Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aesa Bhi Hota Hai) Episode 1

اس وقت وہ چاروں دادو کے کمرے کے باہر کان لگا کر اندر ہونے والی گفتگو سننے کی ناکام کوشش کر رہے تھے کیونکہ کمرہ ساؤنڈ پروف ہونے کے کی وجہ سے ان کو ذرا سی بھی آواز نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔۔
یار سمجھ نہیں آ رہی کہ اندر آخر بات ہو کیا رہی ہے کب سے سننے کی کوشش کر رہے ہیں ۔۔۔۔
ہاں کہہ تو تم ایسے رہی ہو جیسے ابھی دادو نے سب سیٹ کر دینا ہے مجھے تو لگتا ہے آج پھر کوئی نیا شوشہ چھوڑنا ہے انہوں نے ۔۔۔۔۔
مہک کے کہنے پر سارا نے اس کو ڈپٹ کر کہا تھا ۔۔۔۔
بندے کو منہ اچھا نہ ہو نہ تو بندہ کم از کم بات تو اچھی ہی کر لیتا ہے ۔۔۔۔
احد نے سارا کو گھور کر کہا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ چوتھا نفوس خاموش کھڑا تھا ۔۔۔
یہ منظر تھا احمد ولا کے نچلے پورشن میں موجود دادو جان کے روم کے باہر کا اب اندر چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہاں کیا کچھڑی پک رہی ہے ۔۔۔۔
دادو بیڈ پر بیٹھی کسی غیرمرئی نکتے پر غور کر رہی تھی جبکہ ان کی بہو بیٹے ان کے بولنے کے انتظار میں تھے ۔۔۔۔
فراز صاحب نے آنکھوں ہی آنکھوں میں فیاض صاحب کو اشارہ کیا کہ وہ اماں حضور کو مخاطب کریں لیکن انہوں نے نفی میں سر ہلا دیا جبکہ ان کی بیگمات اپنے شوہروں کی اس بزدلی پر کھول کر رہ گئی ۔۔۔۔
ہاں تو میاں پھر کیا سوچا ہے بچوں کے بارے میں ؟؟؟؟؟
کمرے کی خاموشی میں دادو کی آواز گونجی تھی ۔۔۔۔۔
ارے کس بارے میں اماں ؟؟؟؟
فراز نے انجان بنتے ہوئے کہا جبکہ ان کی بیگم کا دل کیا کہ کسی چیز سے ان کا سر پھوڑ دیں اماں ہاتھ ہی بڑی مشکل سے آتی تھی ۔۔۔۔
آئےے ہائےے باولے ہو گئے ہو کیا بچوں کی شادی کے بارے میں خیر اب تو مجھے لگتا ہے اب ان کے سروں میں بال بھی سفید آنا شروع ہو چکے ہوگے ۔۔۔۔
جبکہ اماں نے اتنے غلط اندازے پر وہ چاروں بیہوش ہوتے ہوتے بچے ۔۔۔۔۔
جی اماں فرح کی بھی کال کل آئ تھی وہ بھی تابش کے لیے سارا کا ہاتھ مانگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
کوئی ضرورت نہیں ہے اس کی بات کو ذرا بھی اہمیت دینے کی میری پوتی کوئی گئی گزری تو نہیں ہے کہ اس چھمک چھلو کے پوتے سے بیاو میں ۔۔۔۔۔
دادو کے اس نئے شوشے پر ان سب کا دل کیا کہ کہیں کود کر اپنی جان دے دیں نہ جانے ان کو کونسا بیر تھا اپنی سگی چھوٹی بہن سے ۔۔۔۔۔۔۔
یار اماں جب ان کے بیٹے سے اپنی بیٹی بیا سکتی ہیں تو پوتے میں کیا خرابی ہے بہت اچھا اور شریف بچہ ہے ۔۔۔۔۔
فراز صاحب نے ادنیٰ سی اماں حضور کی گستاخی کی جسارت کی تھی اور یہی ان سے غلطی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
بس میاں ہو گیا اب فیصلہ اور میرا فیصلہ کوئی نہیں بدل سکتا ۔۔۔۔۔۔۔
دادو نے کہا تو سب نے ان کو سوالیہ نظروں سے دیکھا کہ اب کون سا بم پھٹنے والا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ارے ارے نوری رک ذرا ۔۔۔۔۔
نوری جو کہ اندر چائے لے کر جا رہی تھی اور ان سب کو یوں دروازے کے باہر کان لگائے دیکھا لیکن نظر انداز کر کہ اندر جانے لگی پر پکڑی گئی ۔۔۔۔۔
مہک کے کہنے پر اس نے رکنا پڑا ۔۔۔
دیکھیں مہک باجی جو مرضی ہو جائے میں آج آپ لوگوں کی کوئی مدد نہیں کرو گی مجھے ابھی تک پچھلی بار والی ڈانٹ یاد ہے جو دادو سے پڑی ۔۔۔۔۔
اچھا اچھا بھاشن دینا بند کرو بس اتنا احسان عظیم کرنا کہ جاتے ہوئے دروازہ پورے کھول کر جانا اور آتے ہوئے بھی یہی حرکت کرنی ہے سمجھی ۔۔۔۔۔۔
نوری نے پہلی تو نا سمجھی سے اسے دیکھا پھر کندھے اچکا کر چل پڑی اور دروازہ کھول دیا ۔۔۔۔۔
ہاں تو میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس عید پر سعد اور سارا کی شادی جبکہ احد اور مہک کا نکاح ہو گا اور یہ میرا اٹل فیصلہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔
دادو کے جب یہ الفاظ ان کے کانوں میں پڑے تو ان کو باہر کھڑے سعد اور سارا کو تو اپنا دماغ سن ہوتا ہوا نظر آیا جبکہ دوسری طرف احد کا دل تو جھوم اٹھا تھا کیونکہ دادو نے اس کے من کی بات کہہ دی تھی اس کا دل کیا کہ یہی پر ڈھول پیٹ ڈالے اور ناچنا شروع کر دے ۔۔۔۔۔
لیکن فلحال سامنے سعد اور سارا کا لٹکا منہ دیکھ کر اسے اپنا پلان سپوئل کرنا پڑا ۔۔۔۔۔۔
لیکن اماں ایسا کیسے ہو سکتا ہے سارا تو بچپن سے تابش کی منگ ہے اور سعد کی منگ عنایا ہے آپ ایسا کیسے کہہ سکتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
اب کی بار اماں حضور کی بڑی بہو نے اپنی اولاد کے حق میں بولنے کی جسارت کی تھی (جو کہ تھی تو بڑی لیکن صرف نام کی کیونکہ ان کی سنتا تو کوئی تھا نہیں ان کی شادی اماں کے بڑے بیٹے فیاض سے ہوئی تھی اور ان کے دو بچے سعد اور مہک تھے اور تھی بھی اماں حضور کی سگی بھانجی لیکن اماں حضور کو تو ان کی والدہ سے سخت بیر تھا جس کی کوئی معقول وجہ آج تک کوئی تلاش نہیں کر پایا تھا) ۔۔۔۔۔۔۔
آئےےے ہائےےے بہو تمہارے کہن کا مطبل کیا ہے کیا میں اس گھر دا اب کوئی فیصلہ نہیں کر سکدی ۔۔۔۔۔۔
اماں حضور کو ایک بار پھر سے گلابی اردو کا دورہ پڑ چکا تھا جو کہ تقریباً ان کو دن میں آٹھ دس دفعہ تو ضرور پڑتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے نہیں اماں میں نے ایسا کب کہا میں تو کہنا چاہ رہی تھی کہ ایک دفعہ اگر بچوں سے بھی پوچھ لیا جائے تو بہتر ہو گا آخر انہوں نے زندگی گزارنی ہے ۔۔۔۔۔۔
بڑی بہو نے ایک بار پھر سے اپنی صفائی دی تھی ۔۔۔۔۔
چلو رہن دو نماز کا وقت ہو گیا ہے چلو فیاض فراز تسی وی جاؤ تراویح کے لیے تے اپنے ان ناکارہ پتروں کو وی ساتھ لے جانا غضب خدا د دنیا تے برباد کیتی ہی کیتی آخرت وی کر لینی نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں حضور اپنی لاٹھی اٹھا کر زور زور سے زمین پر مارتے ہوئے واش روم میں داخل ہو چکی تھی جب کہ باقی سب بھی چل دیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


یار یہ غلط ہے دادو سراسر زیادتی کر رہی ہیں ہمارے ساتھ ایسا بھی ہوتا ہے کیا ؟؟؟؟؟؟
نہیں بھائی کہیں نہیں ہوتا ایسا صرف اور صرف ہمارے گھر میں ہے ہماری دادی حضور ہر ممکن کو بھی ناممکن بنا کر رکھ دیتی ہیں ۔۔۔۔
سعد کے کہنے پر مہک نے بھی اپنے دل کی بھڑاس نکالی تھی کیونکہ اس کو ذرا سی دلچسپی نہیں تھی احد میں لیکن دادو نے فیصلہ بھی کیا تو کیا یعنی حور کے پہلو میں لنگور (ایسا مہک کا کہنا تھا ) ۔۔۔۔۔۔
یار یوں سڑی ہوئی شکل بنا کر بیٹھنے سے کچھ نہیں ہو گا کچھ نا کچھ جگاڑ لگانا ہی پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں تو تم اس کام میں ایکسپرٹ ہو نا تو سوچو پھر کچھ ۔۔۔۔۔۔
احد کے کہنے پر سارا نے اس سے کہا تھا ۔۔۔۔۔
اوئےےےے ہیلو میں سوفٹ ویئر انجینئر ہوں کوئی کار مکینک نہیں جو جگاڑ لگانا میرا کام ہو گا ۔۔۔۔۔۔
اففففف اوو تم دونوں کبھی تو اپنی چونچ بند کر لیا کرو ہر وقت تو تو میں میں کرتے رهتے ہو ۔۔۔۔۔۔
کب سے تپا ہوا سعد ایک بار پھر سے بول پڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اچھا یار رکو کچھ سوچتے ہیں بلکہ تم سب رکو میں خود ہی کچھ کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
سعد نے ان کی دکھی شکل دیکھ کر کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اتنے میں سعد نے اپنے فون سے کسی کو ویڈیو کال ملائی ۔۔۔۔۔۔
ہیےےےےے سعد بڈی کیسا ہے ؟؟؟؟
سامنے سے تابش کی ہشاش بشاش آواز سنائی دی تھی ۔۔۔۔۔۔
میں تو ایک دم فٹ ہوں لیکن ابھی تمہیں جو خبر میں سنانے والا ہوں اس کو سننے کے بعد مجھے یقین تھوڑی دیر کے لیے تمہارے سامنے زمین آسمان گھوم جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سعد نے بھر پور طنز سے کہا تھا ۔۔۔۔
یا اللّه خیر کہیں بڑی دادو نے کوئی نیا شوشہ تو نہیں چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔
بلکل سہی کہا دادو نے میرا اور سارا کا رشتہ پکا کر دیا ہے اور تو اور اس عید پہ ہماری شادی ہے ۔۔۔۔۔
سعد نے مکمل طور پر دانت پیستے ہوئے کہا تھا اور توقع کے عین مطابق تابش کو تھوڑی دیر کے لیے سانپ سونگھ گیا تھا ۔۔۔۔۔
یہ کیا بکواس کر رہا ہے تو تجھے پتا بھی ہے تو کیا بولے جا رہا ہے سارا میری منگ ہے یہ بات دادو بھی جانتی ہیں پھر ایسا کیسے کر سکتی ہیں وہ ۔۔۔۔۔۔
ہاں اب لگی نہ مرچیں کب سے کہہ رہے تھے تمہیں کہ اب آجاؤ تم لوگ لیکن نہ جی تمہیں تو اپنے آفس سے ہی فرصت نہیں ملتی تمہارے مطابق ابھی تو عید میں بہت دن ہیں جب کہ آج اکیسواں روزہ گزر چکا ہے ابھی بھی وہی سڑو مرو تم ۔۔۔۔۔۔
سعد نے تابش کو کرارا سا جواب دے کر موبائل بند کر دیا ۔۔۔۔۔
یارمجھے لگتا ہے ہمیں خود ہی کچھ سوچنا پڑے گا تابش کے آسرے پر رہے نا تو ہمیں برباد ہونے سے کوئی نہیں بچا سکے گا ۔۔۔۔۔۔
احد نے کہا تو سب لوگ اس سے متفق نظر آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹھ جاؤ اب تم لوگ بھی اپنی یہ گول میز کانفرنس بعد میں کرنا ابھی تم دونوں ہمارے ساتھ مسجد چلو اور تم دونوں بھی اٹھو نماز کے لیے ۔۔۔۔۔۔
فراز نے آکر ان سب کو ڈانتے ہوئے کہا تو وہ سب بھی اٹھ گئے ۔۔۔۔۔۔


غضب خدا کا سحری کا وقت نکلی جا رہا ہے اور یہ کڑیاں ہلا تک سو ری ہیں جا نی نوری جا کر بولا کر لا ۔۔۔۔
دادو نے انتہائی غصہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تو نوری سر ہلا کر جانے لگی کہ اس کو سدرہ (بڑی بہو ) کی آواز سنائی دی ۔۔۔۔
نوری تم سامان سارا ثمن ( چھوٹی بہو ) کے ساتھ ٹیبل پر لگاؤ ان کی آج میں مرمت کر کہ انھیں لے کر آتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ہائےےےےے اٹھ جاؤ بارش آ گئی بہت زور کی ۔۔۔۔۔
مہک ایک دم سے چیخ کر اٹھی تو سامنے اپنی والدہ ماجدہ کو کھڑا دیکھ کر حواس سلپ ہوئے جن کے ہاتھ میں پانی کا جگ بھی تھا جو کہ اس بن موسم بارش کی وجہ سمجھا رہا تھا تو ساتھ ہی سوئی سارا تو مہک نے جھنجھوڑ ڈالا ۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہے مہکو سو جا تنگ نہ کر سارا نے نیند میں ڈوبی آواز میں کہا تو بڑی بہو نے باقی جگ میں بچا پانی اس
ڈال دیا تو وہ بھی ایک چیخ کے ساتھ اٹھ چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
2 منٹ کے اندر اندر تم دونوں مجھے نیچے ملو اور خبردار خبردار جو تم دونوں نے دوبارہ سونے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔
بڑی بہو کے خطرناک تیور دیکھ کر وو دونوں بستر کو خیر آباد کہہ چکی تھی ۔۔۔۔۔


اس وقت دن کے دس بج رہے تھے جب مہک اور سارا آنکھیں ملتے ہوئے لاؤنچ میں داخل ہوئی تو وہاں بڑی بہو شرٹ پر بڑی نفاست سے کڑھائی کر رہی تھی جب کہ چھوٹی بہو دادو حضور کے سر کی مالش کر رہی تھی اور ان کے ساتھ ہی نوری بیٹھی کسی کتاب کا مطالعہ کر رہی تھی ( نوری کے والدین شروع سے یہاں ملازمت کرتے تھے پھر ایک دن اس کے والد صاحب ہارٹ اٹیک سے فوت ہو گئے اور اس کے کچھ عرصہ بعد ہی نوری کی والدہ بھی وفات پا گئی اس وقت نوری صرف آٹھ سال کی تھی تو گھر والوں نے نوری کو اپنی بیٹی کی طرح پالا لیکن نوری میں اتنی سمجھ تھی کہ وہ جانتی تھی کہ وہ اس گھر کے ملازم کی بیٹی ہے اس لیے FA کرنے کے بعد اس نے تعلیم کو خیر آباد کہہ دیا تھا اور گھر میں ہی کام کرنا شروع کر دیا تھا لیکن گھر میں کبھی کسی نے اسے نوکر نہیں سمجھا تھا ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لو اٹھ گئی مہارانیاں آئیں آئیں آپ ہی کا انتظار ہو رہا تھا بڑی بہو نے تڑخ کر کہا کل رات سے ان کا پارہ ہائی ہوا پڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار تائی امی کیا ہو گیا ہے ایسے کیوں بیہیو کر رہی ہیں ہم تو روزانہ ہی اسی ٹائم پر اٹھتی ہیں ۔۔۔۔۔
سارا نے فوراً استفار کیا تھا ۔۔۔۔۔۔
ہاں تو یہی تو کہہ رہی ہوں تم دونوں جیسی نكمی اولاد خدا کسی کو نہ دے یہ نہیں کہ ماؤں کا ہاتھ بٹا دیں آخر وہ بھی انسان ہیں تھک جاتی ہیں وہ بھی لیکن نہیں تم لوگ کیوں احساس کرو گی ہمارا ۔۔۔۔۔۔
آج تو لگتا تھا بڑی بہو سارے سال کا غصہ آج ہی نکالیں گی ۔۔۔۔۔۔۔
سرپرائزززززززز ۔۔۔۔۔
اس سے پہلے ان کو تائی امی کی مزید تقریر سنی پڑتی کہ انھیں ایک نسوانی سی آواز سنائی دی تو سب نے پلٹ کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں پر چھوٹی دادو یعنی دادو حضور کی چھوٹی بہن اپنی پوری فیملی سمیت ان کے دروازے پر کھڑی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نایاااااااااا ۔۔۔۔۔۔
ایک چیخ کے ساتھ مہک اور سارا بھاگ کر ان سب تک پہنچ چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر ملنے ملانے کا ایک لمبا سلسلہ چلا تھا لیکن دونوں دادیوں نے ایک دوسرے کو خاص بھاؤ نہیں دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
کافی دیر گپ شپ لگانے کے بعد سب لوگ آرام کی غرض سے کمروں کا سفر طہ کر چکے تھے ۔۔۔۔۔۔


عصر کی نماز کے بعد سب مرد حضرات اور بچہ پارٹی لاؤنچ میں بیٹھ چکی تھی جبکہ دونوں بہوئیں اور فرح یعنی ان کی نند اور ساتھ ہی نوری کچن میں افطاری کی تیاری میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔۔۔
نور بچے آپ بھی جاؤ اور جا کر باقی بچوں کے ساتھ بیٹھو ہم لوگ یہاں سب تیار کر لیں گے ۔۔۔۔۔۔۔
ارے نہیں پھپھو کوئی بات نہیں میں آپ لوگوں کی مدد کرو ہوں ۔۔۔۔۔۔
نوری بھی باقی بچوں کی طرح فرح کو پھپھو ہی کہتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
ارے نہیں بیٹا جاؤ آپ شاباش ہم کر لیں گے ۔۔۔ ۔۔
اب آئ بار چھوٹی بہو نے کہا تھا (( چھوٹی بہو دادو حضور کے شوہرِنامدار حیات صاحب (( جو کہ اب خود حیات نہیں تھے)) کی سگی بھانجی تھی جن کی شادی فراز صاحب سے ہوئی تھی اور ان کے دو بچے سارا اور احد تھے ))
تو نوری وہاں سے باہر ا گئی تھی ۔۔۔۔۔
ماشاءاللّٰه بہت اچھی سلجھی ہوئی بچی ہے یہ رمضان گزر رہا ہے سحری میں ہمارے ساتھ اٹھتی ہے اور ہماری کچن میں مدد کرواتی ہے اور ایک ہماری اولاد ہے نواب زادیوں کو اسپیشل جا کر اٹھانا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
بڑی بہو تو ایک بار پھر نوں اسٹاپ شروع ہو چکی تھی ۔۔۔۔
ارے بڑی بھابھی ان باتوں کو چھوڑیں مجھے یہ بتائیں کہ آج کل پھر سے اماں کو کونسا دورہ پڑا ہوا تھا ؟؟؟؟؟
فرح نے اس کا دھیان بٹایا تھا ۔۔۔۔
سچ پوچھو نہ اگر فرح تو مجھے نہ تمہاری اماں حضور کی سمجھ نہیں آتی کہ بیٹھے بیٹھے ان کو کون سے دورے پڑتے رهتے ہیں اللّه جانےخالہ کا کونسا بیر ہے امی کے ساتھ اب نیا سیاپہ ڈالا ہوا ہے کہ سارا اور تابش کی شادی کروانی ہے میری تو سمجھ سے باہر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمممم کوئی بات نہیں بھابھی مل کر کچھ سوچتے ہیں اور اماں سے بھی بات کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔


ارے آؤ گڑیا تم کیسی ہو ؟؟؟؟
تابش نے نوری سے پوچھا تھا گھر میں سب سے چھوٹی نوری تھی جس کی وجہ سے سب ہی اس سے بہت پیار کرتے تھے ۔۔۔۔
میں بلکل ٹھیک ہوں بھائی آپ کیسے ہیں ؟؟؟؟؟؟
میں بھی ٹھیک ہوں گڑیا آؤ بیٹھو ہمارے ساتھ ۔۔۔۔۔۔
تابش کے کہنے پر نوری بھی وہی بیٹھ گئی اور ان سب کی اپس میں گپیں شروع ہو گئی ۔۔۔۔۔


آج ایک بار پھر سے افطاری کے بعد اندر بڑوں کی جبکہ باہر ینگ جنریشن کی میٹنگ شروع ہو چکی تھی اور نوری اس وقت کچن میں سب کے لیے چائے بنا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلو اچھا ہی ہوا جو تم لوگ خود ہی آ گئے ویسے بھی میں کچھ دنوں تک تمہیں دعوت دینے ہی والی تھی آخر کو میرے پوتے پوتیوں کی شادیاں جو ہیں ۔۔۔۔۔۔
دادو حضور نے خاص طور پر اپنی بہن کو جتاتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔۔
لیکن خالہ آپ ایسا کیسے کہہ سکتی ہیں جبکہ آپ نے خود بچپن میں سارا تابش سعد اور عنایا کا رشتہ طہ کیا تھا اب آپ مکر کیسے سکتی ہیں اور تو اور بچے بھی ایک دوسرے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
دادو کے لاڈلے داماد اور سگے بھانجے صاحب بول چکے تھے اور ایسا شاذوناذر ہی ہوتا تھا کہ طارق میاں کچھ بولیں اور دادی حضور نہ مانے اور شاید بری قسمت کی وجہ سے آج وہی دن تھا ۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو بیٹوں تمہاری بات اپنی جگہ سہی ہے لیکن میں نے فیصلہ کر لیا ہے اور اب اس میں کوئی ردوبدل نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔
رہنے دو طارق کس کے منہ لگ رہے ہو میری اس آپا کے جن کو چھوٹے بڑے کا لحاظ ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔
طارق میاں جب دوبارہ منہ کھولنے لگے تو ان کی اماں محترمہ بول پڑی ۔۔۔۔۔۔
ہاں ہاں تم نے تو جیسے ادب احترام میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے ۔۔۔۔۔
بڑی دادو نے بھی اپنی چھوٹی بہن کو تڑخ کر جواب دیا تھا ۔۔۔۔۔۔
رہنے دیں رہنے دیں آپا آپ کو تو پی ایچ ڈی کے سپیلنگ بھی نہیں آتے ہو گے ۔۔۔۔۔۔
چھوٹی دادو بھی اب میدان میں اتر چکی تھی جبکہ ان کی اولاد ایک دوسرے کا منہ دیکھ کر رہ گئی کیونکہ تیسری جنگ عظیم کا آغاز جو ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھ تو میرے متھے نہ ہی لگ تے چنگا ہی ورنہ ۔۔۔۔
ورنہ ورنہ کیا آپا آپ مجھے مجھے یعنی سگی چھوٹی بہن کو دھمکی دے رہی ہیں آپ جانتی بھی ہیں کہ آپ کے سارے کالے چٹے مجھے پتا ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
آج تو چھوٹی دادی بھی آگ کا شعلہ بنی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
نہ کون سے کالے چٹے ذرا مینو وی دس مینو وی پتا لگے ۔۔۔۔۔۔ . .
اچھا جی وہ جو سکول کے زمانے میں گلی کے نکڑ والے رشیدے سے بڑے رسگلے مفت میں کھاتی تھی وہ کیا تھا اور وہ گھر کے ساتھ والے کمالے سے مفت کے گول گپے منگواتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
چھوٹی دادو کی اس گوہر افشانی پر جہاں باہر کھڑے بچے (( جو کہ آج بڑی مشکل سے تھوڑا سا دروازہ کھول کر اندر کی باتیں سن رہے تھے )) منہ کھولے حیرت سےایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے وہی اندر بڑی دادو غم و غصہ کا سخت شکار تھی کہ ان کا اتنے سال کا بچوں کے سامنے راز کھل گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں تو تو کونسی بیبی حاجن تھی تیرا چکر اس فیکے ریڑھے والے کے ساتھ تھا جس کا رشتہ وی آیا تھا اور ابا نے جوتے اور ٹھڈے مار کے اسے گھر سے نکالا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
بڑی دادو نے بھی حساب برابر کیا تھا جبکہ باقی سب کو ہونکوں کی طرح ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔


اس وقت سب بچہ پارٹی لان میں بیٹھی اس مسلہ کا اجتماعی حل ڈھونڈ رہی تھی اور ان کے ساتھ نوری بھی شامل تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار تابش مجھے لگتا اب ایک ہی کام ہو سکتا ہے ؟؟؟؟؟؟
سعد نے پر سوچ انداز میں کہا تھا ۔۔۔۔
اور وہ کیا ؟؟؟
سب نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہاتھا ۔۔۔۔۔
وہ یہ کہ ہم میں سے کوئی ایک سوسائڈ کرنے کا ناٹک کرے اور بڑوں کو اپنی مٹھی میں کرے ۔۔۔۔۔۔
واہ واہ واہ کیا زبردست آئیڈیا ہے نالائق کہیں کہ تم پہلے تو مجھے یہ بتاؤ کہ تمہیں کس بیوقوف نے یونی میں پروفیسر رکھا ہے کیونکہ عقل تو تمہاری گھاس کھانے گئی ہوئی ہے ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احد نے سعد کو اچھی خاصی سنا دی تھی ۔۔۔۔۔
یار اس میں غلط کیا ہے آخر ؟؟؟؟
اوئےےے عقل سے پیدل جیسے ہمارے بڑے تو ہمیں جانتے ہی نہیں ہیں کہ ہم سب کتنے بہادر ہے ایک منٹ انہوں نے ہمارا ناٹک پکڑ لینا ہے ۔۔۔۔
تابش نے بھی اسے اچھا خاصا جھاڑ دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر جان کی امان پاؤ تو میں کچھ عرض کرو ۔۔۔۔۔
احد کی زبان ایک بار پھر چلی تھی ۔۔۔۔
ارشاد ارشاد کب سے تو تم سب ہی بکواس کر رہے ہو تھوڑی دیر اور کر لو گی تو کونسا کوئی فرق پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔
سارا نے بھی منہ بنا کر جواب دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
یار میرے دماغ میں دو زبردست پلان ہیں لیکن اگر کسی نے درمیان مریں بکواس کی تو میں ایک بھی نہیں بتاؤ گا ۔۔۔۔
احد نے اپنی شرط بھی بتائی تھی ۔۔۔۔۔
اچھا اچھا بولو اب ۔۔۔۔
ہاں تو پلان اے یہ ہے کہ تابش کسی بھی طرح سے اپنی دادی کی برین واشنگ کرے گا اور ان کی ازلی غیرت کو جگانے کی کوشش کرے گا اور مجھے امید ہے تم یہ کر لو گے ۔۔۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے یہ تو میں کر لو گا اب پلان بی کیا ہے ؟؟؟
تابش نے فورا جواب دیا تھا ۔۔۔۔۔
پلان بی یہ ہے کہ ۔۔۔
اور پھر احد نے سب کو اپنا پلان بتایا تھا جس پر سب راضی تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا نور یار میری کمپنی کے مینیجر نے مجھ سے ملنے آنا ہے جب وہ آئے گا تو پلیز ذرا مجھے انفارم کر دینا آپ ۔۔۔۔۔۔
اوکے تابش بھائی ۔۔۔۔۔۔


ہائےےے اللّه میں مر گئی آنکھیں ہیں یا بٹن ہیں جو یوں ہر کسی سے ٹکراتے پھر رہے ہو اور یہ کیا سینے میں سیمنٹ اور سریا فٹ کروا رکھا ہے کیا میرا تو سر پھوڑ کہ رکھ دیا ہے ۔۔۔۔۔ . ۔
نوری جو کہ چھت سے گیلے کپڑے اتار نے جا رہی تھی سامنے ہی موجود کسی چٹان سے ٹکرائی تھی اور پھر بنا بریک پر پیر رکھے شروع ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔
دیکھیں مس آپ کو ۔۔۔۔۔
اوئےےے تمیز سے مس ہو گی تم مس ہو گی تمہاری بیوی سمجھے میرا نام نورالعین ہے اور آئندہ تمیز سے بات کرنا تم نوری یہ کہہ کریہ جا وہ جا ۔۔۔۔۔
جبکہ سامنے موجود شخص کو اس چھٹانک بھر کی لڑکی کو دیکھ کر رہ گیا ۔۔۔۔۔
اففففففف چھوٹے پیکٹ میں بڑا پٹاخہ ہے یہ تو ۔۔۔۔۔


السلام علیکم دادو کیسی ہیں آپ ؟؟؟؟؟
وعلیکم السلام تابش پتر میں ٹھیک ہوں لیکن تیری اس نانی نے مجھے سہی نہیں رہنے دینا کبھی ۔۔۔۔۔
چھوٹی دادو نے فٹ سے گلہ کیا تھا ۔۔۔۔
ارے دادو تو آپ کیا اتنی جلدی خود کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیں گی مقابلہ نہیں کریں گی کیا ؟؟؟
تابش اس وقت آگ لگانے والی اماں کا کام بھر پور طرح سے سر انجام دے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
کیا مطلب پتر میں سمجھی نہیں تم کیا کہنا چاھتے ہو ؟؟؟
ارے دادو بات بہت سمپل سی ہے بچپن میں بڑی دادو یعنی میری نانو نے خود ہمارے رشتے طہ کیے تھے اور اب خود ہی مکر رہی ہیں یعنی نہ پہلےآپ کی رائے سنی نہ کوئی اہمیت دی اور نہ ہی آج یہ کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔
کیا سمجھی پھر دادو آپ ؟؟؟؟؟
پتر میں سب سمجھ گئی لیکن اب سوچنا یہ ہے کہ ایسا کیا کیا جائے کہ تمہاری نانو کا دل بدل جائے۔۔۔۔۔
ارے دادو یہ سوچنے کے لیے میں ہو نہ آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں آپ صرف میرا پلان سنیں ۔۔۔۔۔
ویسے تمہیں لگتا ہے کہ یہ کام کرے گا ۔۔
اور پھر تابش جب اپنا پلان بتا چکا تو دادو نے سوال کیا تھا
ارے دادو اے ون کام کرے گا آپ بلکل بےفکر ہو جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
تابش بھائی آپ سے آپ کے منیجر ملنے کے لیے آئے ہیں ۔۔۔۔۔
عنایا نے آکر بتایا تو وہ اٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کیا بات ہے وكی تو کیوں منہ بنا کر بیٹھا ہوا ہے ایسا لگ رہا ہے جیسے تیرا یہاں آنے کا دل نہیں تھا زبردستی آیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
یار تابش تجھے پتا ہے یہاں داخل ہوتے ساتھ مجھے کتنے خطابات سے نوازا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
نہیں یار تو بتائے گا تو تب نہ ورنہ مجھے کیسے پتا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اندھا کہا گیا اور تو اور مجھےمس تک کہا گیا ۔۔۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہا تابش کا قہقہ بے ساختہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
یار تو ہنس رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
یہ کیا انٹی نے تو بولا تھا کہ تابش بھائی کے مینیجر آئے ہیں ان کو چائے دے کر آؤ پر یہاں تو سیمنٹ کی دوکان بیٹھی ہوئی ہے ۔۔۔۔
ارے آ جاؤ گڑیا وہاں کیوں کھڑی ہو ۔۔۔۔
نوری جو اپنے خیالات میں مصروف تھی تابش کی آواز پر چونکی تھی جبکہ وقاص نے بھی مڑ کر دیکھا تھا تو وہاں تھوڑی دیر پہلے والی لڑکی کو دیکھ کر دھچکا لگا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کون تھی لڑکی مطلب تمہاری کیا لگتی ہے ؟؟؟؟؟
نوری کے جانے کے بعد وقاص نے حیرت سے پوچھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو کیوں پوچھ رہا ہے ۔۔۔۔
تابش نے اسے کڑے تیوروں سے گھورتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
ایسے نہ دیکھ یہی ہے وہ لڑکی جس نے مجھے مس تک بولا تھا ۔۔۔۔۔۔
جبکہ ایک بار پھر سی تابش اس کے مس کہنے پر ہنس دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا تو اس کا مطلب ہے تو نور کے ہاتھ چڑھا ہے آج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے کہاں ہو سب چھوٹی دادو واشروم میں سلپ ہو کر گر گئی ہیں ۔۔۔۔۔۔
مہک نے سب کو چیختے ہوئے بتایا تھا جس پر سب بھاگ کر ان کے کمرے میں گئے تھے جبکہ تابش اپنے پلان پر مسکرا دیا ۔۔۔۔۔۔


(( جاری ہے ))