Shagaf-e-Dil by Syeda Shah NovelR50398 Shagaf-e-Dil Episode 19
Rate this Novel
Shagaf-e-Dil Episode 19
Shagaf-e-Dil by Syeda Shah
گڈ فریش سا باہر آتا صاف سترے کمرے کو دیکھ کر ستائشی انداز میں بولا جو بھی تھا وہ ایک بات تو جان گیا تھا کہ اس کوبرا سے کام نکلوانا اتنا مشکل بھی نہیں تھا اپنی سوچوں میں گھوم وہ باہر آیا نظر اس ہر گئی جو جاۓ نماز بچھاۓ اپنے رب سے گفتگو کرنے میں مصروف تھی اسے دیکھتے ہی تسمیر چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاۓ صوفے پر لیپ ٹوپ لیے بیٹھتا کمرے میں خاموشی کو تسمیر کے مسلسل بجتے فون نے توڑا کیوں کہ فون بیڈ پر تھا اسلئے وہ فورن نہیں اٹھا سکھا تھا جس کے باعث کُبرا اسکی طرف متواجہ ہوئی پھر دونوں ہاتھوں کا پیالہ بناۓ اپنے چہرے پر پھیڑتی اٹھی تھی
”آپ کی میئری کی کال ہے“ وہ اسکے سامنے موبائیل کیے طنزیا لہجے میں بولی
ہاں مجھے لگ گیا تھا پتا اسی کا ہوگا میں نے سوچا اسکائپ پر کر لوں بات خیر تھینک یو! تسمیر اس سے فون لیے عام سے انداز میں کہنے لگا جبکہ اسکی ڈھٹائی پر کُبرا کا دل چاہا تھا اسکا سر پھاڑ کر رکھ دے
ہاۓ ڈارلنگ! تسمیر اسے چپ رہنا کا اشارہ کرتا فون اٹھا گیا
ایسی کوئی بات نہیں ہے تمہیں کیسے بھول سکتا ہوں؟نہیں جان میں بہت جلد آؤں گا لنڈن! اگلی طرف سے شاید شکواہ آیا تھا جبھی وہ لہجے میں محبت سموۓ بولا
ویدیو کال نہیں یار کل کریں گے تمہیں تو پتا ہے یہ پاکستان ہے یہاں پرائیوسی بہت کم ہی ملتی ہے وہ سامنے بیٹھی کُبرا پر چوٹ کر گیا جو جل بھن کر اسے گھور رہی تھی
لہجے میں بے حد محبت رکھے بولتا کُبرا کو بے حد زہر اب رہا تھا اور اب اسکی بس ہو گئی تھی
آ بھی جائیں صبح آوفس کے لیے پھر آپ کا دل ہی نہیں کرتا اٹھنے کو زور ایسے ہی رات کو دیر سے سوتے ہیں اور صبح اٹھنے نہیں دیتے کُبرا کی گونجی تھی اس سناٹے میں وہ جتنی زور سے بولی تھی ضرور میئری اسکا ایک ایک لفظ سن چکی تھی
یہ کس کی آواز ہے؟ فون سے آواز اب باہر آرہی تھی تسمیر نے گھور کر اسے دیکھا جو اب اسکے بلکل سامنے کھڑی آنکھوں میں شرارت لیے اسے دیکھ رہی تھی تسمیر کو ایک بار پھر خطرے کا احساس ہوا
بتا دیں کون ہوں میں آپ نے کیا اپنی دوست کو ہماری شادی کے بارے میں نہیں بتایا؟ اتنی اچھی دوست کو بندہ شادی پر تو انوائٹ کرتا ہے وہ ہنوز اپنا لہجے برقرار رکھے سامنے بیٹھے شخص کے غصے کو ہوا دے گئی اگلے ہی لمحے وہ فون سائد پر پھینکے اٹھا تھا
یہ کیا حرکت کی ہے تم نے؟ جانتی نہیں ہو تم اسے کل ہی یہاں آکر تماشا لگ دے گی تسمیر اسکے دونوں بازو تھامے غرایا
تو آنے دیں ابھی وہ بھی مجھے نہیں جانتی وہ تسمیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتی اپنے بیڈ کی طرف بڑھ گئی
نیلی بلی نہیں پوری جنگلی بلی ہے! وہ اسکے اس نئے انداز سے متاثر ہوتا اسکے پیچھے آیا تھا یہ لڑکی اسے ہمیشہ حیران کر دیا کرتی تھی
ایک بات پوچھوں؟ وہ بیڈ پر تکیوں کی دیوار لگاتی مصروف سی بولی
میرے انکار کرنے کے بعد بھی تم نے پوچھنی ہی ہے تو سیدھا پوچھ لو تسمیر اپنی چیزیں سائد ٹیبل پر رکھے کہنے لگا
آپ کو محبت ہے اس سے؟ اسکے سوال سے میر کا چیزیں رکھتا ہاتھ ایک لمحے کے لیے رکا جو وہ بخوبی نوٹ کر گئی تھی
اس بات کو دوبارہ پوچھنے کا مقصد پوچھ سکتا ہوں؟ کہا تو تھا محبت تو بہت سو سے ہے میئری سے بھی ہے تم سے بھی ہو جاتی اگر تم نے مجھ پر پاتھ اٹھا کر پورے کالج میں میرا تماشا نا بنایا ہوتا تسمیر عام سے انداز میں بولا
بہت خوب صورت ہے وہ؟ کُبرا اب تک اسی میں الجھی تھی
تم سے زیادہ نہیں ہے! تسمیر اب بیڈ پر بیٹھتا گھمبیر لہجے میں کہتا کُبرا کو سرخ کر گیا تھا
ویسے تم کیوں پوچھ رہی ہو کہیں جل تو نہیں رہی اس سے؟
نہیں میں کیوں جلوں گی ویسے بھی مجھے کیا؟ کُبرا کندھے اچکا گئی جس پر وہ سر جھٹکتا بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا گیا کُبرا کو اس وقت وہ کافی تھکا ہوا محسوس ہوا تھا
ایک اور بات پوچھوں؟ وہ جھجک کر پوچھنے لگی
نہیں! تسمیر آنکھیں موندیں بولا
اوکے وہ منہ بسور کر کہتی کمبل منہ تک اوڑھ گئی
اچھا پوچھو نا چاہتے ہوۓ بھی وہ نرمی سے گویا ہوا جبکہ اسکے لہجے کی نرمی دیکھ کر کُبرا بے ہوش ہوتے ہوتے رکی
آپ قرآن حافظ ہونے کے باوجود دین سے اتنا دور کیوں ہیں؟ کبرا بچین سی کہنے لگی
کیوں تم نے مجھے نیک کرکے کہیں مجھ سے محبت کرنے کا ارادہ تو نہیں کر لیا؟ تسمیر پہلو بدل گیا
مجھے اگر محبت کرنی ہوئی تو ایسے ہی کروں گی میں لوگوں کو انکی خامیوں سمیت قبول کرنے والوں میں سے ہوں کُبرا پراعتماد سی بولی اسکے انداز پر وہ محض طنزیا مسکراتا کروٹ بدل گیا وہ اب تھک گیا تھا ان ناموں کی محبت سے جو آج تک اسکی گرل فرینڈز نے اس سے کہ تھیں آج تک اسکے دل میں موجود اس خالی جگہ کو کوئی نہیں بڑھ سکا تھا نا ہی اب وہ اسے بڑھنا چاہتا تھا
********************
کام آج کل میں ہو جانا چاہیے تمہارے پاس صرف دو دن کا وقت ہے گل خان سامنے موجود شخص سے مخاطب ہوا
جیسے آپ کا حکم سرکار دانیال خباست سے مسکرایا تھا…
کُبرا بیٹا آپ نے کالج جانے کے بارے میں کیا سوچا؟ آغا جان اس سے مخاطب ہوۓ
میرے پیپرز ہونے والے ہیں آغا جان مجھے ابھی پڑھنا ہے
اور تسمیر کی اس بارے میں کیا راۓ ہے؟ رخسانہ بیگم کُبرا کے خود سے جواب دینے پر اسے گھور کر بولیں
مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے چھوٹی ماں میں تو خود چاہتا ہوں یہ پڑھے لکھے تسمیر کھانے کے انصاف کرتا کہنے لگا
.
لاکھوں میں ایک ہے میرا شہزادہ بیٹا آج کل کون اس طرح لڑکی کو آزادی دیتا ہے؟ اماں جان کُبرا پر چوٹ کرنا نہیں بھولی تھیں
پھر کیا سوچا ہے آپ لوگوں نے گھومنے کہاں جا رہے ہیں؟ علی صاحب محول کو اچھا کرنے کو بولے
یہ جہاں بھی جائیں گے میں ساتھ جاؤں گا جب روحان سامنے سے آتا سب کو اپنی طرف متواجہ کر گیا
کیوں شادی تمہاری ہوئی ہے؟ تسمیر ابرو اچکاۓ بولا
تو کر دیں نا میری بھی کب روکا ہے آس پاس نظر گھومائیں ایک سے ایک لڑکی تیار ہے اسکے انداز پر برکت سر جھکا گئی جبکہ سلمہ بیگم نے اسکی بات سمجھتے ہوۓ مسکرا کر نفی میں سر ہلایا
پہلے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاؤ پھر تمہاری بھی کر دیں گے فلحل تم آج سے میری جگہ کام پر جاؤ گے تسمیر مصروف سا کہنے لگا
کیوں بھائی آپ کہاں جا رہے ہیں؟ روحان حیرتذدہ سا بولا
کہیں نہیں میں بس ایک دو دن کے لیے شہر سے باہر جا رہا ہوں میرے لاء کے لیے میں نے جہاں اپلاۓ کیا تھا وہاں سے مجھے جواب آگیا ہے اب سب کچھ پیپڑ ورک ہے جو وہاں جاکر کمپیلٹ کرنا ہے تسمیر لاپروائی سے کندھے اچکا گیا اس بارے میں وہ آغا جان سے پہلے ہی بات کر چکا تھا انکے لاکھ منع کرنے کے بعد بھی وہ انکے خاندانی کام سے ہٹ کر کچھ کرنا چاہتا تھا جبکہ کُبرا تو اس بات سے ہی خوش ہو گئی تھی کہ کم از کم اب دو دن تو وہ سکون سے رہے سکے گی
کہاں جانا ہے؟
ناران تک! آغا جان کے سوال پر وہ کرسی سائد پر کرتا اٹھا
کُبرا کو بھی ساتھ لے جائیں! آغا جان کی بات پر ان دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا
نہیں! دونوں کی ساتھ آواز گونجی جس پر سب گھر والے حیرانگی سے انکی طرف متواجہ ہوۓ
میرا مطلب ہے مجھے تو کام سے جانا ہے یہ پیچھے بور ہوگی تسمیر بات سنبھال کر بولا
تو کوئی بات نہیں روحان, جہانگیر, برکت اور کیا نام ہے اس بچی کا…
صباحت؟ جون فوری سے پہلے بولا
ہاں ولید کی بیٹی صباحت اسے ساتھ لے جاؤ سلمہ بیگم نے مشورہ دیا جس پر جہانگیر اپنے چہرے کی لالی چھپاۓ نا چھپا سکا
وہ کیوں جاۓ گی؟ بہت لگاؤ نہیں ہوتا جا رہا آپ لوگوں کو اس سے اماں جان تلخی سے بولی
میرے خیال سے سلمہ بہو ٹھیک کہ رہی ہے تم سب چلے جاؤ ایک گاڑی میں یہ سب ہو جائیں گی اور تسمیر اور کُبرا ایک گاڑی میں ہو جائیں گے اسی بہانے بچوں کی سیر ہو جاۓ گی آغا جان مسکرا کر کہنے لگے جس پر اماں جان جل بھن کر اٹھتی اپنے کمرے کی جانب قدم بڑھا گئیں
جبکہ انکی باتوں پر وہ دونوں محض سر پیٹ کر رہے گئے تھے کہاں دونوں ایک دوسرے سے دو دن کے چھٹکارے پر خوش تھے اور کہاں اب یہ نئی مصیبت……
***************************
ایک بات پوچھوں آپ سے آیا جان؟ سب کے جانے کے بعد وہ آج کافی عرصے میں انکے روم میں آئی انکہ گوڈ میں سر رکھ گئی
ہاں میرا بچہ پوچھوں وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتی بولیں
وہ شروع سے ایسے ہی ہیں؟ انکے سامنے نجانے کیوں وہ اسکا نام نا لے پائی جبکہ اسکے انداز پر سلمہ بیگم کے چہرے پر ایک محفوظ مسکراہٹ پھیلی تھی.
کیسا؟
ایسے ہی جیسے اب ہیں مطلب انکے دل میں قرآن ہے یہ کوئی انہیں دیکھ کر کہ ہی نہیں سکتا کُبرا جھجک کر کہنے لگی جو بھی تو وہ انکا بیٹا تھا
پتا نہیں شروع سے تو ایسا نہیں تھا بلکہ پہلے تو شرارتی بھی تھا ہر وقت سب سے ہنسی مزاق جیسے اب روحان کرتا ہے نمازیں بھی شوق سے پڑھتا تھا اور مدرسے تو میرے کہنے سے پہلے ہی شوق سے جایا کرتا تھا لیکن اللہ جانے کیا ہوا کیا نہیں ایک دم ہی چپ سا ہو گیا مجھے لگا شاید بڑا ہو رہا ہے اسئلے یہ تبدیلی آئی ہے لیکن پھر اسکا دل ہر چیز سے اٹھ گیا کافی دن بخار میں تپتا رہا بس ایک رٹ لگائی ہوئی تھی کہ.مجھے یہاں سے جانا ہے ملک سے کہیں باہر جب طبیت زیادہ خراب ہوئی تو تمہارے علی بابا نے اجازت دے دی باہر جانے کی اور ساتھ جون کو بھی بھیج دیا سلمہ بیگم عام سے انداز میں بولیں
اپنے کبھی پوچھا نہیں کہ وہ کیوں یہاں سے جانا چاہتے تھے؟ کُبرا پریشان سی کہنے لگی
اسنے کبھی بتایا ہی نہیں میں نے ایک دو بار پوچھا لیکن وہ ہمیشہ بدک جاتا تھا چیزیں توڑنے لگ جاتا تھا بس پھر میں بھی خاموش ہو گئی ضدی تو وہ شروع سے ہی تھا جس بات پر اڑ جاۓ بس پھر وہ بات پوری کروا کے ہی دم لیتا تھا خیر تم پریشان نا ہو مجھے یقین ہے میری بیٹی اسے دین کی طرف واپس ضرور لے آئی گی وہ محبت سے کہتی آخر میں اسکا ماتھا چوم گئیں
میں زرا پیکنگ کر لوں پتا نہیں کب نکلنا ہو کُبرا مسکرانے کی سہی کرتی باہر کی جانب قدم بڑھا گئی لیکن سوچ اب سب تسمیر پر اٹک گئی تھی
آخر آیا جان نے اتنی باری بات کو کیسے نظر انداز کر دیا؟ ان کے اندر آتے بدلاؤں کو کیوں نہیں روکا؟ وہ الجھ کر رہے گئی تھی اب اگر کوئی اسکے لیے جوابات آسان کر سکتا تھا تو وہ خود تسمیر علی خان تھا
*************
وہ دبے دبے پاؤں سے فون تک آئی تھی
اٹھا لے کافی دیر بعد دوسری طرف سے فون اٹھایا گیا تھا
ہاں بولو دوسری جانب سے سرد آواز گونجی
وہ سب آج رات تک ناران کے لیے نکل رہے ہیں ہاں ہاں پکی خبر ہے بلکل اور اگر نا ہوئی تو میرا سر اور تیری جوتی ہوگی موقع اچھا ہے! آواز میں خاصا اعتماد تھا
کال اب دوسری طرف سے رکھ دی گئی تھی اور وہ بھی اب اپنی رقم کے بارے میں سوچ کر بے حد خوشی سے قدم بڑھا گئی
*****************
رات کے تقریبا نو بج چکے تھے اور وہ اب تک نہیں آیا تھا صباحت کی بچی تم نے تو ایسے تیاری کی ہے جیسے دس بارہ دن کے لیے جا رہی ہو برکت اسے چھیڑنے لگی
ہاں نا پاگل وہاں جاکر تصویریں بھی تو بنائیں گے میں نے تو دو دن کے دس سوٹ رکھے ہیں صباحت ایکسائٹڈ سی کہنے لگی
کیوں گھنٹوں کے ساتھ کپڑے تبدیل کرنا کا ارادہ ہے؟ جہانگیر شرارت سے بولا جس پر وہ خومخاں شرمندہ سی ہوئی
ارے تم شرمندہ کیوں ہو رہی ہو؟ برکت کو دیکھ لے لو ایسے سامان لاڈ کر جا رہی ہے جیسے وہاں سے رخصتی کرکے ہی لوٹے گی روحان کیسے پیچھے رہے سکتا تھا
ہاں تو تم سے مطلب؟ تم سے تو اچھے ہی ہیں ہم کم از کم تمہاری طرح مہینوں بعد تو کپڑے نہیں چنیج کرتے برکت تیش سے بولی
یہی یہی جو زبان ہے نا تمہاری دل کرتا ہے چھڑی سے کاٹ دوں صباحت کو دیکھا ہے اپنے والے کے آگے ایک لفظ بولی ہو روحان اسکا بازو پکڑے کہتا صباحت کا منہ کھلوا گیا تھا
کہاں سے لاتے ہو تم اتنی بکواس روحان؟ جب بھی دیکھو فضول ہی بولتے ہو صباحت اسکا کان مرور گئی تھی
آہ یار دونوں ہی پیچھے پڑھ گئی ہو چلو میرے فضول بولنے سے تم لوگ کی زنگیوں میں رونق تو ہے نا لیکن تم لوگوں کو کہاں قدر ہونی ہے میرے مرنے کے سمجھ آۓ گی تمہیں وہ عام سے انداز میں بولتا برکت کا سانس روک گیا تھا
آہ یار دونوں ہی پیچھے پڑھ گئی ہو چلو میرے فضول بولنے سے تم لوگ کی زنگیوں میں رونق تو ہے نا لیکن تم لوگوں کو کہاں قدر ہونی ہے میرے مرنے کے بعد سمجھ آۓ گی تمہیں وہ عام سے انداز میں بولتا برکت کا سانس روک گیا تھا
اللہ نا کرے تم پاگل ہو؟ کُبرا جو بیگ فون ہاتھ میں تھامے انکے طرف آرہی تھی روحان کی بات سنتے ہی قدم تھمے تھے
اچھا سوری معاف کر دو میرے منہ سے نکل گیا میری زبان ٹوٹ گئی روحان اسکی مسلسل گھورتی نظریں خود پر محسوس کیے اکتا کر بولا جس پر وہ محض مسکرا دی تھی
اچھا تم میں سے کسی کو تسمیر کا پتا ہے کہاں رہے گئے؟
ہاں ابھی آیا ہے اسکا ٹیکس تم تیار رہو وہ بس پہنچنے والا ہے اتنے ہم نکلتے ہیں کُبرا کے کہنے پر جون ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتا بولا جس پر وہ سر اثبات میں ہلاتی اندر کی طرف بھاگی تھی جانتی تھی وہ اسکا ویٹ نہیں کرے گا صبح وہ اپنے کپڑے بھی اسے پیک کرنے کا آؤڈر دے کر گیا تھا
***********************
کچھ دیر بعد وہ نیچھے کھڑا مسلسل اسے کال پر کال کر رہا تھا جو فون اٹھانے کا نام نہیں لے رہی تھی
اب تم میرے ہاتھوں ختم ہونگی کوبرا پندرہ منٹ تک اسکا انتظار کرنے کے بعد وہ اب تنے تیور لیے اپنے روم کی جانب بڑھا جب وہ سامنے سے آتی دیکھائی دی ڈارک بیلو کی لونگ شیفون کی فراک زیب تن کیے سر پر شیفون کا ڈوپٹا سلیقے سے سیٹ کیے تھی اسکی نیلی آنکھیں اس وقت بلکل اسکے سوٹ سے میچ کر رہی تھیں تسمیر اسے دیکھتے ہی بے اختیار نظروں جھکا گیا
فون اگر اٹھایا نہیں جاتا تو رکھا کیوں ہے؟ اب کی بار وہ گہری سانس بھڑے اسے گھور کر بولا
اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟ دس منٹ کا کہ کر پورے گھٹنے بعد آۓ ہیں اب تک تو وہ لوگ پہنچ بھی چکے ہونگے وہ تو اس سے پہلے اسکا قتل کرنے کو تیار تھی
اب تم بیٹھ رہی ہو یہاں یہی کھڑے ہوکر لڑنے کا ارادہ ہے؟ تسمیر پیچھے سے انکا سامان لاتے گاڈر کو دیکھ کر اسے بیٹھنے جا اشارہ کر گیا جس پر وہ منہ بسور کر پیچھے کا دروازہ کھول گئی
کتنی بار کہنا پڑے گا؟ اب خود آگے بیٹھنے کی عادت ڈال لو تو اچھا ہے اسکی سرد آواز گونجی تھی
مجھے ان لوگوں کے ساتھ جانا تھا آپ کے ساتھ تو پورا سفر ہی بورینگ گزرے گا وہ کافی دیر کی خاموشی کے بعد اب اکتا کر بولی
”تم اب میرے ساتھ ہی جایا کروگی ہر جگہ اسکی بھی اب عادت ڈال لو“ اس پر گہری نظریں ڈال کر کہتا وہ اسے اپنی نظروں سے اچھا خاصا کنفیوز کر رہا تھا
”ایسے کیا دیکھ رہے ہیں سامنے دیکھیں نا“ وہ اسکی نظروں کی تپش خود پر محسوس کرتی اب گھبرا کر بولی
کیوں تمہیں دیکھنے پر ٹیکس ہے کیا؟ وہ اسکی گھبراہٹ دیکھ کر مبہم سا مسکرایا
جی ہاں کیوں کہ مجھے صیح سلامت پہنچانا ہے
خیر میں سو رہی ہوں اتنے بورینگ صفر میں تو اب میں جگانے سے رہی منہ بسور کر کہتی وہ آنکھیں موند گئی
رات کے تقریبا دس بج رہے تھے وہ اب ناران سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھے جب تسمیر کو کچھ دیر سے ایک گاڑی مسلسل اپنے پیچھے آتی محسوس ہوئی یقین جب ہوا جب وہ غیر ارادی توڑ پر روٹ سے کچھ الگ ہوا اور وہ کار بھی اسکے پیچھے ہوئی
خطرے کو بھانپتا وہ ڈیش بوکس سے اپنی گن باہر نکالنے کو جھکا جب اگلے ہی لمحے فائر کی آواز سے وہ ہوش میں آئی تھی
کُبرا ڈیش بوکس سے مجھے گن پکڑاؤ وہ گاڑی کو اپنے بلکل مقابل ہوتے دیکھ چلایا
پپر یہ نہیں کھل رہا وہ مسلسل اسے کھولنے کی کوشش سے ہلکان ہوتی بولی
اسکی بات سے وہ خود سائد پر جھکے ڈیش بوکس کھلنے لگا وہ واقعی جام ہو چکا تھا جب وہ وقت ضائع کیے بغیر ایک جھٹکے سے ڈیش بوکس کو ایسے اپنی کھینچا جس سے اسکا اپنا ہاتھ خون میں بہے گیا تھا لیکن اس وقت اسے کسی کی فکر تھی وہ اسکے ساتھ بیٹھی اس لڑکی کی جس پر وہ ایک آنچ تک نہیں آنے دے سکتا تھا
وہ جو پریشان سی آپ پاس پاس دیکھ رہی تھی نظریں اب تسمیر پر گئیں جو ایک ہاتھ سے اسٹرنگ سنبھالے اور دوسرے خون سے لت پت ہوتے ہاتھ سے سامنے موجود کاڑ پر فائرنگ کر رہا تھا
ککون ہیں یہہ لوگ؟؟؟ وہ اس وقت خواب سی کیفیت میں تھی
نیچھے ہو! تسمیر اس پر نظر ڈالے بغیر بولا
لییکن یہ ککون؟
سنا نہیں میں نے کہا سر نیچھے کرو تسمیر کی گرج دار آواز سنتے ہی وہ فوری سر نیچھے جھکا گئی
اسکے نیچھے جھکتے ہی وہ گاڑی کی اسپیڈ تیز کر گیا اتنی تیز کے وہ یہ تک فراموش کر گیا تھا کہ وہ اس وقت ناران کے خطرناک ترین راستے پر موجود ہیں ایک جھٹکے سے کاڑ ایک پتھر سے آڑتی سیدھا ڈھلان سے تیز رفتار میں اتڑی ایک جھٹکے سے وہ بریک ڈبا گیا
***********************
یار یہ بھائی کہا رہے گئے ہیں؟ روحان اکتا کر بولا وہ کب سے ناران میں موجود مشہور( Fairy meadows Hotel)کے آگے کھڑے تھے
فون کر رہا ہوں تو اٹھا نہیں رہا جون اب تپا تھا تسمیر کی ہمشیہ لیٹ ہونے کی عادت سے وہ ہمیشہ سے اکتایا کرتا تھا
بھائی مجھے واشروم جان ہے برکت شرمندہ سی بولی
جس پر وہ گہری سانس بھر کر رہے گیا
روحان تم اندر جاکر تین روم بک کرواؤ میں اتنے ٹراۓ کرتا ہوں شاید اب فون لگ جاۓ یہاں سگنلز کی پروبلم کہ وجہ سے وہ کسی خطرے کا اندازہ نہیں لگا سکے تھے
چلو یہ روم ہے ہمارا روحان اسے سامنے والے روم کی طرف اشارہ کرتا ازلی لاپروائی سے کہنے لگا
ہمارہ؟ برکت زیرے لب ڈھرا گئی جبکہ روحان نے اسکی حالت دیکھ کر شرات سے مسکراہٹ دبا گیا تھا
دماغ ٹھیک ہے تمہارہ؟ میں کیوں تمہارے ساتھ رہوں گی؟ اسکی بات سمجھ کر وہ چلائی
چلو اب نخرے نا کرو مجھے پتا ہے تمہارہ بھی دل ہے روحان ہنوز شرارت سے بولا
میں تمہارہ سر پھاڑ دوں گی لفرانہ حرکت مت کیا کرو میرے ساتھ برکت شرم سے اسکی باتوں کا مطلب سمجھ کر صباحت کو اشارہ کرتی سامنے موجود کمرے کی طرف بڑھ گئی جبکہ پیچھے روحان کا جاندار قہقہ گونجا تھا
ہر وقت ہی پیچھا نا پکڑا کرو تم اسکا صباحت اسے گھورتے ہوۓ بولی
اور تم بھی کبھی ادھر ادھر ہو جایا کرو ہر وقت مجھ جیسے بچارے کا پیچھا ہی پکڑے رکھتی ہو
بچارے اور تم؟ استغفار وہ جھرجھری لے کر رہے گئی
******************
جھٹکا لگنے سے اسکا سر سیدھا اسٹرینگ سے ٹکرایا تھا
کُبرا؟ سر سے رستا خون نظرانداز کرتا وہ اوندھے منہ پڑی کُبرا کا بازو ہلاتا بولا
تم ٹھیک تو ہو نا؟ وہ اسکے چہرے کے گرد ہاتھوں کا پیالہ بناۓ پریشان سا کہنے لگا
جب وہ آنسوؤں پر قابو نا رکھتی اسکے بازو پر سر رکھے اسکی شرٹ کو مضبوطی سے تھام گئی تھی
ریلیکس کچھ نہیں ہوا اسے خود سے لگا دیکھ وہ ششدر رہے گیا لیکن وہ ہنوز اسکے کندھے سے لگی روۓ جا رہی تھی
ادھر دیکھو میری طرف کچھ نہیں ہوا وی آڑ فائن تسمیر اسکا چہرا اپنے مقابل کیے نرمی سے بولا جب وہ اسکے فائن کہنے پر اسکے سر کی طرف دیکھنے لگی جہاں سے اب بھی خون رس رہا تھا
مجھے بعد میں نہار لینا فلحال اگر آجازت ہو تو گاڑی چلا لوں؟ وہ اپنے ہاتھ پر اسکی مضبوط گرفت پر اشارہ کرتا بولتا کُبرا کو شرمندہ کر گیا تھا
فوری سے اسکا ہاتھ چھوڑتی وہ اپنی سیٹ پر سیدھی ہوئی جبکہ اسکے آنکھوں میں موجود خوف تسمیر سے چھپ نا سکھا تھا
”اب نہیں ہے وہ لوگ دیکھو سامنے کتنی رونق ہے ہم اب ان لوگوں کی پہنچ سے نکل چکے ہیں سو ڈونٹ وری میں ہوں نا“ اسے پرسکون کرنے کو وہ اسکا ہاتھ تھامے نرمی سے کہتا گاڑی پھر سے اسٹارٹ کر گیا
**************
رات کے تقریبا بارہ بجے وہ ہوٹل پہنچا تھا جون جو اس پر اچھا خاصا غصہ نکالنے کا ارادہ رکھتا تھا اسکی گاڑی کی ٹوٹی ہیڈ لائٹ سے ٹھنکا
خیرت ہے کیا ہوا ہے؟ اسکی حالت دیکھ کر وہ چونک کر بولا
کچھ نہیں بس چھوٹا سا ایکسیڈینٹ ہوا ہے اور کچھ نہیں تسمیر کُبرا کی جانب دیکھ کر کہنے لگا جو آنکھوں میں نمی لیے سر جھکاۓ ہوۓ تھی
کہا بھی تھا ساتھ چلتے ہیں لیکن مجال ہے تو نے کبھی میری سنی ہو چلو اب ڈاکٹر کے جون خفگی سے گویا ہوا وہ لنڈن میں بھی آۓ دن کوئی چوٹ لے کر اسکے سامنے موجود ہوتا تھا جس سے جون محض دل پر جبر کر کے رہے جاتا
”نہیں اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے ہم ٹھیک ہوں“
”ضرورت ہے اور ان سے کہیں اگر اتنا ہی ہیرو بننے کا شوق ہے تو نکل جائیں کشمیر کے لیے جنگ کرنے کو “کُبرا اب نم آنکھوں سے اسے گھور کر بولی
میں پٹی لے کر آتا ہوں تم دونوں اپنے روم میں جاؤ یہ لو چابی
اپنی بہن کی دھیشت دیکھتا وہ مسکرا کر لب دبا گیا “صیح ٹکر کی ملی ہے تجھے بڑو“ اسکے جاتے ہی جون شرارت سے بولا جبکہ تسمیر محض اسکی بات پر کندھے اچکا کر اسکے پیچھے چل دیا
********************
کون تھے یہ لوگ؟ وہ اسکے آتی ہی اسکے سر ہوئی تھی
نن اوف یور بزنس (None of ur business) وہ سنجیدگی سے کہتا صوفے پر بیٹھا ہاتھ میں لٹکا پٹی اور میڈیسن والا شوپر وہ بیڈ پر سائد پر رکھ چکا تھا
کچھ پوچھ رہی ہوں میں آپ سے؟ وہ تو جیسے آج اسکی جان لینے کا ارادہ رکھتی تھی البتہ اپنی آنکھوں میں موجود خوف کو وہ اب بھی اس سے چھپا نہیں سکی
شاید گل خان کے بندے تھے زمین واپس لینے کے لیے مجھے ڈرا رہے ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں تسمیر عام سے انداز میں بولا
تو دیں دے نا زمین آپ کی جان سے بڑھ کر تو نہیں ہے کُبرا شوپر سے پٹی نکالے کہنے لگی
کچھ زیادہ ہی مہربان نہیں ہو رہی ہیں آپ؟ وہ اسے خود کے عین مقابل بیٹھتا دیکھ گھمبیر لہجے میں بولا جب کہ اسکے انداز پر وہ بے ترتیب ہوتی ڈھرکنوں سے اسکا زخمی ہاتھ تھام گئی
ایک لفظ نہیں! اسے ہاتھ ہٹاتا دیکھ وہ واڑن کر گئی
اچھا؟ اب مجھے پر رعب چلاؤ گی تم؟ تسمیر آنکھیں چھوٹی کیے بولا اسکی حالت تسمیر کی سمجھ سے باہر تھی شاید وہ اس سچویشین سے پہلی بار سامنا کر رہی تھی
جو بھی سمجھیں آپ انسان نہیں ہے یہ تو مجھے آج یقین ہو ہی گیا ہے اتنا خون دیکھ کر بھی آپ کو ابھی کچھ نہیں ہوا؟ وہ غصے سے کہتی اسکا زخم صاف کرنے لگی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ اسے اتنی تکلیف کیوں ہو رہی ہے با مشکل اپنے آنسو پیتی وہ اسکی پیشانی پر جھکی جبکہ اسکی قربت تسمیر کا صبر آزما رہی تھی گہری نظریں اسکے چہرے پر گاڑھے وہ اسکے آنسوؤں کو بخوبی نوٹ کر گیا تھا
سونے سے پہلے پین کیلڑ لے لیجیے گا اسکی پیشانی کے زخم پر بام لگاتی اسکی نظروں کی تپش سے پریشان ہوتی وہ اٹھی جب وہ اسکا ہاتھ تھام گیا
ادھر آؤ اسکی خمار آلود آواز کمرے میں گونجی
میں نے کہا ادھر آؤ اسے ہنوز ایسے ہی کھڑے دیکھ وہ اب زرا سختی سے بولا جب وہ ڈھرکتے دل سے واپس اسکے سامنے رکھی ٹیبل پر بیٹھی
”مجھے پتا ہے یہ سب تمہارے لیے نیا ہوگا لیکن میرے ساتھ تمہیں اکثر ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا اور اب تو آۓ دن اس طرح کی کچھ چوٹیں مجھے لگے گیں عدالت میں ہر طرح کے کیس آتے ہیں ہر طرح کی پارٹی ہوتی ہے جو اپنے کام کروانے کے لیے اکثر ایسے ہی ڈراتی ہے “
وہ اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنی مضبوط گرفت میں تھامے بول رہا تھا جب کہ وہ اسکی نظروں کو مسلسل خود پر محسوس کیے نظریں جھکاۓ ہوۓ تھی
”آج مجھے اگر تھوڑا ڈر لگا بھی تو وہ صرف اسئلے کیوں کہ تم میرے ساتھ تھیں اور تم پر میری وجہ سے کوئی آنچ آۓ یہ میں آفوڈ نہیں کر سکتا میں نہیں جانتا تم میرے ساتھ کب تک ہو لیکن یقین کرو جب تک تم میرے ساتھ ہو کوئی دوسرا تمہیں کبھی میری وجہ سے نقصان نہیں پہنچا سکتا اسئلے ڈرنا مت“ اب کی بار اسکے گال تھپتھا کر وہ اٹھ گیا تھا
رونے کے باعث اسکی سرخ پڑتی ناک اور آنکھیں اسکے لیے خاصی مشکل کھڑی کر رہی تھی
جبکہ اسکے جاتے ہی وہ کب سے روکا سانس بحال کر گئی تھی اسکی قربت میں وہ اپنا سانس رکتا محسوس کر رہی تھی ان سب میں وہ ایک بات تو جان گئی تھی اسکا نرم لہجہ کُبرا کو اپنا دیوانہ بنا سکتا تھا
