کو دعوت دی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
چلو یار شکر ہے اللہ اللہ کر کہ ہمارے نکاح کا بھی دن آیا ہے بس اب تو دعا ہے کہ ہماری دادیاں کوئی نیا پھڈا نہ ڈال بیٹھیں ۔۔۔۔۔۔
بندہ کا منہ اچھا نہ ہو نہ تو بندہ کم از کم بات ہی اچھی کر لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔
احد کے کہنے پر سعد نے رکھ کر تھپڑ اس کی کمر میں مارا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
چلو بھئی لڑکوں آ جاؤ اب مولوی صاحب آ گئے ہیں جلدی سے آ جاؤ لڑکوں تمہاری دادیوں کا کوئی بھروسہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔
فیاض صاحب کے کہنے پر سب باہر کی طرف چل پڑے تھے ۔۔۔۔
ویسے یار ماموں پہلے میرا نکاح کروائے گا تا کہ اگر پھر سے کوئی پھڈا ہو تو تب تک میں تو فارغ ہو چکا ہوں ۔۔۔۔
تابش نے چلتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔
ارے ایسے کیسے کوئی پھڈا ہو جائے یار میرا بھی نکاح پہلے ہونا چاہئے کیونکہ صرف تیرا اور میرا نکاح ہی خطرے میں اس احد اور وکی کے بچے کو تو کوئی مسلہ ہی نہیں ہے ۔۔۔۔
سعد نے بھی اپنا حصہ ڈالا تھا اور اسی بحث میں وہ لوگ اسٹیج تک پہنچے تھے لان میں الگ سے چار اسٹیج بنائے گئے تھے ۔۔۔۔۔۔
سب سے پہلے تابش اور سارا کا نکاح ہوا تھا اس کے بعد سعد اور عنایا کا نکاح پڑھایا گیا تھا پھر احد اور مہک کا اور آخر میں نور اور وقاص کا جس کو نور نے برے برے منہ بنا کر قبول کیا تھا اور لڑکیوں کو اس کی شکل دیکھ کر ہنسی آرہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
نکاح کے بعد تمام جوڑوں کو ایک ساتھ بیٹھایا گیا تھا تمام لڑکیاں ایک جیسے سفید اور سرخ لانگ فراكس میں موجود تھی ۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ لڑکے تو خیریت سے نکاح ہو جانے پر ہی بڑے خوش نظر آرہے تھے اور اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے ۔۔۔۔۔
ویسے چھوٹی تمہیں اپنا وعدہ یاد ہے نا ؟؟؟؟
کونسا وعدہ آپا ؟؟؟
چھوٹی دادو نے بھی انجان بننے کی بھر پور اداکاری کی تھی ۔۔۔۔۔۔
ارے مجھے وہ جوڑا دینے کی اور اپنی غلطی کی تلافی کرنے کی ۔۔۔۔
بڑی دادو نے تو ماتھے پر بل ڈال کر کہا تھا ۔۔۔۔۔
ارے آپا رات گئی بات گئی ۔۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا ۔۔۔۔
بڑی دادو کی تو حیرت کے مارے آنکھیں بڑی ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
میرا وہی مطلب ہے آپا جو آپ سمجھ رہی ہیں ۔۔۔۔۔
اچھا ایسی بات ہے تو میں ابھی کہ ابھی تمام رشتے ختم کرتی ہوں ۔۔۔۔
بڑی دادو بھی اب جلال میں آ چکی تھی اس لیے ان کی آواز ذرا اونچی ہو گئی تھی جس کی وجہ سے سب ان کی طرف متوجہ ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔
ارے آپا آپ لگتا ہے بھول گئی ہیں ہمارے بچوں کا اب تو نکاح بھی ہو چکا ہے تو اب آپ یہ رشتے نہیں توڑ سکتی ۔۔۔۔۔۔۔
چھوٹی دادو نے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجا کر کہا تھا جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا ۔۔۔۔۔۔
بس ہو گیا فیصلہ اب کوئی رخصتی نہیں ہو گی ۔۔۔۔
بڑی دادو یہ کہہ کر چل پڑی جبکہ باقی سب حیرت کی تصویر بنے کھڑے تھے ۔۔۔۔۔
ایسا بھی ہوتا ہے کیا ؟؟؟؟
سعد کی صدمے سے بھری آواز لان میں گونجی تھی ۔۔۔۔
ہاں صرف احمد ولا میں ۔۔۔۔
سب نے یک زبان جواب دیا تھا ۔۔۔


ختم شدہ