Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zara Thehar Jao by Malaika Rafi

اسے ہوش آ چکا تھا ۔۔ آنکھیں کھول کے اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو اچانک ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھی ۔۔ وہ گاڑی میں تھی اور ایک ہینڈسم سا نوجوان ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا ترکی کے مختلف سڑکوں سے ہوتے ہوئے گاڑی ڈورا رہا تھا وہ شیشے کے پار دیکھنے لگی لیکن اسے کون سا سمجھ آنی تھی وہ خود یہاں نئی تھی ۔۔ " کون ہو تم ؟" طلال نے ایک اچٹتی نظر بیک ویو مرر سے اس پہ ڈالی اور پھر سے سڑک پہ نظر جما دی " میں نے پوچھا کون ہو تم ؟" وہ تھوڑا اونچی آواز میں بولی تھی اس دفعہ لیکن جواب ندارد ۔۔ " او مائی گاڈ تم نے مجھے کڈنپ کیا ہے .. " وہ پیچھے سے اس پہ جھپٹ پڑی " گاڑی روکو ۔۔۔ میں نے کہا گاڑی روکو " طلال بمشکل گاڑی روک کے اسے مڑ کے غصے سے دیکھنے لگا " ابھی ایکسیڈنٹ ہو جاتا "
" مجھے کڈنپ کر رہے تھے تم "
" او ہیلو مس ۔۔ اتنی خوشفہمی بھی اچھی نہیں ہوتی صحت کے لیے "
طلال طنزیہ نظروں سے اس کے خوبصورت سراپے کو دیکھتا بولا ۔۔ وہ گاڑی سے نکلی تو طلال کو بھی اترنا پڑا " کدھر جا رہی ہے اپ "
وہ تیز تیز چلنے لگی " میرے پیچھے مت آنا ورنہ چلانا سٹارٹ کر دوں گی کہ یہ آدمی مجھے کڈنپ کر کے لے جا رہا "
" وہاٹ ۔۔ میں آپ کو کڈنپ ۔۔۔ آڑ یو ان یور سینسز ۔۔ ائیرپورٹ پہ بےہوش ہوئی تھی آپ ۔۔ ہاسپٹل لے کے جا رہا تھا آپ کو ۔۔ اینڈ رکئیے"
" کیوں رکوں ؟" وہ رک کے اسے غصے سے دیکھنے لگی " مما کدھر پھنسا دیا مجھے اففففف" موبائل پہ نمبر ملانے لگا " کسے کال کر رہے اب آپ ۔۔ میں آپ کا پلان سکسیزفل نہیں ہونے دوں گی ۔۔ " وہ چلنے لگی طلال نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا " رکئیے" وہ منہ کھولنے والی تھی لیکن طلال کی ڈانٹ پہ چپ ہو گئی " چپ ایکدم چپ " وہ شاکی نظروں سے اسے دیکھنے لگی جھنجلاہٹ طلال کے چہرے پہ عیاں تھی " ہیلو مما ۔۔ یہ لیں " موبائل اس کی طرف بڑھایا وہ اسے دیکھتی موبائل لے کے کان سے لگایا " ہ۔۔ہیلو " اور دوسری طرف بیلا کی آواز سن کے مسکرانے لگی " بیلا آنٹی ۔۔ ٹھیک ہوں ۔۔ آپ کیسی ہے ؟ "
" میں ٹھیک ہوں نیہان بیٹا ۔۔ طلال کو میں نے تمہیں لینے کے لیے بھیجا تھا ۔۔ بیٹا ہے میرا ۔۔ گھر آؤ جلدی سے ۔۔ آرام سے باتیں کرے گیں " " جی .." کہہ کے اس نے شرمندہ نظروں سے طلال کو دیکھا جو آبرو اچکا کے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ " میں ۔۔ وہ ۔۔ میں " اور جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئی " میں آپ کا ڈرائیور تو ہوں نہیں ۔۔ آگے آ کے بیٹھ جائیے آپ " نیہان اسے غصے سے دیکھنے لگی پھر اٹھ کے فرنٹ سیٹ پہ آ کے بیٹھ گئی تو طلال بھی ڈرائیونگ سیٹ پہ آ بیٹھا ابھی اس کی طرف دیکھا ہی تھا جب نیہان بولنے لگی " دیکھئیے مسٹر وہاٹ ایور ۔۔ تمیز سے بات کرے مجھ سے ۔۔ میں آپ کو نہیں جانتی تھی ۔۔ تو اتنا بولی میں اٹس ناٹ مائی فالٹ اب مجھے کیا پتہ تھا کہ آپ میری مما کی بیسٹ فرینڈ کے بیٹے طلال ہے ۔۔ " طلال اسے سپاٹ نظروں سے دیکھ رہا تھا " ہو گیا ہو تو سیٹ بیلٹ باندھ لیں یہ پاکستان نہیں ہے " وہ کہہ کے گاڑی ڈرائیو کرنے لگا جبکہ نیہان گھور کے اسے دیکھنے لگی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *