59.7K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 02

ہاۓ اللہ اف اتنے ذور کا مارا مجھے
چور تمھیں اللہ پوچھے
اللہ کرے تمھارے ہاتھ ٹوٹ جاۓ مردانہ ہاتھ سے تھپڑ کھانے کے بعد اب وہ اسے گالیوں سے نواز رہی تھی
اور ریان الگ حیران پریشان کھڑا تھا کہ
اس نے تو لڑکا سمجھ کے ہاتھ اٹھایا تھا اور اب لڑکی
یہ کیا ماجرا ہے
اس کے کمرے میں لڑکی کا کیا کام
اس نے آگے بڑھ کر بلب جلایا تو کمرہ روشن ہو گیا
اب وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے
وہ ابھی بھی صدمےکے ذیر اثر گال سہلا رہی تھی
ریان نے اس کا جاٸزہ لیا
لمبی قمیض
چوڑی دار پاجامہ
لمبے بال جو کھلے ہوۓ تھے
اس نے نظر اٹھا کر دیکھا
بڑی بڑی لمبی پلکیں موٹی موٹی آنکھیں
تیکھی ناک
گلاب کی پنکھڑیوں جیسے لب
وہ بس سمارٹ تھی نا ذیادہ موٹی نا ذیادہ کمزور
محترمہ میں پوچھ سکتا ہوں
آپ کون ہیں اور میرے کمرے میں کیا کر رہی ہے
اس نے ابرو اچکا کر کہا
کیا مطلب تمھارا کمرہ تم چور ہو چوری کرنے کی غرض سے آۓ ہو
اور ہمت تو دیکھو ذرا اب اس کمرہ کو اپنا بول رہے ہو
اس نے ہاتھ کمرے پر رکھتے ہوۓ چلاقی سے کہا
تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا
تمھاری ہمت کیسے ہوٸی
میں شور ڈالو گی تمھیں پولیس کے خوالے نا کیا نا تو پھر کہنا
وہ اب اپنے فون کی طرف بڑھنے لگی
روکو یہ کیا بدتمیزی ہے لڑکی میرے کمرے میں کھڑے ہو کہ مجھے ہی دھمکی دے رہی ہو اس نے اسے کلاٸی سے پکڑ کر پیچھے کیا
تمھاری ہمت کیسے ہوٸی میرا ہاتھ پکڑنے کی
پاگل لڑکی یہ میرا کمرہ ہے میرا گھر ہے
میں کوٸی چور نہیں ہوں
چوروں کے پاس چابیاں نہیں ہوتی ہیں
اس نے چابی اس کی نظروں کے سامنے کی
اوہ اچھا یہ تو پھپھو کا بیٹا تھا اس کا شوہر اور وہ کیا سمجھی
اب آپ اپنا تعارف کروانا پسند کریں گی
اس نے طنز سے کہا
یہ میری پھپھو کا گھر ہے
اس کے منہ سے پھنسے پھنسے الفاظ نکلے
اچھا تو آپ میرے کمرے میں کیا کر رہی ہیں
اس نے سنجیدگی سے کہا
وہ اوپر گرمی تھی نا تو اس لیے نیچے آگٸ ۔
مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ کمرہ آپ کا ہے
وہ تھوڑا گھبرا گٸ تھی
کوٸی بات نہیں آپ یہی رہیں میں اوپر چلا جاتا ہوں
اس کو شاید ہاتھ اٹھانے کی شرمندگی تھی
ہوں
وہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا
❤❤❤
جیسے ہی اس نے کمرے کے بلب روشںن کیا تو اس کے ہوش اڑ گۓ
کمرہ میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا
ہر چیز ادھر ادھر بکھری تھی اور ریان کو گندگی سے نفرت تھی
اف ایک دن میں اتنا گند
کیا پھڑ لڑکی ہے اسے جی بھر کر غصہ آیا کیا تھا کہ وہ حاتم طاٸی نا بنتا
اور جب ایک انجانے میں مار ہی دی تھی ایک اور بھی مار دیتا
دل کو سکون تو آتا
اب وہ گند سمیٹ رہا تھا سونا تو تھا ہی
اور گندگی ریان کو پسند نہیں تھی
❤❤❤❤
صبح وہ اٹھی تو دیکھا پھپھو کچن میں ناشتہ بنا رہی تھی
اسے آتا دیکھ کر پھپھو مسکراٸی
ارے اٹھ گٸ
جی پھپھو
وہ اسے سڑھیاں اترتا دیکھاٸی دیا
وہ ناٸٹ سوٹ میں تھا ابھی سو کر اٹھا تھا
کل کی بات کی وجہ سے وہ تھوڑی شرمندہ تھی نظریں جھکا گٸ
امی
میری ریڈ شرٹ ڈھونڈ دے
ٹھیک میں آتی ہوں
وہ پریشے کی جانب مڑی
پریشے میں اسے شرٹ ڈھونڈ کے دے آٶں پیاز میں نے کاٹ دیا ہے
آملیٹ بنا دو
اس کے پہلے کہ وہ کچھ بولتی پھپھو سے کچن نکل گٸ
اسے تو آملیٹ بنانے آتی ہی نہیں تھی
پہلا سوچا چھوڑ دے پھر سوچا کوشش کرنے میں کیا ہے
پھپھو کیا سوچے گی
وہ اٹھ گٸ انڈے میں ہلدی نمک ملاٸی اور لال مرچوں کی چمچ بھر کر فراٸی پین کےبجاۓ توے پر ڈال دیا
جب آملیٹ جل گٸ تو اسے توے سے اتارنے تک وہ کچھ اور ہی بن چکا تھا
لیکن چلو بنا تو تھا
پریشے مطمٸن ہو کر بیٹھ گٸ
❤❤❤❤❤
یہ لو مل گٸ شرٹ
انھوں نے شرٹ سامنے کی
ہوں یہ کون ہے وہ جانتا تو تھا لیکن انجان بنا
ارے وہ تمھارے ماموں کی بیٹی ہے
انھوں نے خوشی سے بتایا
اچھا ماموں نے اسے
اتنا بھی نہیں سکھایا کہ کسی کے کمرے میں بغیر اجازت نہیں گھستے
اس نے طنز سے کہا
کیا وہ ایک دم باہر جاتے جاتے رکی
کیا مطلب وہ کس کے کمرے میں بغیر اجازت کے گٸ
میرے اور کس کے
اس نے سرسری انداز میں بتایا
اچھا تو کیا ہوا بیوی ہے تمھاری کیا ہوا چلی گٸ
انھوں نے بھی آرام سے اس کے سر پر بم پھوڑا
What
امی یہ اتنی غیر ذمہ دار لڑکی یہ میری بیوی
اس نے سر تھام لیا
آپ نے اتنی غیر ذمہ دار لڑکی کا انتحاب کیا میرے لیے
اس نے احتجاج کیا
کوٸی ظلم نہیں کیا ہے میں نے تمھاری بہتری کے لیے کیا جو بھی کیا
اور خبردار جو تم نے اب اسے کچھ بھی کہا
انھوں نے اسے ڈانٹا
امی یہ ناانصافی ہے وہ چھوٹی چھوٹی بات سے رونے لگتی ہے
اور آپ خود ہی بتاٸیں ایک آرمی آفیسر کی بیوی ایسی ہو سکتی ہے
اس نے اپنی طرف سے ایک جواز پیش کیا
کیوں ان میں کیا خاص ہوتا ہے
انھوں کہاں قبول تھا کہ کوٸی ان کی بھتیجی کے بارے میں ایسے کہے
امی آرمی والوں کے گھر والے بہت بڑے دل والے ہوتے ہیں
انھیں ہر سچویشن کو فیس کرنا آتا ہے
ان کے اتنے چھوٹے دل تو نہیں ہوتے نا ابھی کل جدھر آپ نے اسے ٹھہرایا تھا نا
ادھر رات کو مجھے سونا پڑھا
جب میں ادھر گیا تو میرا سر گھوم گیا
ایک دن میں اتنا گند امی اس میں سے ابھی تک بچپنا ہی نہیں گیا ہے
مجھے افسوس سے کہنا پڑھ رہا ہے کہ آپ نے میرے لیے لڑکی کے انتحاب میں جلد بازی کی شازمین بیگم سوچنے پر مجبور ہو گٸ وہ واقعی ان کا ذمہ دار بیٹا تھا
لیکن وہ اتنے عرصے بعد جڑنے والے رشتے کو توڑ بھی نہیں سکتی تھی
اور ہو سکتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں بھی شعور پیدا ہو جاے
آپ کا جو بھی فیصلہ ہو گا میری سر آنکھوں پر لیکن یاد رکھیے گا کہ اس میں میرے ساتھ نا انصافی نہ ہو
اور ایک بات وہ ابھی یہاں نٸ ہے
اس کو ہرگز میری جاب کے بارے میں مت بتاٸیں گا
امی میں نہیں چاہتا کہ اس کی بے وقوفی کی وجہ سے آپ کے لیے کوٸی خطرہ پیدا ہو
آپ سمجھ رہی ہیں نا
انھوں نے اثبات میں سر ہلا دیا
آپ سمبھال لیجیۓ گا
آٸیے ناشتہ کرتے ہیں
وہ دونوں اٹھ گۓ
❤❤❤❤
پھپھو کچن میں جانے لگی تو پریشے نے انھیں روک دیا
آپ بیٹھے میں ناشتہ لگاتی ہوں
اس نے ریان کے سامنے سگھڑ بنتے ہوۓ کہا
ریان رخ موڑ گیا
پھپھو مسکرا کے کرسی پر بیٹھ گٸ
پریشے ناشتہ لگانے لگی
وہ پلیٹس لا رہی تھی کہ اس کے ہاتھ سے دو پلٹس ذمین پر گر کر ریزہ ریزہ ہو گٸ
وہ تھوڑی شرمندہ ہو گٸ
ریان تمخسر سے ہنسا اور اسے سلگا گیا
کوٸی بات نہیں پریشے
ساتھ ہی ملازمہ کو آواز دینے لگی
وہ ناشتہ لگا کہ پھپھو کے پاس ہی بیٹھ گٸ
جیسے ہی ریان نے آملیٹ کے اوپر سے ڈھکن اٹھایا اس کے رونگھٹے کھڑے ہوگۓ
وہ آملیٹ نہیں کچھ اور ہی تھا
امی وہ چلایا
یہ کیا ہے اس نے پلیٹ آگے کی
پھپھو کی بھی کچھ یہی حالت تھی
پریشے
وہ صدمے کے ذیر اثر بولی
کیا تمھیں آملیٹ نہیں بنانے آتی ہے
پریشے نے صفاٸی پیش کی
نہیں بس تھوڑی جل گٸ
ذاٸقہ اچھا ہے
اف پھپھو نے سر تھام لیا
پریشے میری جان اگر تمھیں نہیں بنانا آتا تھا تو مجھے بتا دیتی
ہوں
ریان اٹھا اور کرسی کو کچھ ایسے ذور سے پیچھے دھکیلا کہ
پریشے ڈر گٸ
اس گھر کا تو چین و سکون برباد ہو گیا ہے پہلے سونا نصیب نہیں تھا اب کھانے میں بھی یہی کچھ ملے گا
وہ بڑبڑا کے جانے لگا
ریان
پھپھو نے آواز دی
رکو میں بنا دیتی ہوں
رہنے دے
کہہ کہ وہ دروازہ کھول کے باہر نکل گیا
پیچھے پریشے نے شرمندگی سے نظریں جھکا لی
جاری ہے