Zindgi Ho Jaise By Eman Khan readelle50010 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
شام کا ہلکا ہلکا اندھیرا ہر سو پھیل گیا تھا سورج اب غروب ہو رہا تھا
جنگل کی ویرانی ایک عجیب سا منظر پیش کررہی تھی
پریشے نے نم آنکھوں سے اوپر آسمان کی طرف دیکھا
جہاں کالے بادل چھا چکے تھے
لگتا ہے بارش ہو گی
وہ زیر لب بڑبڑاٸی
پھر سر گھٹنوں میں دے دیا
وہ اس وقت جنگل میں ایک پیڑ کےپاس ٹیک لگا کے بیٹھی تھی
ریان کی کل کی باتوں نے اسے توڑ کے رکھ دیا تھا
وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ
ریان کسی اور سے محبت کرتا ہو گا
وہ تو یہ ہی سمجھتی تھی کہ ریان بس اس کے بچپنے سے تھوڑا خاٸف ہے
لیکن وہ یہ کیسے برداشت کر سکتی تھی کہ ریان کے حق میں شراکت کرے
اس لیے وہ چلتے چلتے کہیں دور نکل آٸی تھی
ابھی بجلی ذور سے کڑکی تو وہ گھبرا کہ کھڑی ہوگٸ
اسےبچپن سے ہی بجلی سے بہت ڈر لگتا تھا
بجلی پھر ایک بار کڑکی
اب کی بار وہ چلاٸی
اور دو قدم پیچھے ہٹی
ریان نے قریب سے ہی پریشے کی آواز سن لی تھی
وہ بھاگتا ہوا آیا
پریشے نے آنکھیں بند کی اور بازو سے اسے تھام لیا
جیسے ہی پریشے نے آنکھیں کھولی تو ٹارچ کی روشنی میں ریان کا چہرہ دیکھ کہ اسے دھکیل کے آگے بڑھنے لگی
پریشے سنو
وہ اس کے پیچھے بھاگا
چلے جاٸیں
اس نے پیچھے مڑے بغیر کہا
ریان نے آگے بڑھ کر اسے بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کیا
تم جانتی ہو تم نے میری جان نکال دی تھی
اس نے اس کو بازٶں میں بھرتے ہوۓ کہا
پریشے نے اسے پرے دھکیلا
میرے جینے یا مرنے سے آپ کو کیا فرق پڑتا ہے
وہ ابھی بھی ناراض تھی
یار ادھر میری آنکھوں میں دیکھو
وہ اس کے روبرو کھڑا تھا
اس نے پلکیں اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا
یہاں ایک ہی نام ہے وہ ہے پریشے
اور اس دل میں بھی ایک ہی نام ہے
اس نے اس کے نازک ہاتھوں کو پکڑ کر اپنے دل پر رکھا
دیکھو تم میری بیوی ہو مانتا ہوں کل جلد بازی میں بہت کچھ بول دیا ہے
لیکن وہ میرا ماضی ہے پریشے میں نے کل خود کو ااس بوجھ سے آذاد کیا ہے
میرا حال اور مستقبل سب کچھ تم سے ہی وابستہ ہے
میرا یقین کرو
پریشے نے اس کی آنکھوں میں سچاٸی دیکھی
میں ابھی ادھر اس ڈاٸیری کو پھینک دون گا
اسے اپنی ذندگیوں سے نکال دوں گا
وہ اپنے بیگ کی طرف بڑھا اور ڈاٸیری نکالی
پریشے اس ڈاٸیری کو کیسے بھول سکتی تھی
وہ تو بچپن سے اس میں اپنی ہر چھوٹی بڑی بات لکھتی تھی
مطلب ریان جس لڑکی سے محبت کرتا ہے
وہ میں ہوں
پریشے نے آگے بڑھ کر ڈاٸیری ریان کے ہاتھ سے جھپٹ لی
کتنا ڈھونڈا تھا اس نے اسے
ریان نے خیرت سے اسے دیکھا
اسے مجھے دے دیں
نہ مت کیجیۓ گا
اس نے کچھ اس انداز میں کہا کہ وہ انکار نہ کر پایا
مبادا یہ نہ ہو کہ وہ پھر ناراض ہو جاۓ
اچھا چلوکیمپ چلیں اس سے پہلے ہم کسی جانور کی خوراک بن جاٸیں
وہ چپ چاپ اس کے پیچھے چلنے لگی
تم کبھی یہ خقیقت نہیں جان پاٶ گے
کپٹین ریان خان کہ وہ لڑکی میں ہی ہوں
تم نے میرے حق میں خیانت کی ہے نا تم کبھی مجھے نہیں پا سکو گے
وہ سوچ کہ رہ گٸ
❤❤❤❤❤
آج پریشے کا وہاں دسواں دن تھا پریشے کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ دن اتنی جلدی کیوں گزر رہے ہیں۔۔۔۔۔
ریان عجلت میں اندر داخل ہوا
پریشے چلو اٹھو تمھیں گھر جانا ہے
پریشے منہ کھولے اسے دیکھنے لگی
اتنی جلدی
الفاظ اس کی زبان پہ ہی دم توڑ گۓ تھے ۔
ریان اسے بہت پریشان لگ رہا تھا
ریان میں اکیلی کیسے جاٶں گی.
وہ اکیلی نہیں جانا چاہتا تھی
اصل بات یہ تھی کہ وہ ریان کو چھوڑ کہ نہیں جانا چاہتی تھی
تم اکیلی کب جا رہی ہو
تو پھر آپ بھی ساتھ چلیں گے
وہ ایک دم خوش ہوٸی
نہیں تم آرمی کی سکیورٹی میں جاو گی
میں نہیں جاٶں گا تمھارے ساتھ
پریشے کی مسکراہٹ یکدم غاٸب ہوٸی
کیوں پھر مجھے کیوں بھیج رہے ہیں
اس نے منہ پھلا کر کہا
کیونکہ یہاں خطرہ ہے کل یہاں پہ آپریشن سٹارٹ ہو جاۓ گا
ان خالات میں تمھیں یہاں نہیں چھوڑ سکتا ہوں
اس نے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر اسے سمجھایا
لیکن ریان
کوٸی ضد نہیں بس تم جا رہی ہو
ریان کی ضد کے سامنے اسے ہارنا ہی پڑا
اور وہ اس کی بات ماننے پر ناچاہتے ہوۓ بھی رضامند ہو گٸ
لیکن ریان میں پھپھو کو کیا جواب دوں گی
اس نے اپنے اندر کے ڈر کو باہر نکالا
تم انھیں کچھ مت بتانا
میرے واپس آنے کا انتظار کرنا ہم مل کے سب بتا دے گے
ایسے کوٸی تمھاری بات کا یقین نہیں کرے گا
اس نے نظریں نہیں ملاٸی کیونکے اسے خود علم نہیں تھا کہ آگے کیا ہو گا
❤❤❤❤❤
پریشے سنو
پریشے باہر نکلنے لگی تو ریان نے اسے پکارا
اس نے پیچھے مڑ کر منتظر نظروں سے اسے دیکھا
اس نے اپنے سر کی کیپ اتار کر پریشے کو دی
یہ میری کیپ امی کو دے دینا
کیوں
پریشے نے سوالیہ انداز میں کہا
کیونکہ پریشے ہماری ذندگی اللہ کی امانت ہوتی ہے
ہر آپریشن میں ہماری یہ خواہش ہوتی ہے کہ
ہم شہادت کے رتبے پر فاٸز ہو اس کا صلہ روز قیامت ہمیں خدا دے گا
جب ہم پاک آرمی میں شمولیت اختیار کرتے ہیں تو ایک وعدہ ہم اپنے ملک سے کرتے ہیں
دوسرا ہم خود سے کہ اپنے ملک کے ترقی میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ہم نیست و نابود کر دے گے
اور کوٸی بھی رشتہ اس میں رکاوٹ نہیں بنے گا
بس یہ مما کو دے دینا
میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ میرے وطن کو جب بھی میری ضرورت پڑے گی
میں پیچھے نہیں ہٹو گا
اور آج وہ وقت آگیا ہے جب میں وہ وعدہ نبھاٶ ۔
پریشے ریان کا اشارہ سمجھ چکی تھی
وہ کیپ کو ریان سے لے کے آنسو پیتی ہوٸی باہر نکل گٸ
❤❤❤❤
پریشے گاڑی کے پاس پہنچی تو ایک نظر مڑ کر ریان کی جانب دیکھا
ریان اس کی طرف دیکھ کر ہلکے سے مسکرایا
پھر اس کے قریب آکر آنسو اپنی پوروں پر چن لیے
یہ آنسو سنبھال کر رکھو پریشے
آرمی والوں کے گھر والوں کے بہت بڑے دل ہوتے ہیں
پریشے نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا
اور چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گٸ اور گاڑی ذن سے آگے بڑھ گٸ
❤❤❤❤❤
گاڑی کشادہ سڑکوں پر رواں دواں تھی پریشے کا دل اندر سے بہت اداس تھا
گاڑی ایک آرمی کپٹین ہی چلا رہا تھا
پریشے نے کچھ سوچ کر کیپ کپٹین کو دی اور کہا
یہ کیپ ریان کی امی تک پہنچا دے
اور مجھے میرے گاٶں پہنچا دے
اور ساتھ ہی گاٶں کا نام بھی بتا دیا
وہ اس وقت اتنی اداس تھی کہ وہ دادا جی کے پاس جا کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتی تھی
وہ ویسے بھی پھپھو کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی
اس نے سیٹ سے ٹیک لگا لی
