Zindgi Ho Jaise By Eman Khan readelle50010 Episode 09
No Download Link
Rate this Novel
Episode 09
ریان کیمپ کے اندر آیا تو پریشے آنکھیں بند کیے لیٹی تھی
ریان کو ایک نظر دیکھ کر اس نے پھر سے آنکھیں موند لی
ریان نے قریب پڑے بیگ کو کچھ حیرانگی سے دیکھا
اس بیگ کو اس نے پہلے نہیں دیکھا تھا
وہ پاس گیا بیگ کو اٹھایا تو دیکھا اندر کچھ کتاب نما چیز ہے
ریان
پریشے نے چلا کر کہا ساتھ ہی اٹھ بیٹھی
چھوڑیں اسے مجھے دیں
پریشے نے کہہ کر ساتھ ہی بیگ اس کے ہاتھ سے جھپٹ لیا
کیوں کیا یہ تمھارا ہے
ریان نے خیرت سے پوچھا
جی بالکل یہ میرا ہے
پریشے نے بیگ کو کسی قیمتی خزانے کی طرح دل کے ساتھ لگایا
ریان ہلکا سا مسکرایا
تم تو ایسے بی ہیو کر رہی ہو جیسے اس کے اندر کوٸی قیمتی خزانہ ہے
ہاں جی بالکل اس کے اندر میری بہت پیاری دوست ہے
جس کے ساتھ میں اپنے دل کی ہر بات کر سکتی ہوں
اس نے آنکھیں بند کر کے ایک گہرا سانس لیا
اچھا مجھے بھی دیکھاٶ اپنی دوست
ریان کو آہستہ آہستہ اس کی یہ باتیں اچھی لگنے لگی تھی
نہیں وہ صرف میری دوست ہے
بچپن سے اس نے صرف ریان کے ہی خواب دیکھے تھے تو
وہ سب کچھ اسی کے بارے میں لکھتی تھی
وہ جہاں کہیں بھی جاتی ڈاٸیری ہمیشہ اس کے پاس ہوتی
وہ نہیں چاہتی تھی کہ ریان کے سامنے اس کا برہم ٹوٹے
ہوں اچھا تو یہ بات ہے
اچھا پھر مجھے اس کا نام ہی بتا دو
اس نے کچھ سوچتے ہوۓ شرارت سے کہا
ڈاٸیری
اس نے خوش ہوتے ہوۓ کہا
ریان کے چہرے سے مسکراہٹ غاٸب ہوٸی اسے یکدم کوٸی یاد آیا
وہ بھی تو اپنی ڈاٸیری ہمیشہ پاس رکھتا تھا
اچھا کیا تم بھی ڈاٸیری لکھتی ہو
اس نے مدھم لہجے میں کہا
لو جی میں ہی تو لکھتی ہوں اور کون لکھتا ہے بھلا
کیا آپ بھی لکھتے ہیں
اس نے دبے دبے جوش سے کہا
اچھا ایک بات تو بتاو
اس نے اس کی توجہ ہٹانے کی غرض سے بات تبدیل کی
اس نے ایک ہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھا
اور اس کو منتظر نظروں سے دیکھنے لگی
تمھیں ڈاٸیری لانا یاد رہا اور امی کو بتانا یاد نہیں رہا
اس نے مصنوعی خفکی سے کہا
خالانکہ وہ یہ بات اسے بہلانے کے لیے کر رہا تھا
وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا چھوٹا سا دل ٹوٹے
ہاں نا تو وہ تو ہر جگہ میں اسے ساتھ رکھتی ہوں
اور ویسے بھی آپ نے کہا تو ہے کہ آپ سب سنبھال لیں گے
کہہ کر وہ پیچھے ہو کر ایسے اطمینان سے بیٹھ گٸ
جیسے مسٸلہ ہی حل ہو گیا ہو
دوسروں کا ہاتھ پکڑ کے چلنے والے لوگ
اور دوسروں پہ آرام سے یقین کر لینے والے لوگ
بہت معصوم ہوتے ہیں
اس کی ذندہ مثال پریشے تھی
❤❤❤❤❤
پریشے کی رات کو آنکھ کھلی تو اسے ریان کہیں دیکھاٸی نہ دیا
وہ گھبرا کے اٹھی اور ریان کو پکارتی ہوٸی باہر نکل گٸ
چاند کی مدھم روشنی میں اسے ریان نظر آیا
ریان کی اس کی طرف کمر تھی
پریشے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کی طرف گٸ
ریان
اس نے ہولے سے پکارا
ریان پیچھے نہیں مڑا
ابھی تک جاگ رہے ہیں
اس نے اس کے قریب کھڑے ہو کر کہا
چاند اس منظر کو چھپ چھپ کر دیکھ رہا تھا
ہاں نیند نہیں آرہی
اچھا اگر آپ سونے کی کوشش کریں گے تو نیند آجاۓ گی
اس نے ریان کے کندھے پر ہاتھ رکھا
پریشے
پریشے وہی کھڑی رہی
محبت ایک مرض ہے جو انسان کو اندر ہی اندر ختم کر دیتا ہے
پریشے سے بہتر یہ کون سمجھ سکتا تھا
اس نے بچپن سے اب تک اپنے نام کے ساتھ ایک ہی نام سنا تھا
وہ تھا ریان
اس نے اسی سے ہی بے انتہا محبت کی تھی
بغیر کسی ذاتی فاٸدے کے
لیکن ایسی محبتیں تو ناسور ہوتی ہیں نا پریشے جن میں ہم یہ جانتے بھی ہیں کہ وہ انسان ہمیں کبھی نہیں مل سکتا پھر بھی ہم اس سے محبت کرتے ہیں
ہمارے ہاتھوں کی لکیروں میں اس شخص کا نام نہیں ہوتا ھے
اور ہمارا دل پھر بھی ایک ہی مخصوص تال پر دھڑکتا ہے
اور ہمارے لیے وہی انسان ہمارا سب کچھ ہوتا ہے
وہ کب سے اس بوجھ کے ساتھ ذندگی گزار رہا تھا
آج وہ اس بوجھ سے خلاصی چاہتا تھا
وہ اپنا دل کھول کر اس کے سامنے رکھنا چاہتا تھا
پھر اس کا جو بھی فیصلہ ہو گا وہ اسے منظور ہو گا
پریشے کو اس کی باتوں کی کچھ سمجھ نہ آٸی ناسمجھی سے دیکھنے لگی
میں نے بھی ایسی ہی محبت کی ہے
میں نہیں جانتا وہ کون ہے کیسی ہے اس کا کیا نام ہے
مجھے اس بات سے کوٸی غرض بھی نہیں ہے
آخر کار اس نے بول ہی دیا
اور پریشے لڑکھڑا کر پیچھے ہٹی
وہ منہ کھولے اسے دیکھنے لگی
میں نے ہمیشہ سے اسی جیسی لڑکی کی طلب کی تھی
اس کی ڈاٸیری ملی تھی مجھے اور میں اس کی محبت میں گرفتار ہو گیا
نہ چاہتے ہوۓ بھی میں نے تمھارے حق میں شراکت کی
لیکن تمھیں پورا پورا حق ہے تم چاہو تو میرے ساتھ رہو
میں کوٸی بھی رشتہ جھوٹ کی بنیاد پر شروع نہیں کرنا چاہتا
جو تمھارا فیصلہ ہو گا وہ سر آنکھوں پر کہہ کر وہ رکا نہیں آگے بڑھ گیا
لیکن پریشے ایک ہی بات میں الجھی تھی
ڈاٸیری ملی تھی
کون سی ڈاٸیری؟
❤❤❤❤❤
ریان کیمپ کے اندر آیا تو پریشے اسے کہیں دیکھاٸی نہ دی
رات کا اندھیرا ہر سو پھیل چکا تھا
جنگل میں اس وقت عجیب و غریب آوازیں آرہی تھی
ریان نے ادھر ادھر دیکھا
پریشے کو دو تین دفعہ پکارا بھی
لیکن کوٸی جواب نہ آیا
ریان کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ
پریشے بتاۓ بغیر کہاں چلی گٸ ہے
وہ جتنی بے وقوف تھی ریان کو ہر وقت خوف رہتا تھا کہ
وہ کچھ غلط نہ کر دے
وہ اب پچھتا رہا تھا کہ اس نے وہ سب باتیں پریشے کو بتاٸی ہی کیوں
اگر اسے علم ہوتا تو وہ کبھی ایسا نہ کرتا
لیکن اب تو جو ہونا تھا ہو چکا تھا
اسے پریشے کو ڈھونڈنا تھا اس سے پہلے کہ کچھ غلط ہو جاۓ
اس نے اپنا بیگ کندھے کے ساتھ لگایا
ٹارچ ہاتھ میں پکڑی اور آگے بڑھ گیا
❤❤❤❤❤❤
