Surkh saib by Maimona Aman NovelR50810 Surkh saib by Maimona Aman Last Episode
No Download Link
320.6K
3
Rate this Novel
Surkh saib by Maimona Aman Last Episode
Surkh saib by Maimona Aman Last Episode
شام کا وقت تھا بازار میں خاصی چہل پہل تھی۔
“بابا وہ دیکھیں غبارے میں نے وہ لینے ہیں۔”
” اچھا حزیفہ ابھی یہ چیزیں لے کے چلتے ہیں۔”
نہیں— مجھے ابھی لینے ہیں۔
وہ بازو سے پکڑ کے انہیں کھینچنے لگا تھا۔
حیدر صاحب اسکےساتھ باہر چلے آۓ تھے اسے غبارے دلوانے لگے
اتنے سارے کیا کرو گے؟
” پاپا میں اپنے فرینڈز کو بھی دوں گا اور آج تو میں نے ایک نیا فرینڈ بھی بنایا ہے۔ کپڑے اسکے تھوڑے ڈرٹی تھے پر سرف ایکسل تو کہتا ہے داغ تو اچھے ہوتے ہیں ۔۔۔تو میں نے بھی اسے یہی کہا ۔۔۔ہی ہی ہی ۔۔۔“
اچھا۔۔۔حیدر اسکی باتیں سن کے ہنس پڑے تھے
۔یار ۔۔۔تم بہت بولتے ہو۔
وہ اپنے باتونی بیٹے کو چپ کروانے کیلۓ یہی حربہ آزماتے تھے تھوڑی دیر بعد اسنے پھر شروع ہوجانا تھا۔
حزیفہ نے اپنا گول مٹول منہ مزید پھلالیا
”جاٸیں پاپا میں اب بالکل بات نہیں کروں گا آپ سے۔“
وہ باپ کی طرف پشت کرکے کھڑا ہوگیا اور باہر دیکھنے لگا غبارے والا اب بھی وہیں کھڑا تھا۔
پاپا۔۔۔یہ انکل غبارے کیوں بیچتے ہیں؟
بیٹا پیسے کمانے کیلۓ ۔۔۔انکے بھی تو آپ جیسے بچے ہونگے ان کیلۓ۔
لیکن پاپا یہ غبارے کتنے سستے ہیں۔یہ اتنے سے پییسوں میں کیسے گھر کی چیزیں لیتے ہونگے؟
بیٹا انکا گھر بھی تو چھوٹا سا ہوگا نا ۔
اچھا۔۔۔وہ باہر دیکھتے ہوۓ سوچنے لگا۔
کتنا چھوٹا؟
اب کیسے بتاٶں؟
پاپا آپ بتاٸیں نا۔اگر انکے بچے مجھ جیسے ہونگے تو یہ آپ جیسے کیوں نہیں۔اتنے کمزور سے ہیں کیا یہ کھانا نہیں کھاتے؟
وہ انکے سامنے آکے کھڑا ہوگیا تھا۔ہم ان انکل کو پیسے دے دیتے ہیں تاکہ وہ بڑا سا گھر لےلیں۔
حیدر لا جواب ہوگۓ تھے۔
بیٹا گھر بنانے کیلۓ تو بہت سارے پیسے چاہٸیں۔ہم اتنے سارے پیسے کیسے دیں گے انہیں؟
دکاندار جو کہ حیدر کو کافی عرصے سے جانتا تھا کب سےانکی باتیں سن رہا تھا بول پڑا۔
”بھاٸی صاحب بچہ ہے پر بات تو ٹھیک کر رہا ہے۔بیچارہ غبارے بیچ کر کتنے پیسے کمالیتا ہوگا؟پتہ نہیں اسکے گھر کا چولہا بھی جلتا ہوگا یا نہیں۔اسکے بچے کس حال میں ہونگے؟ہم کبھی ایسے لوگوں کا سوچتے ہی نہیں کیونکہ ہمارے پاس تو سب کچھ ہے بنیادی ضروریات سے بڑھ کر موجود ہے۔اتنی آساٸشوں نے ہمارا احساس ہی ختم کر دیا ہے۔روزے بھی ہم ثواب اور دکھاوے کی خاطر رکھتے ہیں۔خیرات دیکھ بھال کے مستحق کو نہیں دیتے۔ہمارا فرض تو یہ بنتا ہے کہ ایسے لوگوں کو ڈھونڈ کر انکی ضروریات کا خیال رکھیں زیادہ نہیں جتنا ممکن ہو کم از کم اتنا ہی۔“
حیدر نے اثبات میں سر ہلایا ۔”بھاٸی آپ بالکل صحیح فرما رہے ہیں پر مستحق اور غیر مستحق کا فرق کیسے جانا جاۓ؟لوگ بہروپیے بھی تو ہوتے ہیں۔ بظاہر شریف نظر آتے ہیں پر اندر کا حال بر عکس ہوتا ہے۔“
”جناب جو لوگ مسکین یعنی ضرورت مند ہوتے ہیں انکے چہروں سے ہی پتہ چل جاتا ہے۔وہ حلال کماتے ہیں اور بہت خود دار ہوتے ہیں۔ کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرتے۔ اچھے بھلے لوگ مانگتے پھرتے ہیں اور میں نے کٸی معزوروں کو کماتے دیکھا ہے۔“
”بھاٸی آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ہم لوگ واقعی بے حس ہوتے جارہے ہیں مشینی دور کے انسان جو ہوۓ۔ہمیں کسی کی خبر ہی نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسانات کیے ہیں اپنی نعمتوں سے نوازا ہے انکا تقاضا ہے کہ ہم اسکے بندوں کے ساتھ بھلاٸی کریں انکی خبر گیری کریں۔ یہ نعمتیں اور آساٸشیں بھی دراصل ہماری آزماٸش ہیں کہ ان میں مصروف ہوکے ہم معاشرے کے لاچار اور مجبور لوگوں کو بھول جاتے ہیں۔کبھی سوچا ہی نہیں انکی زندگی کیسے گزرتی ہوگی۔“
حیدر نے پیار سے اپنے بیٹے کو دیکھا۔اسکا گال تھپک کر بولے ”موٹو یار تم تو بہت عقلمند ہو۔اتنی اچھی اچھی باتیں کرتے ہو۔آٶ غبارے والے انکل سے دوستی کرتے ہیں۔“
وہ دونوں باہر نکلے پر غبارے والا کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ایک جگہ لوگوں کا ہجوم لگا ہوا تھا حیدر بھی بیٹے کی انگلی پکڑے آگے بڑھے۔
وہی غبارے والا زمین پر بیٹھا تھا اسکی گود میں عامر تھا کبھی وہ روتا کبھی سر اٹھا کر رب کا شکر ادا کرتا کہ اسکا بیٹا صحیح سلامت بچ گیا۔
گاڑی اسکے سر پر پہنچی تو خوش قسمتی سے بریک لگ گٸ تھی۔وہ روڈ پر گرا تھا پر چوٹ اور خراش سے محفوظ رہا تھا۔اسکی جیب سے سیب اچھل کر دور جا گرا تھا اور اب کسی چیز کے نیچے آکر کچلا گیا تھا۔
وہ چوری کا سیب حلال سے پلنے والے عامر کا نصیب کیسے ہو سکتا تھا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہستہ آہستہ ہجوم چھٹ گیا تھا۔
”پاپا ۔۔۔یہ تو عامر ہے میرا نیا دوست۔
حزیفہ جاکر اسکےسامنے بیٹھ گیا تھا۔
تمہیں چوٹ تو نہیں لگی نا؟
عامر اپنے آنسو زدہ چہرے سے مسکرا اٹھا تھا۔
حیدر نے غبارے والے اکمل کو ہاتھ پکڑ کر اٹھایا۔وہ کترا رہاتھا ۔
”صاحب جی میں اٹھ جاتا ہوں میرے ہاتھ دھلے ہوۓ نہیں صبح سے گھر سے نکلا ہوں۔۔۔۔۔ بچہ پتہ نہیں کیسے یہاں تک پہنچ گیا ۔رو رو کے بے حال ہوگیا ہے پر شکر ہے مالک کا بر وقت مجھے مل گیا اور جان بچ گٸ۔“
”ارے۔۔۔۔نہیں بھاٸی ہاتھوں کا کیا دل تو تمہارا پاک ہے نا۔حلال کی روزی کماتے ہو۔حلال کمانے والا تو رب کا دوست ہوتا ہے۔آج سے تم میرے بھی دوست مجھے اپنا بھاٸی سمجھنا۔اور یہ لو تمہارے بچوں کیلۓ۔“
حیدر نے پھلوں کا شاپر اکمل کےہاتھ میں پکڑایا۔
”صاحب جی ۔۔۔نہیں رہنے دیں۔“
”ارے۔۔۔ مجھے بھاٸی کہو صاحب نہیں اور یہ توتمہیں لینے پڑیں گے میری طرف سے تحفہ سمجھو۔“
”پر جی۔۔۔۔۔ میرے پاس تو آپ کو دینے لاٸق کچھ بھی نہیں۔“
دعا تو ہے نا ۔۔۔بس وہی کافی ہے۔
جی انکل آپ بہت ساری دعاٸیں کریے گا میرے لیے بھی۔حزیفہ نے لقمہ دیا۔
اکمل کی آنکھوں میں آنسو بھر آۓ تھے۔اسنے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا اور اپنے مالک کا شکر ادا کیا۔
حیدر اب اکمل کا بھاٸی بن کے اسکی خبر رکھتا ہے اور اسکی ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔ایک دوست سے کہہ کر اسنے اکمل کو ایک فیکٹری میں پیکنگ کا کام دلوادیا ہے۔اب اکمل کو سارا دن جگہ جگہ نہیں پھرنا پڑتا۔پیسے بھی زیادہ مل جاتے ہیں اور اسکے پھیپھڑوں کو بھی غبارے پھلانے کی مشقت سے آرام مل گیا ہے۔
زندگی پہلے سے آسان لگتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد
