Surkh saib by Maimona Aman NovelR50810 Surkh saib by Maimona Aman Episode01
No Download Link
320.6K
3
Rate this Novel
Surkh saib by Maimona Aman Episode01
Surkh saib by Maimona Aman Episode01
سورج اپنی پوری آب و تاب سے طلوع ہوا تھا ۔ایک نئے دن کا آغاز لیۓ نئی خواہشوں اور امنگوں کے ساتھ سجا اک نیا دن۔ہر ذی روح اپنے حصے کے کام سر انجام دینے میں مصروف تھی۔کسی مقصد کو زیر نظر رکھتے ہوئے دن اور پھر عمر گزارنے میں مصروف ۔پر اسی دن میں کچھ جینے والے ایسے بھی تھے جو اپنے مقصد حیات سے بے خبر بس جئے چلے جاتے ہیں۔
وہ اپنی مختصر سی بستی کے کنارے بیٹھا سڑک پر دوڑتی بھاگتی گاڑیوں کو دیکھ رہا تھا اسکے چھوٹے سے ذہن میں اس دنیا کی طبقاتی تقسیم کو سمجھنے کیلئے کوئی گوشہ نہیں تھا۔ایک ریڑھی بان سڑک کنارے آکے رک گیا تھا اور لکڑی کی پیٹیوں سے تازہ سرخ سیب نکال کر اپنی ریڑھی پر سجا رہا تھا۔
چھ سالہ عامر للچائی ہوئی نظروں سے ان بڑے بڑے سرخ سیبوں کو دیکھ رہا تھا۔جون کا سورج اسکے سر پر آ کھڑا ہوا تھا۔صبح کے ساڑھے چھ بجے ہی وہ اپنی حدت سے ہر شے کو پگھلا رہا تھا۔پر میلے کچیلے کپڑوں اور الجھے بالوں والا عامر ہر شے سے بے نیاز آگ برساتے سورج کو جھیل رہا تھا۔ وہ اس ماحول کا عادی ہوچکا تھا اور موسم نے بھی شاید اس سے سمجھوتہ کر لیا تھا وہ جیسے جیسے اس پر گزرتا جا رہا تھا اسے مزید سخت جان بناتا جارہا تھا۔
اس نے لا شعوری طور پر جیب میں ہاتھ ڈالا وہاں کچھ کنکر پتھر پڑے اسکی حالت پر ہنس رہے تھے۔ریڑھی بان ایک گاہک کو سیب تول کر دے رہا تھا۔اسے اتنا تو معلوم تھا کہ ان پتھر وں کے بدلے وہ سیب نہیں خرید سکتا۔وہ اٹھا اور اپنی ماں کے سامنے جا کے بیٹھ گیا جو اپلوں کے چولہے پر روٹیاں پکانے کے بعد اب چائے بنارہی تھی۔”
اماں میں او سیب لینے۔
جا سفینہ اور ریحانہ کو بلا کےلیا
۔اسنے پھر اپنا مدعا بیان کیا تھا اماں او سیب ۔
تیرا باپ پورے دن میں اتنے غبارے نہیں بیچتا جتنے اسکے سیب بکتے ہیں۔بہت مہنگے ہیں سیب میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں وہ کالی چائے پیالیوں میں ڈالتے ہوئے بولی تھی۔جا۔۔۔جا کے بہنوں کو بلا کے ل
ا۔وہ سرخ سیبوں پر نگاہ حسرت ڈالتے ہوئے اٹھا اور جھونپڑوں کے درمیان سے بھاگتا ہوا اپنی بہنوں کے پاس پہنچا سات سالہ ریحانہ اور سالہ سفینہ مٹی کے ڈھیر پر بیٹھی کھیل میں مگن تھیں۔چائے اور روٹی کا ناشتہ کرنے کے بعد اسکا باپ غبارے بیچنے نکل پڑا تھا اور اسکی ماں سکینہ چوڑیوں کا ٹوکرا اٹھائے کسی نئی بستی کی سمت چل دی تھی۔زمانہ بدل رہا تھا اس جدید دور میں اس کے ٹوکرے سے چوڑیاں خریدنے والیاں کم ہوتی جارہی تھیں ۔ وہ خانہ بدوشوں کے خاندان کی روایت لے کر چل رہی تھی اسکے خاندان کی بڑی بوڑھیاں بھی چوڑیاں ،پیالے اور کھیس بیچتے بیچتے گزر گئی تھیں ۔اب بھی اسکی خانہ بدوش بستی میں بیٹیاں اسی لیے جنم لیتی تھیں کہ گلی گلی پھر کے اپنے ساتھ بندھے رشتوں کیلئے روزی کما سکیں۔بڑی بوڑھیاں اور بوڑھے جو ساری زندگی چلتے چلتے تھک گئے تھے اب بستی کے بچوں کی دیکھ بھال کرتے تھے۔
ماں باپ کے جانے کے بعد تینوں بچے کھیل میں مصروف ہو جاتے تھے ۔پر آج عامر کا دل سرخ سیبوں میں ہی اٹکا ہوا تھا ۔وہ پھر سے آکے بستی کے کنارے بیٹھ گیا تھا ریڑھی بان ہر سیب کو کپڑے سے رگڑ رگڑ کے چمکا رہا تھا۔وہ اپنی آنکھوں میں حسرت لیے انکے سرخ رنگ کو تک رہا تھا آہستہ آہستہ سرخ رنگ اسکی آنکھوں پر چڑھتا جا رہا تھا۔وہ تیزی سے اٹھا اور دبے قدموں ریڑھی کے پاس پہنچ گیا پھل فروش کی بے خبری سے فائدہ اٹھا کر اسنے ایک سیب اچک لیا پر ترتیب سے رکھے ہوئے سیبوں کا توازن بگڑا اور چند سیب زمین پر آگرے پھل فروش نے اسے دیکھ لیا تھا۔
وہ دونوں ہاتھوں میں بڑا سا سرخ سیب تھامے اندھا دھند بھاگنے لگا تھا وہ ننگے پیر بھاگتا چلا جارہا تھا راہ کے کنکر پتھر اسکے پیروں کے نیچے پھسلتے جا رہے تھے۔پھل فروش اسے برا بھلا کہتا صرف چند قدم اسکے پیچھے آیا تھا اور پھر اپنے باقی پھلوں کے چوری ہونے کے ڈر سے واپس لوٹ گیا تھا ۔عامر نے بہت دور جاکے مڑ کر دیکھا ریڑھی بہت دور رہ گئی تھی پر پہلی چوری نے اسکے اندر اتنا خوف بھر دیا تھا کہ وہ بے تحاشا بھاگتا جارہا تھا ایک کے بعد دوسری اور پھر لا تعداد گلیاں مڑتے مڑتے وہ بہت دور نکل آیا تھا ۔ بھاگتے بھاگتے اسکے پیر تھک گئے تھے وہ ایک بند دکان کے تھڑے پر بیٹھ گیا۔آس پاس چند ایک دکانیں اور اونچے اونچے مکان تھے۔لوگ آ جا رہے تھے پر کوئی بھی اسکی طرف متوجہ نہیں تھا۔اسنے ہاتھ میں پکڑے سیب کو اپنی میلی کچیلی قمیض کے دامن سے صاف کیا۔اسکے دل میں اچانک اپنی متاع چھن جانے خوف نے سر اٹھایا۔اسنے سیب اپنی جیب میں چھپایا اور کسی محفوظ جگہ کی تلاش میں نکل پڑا جہاں اسے کوئی دیکھ نہ سکے۔کچھ دیر گھومنے کے بعد اسے اپنی دانست میں ایک خفیہ جگہ مل گئی تھی ۔شاید وہ کسی قصاب کا تھڑا تھا وہ اسکے نیچے گھس کر بیٹھ گیا تھا۔وہ اپنے دانت سیب میں گاڑے اسے کھانے لگا تھا۔اسنے آدھے سے بھی کم کھایا تھا کہ اسکے سامنے ایک گیند آگری تھی۔وہ باہر نکلا اور گیند سے کھیلنے لگا۔اتنے میں اس سے تھوڑے بڑے دو بچے اپنی گیند ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہاں آ نکلے تھے۔۔۔
”گیند دو ہماری“ ایک نے اسکے ہاتھ سے گیند لیتے ہوۓ کہا۔وہ جانے کیلۓ پلٹے تو عامر کا دل چاہا وہ بھی انکے ساتھ کھیلے۔۔۔”میں بھی کھیلوں گا“۔۔۔
انہوں نے پلٹ کر اسکا جاٸزہ لیا اور بولے
”چلو آجاٶ ہم تمہیں بھی کھلاٸیں گے“
وہ خوشی خوشی انکے ساتھ چل پڑا تھا
