179.3K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 17

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

میں نے تو پہلے ہی کہا تھا آپ سے اماں بی کہ یہ بچے ہمیں صرف پاگل بنا رہے ہیں اس شادی کے لیے یہ دونوں دل سے راضی ہیں اب دیکھ لیں نتیجہ انکی خاص ملازمہ فریدے مزے دے بولی

اتنا برا دھوکا دیا ہے مجھے تسمیر نے میں کبھی معاف نہیں روں گی اسے اس حرکت کے لیے آعبدہ بیگم تلخی سے کہنے لگیں جب انکے روم کا دروازہ نوک ہوا

دیکھو کون ہے اماں جان فریدے سے بولیں جو ان کے پاؤں دبانے رہی تھی

جی اچھا بے دلی سے اٹھتی وہ دروازہ کھول گئی جہاں تسمیر کان کی لو مسلتا اندر داخل ہوا

تم جاؤ باہر اندر آتے ہی وہ فریدے سے بولا جو اسکے آتے ہی مزے سے دروازے کے کنارے کھڑی ہو گئی تھی لیکن اسکا پہلا جمعلہ سنتے ہی وہ منہ بسور کر باہر نکل گئی

اماں جان؟ تسمیر ان سے مخاطب ہوا

ہمیں آپ سے کوئی بات نہیں کرنی آپ جا سکتے ہیں اماں جان کروٹ لیے کہنے لگیں

چلیں ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی تسمیر کندھے اچکا کر کہتا دروازے کی جانب قدم بڑھا گیا

رکیں! اماں جان سٹپٹا کر بولی وہ بھول گئی تھیں کہ تسمیر خان کو عادت نہیں تھی کہ وہ کسی کے نخرے اٹھاۓ

اگر آپ اس شادی سے خوش تھے تو ہم سے تو سچ کہ دیتے ہم کونسا آپ کی خوشیوں کے دشمن ہیں… اماں جان خفگی سے بولیں

ایسی بات نہیں یے اماں جان وہ سب میں نے اسئلے کہا کیوں کہ میں نہیں چاہتا کہ اگر ہماری ڈیورس ہوتی بھی ہے تو کل کو کوئی کُبرا کو غلط نا سمجھے ویسے بھی طلاق کی وجہ جو بھی ہو لوگ ہمیشہ کہتے لڑکیوں کو ہی غلط ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ کوئی کُبرا کو بلا وجہ غلط کہے تسمیر عام سے انداز میں کہنے لگا

کیوں آخر تمہیں اس بات سے کیا مطلب کہ کوئی کُبرا کو برا کہے یا اچھا؟ تم کیوں اپنے سر برائی لینا چاہتے ہو؟ اور مت بھولو اگر تمہارہ یہی روایہ رہا تو وہ لڑکی تم سے امید لگا کر بیٹھ جاۓ گی لڑکیوں کو محبت سے زیادہ عزت پیاری ہوتی ہے پھر تم کیوں اسکی اتنی ہمایت لے رہے ہو؟

کیوں کہ مجھے دنیا کی نظروں میں برا بننے سے فرق نہیں پڑھتا تسمیر خان تو شروع سے سب کے لیے برا ہے لیکن وہ ایک نیک لڑکی ہے میں اسے بدنام ہونے نہیں دوں گا اتنا کم ضرف نہیں ہوں میں

ہاں واقعی تم کم ضرف نہیں ہو لیکن تسمیر خان اتنا بغیرت کیسے ہو گیا کہ جس لڑکی نے اسکی عزت کی ڈہجیاں اڑا دیں کالج میں ہر ایک کی زبان پر ہے کہ اس نے تم پر ہاتھ اٹھایا جس لڑکی نے تمہاری عزت کی فکر نہیں کی تم اسکی عزت بچانے پر لگے ہو؟ اماں جان نے جیسے اسکی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا (یہی تو کرتے ہیں لوگ کسی کا راز پتا لگتے ہی اسے ہھتیار بنا کر ان کے خلاف مہاز بنانے کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں)

”آپ کو کس نے بتایا نام بتائیں مجھے میں زندہ دفن کر دوں گا اسے تسمیر غرایا تھا جس پر دروازے کے باہر کھڑی فریدے سہم کر رہے گئی “

“مجھے کہاں سے پتا لگا یہ بات تم چھوڑ دو تم مجھے میری بات کا جواب دو خانوں کی اولاد کب سے اتنی بغیرت ہو گئی کہ ان پر عورتیں ہاتھ اٹھانے لگ گئیں؟ “

”بغیرت نہیں ہوں جبھی چپ ہوں آپ بتائیں خانوں کی اولاد جب سے اتنی بغیرت ہو گئی ہے کہ غیرت کے نام پر بدلے میں عورتوں پر ہاتھ اٹھاۓ؟ تمسیر ڈھارا جبکہ اسکی ڈھار سے اماں جان دل تھام گئیں“

اب کیا ہوگا بی بی یہ تو کُبرا پر بات آنے ہی نہیں دے رہا اگر ایسا ہی چلتا رہا تو اب کا پلان تو ڈھرے کا ڈھرا رہے جاۓ گا فریدے انکو مزید لگا گئی تھی دفع ہو جاؤ تم یہاں سے اس سے پہلے میں تمہیں ہی کچھ کر دوں اماں جان کے چلانے پر وہ باہر کی طرف بھاگی تھی .

******************

اٹھو یہاں سے روم میں آتے ہی اسے مزے سے لیتا دیکھ وہ غصے سے بولا

کیوں کس خوشی میں؟ کُبرا ابرو اچکاۓ کہنے لگی

میں آج یہاں سوؤں گا بس! تسمیر غرایا تھا اسے اماں جان کی باتیں اب تک اپنے کانوں میں گونجتی محسوس ہو رہی تھیں جب کُبرا اسے کچھ بھی کہے بغیر اٹھ کر کمرے سے باہر باہر بڑھا گئی

کرتی رہے موڈ خراب اب اسے دیکھاؤ گا میں بھی کہ زندگی جہنم ہونا کیسے کہتے ہیں جیسے اسنے میری زندگی جہنم بنا دی ہے ویسے ہی میں اسکی کروں گا خود سے کہتا وہ بیڈ پر دھے گیا کافی دیر بعد جب وہ روم میں نہیں آئی تو وہ اسکی جگہ سے کروٹ لیتا اپنی جگہ پر آگیا جب اسکے کمرے کا دروازہ کھلا اور وہ اندر داخل ہوئی اسے آتا دیکھ وہ فورن آنکھیں بند کر گیا

اٹھ جائیں جانتی ہوں جاگ رہے ہیں کُبرا اسکے پر ہر کھڑی بولی

بولو! وہ بند آنکھوں میں محض اتنا ہی کہ پایا

چاۓ بنا کر لائی ہوں ساتھ کچھ سینکس بھی ہیں اگر سر میں درد ہے تو چاۓ پی لیں آرام آجاۓ گا کُبرا عام سے انداز میں بولی

نہیں چاہیے مجھے کچھ اور ویسے بھی اب آرام جب ہی آۓ گا جب تم میری زندگی اور میرے کمرے سے چلی جاؤ گی! تسمیر تلخی سے گویا ہوا

ہاں تو مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے آپ کے ساتھ رہنے کا چلی جاؤں گی میں بھی انسانیت کی خاطر پوچھ لیا تھا میں نے کُبرا تپ کر کہتی اپنی سائد پر آئی جہاں لوازمات سے بڑھی ٹرے چاۓ کے کپ کے ساتھ پڑی تھی

(تو وہ بس اسے پریشان دیکھ کر اسکے صبح والے احسان کا بدلہ اتارنا چاہتی تھی ان دو دنوں میں جو بات اسنے نوٹ کی تھی وہ یہ تھی کہ تسمیر ہر پانچ منٹ بعد اپنی کان کی لو مسلتا اور غصہ آنے پر دو انگلیاں کنپٹی مارتا تھا ) اپنی چاۓ کا کپ ختم کرتی وہ کمبل منہ تک اوڑھ گئی وہ جو کب سے اسکے سونے کا انتظار کر رہا تھا اسکی طرف سے مسلسل خاموشی دیکھ کر آستہ آستہ قدم اٹھاۓ اسکے سرہانے کے ساتھ والی ٹیبل پر رکھی ٹرے اٹھا کر سامنے ہی رکھے صوفے پر لے گیا بھوک تو اسے واقعی بہت لگ رہی تھی یہی تو تسمیر خان کی ایک عادت تھی جسے وہ کبھی چاہا کر بھی ختم نہیں کر پایا تھا

ہمممم چاۓ اور سنکیس تو اچھے بناۓ اس نے خود سے کہتا وہ خانے میں مصروف ہو گیا اچھی طرح پیٹ بھرنے کے بعد وہ ٹرے اٹھاۓ کچن کی جانب بڑھ گیا تقریبا پانچ منٹ بعد بہت احتیاط سے دروازہ بند کرکے وہ واپس بیڈ تک آیا

انسان کو چاہیے کم از کم پانچ منٹ تو اپنی بات پر ٹکا رہے کُبرا کی کمبل کے اندر سے ہی آواز گونجی جس پر وہ فورن دانت پیس گیا

تھینک یو ہی بول لے لیتا ہے بندہ! اسکا ایک اور شکواہ آیا

تھینک یو! مسز کوبرا ! تسمیر دانت پیس کر کہتا اسکی تکیوں کی بنائی دیوار کے دوسری جانب لیٹ گیا

یہ وہی نا اچھے بچوں والی بات جس پر وہ کمبل سے منہ باہر نکالے مسکرا کر بولتی پھر آنکھیں میچ گئی

*****************

صبح فجر کی آذان کے فورن بعد وہ انکے گھر کے باہر کھڑا دروازہ بجا گیا جسے اندر سے فورن ہی کھول دیا گیا تھا

ارے میری بیٹی آؤ آؤ اندر آجاؤ ولید صاحب مسکرا کر بولے

آجائیں جس پر صباحت دروازے کے باہر کھڑے جون کو اشارہ کر گئی

ارے یہ تو میرا بیٹا بھی ساتھ آیا ہے اچھی بات ہے تم خود چھوڑنے آگئے ورنہ مجھے تو اسکی ٹینشن ہی رہتی ہے ولید صاحب اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے بولے

جی سر بس میں بھی زمینوں پر جا رہا تھا اسئلے سوچا صباحت کو چھوڑتا چلا جاؤں جہانگیر مسکرا کر.کہنے لگا

وہ بس تو ٹھیک ہے لیکن مجھے یہ تمہارہ سر کہنا اچھا نہیں لگتا تمہارہ تو ایک طرح سے سگہ ماموں ہوں میں ولید صاحب سر جھکاۓ بولے

جی بلکل جبھی میں اپنے ماموں کے لیے انکی بھانجی کی شادی کی خوشی میں یہ تحفہ لایا ہوں جون انہیں اداس دیکھ جر فورن سے ایک سوٹ کا پیکٹ انکے سامنے رکھ گیا

ارے اسکی کیا ضرورت تھی ویسے بھی میں کیا جوشی مناؤں میں تو جا بھی نہیں سکھا اپنی پیادی بھانجی کو دلہن بنے نہیں دیکھ پایا بس تمہاری نانی اگر پورانی باتیں بھول جائیں تو آج میں اپنی بھانجی کی شادی میں بہت آرمانوں سے شامل ہوتا ولید صاحب سرد آہ بھر گیا

انشا اللہ جلدی سب ٹھیک ہو جاۓ گا آپ پریشان نا ہوں ماموں جون سے انکی اداسی دیکھی نہیں گئی تو پہلی بار انہیں مامو کہ کر پکارا جس سے ولید صاحب کی خوشی کی انتہاء نا رہی

ارے میرا بچہ اللہ تمہیں خوش رکھے ولید صاحب کچھ دیر پہلے والی اداسی بھولا کر اسے گلے سے لگا گئے جس پر وہ بھی مسکرا دیا جبکہ یہ منظر صباحت نے آنکھوں میں نمی لیے دیکھا تھا…..

****************

صبح وہ اٹھتے ہی بھاگتے ہوۓ واشروم میں بند ہوا تھا کیوں کہ آج بھی وہ اس سے پہلے اٹھ کر نیچھے جا چکی تھی

کچھ دیر میں وہ واشروم سے نکل.کر شیشے کے سامنے آیا جب اسکے دماغ کی گھنٹی بجی تھی کسی خیال سے وہ واپس نکلا اور اپنے بیڈ کی بیڈ شیٹ جھٹکے سے کھینچ کر زمین پر پھینکی اس کے بعد اپنی الماری سے کچھ سوٹ نکل کر وہ اچھے خاصے کمرے کا حشر کرتا بلیک کلڑ کے تھیڑی پیس سوٹ میں تیار سا باہر نکلا

اب دیکھوں گا کیسے صاف کرے یہ سب اسکی حالت سوچ کر ہی وہ اپنا قہقہ روک نہیں پایا

کیا بات ہے بھائی ابھی تو صرف دو دن ہی ہوۓ ہیں اور اس نیلی بلی نے تمہیں پاگل بھی کر دیا؟ صیح کہتے ہیںں لوگ شادی کے بعد اچھا خاصا انسان پاگل ہو جاتا ہے اسے اکیلے ہنستا دیکھ روحان حیرانگی سے بولا جس پر تسمیر کے ساتھ ساتھ کُبرا نے بھی ایک زوردار چٹ اسے رصید کی تھی

آوچ یار کیا کر رہے ہو مار کیوں رہے ہو روحان چلایا

بہت اچھا ہوا ہے اسے اور بھی مار کر ثواب کما لیں سب برکت قہقہ لگاۓ بولی جبکہ اسکی بات سے وہاں موجود ہع شخص کا قہقہ بلند ہوا تھا

کُبرا بیٹے آج تم کھیر بنا لو اماں جان اسے دیکھ کر بولیں

لیکن اماں ابھی سے کیوں؟ سلمہ بیگم پریشان سی کہنے لگی

کیوں اسنے کونسا زور کھانا بنانا ہے جو کچھ دن بعد کام شروع کرے گی اسنے تو اگر آج بھی کھیر بنائی تو پھر کچھ دن تک تو کھیر بنانے کی تھکن سے ہی آرام کرنا ہے اماں جان طنزیا انداز میں بولیں

کوئی بات نہیں ماں میں آج ہی بنا لوں گا کوئی مسئلہ نہیں ہے کُبرا انکی تلخ باتوں کو نظر انداز کرتی مسکرا کر بولیں جس پر سلمہ بیگم نے نفی میں سر ہلا دیا

اب مزہ آۓ گا تسمیر شرارت سے کہتا ناشتے میں مصروف ہو گیا..