Aesa Bhi Hota Hai By Reeha Ali Readelle50298

Aesa Bhi Hota Hai By Reeha Ali Readelle50298 Last updated: 10 November 2025

421.9K
4

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aesa Bhi Hota Hai

By Reeha Ali

دیکھیں میں نے ان کی بینڈیج کر دی ہے ان کی ٹانگ میں کافی زیادہ فریکچر ہوئی ہے اس لیے ان کو مکمل آرام کی ضرورت ہے اور ان کو زیادہ ٹینشن نہیں دینی ورنہ ان کا بی پی شوٹ کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہیں ڈکٹر یہ ٹانگ تے بلڈپریشر دہ کی تعلق اے گل سمجھ نہیں آئ مینو ۔۔۔۔۔ بڑی دادو نے بڑے مشکوک انداز میں تھوڑی پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔۔۔ ابے ہاتھ تھوڑا ہولہ رکھ ہم نے پلان ہٹ کرنا ہے فلاپ نہیں منحوس انسان ۔۔۔۔۔۔ اس نقلی ڈاکٹر کے ساتھ کھڑے احد نے اس کو چٹکی کاٹ کر کہا تھا ۔۔۔۔ ارے دادی جان میرے کہنے کا مطلب ہے کہ انہوں نے اپنی ٹانگ کی کچھ زیادہ ہی ٹینشن لے لی ہے جس کی وجہ سے ان کا بی پی کافی حد تک بڑھ رہا ہے اسی لیے بولا ہے کہ ان کو ٹینشن سے دور رکھیں ۔۔۔۔۔۔ اچھا اچھا تو ایسے بول نہ ۔۔۔۔۔ وہ ڈاکٹر کافی حد تک دادو کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اچھا چلیں آپ سب لوگ بیٹھیں میں ڈاکٹر صاحب کو چھوڑ کر آتا ہوں ۔۔۔۔۔ ************* کیا کب سے ایسے کیوں گھورے جا رہی ہے ؟؟؟؟ سدرہ یعنی بڑی بہو کب سے چھوٹی دادو کو گھور رہی تھی تو آخر دادو نے تنگ آکر پوچھ ہی لیا ۔۔۔۔۔ اماں مجھے ذرا بھی یقین نہیں ہو رہا کہ آپ کی ٹانگ میں کوئی مسلہ ہوا ہے اب سچ سچ بتائیں یہ سب کیا ہے ؟؟؟؟ ویسے شرم کا مقام ہے تجھے اپنی سگی ماں پر یقین نہیں ہے اور تو کہنا چاہتی ہے کہ میں ناٹک کر رہی ہوں ۔۔۔۔۔ اماں بات یہ ہے کہ آپ کو اگر کانٹا بھی چبھتا ہے تو آپ اتنا شور مچاتی ہیں لیکن ٹانگ پر اتنے چوٹ کے آنے پر بھی آپ خاموش ہیں مجھے کافی حیرت ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ دیکھ کبھی کبھی کچھ بڑا کرنے کے لیے ایسی چھوٹی موٹی باتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں اب تو جا اور جا کر پھر سحری کے لیے بھی اٹھنا ہے اور ہاں سن میری سحری بھی بھجوا دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔ چھوٹی دادو نے بات ہی ختم کر دی تھی ۔۔۔۔۔۔ لیکن اماں ڈاکٹر تو کہہ رہے تھے کہ آپ کچھ دنوں تک میڈیسن لیں گی تو آپ روزہ کیسے رکھ سکتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ سدرہ کی تو حیرت کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ جا جا تو جا اور جو کہا ہے وہ کرنا ۔۔۔۔ چھوٹی دادو نے تو جان چھڑائی تھی جیسے ۔۔۔۔۔ ***************** ویسے یار دادو مجھے لگتا ہے آپ کے انکار نے چھوٹی دادو کو کچھ زیادہ ہی ہرٹ کر دیا ہے اسی لیے تو وہ پتا نہیں کن خیالوں میں تھی کہ ان کا پاؤں سلپ ہو گیا اور وہ اپنی ٹانگ ہی تڑوا کر بیٹھ گئی ۔۔۔ ویسے دادو میرا خیال ہے آپ کا جو بھی چھوٹی دادو سے اختلاف ہے اس کو تھوڑی دیر کے لیے سائیڈ پر رکھ کر سوچیں کہ ان کا آپ کے علاوہ اور ہے ہی کون اس دنیا میں نہ ماں نہ باپ نہ بھائی نہ ہی کوئی اور بہن ہے آخر وہ کس سے ناراض ہوں یا کس سے رشتہ داری کریں ۔۔۔۔۔ سعد کے جب بولنے پر دادو نے کوئی جواب نہیں دیا تو احد بھی بول پڑا تھا ۔۔۔۔۔ همممم جا کر اپنے ماں باپ کو اور باقی بھی سب بڑوں کو کہو کہ وہ لوگ مجھے چھوٹی کے کمرے میں ملیں ۔۔۔۔۔۔ بڑی دادو نے ہنکار بھرتے ہوئے کہا تو ان سب کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے اور سب کو اپنا تیر نشانے پر لگتا ہوا محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ***********