Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aesa Bhi Hota Hai) Episode 2

دیکھیں میں نے ان کی بینڈیج کر دی ہے ان کی ٹانگ میں کافی زیادہ فریکچر ہوئی ہے اس لیے ان کو مکمل آرام کی ضرورت ہے اور ان کو زیادہ ٹینشن نہیں دینی ورنہ ان کا بی پی شوٹ کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
ہیں ڈکٹر یہ ٹانگ تے بلڈپریشر دہ کی تعلق اے گل سمجھ نہیں آئ مینو ۔۔۔۔۔
بڑی دادو نے بڑے مشکوک انداز میں تھوڑی پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔۔۔
ابے ہاتھ تھوڑا ہولہ رکھ ہم نے پلان ہٹ کرنا ہے فلاپ نہیں منحوس انسان ۔۔۔۔۔۔
اس نقلی ڈاکٹر کے ساتھ کھڑے احد نے اس کو چٹکی کاٹ کر کہا تھا ۔۔۔۔
ارے دادی جان میرے کہنے کا مطلب ہے کہ انہوں نے اپنی ٹانگ کی کچھ زیادہ ہی ٹینشن لے لی ہے جس کی وجہ سے ان کا بی پی کافی حد تک بڑھ رہا ہے اسی لیے بولا ہے کہ ان کو ٹینشن سے دور رکھیں ۔۔۔۔۔۔
اچھا اچھا تو ایسے بول نہ ۔۔۔۔۔
وہ ڈاکٹر کافی حد تک دادو کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اچھا چلیں آپ سب لوگ بیٹھیں میں ڈاکٹر صاحب کو چھوڑ کر آتا ہوں ۔۔۔۔۔


کیا کب سے ایسے کیوں گھورے جا رہی ہے ؟؟؟؟
سدرہ یعنی بڑی بہو کب سے چھوٹی دادو کو گھور رہی تھی تو آخر دادو نے تنگ آکر پوچھ ہی لیا ۔۔۔۔۔
اماں مجھے ذرا بھی یقین نہیں ہو رہا کہ آپ کی ٹانگ میں کوئی مسلہ ہوا ہے اب سچ سچ بتائیں یہ سب کیا ہے ؟؟؟؟
ویسے شرم کا مقام ہے تجھے اپنی سگی ماں پر یقین نہیں ہے اور تو کہنا چاہتی ہے کہ میں ناٹک کر رہی ہوں ۔۔۔۔۔
اماں بات یہ ہے کہ آپ کو اگر کانٹا بھی چبھتا ہے تو آپ اتنا شور مچاتی ہیں لیکن ٹانگ پر اتنے چوٹ کے آنے پر بھی آپ خاموش ہیں مجھے کافی حیرت ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
دیکھ کبھی کبھی کچھ بڑا کرنے کے لیے ایسی چھوٹی موٹی باتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں اب تو جا اور جا کر پھر سحری کے لیے بھی اٹھنا ہے اور ہاں سن میری سحری بھی بھجوا دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوٹی دادو نے بات ہی ختم کر دی تھی ۔۔۔۔۔۔
لیکن اماں ڈاکٹر تو کہہ رہے تھے کہ آپ کچھ دنوں تک میڈیسن لیں گی تو آپ روزہ کیسے رکھ سکتی ہیں ۔۔۔۔۔۔
سدرہ کی تو حیرت کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
جا جا تو جا اور جو کہا ہے وہ کرنا ۔۔۔۔
چھوٹی دادو نے تو جان چھڑائی تھی جیسے ۔۔۔۔۔


ویسے یار دادو مجھے لگتا ہے آپ کے انکار نے چھوٹی دادو کو کچھ زیادہ ہی ہرٹ کر دیا ہے اسی لیے تو وہ پتا نہیں کن خیالوں میں تھی کہ ان کا پاؤں سلپ ہو گیا اور وہ اپنی ٹانگ ہی تڑوا کر بیٹھ گئی ۔۔۔
ویسے دادو میرا خیال ہے آپ کا جو بھی چھوٹی دادو سے اختلاف ہے اس کو تھوڑی دیر کے لیے سائیڈ پر رکھ کر سوچیں کہ ان کا آپ کے علاوہ اور ہے ہی کون اس دنیا میں نہ ماں نہ باپ نہ بھائی نہ ہی کوئی اور بہن ہے آخر وہ کس سے ناراض ہوں یا کس سے رشتہ داری کریں ۔۔۔۔۔
سعد کے جب بولنے پر دادو نے کوئی جواب نہیں دیا تو احد بھی بول پڑا تھا ۔۔۔۔۔
همممم جا کر اپنے ماں باپ کو اور باقی بھی سب بڑوں کو کہو کہ وہ لوگ مجھے چھوٹی کے کمرے میں ملیں ۔۔۔۔۔۔
بڑی دادو نے ہنکار بھرتے ہوئے کہا تو ان سب کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے اور سب کو اپنا تیر نشانے پر لگتا ہوا محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔


اس وقت سب لوگ چھوٹی دادو کے کمرے میں موجود تھے اور سب لوگوں کی نظریں بڑی دادو پر تھی جو کہ ایسا لگتا تھا چپ کا روزہ رکھ کر آئ تھی کمرے میں سب نے ایک نظر ان کو دیکھنے کے بعد چھوٹی دادو کو دیکھا تھا جنہوں نے کندھے اچکاتے ہوئے لاعلمی کا اظہار کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم بہنوں میں جو بھی اختلافات ہوں لیکن میں ان سب چیزوں کی وجہ سے اپنے بچوں کی خوشی برباد نہیں ہونے دو گی اور اس کے ساتھ ساتھ میں اپنی زبان سے نہیں مکرنا چاہتی اسی لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس عید پر تمام بچوں کے نکاح کر دیتے ہیں اور پھر بقرہ عید پر سب کی ایک ساتھ رخصتی کر دی جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادو اپنی بات کہہ کر خاموش ہوئی تو سب کے چہرے خوشی سے تمتما اٹھے تھے ۔۔۔۔
جی جی آپا جیسے آپ مناسب سمجھیں آخر آپ بڑی ہیں ہمیں آپ کے فیصلہ پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔۔
چھوٹی دادو نے فوراً سے اپنی ہنسی کو دبا کر کہا تھا ۔۔۔
چلو پھر ٹھیک ہے ساری تیاریاں جلدی جلدی مکمل کرو کیونکہ عید میں بس پانچ دن رہ گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔
بڑی دادو کہہ کر اپنے کمرے کی طرف چل پڑی جبکہ ینگ پارٹی جو کہ کب سے اندر ہونے والے فیصلے کو سننے کے لیے وہی آس پاس منڈلا رہے تھے دروازہ کھلتے دیکھ کر پلر کی اوٹ میں چھپ گئے تھے ۔۔۔۔۔۔
اب چھپنے کی ضرورت نہیں ہے میں نے ویکھ لیا ہے اور ہاں اب خوش ہو جاؤ تم سب کی مرضی کا فیصلہ ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔
بڑی دادو نے ان کو چھپتے ہوئے دیکھ لیا تھا اس لیے بولا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


آج تو ان سب کی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی ان میں سے ایک مہک ہی تھی جو کہ منہ بنا کر بیٹھی ہوئی تھی کیونکہ وہ احد سے نکاح کے لیے راضی نہیں ہو رہی تھی لیکن اس نے جب یہ بات اپنی والدہ سے کہی تو بڑی بہو نے اس کو اچھی خاصی سنا کر رکھ دی تھی اس لیے وہ منہ بنا کر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
اچھا یار تم سب بیٹھو مجھے ذرا وقاص سے ملنے جانا ہے تو میں ذرا اس سے مل کر آتا ہوں پھر کل افطاری کے بعدسب شاپنگ پر چلیں گے ۔۔۔۔۔
تابش نے کہا تو سب نے یاہو کا نعرہ لگایا تھا ۔۔۔۔


یار تو سوچ بھی نہیں سکتا کہ میں کتنا خوش ہوں ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے مجھے کوئی قارون کا خزانہ مل گیا ہو ۔۔۔۔
تابش اس وقت ریسٹورنٹ میں وقاص کے ساتھ بیٹھا اس کو اپنے دل کی بات بتا رہا تھا وقاص اس کا بہت اچھا دوست تھا لیکن تھوڑے غریب طبقے سے تعلق رکھتا تھا تو پڑھائی مکمل کرنے کے بعد جب اسے کہیں جاب نہیں مل رہی تھی تو تابش نے اپنے باپ سے بات کر کہ اس کو اپنی کمپنی میں ایز آ مینیجر رکھ لیا تھا ۔۔۔۔۔۔
اوئےےےے میں یہاں کب سے تجھ سے باتیں کر رہا ہوں تو پتا نہیں کون سے مراقبے میں گیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔
تابش نے اس کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔۔
یار تابی ایک بات تو بتا مجھے ۔۔۔۔
وقاص نے اس کی بات کو اگنور کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔
کیا بات ہے وکی اتنا چپ چپ کیوں ہے ؟؟؟؟؟؟
یار یہ نورالعین تمہاری کیا لگتی ہے مطلب تمہاری کس رشتے سے کزن ہے ۔۔۔۔۔
تو کیوں پوچھ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔
وقاص کے پوچھنے پر تابش نے اس کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
یار وہ بات یہ ہے کہ وہ مجھے پسند آ گئی ہے اور میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔
وقاص نے صاف صاف بات کی تھی ۔۔۔۔
هممم دیکھ وقاص تو بھی مجھے عزیز ہے لیکن نور بھی مجھے اپنی چھوٹی بہنوں کی طرح عزیز ہے لیکن وہ میری کزن نہیں ہے اور پھر تابش نے اس کو نور کے بارے میں سب بتا دیا تھا ۔۔۔۔۔
دیکھ میں نے تجھے سب کچھ بتا دیا ہے اب تو بیشک ٹھنڈے دماغ سے سوچ کر مجھے بتا دینا ۔۔۔۔۔
تابش یہ کہہ کر وہاں سے اٹھنے لگا تو وقاص سے کہا تھا ۔۔۔۔
تابش تو اپنی دادو سے بات کر لینا اگر وہ مثبت جواب دیں تو میں اپنے پیرنٹس کو تمہارے گھر بھیجو گا ۔۔۔۔۔
وقاص نے کہا تو تابش سر ہلا کر چل دیا ۔۔۔۔


تابش نے گھر آکر سب سے اس بارے میں بات کر لی تھی تو دادو نے بھی رشتہ بھیجنے ۔کا بول دیا تھا تا کہ اس بارے میں تب نور سے بات کی جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔