179.3K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 27

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

رات کے تقریبا دس بج چکے تھے وہ اسے ہسپتال ایسےکور کر کے لایا تھا کے کوئی اور تو کیا روحان اور جون بھی اسکا چہرہ نہیں دیکھ پاۓ تھے پولیس ورک سارہ خرم کر چکا تھا

کچھ نہیں ہوگا ریلیکس! وہ جو کب سے چکڑ کاٹ رہا تھا جون کے کہنے پر پھیکا سا مسکرا دیا

گھر انفورم کیا؟ وہ ابرو اچکا بولا جس پر جون سر اثبات میں ہلا گیا

پیشنٹ کے ساتھ کون ہیں؟ ڈاکٹر کی آواز سے وہ تینوں اس طرف متواجہ ہوئے

ہم! کیسی ہے وہ؟ ان تینوں کی ساتھ آواز گونجی تھی

”شی از فائن!

رائٹ ہینڈ پر ہلکا سا فریکچڑ ہے باقی کمزروی ہے آپ لوگ بس انکی ڈائٹ کا خیال رکھیں باقی انہیں فزیکلی بہت نقصان پہنچایا گیا ہے زخم کے لیے میں نے یہ کچھ ٹیوب اور میڈیسن لکھ دی ہیں آپ وہ باقاعدگی سے دیجیے گا انشاء اللہ جلدی ریکور کر جائیں گی“ ڈاکٹر تسلی دیتا آگے بڑھ گئے

ہم دیکھ سکتے ہیں؟ جون بے چینی سے پوچھنے لگا

”جی لیکن دھیان رکھیے گا کہ وہ ابھی پوری طرح ہوش میں نہیں ہیں “

”جاؤ مل لو“ تسمیر اسکی بے چینی دیکھ کر بولا جس پر وہ سر ہلاتا روحان کو لیے اندر بڑھ گیا

ویسے بھی وہ اس وقت اسے فیس نہیں کر سکتا تھا

”تم لوگ اب گھر چلے جاؤ! “ کچھ دیر بعد انہیں باہر آتا دیکھ وہ گھڑی پر نظر ڈالے بولا جو گیارہ بجا رہی تھی

“نہیں ہم یہی ٹھیک ہیں“ روحان تھکا تھکا سا کہنے لگا

”تم لوگ ابھی چلے جاؤ بے شک صبح آجانا ویسے بھی یہ ہوسپیٹل تو قریب ہی ہے صرف آدھے گھٹنے کی ڈرائیوو ہے اگر مجھے ضرورت ہوئی تو میں تمہیں بلا لوں گا“

اسکے کہنے پر وہ دونوں اٹھ کھڑے ہوۓ( جانتے تھے کہ وہ اپنی بات کا پکا تھا انہیں بھیج کر ہی دم لیتا)

”(ایک لفظ اور نہیں بہت غرور ہے نا تیرے شوہر کو اپنی

پوسٹ پر بہت کچھ سمجھتا ہے وہ اپنے آپ کو آج اسکی ساری ھیکڑی نکال دوں گا)“

”نہیں پلززز نہی“

خواب کی سی کفییت میں کہتی وہ یکدم آنکھیں کھول گئی ہوسپٹل کے کمرے میں خود کو پاکر ایک پرسکون سانس خرج کی تھی لیکن وہ یہاں اکیلی کیوں تھی؟

خود سے سوچتی وہ تکیوں کا سہارہ لیے بیٹھنے لگی البتہ جسم نے ساتھ دینے سے اس وقت انکار ہی کیا تھا

میم دھیان سے! نرس جو کسی کام سے ہی یہاں آئی تھی اسے اٹھتا دیکھ ٹونکے لگی

ممیرے گھر سے کوئی نہیں آیا؟ ٹوٹے پھوٹے الفاظوں میں وہ بامشکل بول پائی تھی

تسمیر صاحب ہیں یہی جب سے آۓ ہیں ہمارے روکنے کے باواجود بے حد اسموکنگ کر رہے ہیں اسئلے اب باہر.گئے ہیں کیونکہ اسموکنگ یہاں الاؤ نہیں ہے وہ.مصروف سی بتانے لگی

آپ کیسے جانتی ہیں؟ بے تکا سا سوال تھا پر وہ.پوچھے بغیر نا رہے سکی

”انہیں کون نہیں جانتا؟ تسمیر صاحب کی وجہ سے ہی تو میری یہاں نوکری لگی ہے

خیر آپ رسٹ کریں میں ان کو بھیجتی ہوں“ نرس مسکرا کر کہتی باہر نکل گئی

سر؟ وہ اس سے مخاطب ہوئی جو لاپروا سا بینچ پر بیٹھا آنکھیں موندے آج کا واقعہ نظروں کے سامنے لیے سگریٹ کے کش لگا رہا تھا اب اسکی بات سے اس طرف متواجہ ہوا

آپ کے پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے! اسکے بتانے پر وہ سیدھا ہوا (اب مزید وہ باہر نہیں رہے سکتا تھا)

بھاری بھاری قدم اٹھاۓ اسکی روم میں داخل ہوا جہاں کُبرا تھوڑا سا اونچی ہوکر بیٹھی اسکی ہی منتظر تھی

اسے نظرانداز کرتا وہ بیڈ کے قریب پڑے بینچ کر بیٹھتا فائلز دیکھنے لگا

جبکہ اسکی بے رخی سامنے والے وہ بے حد تکلیف میں مبتلا کر رہی تھی (تو کیا وہ اب اسے دیکھنا تک پسند نہیمں کر رہا تھا؟) کُبرا محض سوچ سکی

آپپپ مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہے؟ کافی دیر کی خاموشی کو توڑتی وہ اب ہمت کرکے پوچھ ہی بیٹھی تھی جس پر تسمیر نے سخت نظروں سے اسے دیکھا

”شکر کرو تم کے تمہاری حالت کا لحاظ کرکے میں نے منہ نہیں توڑا تمہارہ ورنہ حرکات تو تمہاری یہی ہیں“

اسکا جواب سنتے ہی وہ پرسکون ہوئی اس طرح کی بات کی توقع صرف اس سے ہی رکھی جا سکتی تھی

بتانا پسند کرو گی کس کی اجازت سے کالج سے باہر نکلی تھیں؟

وہ اسکی خاموشی دیکھتا مزید تیش سے بولا کے وہ سہم کر رہے گئی

میں نے ویٹ کیا تھا! آپ نہیں آۓ تو… کُبرا روہانسی سی کہنے لگی آنکھوں سے آنسو اب جاری ہو چکے تھے

ہاں رو لو اب! غصے سے کہتا وہ اٹھتا کے وہ اسکا ہاتھ تھام چکی تھی

“قسم سے میرے ساتھ کچھ بھی غلط نہیں ہوا! “ نجانے کیوں وہ اسے صفائی دے گئی

جبکہ اسکی بات سے تسمیر پل بھر میں نرم ہوا تھا وہ اسکی لاپروائی پر غصہ تھا اور وہ کیا سمجھ رہی تھی؟

کیا؟ وہ ابرو اچکا گیا

میرے ساتھ کچھ بھی غلط نہیں ہوا آپ..

وہ بولتی کے تسمیر جھک کر اسکے چہرے کو پیالے کی صورت میں تھامے اسکی پیشانی پر لب رکھتا اپنی محبت کی پہلی شدت بھری مہر چھوڑ گیا

شکر الحمداللہ!

تم میرے سامنے اس وقت صیح سلامت ہو میرے لیے یہی کافی ہے! اسکی پیشانی سے سر ٹکاۓ وہ گہرا سانس بھرے کچھ وقفے سے بولا

کے وہ ششدر سی اسکا بدلتا روایہ اور عمل دیکھ رہی تھی (ایک بات تو تہے تھی یہ شخص اور اسکے بدلتے روپ کُبرا کی تو سمجھ سے تو باہر ہی تھا )

اسکی گردن پر موجود نشان اور پھٹے ہوۓ ہونٹ کو دیکھ کر وہ بامشکل اپنے غصے پر ضبط کیے ہوۓ تھا

درد ہو رہا ہے؟ کچھ لمحوں بعد وہ خمار آلود لہجے میں کہتا اسکا جواب سنے بغیر ہی اسے خود میں بھینج گیا

ایک سسکی تھی جو اس وقت اسکے حصار میں کُبرا نے لی تھی

آئی سؤئر میں اسے چھوڑوں گا نہیں تمہارے ہر زخم کا حساب ان سے سود سمیت لوں گا! اسے خود سے لگاۓ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیڑتا وہ جنونی سا بولا جب وہ خوفذدہ سی اسکے حصار سے نکلی

اب جو ہوگیا ہے ہو گیا اب آپ مزید ان چیزوں میں مت جائیں انہیں کچھ مت کرئیے گا!

میں جان سے ماروں گا انہیں! تسمیر غرایا جب اسکا فون بجا تھا

************************

بھائی بھائی! پریشان سی چلاتی وہ سب کو اپنی طرف متواجہ کر گئیں

کیا ہوا؟ میرای بہن پریشان کیوں ہے؟ گل خان اسے گلے سے لگاۓ محبت سے بولا

بھائی میرشاہ پتا نہیں کہاں ہے شازیب کے کیس کی پہلی پیشی تھی آج لیکن وہ دوپہر سے گھر ہی نہیں آیا

میرا دل گھبرا ہے وہ دل پر ہاتھ رکھے گھبرائی سے کہنے لگی

ایک بری خبر ہے تمہارے لیے! شازیب کو سزہ سنا دی گئی ہے ہم ابھی اس سے مل کر آرہے ہیں لیکن تمہارے شوہر کا مجھے نہیں پتا!

کیا؟ بھائی میرا بچہ اور میر شاہ نے مجھے بتایا تک نہیں میں کیا کروں اب؟ میں بلکل اکیلی ہو گئی ہوں…روکر کہتی وہ اس کا دل ہلا رہی تھیں

صبر کرو اور میر کا میں پتا کرتا ہوں یہی کہیں ہوگا تم پریشان نا ہو اسے ساتھ لگاۓ وہ اپنے آدمی کو کال ملانے کا اشارہ کر گیا

صاحب فون بند ہے لڑکے کے کہنے پر وہ ٹھنکا

چلو کوئی نہیں آجاۓ گا جلدی بہن کو تسلی دیتا وہ اٹھ گیا تھا

”میں دعا کر سکتا ہوں میر کے تم آغا کے پوتے والے معملے سے دور ہی رہو کیوں کہ اگر اس میں تم شامل ہوۓ تو وہ تمہیں چھوڑے گا نہیں! “

ہاں بولو! کہتے ساتھ وہ اٹھتا باہر نکل گیا

سر اسکا کیا کرنا ہے؟ میم بہت مشکل سے انہیں یہاں لے کر آیا ہوں خرم دوسری طرف اپنے سامنے موجود ریحان اور میر شاہ کو دیکھتا بولا

(وہ انہیں جیل کہ بجاۓ ایک سنسان سے کی وجہ پر لے آیا تھا خرم کی جوب تسمیر کی وجہ سے ہی لگی تھی جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ سے ہی اسکے احسان کا شکریہ کرنا چاہتا تھا اور اب اسے وہ موقع مل.گیا تھا)

میں کل آتا ہوں انکا حساب میں خود کروں گا اسکے بعد بھیج دینا اسے اپنے بیٹے کے پاس! تیش سے کہتا وہ کال رکھ گیا

*******************

کچھ لمحوں بعد وہ ایک ٹرے میں سوپ لیے واپس لوٹا تھا

چپ چاپ پیؤ! اسے نفی میں سر ہلاتا دیکھ سختی سے تمبی کی ابھی تو کچھ کھاتی نہیں ہو جب اتنا وزن ہے

اگر کھا لو گی تو پتا نہیں کیا حال ہوگا اسے چھیڑنے کو مسکراہٹ دباۓ کہتا وہ کُبرا کا منہ کھلوا چکا تھا

جی نہیں آپ کو کس نے کہا ہے؟ کُبرا ابرو اچکاۓ بولی جبکہ اپنے روانگی میں پوچھے گئے فقرے سے اسکی شرارتی مسکراہٹ دیکھ کر اسے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا تھا

”تو ڈارلنگ آپ کو کیا لگتا ہے یہ ہوسپٹل والے وہاں تک آپ کو خود لینے گئے تھے؟ “ شرارتی انداز میں کہتا وہ اسے پل بھر میں سرخ کر گیا

گھر سے کوئی نہیں آیا؟ بات بدلنے کو سوال کیا تھا

”نہیں ٹائم دیکھا ہے؟ ایک بج رہا ہے میں نے ہی منع کر دیا ہے سب کو صبح خود جاکر مل لینا سب سے“

آپ کی دوست کو تو بلکل خوشی نہیں ہوئی ہوگی میرے ملنے سے؟ وہ آنکھیں سیکڑے بولی

”اوہ شٹ مجھے تو یاد ہی نہیں رہا میئری بھی یہاں ہے

یار تم مجھے پہلے یاد نہیں دلوا سکتی تھیں؟ میں جون کو یہاں تمہارے پاس چھوڑ کر گھر چلا جاتا ویسے بھی

آج تو ہمیں وہاں تم بھی ڈسٹرب کرنے کو موجود نا ہوتی“ افسوس سے کہتا وہ سر نفی میں ہلا گیا

کے وہ محض اسے دیکھ کر رہے گئی جو اس حالت میں بھی اسکا جون جلانے.کو اسکے سر پر تھا

جائیں اٹھیں ابھی جائیں یہاں سے مجھے آپ کے احسان کی ضرورت نہیں ہے غصے سے کہتی وہ اٹھتی کے یک دم ان بیلنس ہوئی

تتتت ڈارلنگ ابھی آپ کو واقعی ہی میرے احسانات کی ضرورت ہے اسے فوری سے تھامتے اسکا فریکچڑ ہوۓ ہاتھ کی طرف اشارہ کرتا وہ دانت پس کر بولا

اچھا یار مزاق کر رہا تھا یہ بات تو تم خاطے میں ہی نہیں لائیں کے میں تمہارے چکر میں مئیری کو بلکل ہی بھول گیا؟ اسے مسلسل گھورتے دیکھ وہ شرارت سے کہنے لگا

لمحہ لگا تھا کُبرا کو سرخ ہونے میں مججھے سونا ہے! سرخ سی ہوتی وہ آنکھیں بند کر گئی کے وہ محض مسکرا کر رہے گیا

******************

سر میں اٹھتی ٹیس سے وہ سر پر ہاتھ رکھے اٹھی جب منظر اپنے ساتھ ہی پڑے صوفے پر آنکھیں موندے لیٹے تسمیر پر گئی

(تمہارے ہر ایک زخم کا حساب میں سود سمیت لوں گا ) اسکے کہے گئے الفاظ کانوں میں گونجتے ہی دلفریب مسکراہٹ نے ہونٹوں کا اتحاطہ کیا تھا

تم ٹھیک ہو نا؟ کچھ چاہیے؟ اسے اٹھا دیکھ وہ تیزی سے اٹھتا اسکے پاس آیا

پانی! آواز اتنی مدھم تھی کہ تسمیر با مشکل ہی سن پایا

گھر کب جائیں گے؟ اسکے ہاتھ سے پانی پیتی وہ پریشان سی بولی

بس ابھی کچھ فارملٹیز ہیں وہ پوری کر لوں پھر چلتے ہیں اسکے چہرے پر آئی لٹوں کو انگلی کے پور سے

پیچھے کیے وہ جذبات سے بھرپور لہجے میں کہتا باہر کی طرف بڑھ گیا

دھیان سے , رکو میں آتا ہوں کچھ دیر میں وہ خان میشن کے سامنے گاڑی روکے اس سے مخاطب ہوا

اسکا ہاتھ تھامے گاڑی سے اتر کر وہ اندر داخل ہوا

رخسانہ رخسانہ جلدی آؤ کُبرا آگئی ہیں ! سلمہ انہیں دیکھتے ہی آنکھوں میں آنسو لیے رخسانہ کو بلانے لگیں

یا اللہ تیرا شکر اسے خود سے لگائیں وہ تشکر سے بولیں

”موم دھیان سے اسے بیٹھنے تو دیں!“ انہیں اسکی طرف بڑھے دیکھ تسمیر ٹوک گیا

جبکہ مئیری جو شور سن کر باہر آئی تھی باہر کا منظر دیکھ کر لب بھینج گئی جہاں وہ اسے خود سے لگاۓ احتیاط سے صوفے پر بیٹھا رہا تھا

کیسی ہو؟ رخسانہ اپنے آنسو روکے اسکا ماتھا چوم کر پوچھنے لگیں

ٹھیک ہوں ماں! وہ نم آنکھوں سے مسکرا گئی

شکر ہے تم ٹھیک ہو! برکت اور صباحت ( جو اسکا سنتے ہی یہاں آگئی تھی) بھاگتے ہوۓ آتی اسکے گلے لگی تھیں

آہ بس بس میری بیوی کو تم دونوں گرا ہی مت دینا اسکے کہنے پر رخسانہ اور سلمہ نے مسکراتی نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا

اہاں کیا ہو گیا تسمیر بھائی آپ کی بیوی نا ہماری بھی کچھ لگتی ہے برکت منہ بناۓ بولی

ہاں تو تمہارے رشتے کے چکر میں, میں اپنی بیوی کو قربان تو نہیں کر سکتا نا؟ وہ ابرو اچکاۓ بولا

کے کُبرا شرمندہ سی اسے گھور گئی جو سب کے سامنے اپنی ڈھٹائی سے اسے ہی شرمندہ کرتا تھا

کس کا کام ہے یہ؟ خوشگوار محول میں آغا جان کی رعبدار آواز گونجی

میر شاہ آپ کے گل خان کا بہنوئی! انکے جواب میں وہ خود طنز کر گیا (کل کے انکے سخت الفاظ وہ اب تک بھولا نہیں تھا)

گل خان کو تو میں دیکھ لوں گا آغا جان ضبط سے بولے

میری بیوی کا معملہ ہے میں خود دیکھ لو گا کسی کو انٹرفیئر کرنے کی ضرورت نہیں!

دانت پیس کر کہتا وہ لمبے لمبے دھگ بڑھے اپنے روم کی جانب قدم بڑھاتا پیچھے موجود شخص کو ششدر کر گیا

معاف کرئیے گا آغا جان میں سناؤں گی اسے سلمہ شرمندگی سے بولیں جبکہ آغا جان انہیں نظر انداز کرتے کُبرا کے پاس آۓ تھے

*****************

کیا طریقہ ہے یہ؟ کچھ دیر میں برکت کے ساتھ اپنے روم میں آتی وہ اب اسکے سر ہوئی جو تھکا تھکا سا بیڈ پر آنکھیں موندے پڑھا تھا

کیا؟ انجان بنے سوال کیا

”آپ کو پتا ہے میں آغا سے بدتمیزی کرنے کا پوچھ رہی ہوں!“

اوپر کس سے ساتھ آئی ہو؟ اسکی بات کو نظرانداز کرتا وہ پریشانی سے بولا

میری بات کا جواب یہ نہیں ہے! کُبرا تیش میں آئی

بیٹھو تو صیح بتاتا ہوں اسے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کرتے وہ مسکرا کر کہنے لگا

ٹھیک ہے اب بتائیں کیوں بدتمیزی کی تھی آغا جان سے؟ اسکے ساتھ بیٹھتی وہ اب نرمی سے بولی

کیوں کے میرا دل چاہا رہا تھا ازلی بے نیازی سے کہتا وہ اسے آگ لگا گیا

کل مجھے ایسے غصے ہو رہے تھے جیسے میرا تو تم سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے اسے غصے سے اٹھتا دیکھ وہ قہقہ لگاۓ بولا

جو بھی تھا آپ کو بدتمیزی نہیں کرنی چاہیے تھی

ایک بات پوچھوں؟ کچھ وقفے سے وہ ہونٹ کچلے بولی

ہممم!

میرے گھوم ہونے سے آپ کو کیا فیل ہوا تھا؟ لب کچل کر کہتی وہ اسے دیکھنے لگی

سچ بتاؤں؟ خمار آلود لہجے میں بولتا وہ اسکی جان ہوا کر گیا ہمت کرکے سر اثبات میں ہلایا

مجھے لگا تھا کہ شکر ہے اب تھوڑا سکون ملا مسکراہٹ دباۓ کہتا وہ ایک بار پھر اسے تیش دلا گیا

ہاں تو نا آتے نا آپ مجھے لینے چھوڑ دیتے مجھے انکے پاس کُبرا تیش سے چلائی

نہیں پھر میں نے سوچا اگر تم چلی گئیں تو میں چھیڑوں گا کسے؟ لائف بورنگ ہو جاتی نا! گھمبیر لہجے میں اسے بال پیچھے کیے تھے

بے شرم آدمی! اسکا ہاتھ جھٹک کر وہ واشروم میں بند ہو گئی کے وہ پیچھے قہقہ لگا گیا تھا

جان نکل گئی تھی میری! گہرا سانس بھرے کہتا وہ آنکھیں بند کر گیا.