Surkh saib by Maimona Aman NovelR50810

Last updated: 23 July 2026

Surkh saib by Maimona Aman

وہ خوشی خوشی انکے ساتھ چل پڑا تھا۔
کچھ دور گھروں کے احاطے میں ایک چھوٹا سا میدان تھا جہاں ان بچوں کے ساتھی بال کا انتظار کر رہے تھے۔
”اوۓ کتنی دیر لگادی ہے تم نے جلدی آٶ۔اور یہ کسے لے آۓ ہو ساتھ“
ایک گول مٹول سا بچہ ان سے پوچھ رہا تھا۔
”یہ عامر ہے ہماری بال اسے ملی تھی یہ بھی ہمارا دوست ہے اسے بھی ساتھ کھلانا ہے۔“
گول مٹول سے حزیفہ نے آگے بڑھ کر عامر کا جاٸزہ لیا۔اور پھر اس سے ہاتھ ملاتے ہوۓ بولا۔
”اوکے آج سے تم ہمارے دوست۔تمہارے کپڑے ۔۔۔۔تھوڑے سے گندے ہیں پر تم مجھے اچھے بچے لگتے ہو۔چلو کوٸی بات نہیں ۔۔ویسے بھی داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔“
باقی چاروں ساتھی بھی وہیں آچکے تھے۔سب نے عامر کو اپنا دوست مان لیا تھا۔دنیا کی فکروں سے بے نیاز اور امیر غریب گورے کالے کا فرق مٹا کےیہ بچے کھیل میں مگن ہو گۓ تھے۔
عامر تو انکے ساتھ اتنا گھل مل گیا تھا کہ اسے گھر جانا بھی یاد نہیں تھا۔درختوں کی چھایا میں گھرا یہ میدان بچوں کے شور اور قہقہوں سے گونج رہا تھا۔صبح کے ٩ بج چکے تھے۔
”حزیفہ۔۔۔گھر چلو ماما بلارہی ہیں“
”اوکے بھیا ابھی آیا۔“
حزیفہ نے بالنگ کراتے ہوۓ اپنے بھاٸی کو جواب دیا۔
”جلدی آٶ حزیفہ ماما ڈانٹیں گی“
اپنے گروپ میں حزیفہ کو باس کی حیثیت حاصل تھی۔اسنے گول گول آنکھیں گھماتے ہوۓ سب کو کہا
”میرا خیال ہے سب تھک گۓ ہیں گرمی بھی زیادہ ہوگٸی ہے اور میری ماما میرا انتظار کر رہی ہیں۔سب اپنے اپنے گھر جاٶ ہم شام چھ بجے ملیں گے“
سب بچوں نے تابعداری سے سر ہلایا اور یک زبان بولے
۔”اوکے ڈن حزیفہ باس“۔
عامر ان سبکو جاتے دیکھ رہا تھا۔ایک بچے نے جاتے جاتے اس سے پوچھا۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *