Surkh saib by Maimona Aman NovelR50810 Surkh saib by Maimona Aman Episode02
No Download Link
320.6K
3
Rate this Novel
Surkh saib by Maimona Aman Episode02
Surkh saib by Maimona Aman Episode02
وہ خوشی خوشی انکے ساتھ چل پڑا تھا۔
کچھ دور گھروں کے احاطے میں ایک چھوٹا سا میدان تھا جہاں ان بچوں کے ساتھی بال کا انتظار کر رہے تھے۔
”اوۓ کتنی دیر لگادی ہے تم نے جلدی آٶ۔اور یہ کسے لے آۓ ہو ساتھ“
ایک گول مٹول سا بچہ ان سے پوچھ رہا تھا۔
”یہ عامر ہے ہماری بال اسے ملی تھی یہ بھی ہمارا دوست ہے اسے بھی ساتھ کھلانا ہے۔“
گول مٹول سے حزیفہ نے آگے بڑھ کر عامر کا جاٸزہ لیا۔اور پھر اس سے ہاتھ ملاتے ہوۓ بولا۔
”اوکے آج سے تم ہمارے دوست۔تمہارے کپڑے ۔۔۔۔تھوڑے سے گندے ہیں پر تم مجھے اچھے بچے لگتے ہو۔چلو کوٸی بات نہیں ۔۔ویسے بھی داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔“
باقی چاروں ساتھی بھی وہیں آچکے تھے۔سب نے عامر کو اپنا دوست مان لیا تھا۔دنیا کی فکروں سے بے نیاز اور امیر غریب گورے کالے کا فرق مٹا کےیہ بچے کھیل میں مگن ہو گۓ تھے۔
عامر تو انکے ساتھ اتنا گھل مل گیا تھا کہ اسے گھر جانا بھی یاد نہیں تھا۔درختوں کی چھایا میں گھرا یہ میدان بچوں کے شور اور قہقہوں سے گونج رہا تھا۔صبح کے ٩ بج چکے تھے۔
”حزیفہ۔۔۔گھر چلو ماما بلارہی ہیں“
”اوکے بھیا ابھی آیا۔“
حزیفہ نے بالنگ کراتے ہوۓ اپنے بھاٸی کو جواب دیا۔
”جلدی آٶ حزیفہ ماما ڈانٹیں گی“
اپنے گروپ میں حزیفہ کو باس کی حیثیت حاصل تھی۔اسنے گول گول آنکھیں گھماتے ہوۓ سب کو کہا
”میرا خیال ہے سب تھک گۓ ہیں گرمی بھی زیادہ ہوگٸی ہے اور میری ماما میرا انتظار کر رہی ہیں۔سب اپنے اپنے گھر جاٶ ہم شام چھ بجے ملیں گے“
سب بچوں نے تابعداری سے سر ہلایا اور یک زبان بولے
۔”اوکے ڈن حزیفہ باس“۔
عامر ان سبکو جاتے دیکھ رہا تھا۔ایک بچے نے جاتے جاتے اس سے پوچھا۔
تمہارا گھر کدھر ہے؟
اسنے انگلی سے اس گلی کی سمت اشارہ کیا جہاں سے اسے بال ملی تھی۔اسے خود بھی معلوم نہیں تھا اسکا گھر کس سمت ہے وہ اسی راستے پر واپس پلٹا اور اندازے سے اپنے گھر کی سمت چلنا شروع کر دیا۔وہ داٸیں باٸیں اپنے جھونپڑے کو ڈھونڈتا جارہا تھا پر وہاں تو سارے گھر تھے اونچے اونچے پختہ ٹاٸلز اور ماربل سے بنے رنگ برنگے درودیوار والے گھر ۔۔۔۔جن کے مکین سورج کی شدت سے خفا گھروں میں دبکے ہوۓ تھے۔
اسے اپنی جھونپڑی ڈھونڈنی تھی۔
سڑک کنارے ایک خالی میدان میں سر اٹھاۓ چند خاکستری خیموں سے بنی بستی۔اسکا گھر۔۔۔۔۔۔۔ جسکی سوت کی بنی دیواروں سے سورج بلا روک ٹوک یوں اندر جھانکتا تھا کہ انکی آنکھیں چندھیا جاتی۔جسکی چھت سے ۔۔۔۔۔۔بارش یوں برستی تھی جیسے چھلنی سے پانی۔جاڑے کی سرد راتوں میں ۔۔۔۔۔۔جسکے دروازے سے ہوا یوں اندر داخل ہوتی تھی کہ جھونپڑے کی بنیادیں لرزجاتیں اور وہ اوندھے منہ گرنے کو آتا۔اسکا گھر۔۔۔۔۔۔ جو اس کیلۓ سب کچھ تھا۔
بہت دیر گلیوں میں بھٹکنے کے بعد وہ ایک جگہ بیٹھ گیا تھا۔وہ راستہ بھول گیا تھا اور وہ نہیں جانتا تھا اسکا گھر کس جگہ ہے کہ وہ نام بتا کے راستہ پوچھ سکے۔اسے اپنے ماں باپ اور بہنوں کے نام یاد تھے پر اس بھرے شہر میں کون انہیں جانتا تھا۔وہ روتے روتے پھر چل پڑا تھا بے آواز اسکے آنسو گر رہے تھے سارے منظر دھندلا گۓ تھے۔
وہ ایک بازار میں آ نکلا تھا یہاں ضروریاتِ زندگی کی قریباًہر شے میسر تھی پر اسکا جھونپڑا نہیں تھا
جو سرخ سیب اسے یہاں تک لایا تھا اب وہ ادھ کھایا اسکی جیب میں پڑا سیاہ ہو رہا تھا۔
شام کا وقت تھا بازار میں خاصی چہل پہل تھی اسنے رک کر آنکھیں رگڑیں
”اماں ۔۔۔۔ابا۔۔۔۔۔“وہ انہیں پکارےجا رہا تھا ۔سڑک کی دوسری جانب اسے کچھ نظر آیا تھا اسے لگا اس پار اسکی بستی ہے وہ داٸیں باٸیں دیکھے بغیر تیزی سے بھاگا ۔
تیزی سے آتی گاڑی ہارن دیتی اسکے سر پر پہنچ گٸ تھی اسنے آنکھیں بند کرلیں اور اپنے قدم روک لیے۔شاید وقت قریب آچکا تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ صبح سے چلتے چلتے تھک گٸی تھی اور ایک گھر کی شیڈ کے نیچے کچھ دیر آرام کی نیت سے بیٹھ گٸی۔آج اسے اتنا منافع تو ہوگیا تھا کہ شام کا چولہا جل سکے پر ابھی دن باقی تھا وہ مزید ُمحلوں میں جاسکتی تھی۔کچھ دیر بیٹھنے کے بعد وہ اپنی چوڑیوں کی مخصوص صدا لگاتے چل پڑی تھی۔
ایک گھر میں اسے بلایا گیا وہ ایک ایک کرکے ساری چوڑیاں دکھا رہی تھی۔
”یہ نہیں اور اچھی دکھاٶ یہ تو ذرا پرانے ڈیزاٸن ہیں۔“
باجی یہ دیکھیں بہت اچھا رنگ ہے اچھا لگے گا پہن لو۔
”ہاں یہ ریڈ والی پہنادو ۔بس دو درجن۔اور دیہان سے ذرا۔“
”باجی آپ بے فکر رہو ہمارا تو خاندانی کام ہے یہ میرے ہاتھ سے چوڑی نہیں ٹوٹتی۔اتنی عمر گزر گٸ ہے یہی کام کرتے“
وہ باتیں کرتے ہوۓ خاتونِ خانہ کی کلاٸی میں چوڑیاں چڑھا رہی تھی۔آخری دو چوڑیوں میں سے ایک بیچ منجدھار میں ٹوٹی اور اسکے اپنے ہاتھ میں چبھ گٸی تھی ۔خون تیزی سے بہہ رہا تھا چوڑیاں پہننے والی بھی پریشان ہوگٸی تھی ۔اسکی کچھ دیر پہلے کہی گٸی بات غلط ثابت ہوگٸ تھی۔وہ اپنے کام میں ماہر تھی ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کسی انہونی کے احساس سے اسکادل بری طرح دھڑکا تھا۔
سکینہ نے اپنا دوپٹہ ہاتھ پر رکھ کے زور سے دبایا خون رک چکا تھا وہ پیسے لے کر بوجھل قدموں سے باہر آٸی اسنے مزید آگے جانے کا ارادہ ترک کردیا اور گھر کی جانب چل پڑی۔بچوں کے چہرے اسکی نظروں کے سامنے آکے ٹہر گۓ تھے۔۔۔۔۔۔ماں جو تھی کہتے ہیں اولاد کو ذرا سی تکلیف پہنچے تو ماں کا دل دور بیٹھے ہی بے چین ہو جاتا ہے۔۔۔۔اسکا دل اولاد سے ایک ان دیکھی تار سے جڑا رہتا ہے۔۔۔سکینہ نے بے اختیار خیریت کی دعا مانگی۔
جاری ہے۔۔۔۔
