Aesa Bhi Hota Hai By Reeha Ali Readelle50298 (Aesa Bhi Hota Hai) Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
(Aesa Bhi Hota Hai) Episode 3
اس وقت ڈرائنگ روم میں وقاص کے پیرنٹس وقاص کا پرپوزل نور کے لیے لے کر آئے ہوئے تھے جبکہ نور بیچاری ہقابقا کھڑی تھی کہ یہ سب ہو کیا رہا ہے جبکہ باقی تینوں لڑکیاں تو بڑی خوش نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔
یار نوری جلدی کر نہ پہلے تو تم چٹکی بجا کر چائے بنا لیتی تھی اب آج کیا ہوا ہے آج کیوں تمہاری چائے نہیں گل رہی ۔۔۔۔۔
سارا نے جان بوجھ کر اسے چھیڑا تھا ۔۔۔۔۔
دیکھیں سارا باجی میں پہلی ہی بڑی پریشان ہوں آپ مجھے تنگ مت کریں اور پلیز میں نے یہ چائے بنا دی ہے آپ جا کر دے آئیں میں نہیں جا رہی ۔۔۔۔۔
ارے ارے ایسے کیسے سارا جا کر دے آئے بھئی رشتہ تمہارا آیا ہے سارا کا تھوڑی آیا ہے چلو شاباش اچھے بچوں کی طرح اپنے سسرال والوں کے لیے چائے لے کر جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔
عجیب مصیبت ہے یار ان کو بھی افطاری کے بعد ہی آنا تھا پہلے نہیں آ سکتے تھے کم از کم اس جھنجھٹ سے تو جان چھوٹتی نا ۔۔۔۔۔۔۔
عنایا کے کہنے پر نوری نے جل کر جواب دیا تھا جس پر تینوں لڑکیاں ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس دی ۔۔۔۔۔۔
اچھا اچھا چلو ہم سب تمہارے ساتھ جائیں گے ۔۔۔۔
مہک نے کہا تو وہ چاروں چل پڑی لیکن تھوڑی آگے جا کر نوری ایک بار پھر رک چکی تھی ۔۔۔۔
یار نور اب کیا مسلہ ہوا ہے اب کیوں رک گئی ہو ؟؟؟؟
عنایا کو اس کا بیچ راستے میں رکنا سمجھ نہیں آیا تھا ۔۔۔۔۔
وہ نایا باجی کیا اندر وہ لڑکا بھی آیا ہے کیا ؟؟؟؟
ہیں کونسا لڑکا کسی لڑکے نے بھی آنا تھا کیا ؟؟؟؟
عنایا کو تو اس کی بات ہی سمجھ میں نہیں آئ جبکہ مہک اور سارا کے ہونٹوں پر دبی دبی مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔۔
افففف اووو نایا یہ اپنے ہونے والے انننننن کا پوچھ رہی ہے ۔۔۔۔
مہک نے شرارت سے ایک آنکھ دبا کر ان کو لمبا کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔۔۔
اوووہ ہ تو ہماری لڑکی تو اپنے ان کو دیکھنے کی جلدی ہے ۔۔۔۔
عنایا اور مہک تو اس کو تنگ کرنے سے باز ہی نہیں آرہی تھی جبکہ اب تو نوری بلکل رونے والی ہو چکی تھی توسارا نے ڈانٹ کر چپ کروانا پڑا تھا ۔۔۔۔۔۔
تو وہ سب لوگ چائے اور ساتھ لوازمات لے کر ڈرائنگ روم کی طرف چل پڑی ۔۔۔۔
اندر اس وقت گھر کے سب بڑے موجود تھے اور ساتھ ہی ساتھ تابش بھی بیٹھا ہوا تھا جبکہ چھوٹی دادو بھی آنا چاہتی تھی لیکن اپنی ٹانگ کے ناٹک کی وجہ سے نہیں آ سکی تھی جبکہ انہوں نے تابش کو خاص طور پر کہا تھا کہ وہاں ہونے والی ایک ایک بات کا مجھے بتانا ورنہ اب کی بار وہ خود رشتوں سے انکار کر دیں گی جبکہ تابش تو ان کی دھمکی پر عش عش کر اٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
وقاص کے گھر والے بھی جا چکے تھے ان کو نور پسند آئی تھی اعتراض تو یہاں بھی کسی کو نہیں تھی کیونکہ طارق صاحب وقاص کو بہت اچھے سے جانتے تھے لیکن پھر بھی سب نے سوچنے کا وقت لیا تھا ۔۔۔۔۔
اس وقت نور اپنے کمرے یعنی بڑی دادو کے کمرے میں موجود تھی کیونکہ وہ بڑی دادو کے ساتھ ہی سوتی تھی اس کی ایک وجہ وہ اکیلے سونے سے بہت ڈرتی تھی اور دوسرا بڑی دادو کی طبیعت خراب رہتی تھی تو اس لیے بھی کی نا کسی کا ان کے پاس ہونا ضروری تھا ۔۔۔۔۔۔
دیکھو نور بیٹا وقاص تابش کا بہت اچھا دوست ہے اور ہمیں امید ہے وہ تمہیں خوش رکھے گا تم ہماری ذمہ داری ہو میری زندگی کا کیا بھروسہ آج ہوں کل نا ہوں لیکن میں چاہتی ہوں کہ میری زندگی میں ہی تمہاری فرض سے میں سبکدوش ہو جاؤ
لیکن تمہیں فیصلہ کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے اگر تمہیں اس رشتے پر کوئی اعتراض ہے تو تم مجھے بتا سکتی ہو میں فوراً انکار کر دو گی ۔۔۔۔
جبکہ ان کی اتنی محبت پر نور کی آنکھوں میں آنسوں چمک پڑے تھے زندگی میں جتنا خیال اس گھر کے لوگوں نے اس کا رکھا تھا شاید ہی کوئی اور ایسا خیال رکھ سکتا تھا ۔۔۔
ارے دادو آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں مجھے آپ کے کسی بھی فیصلہ سے کوئی بھی اعتراض نہیں ہے آپ میرے بارے فیصلہ کریں گی یقینا اس میں کوئی بہتری ہی ہو گی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔۔
نور کے کہنے پر دادو نے اس کا ماتھا چوما تھا نور کو ہمیشہ جب بھی وہ سارا یا مہک کو اپنی ماں سے پیار کرتے دیکھتی تھی تو اس کا بھی شدت سے دل چاہتا تھا کہ اس کی بھی ماں ہوتی تو وہ ان سے بھی ایسا ہی پیار کرتی ۔۔۔۔
صبح تک مثبت جواب وقاص کی فیملی تک پہنچا دیا گیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ باقی سب بچوں کے ساتھ اس کا بھی نکاح ہونا طہ پایا تھا جس کو سن کر وقاص کو بے حد خوشی ہوئی تھی لیکن اس کی اس خوشی کو تابش نے یہ بتا کر دوبالا کر دیا تھا کہ نور کو یہ نہیں بتایا میں نے کہ اس کا رشتہ اسی اندھی مس سے ہو رہا ہے ۔۔
تابش تو یہ کہہ کر قہقہ لگا کر ہنس پڑا جبکہ وقاص نے پہلے تو منہ بنایا لیکن پھر اسے یہ سوچ سوچ کر ہنسی آرہی تھی کہ جب اس کو پتا چلے گا تو تب اس تیکھی مرچ کا کیا حال ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت وقاص تابش سے ملنے کے لیے آیا تھا کیونکہ اس نے کوئی بزنس سے ریلیونٹ بات ڈسکس کرنی تھی لیکن گیٹ سے انٹر ہوتے ہی سامنے ہی اس کو تیکھی مرچ پودوں کو پانی دیتی ہوئی نظر آئ تھی تو اس کو تپانے کا سوچتے ہوئے وہ اس کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔۔
ہیلو مس کیسی ہیں آپ ؟؟؟؟
نوری جو کہ پودوں کو پانی دینے میں مصروف تھی کسی کی آواز سن کر یک دم سے ڈری اور پانی کا پائپ سیدھا جا کر پیچھے موجود وقاص کے کپڑوں پر کو گیلا کر گیا تھا جبکہ پہلے تو نوری کو سخت شرمندگی ہوئی لیکن پھر اس کو جب یاد آیا کہ اس نے مجھے ڈرایا تھا تو اس کا ازلی غصہ عود کر آیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
شرم تو مجھے لگتا ہے تمہیں چھو کر بھی نہیں گزری ابھی ڈر کے مارے مجھے ہارٹ اٹیک ہو جاتا تو کون ذمہ دار تھا اس چیز کا ۔۔۔۔
نوری نے لڑاکا عورتوں کی طرح دونوں ہاتھ کمر پر رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
اوئےےے مس تیکھی مرچ میں نے آپ کا حال حوال ہی پوچھا تھا کونسا آپ پر بم پھوڑ دیا تھا کہ آپ کو ہارٹ اٹیک ہو جاتا ۔۔۔۔۔
نا میں آپ کے چاچے کی بیٹی ہوں جو آپ میرا حال حوال پوچھ رہے تھے ۔۔۔۔۔
نوری نے ایک دفعہ پھر سی اسے گھوری سے نوازاتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔۔
چاچے کی بیٹی تو نہیں لیکن میرے فیوچر بچوں کی اماں ضرور ہیں ۔۔۔۔
وقاص منہ ہی منہ بڑبڑایا تھا ۔۔۔۔
یہ منہ ہی منہ میں کیا بڑبڑا رہے ہو ذرا اونچا بولو ۔۔۔۔۔۔
اوہ ہ ہ ہو تو یہاں ملاقاتیں چل رہی ہیں ۔۔۔۔۔
اس سے پہلے وقاص اس کو کوئی جواب دیتا وہاں پر احد اور تینوں لڑکیوں نے دھاوا بول دیا تھا ۔۔۔۔۔
ہی ہی ہی ہی ملاقاتیں تو آپ ایسے کہہ رہی ہیں نایا باجی یہ کوئی میرا پرانہ عاشق ہے اور ہم صدیوں کے بعد آج ملے ہیں اور ملاقاتیں کر رہے ہیں جبکہ میں نے قسم کھائی تھی کہ اس بندے کی شکل بھی دوبارہ اپنی زندگی میں نہیں دیکھو گی لیکن نہیں یہ آج یہاں پھر ٹپک پڑا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
نوری نے بڑے ہی تپے ہوئے انداز میں کہا تھا جس سے ان سب کو سمجھ لگ گئی تھی کہ اس کو ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ اس کا رشتہ ہوا کس کے ساتھ ہے بس پھر کیا تھا ان سب کو تو موقع مل گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
ارے نور یار ایک دفعہ سوچو اگر یہ شکل تمہیں روز صبح شام دیکھنی پڑے تو تب تم کیا کرو گی ۔۔۔۔۔
ارے احد بھائی اس سے بہتر میں اندھی ہونا پسند کرو گی ۔۔۔۔
نور کے جواب پر جہاں وقاص کا حیرت سے منہ کھلا تھا وہی اب چاروں کا زبردست سا قہقہ پڑا تھا ۔۔۔۔۔
یار نور اس بات کو دفع کر تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے اپنے دلہے کو دیکھا ہے یا ویسے ہی ہاں کر دی ہے اگر خدانخواستہ ان کی شکل وکی بھائی سے ملتی ہوئی تو پھر ۔۔۔۔۔
مہک نے بڑے دوستانہ انداز میں نور کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا جس پر باقی سب نے مسکراہٹ دبائی تھی جبکہ وقاص بھی اس کےجواب کے انتظار میں کھڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
نہیں مہک باجی میں نے تو نہیں دیکھا دادو نے پوچھا تو میں نے ہاں کر دی کیونکہ مجھے دادو پر پورا یقین ہے کہ انہوں نے ضرور میرے لیے کسی اچھے انسان کا انتخاب کیا ہو گا ۔۔۔۔
نور نے اچھے پر اچھا خاصا زور دیتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔
اس کے جواب پر جہاں ان چاروں کو ایک بار پھر سے ہنسی کا دورہ پڑا تھا وہی اب کی بار وقاص کا دماغ گھوما تھا اسی لیے اس کی طرف قدم بڑھائے تھے ۔۔۔۔۔
تمہیں میری شکل دیکھنے سے بہتر اندھا ہونا لگ رہا ہے تو میں تمہاری یہ خواہش جلدی پوری کر دو گا کیونکہ اب یہ شکل تو تمہیں روز صبح شام دیکھنے کو ملے گی کیونکہ تمہارا رشتہ مجھ سے ہی طہ ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔
وقاص نے اپنے دانت پتيسے ہوئے کہا تھا جبکہ نوری تو منہ کھولے اس کا انکشاف سن رہی تھی جبکہ باقی سب نور حالت سے محظوظ ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔
وقاص تو یہ کہہ کر وہاں سے جا چکا تھا جبکہ نور ابھی تک صدمے کی حالت میں کھڑی تھی ۔۔۔۔۔۔
یار وكی تو چلا گیا ہے اپنی سنا کر میرا خیال ہے کہ اس کو ذرا مراقبے سے نکالو کہیں صدمے سے بیچاری شہید ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔
احد نے کہا تو وہ تینوں بھی اس کی طرف بڑھی ۔۔۔۔
اوہ بہن ہوش میں آ جا چلے گئے تمہارے اننننن ۔۔۔۔۔
مہک نے ایک بار پھر اس کو تنگ کیا تھا جبکہ اس نے ان کو بے یقینی سے دیکھا تھا ۔۔۔۔
یہ زیادتی ہے میرے ساتھ کیا یہی بندر رہ گیا ہے میری قسمت میں ۔۔۔۔۔
نور نے ڈبڈباتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تو ایک بار پھر سے ان کے قہقے گونجے تھے ۔۔۔۔۔
ارے دادو جلدی جلدی یہ سب سمیٹیں بڑی دادو آ رہی ہیں کمرے میں آپ سے بات کرنے کے لیے ۔۔۔۔۔
چھوٹی دادو جو کہ اس وقت مکمل طور پر اپنا پلاستر اتار کر بلکل ریلیکس ہو کر بیٹھی ہوئی تھی نایا اور مہک کی جلدی مچانے پر غلطی سے پلاستر دائیں ٹانگ کی بجائے بائیں ٹانگ پر چڑھا لیا تھا اور بیٹھ کر چہرے پر تکلیف کے تاثرات طاری کر لیے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑی دادو کے آنے پر سب لوگ بڑے معتبر طریقے سےبیٹھ چکے تھے ۔۔۔۔۔
دادو نے حال حوال پوچھنے کے بعد وہی بیٹھ گئی تھی ۔۔۔۔
ویسے میں سوچ رہی تھی کہ تم سب لوگ اپنے ساتھ ساتھ نوری کو بھی لے جانا شاپنگ کے لیے اور ہر چیز اس کی مرضی سے لے کر آنا ۔۔۔۔
دادو نے وہاں موجود سب نفوس سے کہا تھا جبکہ ابھی تک کسی کا دھیان دادو کی ٹانگ پر نہیں گیا تھا جب اچانک احد کی نظر پڑی تو حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹ گئی اور اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں مہک کو اشارہ کیا جس کی مہک کو ذرا سمجھ نہیں لگی ۔
جب احد نے دانت پیستے ہوئے دادو کی ٹانگ کی طرف اشارہ کیا تھا جبکہ ان کو یوں اشاروں میں باتیں کرتے دیکھ کر سارا نے نہ سمجھی سے احد کو دیکھا تھا تو احد نے اس کو اشارہ سے بتایا تو سارا نے جیسے ہی مڑ کر دیکھا اس کا حال بھی احد والا ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
ارے کوئی میری بھی سن رہا ہے کہ نہیں ۔۔۔
دادو نے آخر تنگ آ کر ان سے کہا ۔۔
جج جی دادو سن رہے ہیں آپ بلکل بے فکر ہو جائیں ہم سب دیکھ لیں گے ۔۔۔۔۔
جب کہ اب وہ دادو کو بھیجنے کے لیے پرتول رہے تھے ۔۔۔۔
ویسے دادو آپ کو اب آرام کرنا چاہئے زیادہ دیر بیٹھنا آپ کی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے ۔۔۔۔۔
احد نے کہا تو دادو نے اس کو گھورا تھا ۔۔۔۔
نہ تینوں کہ مسلہ ہے میرے ادر بیٹھن سے ۔۔۔۔۔
ارے دادو مجھے تو آپ کی صحت کا خیال ہے ایسا اس لیے بولا ہے ۔۔۔۔
نہ تینوں پریشان ہون دی لوڑ نہیں اے میں بھلی چنگی آ ۔۔۔۔۔۔۔
ارے دادو آپ تو بھلی چنگی ہیں لیکن آپ یہاں تھوڑی دیر اور کھڑی رہی تو ہم خراب ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔
احد یہ سب منہ ہی منہ میں بولا تھا نہی تو اگر دادو حضور سن لیتی تو ان کی خیر نہیں تھی ۔۔۔۔۔
چل میں چل دی آ ۔۔۔۔
دادو کہتے ساتھ باہر کی طرف چل پڑی تو سب نے شکر کا کلمہ پڑھا تھا ۔۔۔
ارے وہ جو کہنے آئ تھی وہ تو میں بھول ہی گئی تھی دادو ایک دفعہ پھر سے واپس ہو لی ۔۔۔۔۔۔
ارے یہ کیا یہ پلاستر پہلے دائیں ٹانگ پر تھا اب یہ بائیں پر کیسے چڑھ گیا ۔۔۔۔۔
دادو نے حیرت سے چھوٹی دادو کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔
ارے وہ وہ ۔۔۔۔
کیا وہ وہ سچ سچ بتاؤ کیا ہے یہ سب ۔۔۔۔
بڑی دادو نے ایک دم گرج کر کہا تھا تو سب ایک دفعہ سہم گئے تھے جبکہ بڑی دادو خود ہی چل کر چھوٹی دادو کے پاس گئی تو ان کا پلاستر پکڑ کر ذرا سا کھینچا تو وہ وہاں سے ہٹنا شروع ہوا تو دادو نے غصہ سے ان سب کو دیکھا تھا جبکہ وہ لوگ تو ایسے سر جھکا کر کھڑے تھے جیسے یہاں وہ لوگ موجود ہی نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت بڑی دادو کے کمرے میں چھوٹے بڑے سب موجود تھے اور دادو کا غصہ سے برا حال تھا جبکہ باقی سب خاموشی سے ان کے بولنے کا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔۔۔
میں آج ابھی اور اسی وقت سارے رشتے ختم کرتی ہوں ۔۔۔۔
خاموش کمرے میں بڑی دادو کی آواز گونجی تھی اور سب کو ایک بار پھر سے سانپ سونگھ گیا تھا ۔۔۔۔۔
جاری ہے
