Zindgi Ho Jaise By Eman Khan readelle50010 Last updated: 12 June 2025
No Download Link
59.7K
13
Rate this Novel
Zindgi Ho Jaise By Eman Khan
تم یہاں کیا کر رہی ہو
سامنے کھڑے شخص کو شاید یقین نہیں آرہا تھا
پریشے یہ شناسا آواز ایک دم سمجھ چکی تھی
وہ کوٸی اور نہیں ریان تھا
اس کی سانس میں سانس آٸی چلو اچھا ہوا وہ اسے ملا تو
اس کی خوف کے مارے جان نکل رہی تھی
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں
پریشے نے الٹا سوال کیا
میں جو میرا دل کرے وہ کروں گا تمھیں کیوں بتاٶں میں
وہ واقعی اسے یوں دیکھ کر بہت خیران تھا
میرا بھی جو دل کرے گا کروں گی
اس نے بھی اسے انداز میں کہا
تم جانتی ہو یہاں کتنا خطرہ کیا
کیا عجیب لڑکی ہو تم یار
وہ واقعی ہی اب اکتا گیا تھا
اس لڑکی نے اس کے لیے کتنی بڑی مصیبت کھڑی کر دی تھی
وہ اس بات کا اندازہ نہیں لگا پارہا تھا
کیا ہو گیا ہے پکڑی گٸ نا چوری تب گھبرا گۓ ہیں
اس نے کمرے پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ کسی تھانے دار کی طرح اس سے پوچھا
کون سی چوری
اس نے حیرت سے پوچھا
یہی کہ آپ کوٸی گینگ چلا رہے ہیں اور یہاں چھپ چھپ کے آتے ہیں روز
اس نے اپنی طرف سے چلاک بنتے ہوۓ کہا
اور آج آپ پکڑے گۓ ۔
اس نے ہاتھ جھاڑے
کیا لڑکی ہے کیا خود سے ہی اندازے لگاتی ہے
یہ مصیبت یہاں آتو گٸ ہے
اب اس کو واپس کیسے بھیجا جاۓ
ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ قریب سے فاٸیرنگ کے آواز آنے لگی
پریشے سہم کے ریان کے ساتھ لگ کے کھڑی ہوگٸ
ریان سمجھ چکا تھا کہ آپریشن شروع ہو گیا ہے
لیکن وہ ان خالات میں اسے اکیلا چھوڑ کے کیسے جاۓ ۔
جو بھی تھا وہ اس کی بیوی تھی اس کی ذمہ داری تھی
ریان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے ایک مورچے کے پیچھے لے گیا
یہ مورچے آرمی والے دشمنوں سے بچاو کے لیے بناتے ہیں
پریشے نے ڈرتے ڈرتے ریان سے پوچھا
آپ کے ان غلط کاموں کے بارے میں کیا پھپھو بھی جانتی ہیں
اس نے کچھ اس معصومیت سے کہا کہ
ریان کا دل کیا کہ قریب سے ہی کوٸی چیز اٹھا کر یہ اپنے سر میں دے مارے یا پھر
اس کے سر میں
او پاگل لڑکی میں کسی غلط کام میں ملوث نہیں ہوں
اس نے کچھ سختی سے کہا
میں آرمی کپٹین ہوں
کپٹین ریان خان نام ہے میرا
اس نے کچھ جتا کر کہا
اب اس سے چھپانے کا کچھ فاٸدہ نہیں تھا
کیوں کہ جس بے وقوفی کا اسے خوف تھا وہ کر چکی تھی وہ
اچھا تو پھر ابھی بات اس کے منہ میں ہی تھی کہ
ایک دفعہ پھر فاٸیرنگ کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا
شور تھا
پہلے وہ گھبراٸی تھی اب باقاعدہ رونے لگی تھی
ریان جو پہلے ہی غصے میں بیٹھا تھا
اس کی وجہ سے وہ آپریشن میں بھی حصہ نہیں لے پارہا تھا
اس نے کچھ غصے سے کہا
میرے پیچھے آنے کی کیا ضرورت تھی
تو آپ مجھے اگر بتا دیتے کہ آپ آرمی میں ہیں تو ایسا نہ ہوتا
اس نے گویا بات ہی ختم کر دی
کیوں تم میری اماں جی تھی جو تمھیں بتاتا میں
اس نے چبا چبا کے لفظ ادا کیے
پریشے نے جواب میں برا سا منہ بنا کر کہا
اماں نہیں بیوی تو ہوں
اس کے منہ سے پھسلا
ریان جواب میں خاموش رہا
پریشے کو احساس ہو گیا کہ اس نے غلط وقت میں غلط بات کی ہے
لیکن یہ پہلی بار تو نہیں تھی یہ تو اس کی عادت تھی
