367.2K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 26

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

گاڈرز! وہ ہر ایک کلاس چیک کرنے کے بعد اب چلایا تھا

کالج میں اب شاید ایک دو ہی اسٹوڈنٹس رہے گئے تھے

ججی سر گاڈر اسکی حالت دیکھ کر خوفذدہ سا ہوا

کہاں گئی تھی وہ؟ تم لوگوں دھیان کہاں تھا؟,اس کام کے لیے رکھا ہے میں نے تمہیں؟ وہ چلاتا,اسکا گریبان تھام چکا تھا

بھائی چھوڑیں اسے! روحان جو خود اسکی بات سے پریشان ہوتے اب سیدھا کالج پہنچا تھا جب اسے گاڈرز سے الجھتے دیکھا

جبکہ اسکی آواز سے تسمیر جھٹکے سے پیچھے ہٹتا اسکے پاس آیا

روحان اگر تو یہ تم لوگوں کی شرارت ہے تو مجھے ابھی بتا دو میں جان لے لوں نہیں تو میں جان لے لوں گا تمہاری

ننہیں بھائی قسم لے لیں مجھے کچھ نہیں پتا اور کُبرا ایسی حرکت کبھی مزاق میں بھی نہیں کرے گی آپ میرے ساتھ باہر چلیں یہاں سب دیکھ رہے ہیں

وہ موقعے وہ سنبھالتا اسکا ہاتھ تھامے باہد گاڑی تک لایا تھا

بھائی ریلیکس میں ابھی صباحت کو فون کرتا ہوں ہو سکتا ہے اسکے گھر نا چلی گئی ہو

کرو فورن کرو اگر یہ وہاں ہوئی تو آج بچے گی نہیں مجھ

سے! دل میں آۓ وسوسوں پر نفی کرتا وہ غصے سے بولا

جس پر روحان سر.ہلاتا صباحت کو فون ملا گیا جو پہلی ہی رنگ پر اٹھا لیا گیا تھا

نہیں بھائی وہاں بھی نہیں ہے! وہ کہاں جا سکتی ہے بھائی ہماری کس سے دشمن بولتے بولتے اسے بریک لگی تھی

(تو پھر اپنی بھابھی کا سنا کیسی ہے)

آختر!خواب کی سی کیفیت میں بولا تھا

کیا؟ تسمیر یک دم اسکی جانب متواجہ ہوا

یہ آختر کا کام ہے بھائی اس نے مجھے دھمکی دی تھی! اسکی آواز اتنی آستہ تھی کہ تسمیر با مشکل سن پایا تھا

کیا دھمکی دی تھی؟ وہ اب اسکے سر پر تھا جب روحان گاڑی بیٹھتا بنا کسی تاثر کے ایک ایک لفظ بتانے لگا

اسکی بات سنتے ہی وہ لب بھیجنے گاڑی کی اسپیڈ مزید تیز کر گیا

اتنی بڑی بات تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی روحان؟ وہ چیخا تھا

مجھے لگا وہ محض دھمکی دے رہا ہے مجھے نہیں لگا تھا وہ مردوں کی.لڑائی میں عورتوں کو لاۓ گا روحان اب بھی بے یقین تھا

جب نفس خود پر حاوی ہو جاۓ تو انسان بھول جاتا ہے وہ کونسے مذہب سے ہے یا کونسی ذات سے ہے

یقین کر اگر میری کُبرا کو ایک خراج بھی آئی تو وہ میں اسے جان سے مار دوں گا!

تیش سے کہتا وہ دس منٹ کا راستہ دو منٹ میں تے کرتا اب گل ہاوس پہنچا تھا

صاحب باہر تسمیر خان اور روحان خان آیا ہے اسکا خاص آدمی گھبرایا سا بولا

آنے دو! بلاؤ انہیں!

ارے آج تو بڑے بڑے لوگوں نے ہمارے گھر قدم رکھے وہ تسمیر کے غصے کو نا دیکھتے ہوۓ مسکرا کر بولا

کے تسمیر لمحے کی دیر لگاۓ بغیر لمبے لمبے ڈھک بڑھتا اسکا گریبان تھام جکڑ گیا

دو منٹ ہیں تیرے پاس ٹھیک سے بتا میری بیوی کہاں ہے؟ سرخ آنکھیں لیے کہتا وہ گل خان کو بھی خوفذدہ کر گیا تھا

مجھے کیا پتا تمہاری بیوی کہاں ہے اور یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑو مجھے

ایسے نہیں ماننے گا اب کی بار وہ جیب سے گن نکالتا اسکے سر پر تن گیا جس پر گل خان کے آدمی اپنی اپنی بندوق نکال گئے

کیا ہو رہا ہے یہ؟ آختر باہر سے آتا حیرانگی سے گویا ہوا

اگر ایک منٹ سے پہلے پہلے تو نے مجھے نہیں بتایا کہ میری بیوی کہاں ہے تو ابھی اسی وقت تیرے باپ کو شوٹ کر دوں گا میں تسمیر غرایا تھا

واللہ عالم مجھے کچھ نہیں پتا ہماری دشمنی تم سے

تمہاری عورتوں سے نہیں ہاں میں نے اس دن روحان کو

دھمکی دی تھی لیکن اس.وقت میں نشے میں تھا ابھی

اتنا بزدل نہیں ہوۓ ہم کہ تمہاری عورتوں پر حملہ کریں

گے اگر ایسا ہوتا تو ہم اس ریحان کو منع نا کرتے

اچانک سے نکلنے گئے فقرے پر وہ آنکھیں میچ گیا

کیا بکواس کر رہا تھا وہ؟ روحان اب اسکے سر تھا

ریلیکس بڑو وہ آیا تھا ہماری مدد مانگنے کے اس نے تمہاری بھابھی کے تھپڑ کا جواب دینا ہے لیکن ہم نے اسے صاف انکار کر دیا تھا آختر فوری سے بات سنبھال گیا

آختر ٹھیک کہ رہا ہے ہمہاری دشمنی تم سے تمہاری بیوی سے نہیں اب اسے نیچھے کرو گل خان ڈھارا

آواز نیچھے! اس ریحان کو تو میں دیکھ لوں گا لیکن قسم خدا کی اگر مجھے پتا چلا تو بھی اس کے ساتھ تھا تو میں تجھے یہی زمین کے نیچھے گاڑھ دوں گا سرخ آنکھوں سے غراتا وہ اسکا گریبان چھوڑتا روحان کو.چلنے کا اشارہ.کر گیا جبکہ اس کے اس طرح چھوڑنے پر گل خان صوفے پر ڈھے سا گیا

تمہیں اس بدتمیزی کا حساب دینا ہوگا تسمیر خان! وہ پیچھے سے ہانپا تھا

******************

سر سر! وہ ابھی گاڑی میں بیٹھ رہے تھے جب گل خان کے خاص بندے نے انہیں روکا

گاڑی میں بیٹھو تسمیر ایک لفظی جمعلہ کہتا گاڑی میں بیٹھا

کے روحان نا سمجھی سے اس سارے معملے کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا اور دو منٹ لگے تھے اسے سمجھنے میں….

سر وہ ٹھیک کہ رہا ہے گل خان اور آختر کا اس سب سے کوئی تعلق نہیں ہے ہاں التبہ آپ کے کہنے پر میں نے ریحان پر نظر رکھی تھی

وہ ایک دو بار پہلے بھی آیا تھا اور ایک دو دن پہلے بھی وہ انکی مدد مانگنے آیا تھا تو گل خان نے اسے صاف منع کر دیا تھا

وہ لڑکا اسے ساری انفارمیشن دے رہا تھا

تم نے ریحان کی بات مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی؟ تسمیر با مشکل خود پر قابو کیے ہوۓ تھا

سر مجھے نہیں لگا تھا وہ چوزہ واقعی یہ سب کرے گا لیکن ایک بات تو میں یقین سے کہ سکتا ہوں

یہ کام اس اکیلے کا نہیں ہے اس میں ضرور کسی طاقت ور آدمی بھی ہے اسکے کہنے پر تسمیر یک دم ٹھنکا

خرم سے بات ہوئی تمہاری؟ اس سے کہا ہے کہ نمبر ٹریس کرنے کو؟ وہ تیزی سے بولا

جی سر لیکن میم کا نمبر مسلسل بند جا رہا ہے جیسے ہی اون ہوتا ہے ہمیں انشاء اللہ پتا لگ جاۓ گا

یہ لو یہ نمبر ٹریس کرواؤ ابھی کے ابھی تیش سے کہتا وہ اسکے ہاتھ سے فون لیے خود کان سے لگا گیا تھا

تمہارے پاس صرف دس منٹ ہیں یہ نمبر بھیج رہا ہوں فورن مجھے اسکی لوکیشن ٹریس کرکے دو! تسمیر ڈھارا

یہ کس کا نمبر ہے بھائی؟ روحان جو کب سے خاموش تھا اب ہمت کرکے پوچھ بیٹھا جب تسمیر کو.کچھ گھٹنوں پہلے کا واقعہ یاد آیا

تو تمہارا فیصلہ آخری ہے وکیل؟ وہ اسکے سامنے کھڑا سخت تیور سے بولا

جی بلکل میر صاحب! چہرے پر گہری مسکراہٹ سجاۓ کہتا وہ مقابل کو تپا گیا

چلیں سر؟ اپنے پیچھے سے آتی آواز سے وہ اسکی طرف متواجہ ہوۓ اور سامنے والے کو دیکھتے ہی

میر شاہ نیازی کا خون خولہ تھا

پھر اندر ملتے ہیں آپ سے میر صاحب انکے کندھے کو تھپتپھتا اندر بڑھ گیا

آج کیس کی پہلی ہۂیرینگ تھی میر شاہ کے خلاف کھڑے ہوکر نہیں بلکہ حق کا ساتھ دے کر اسے ایک الگ ہی سکون مل رہا تھا

سارے ثبوت ویسے ہی شاہزیب میر کے خلاف تھے جن پر

سونے پر سہاگا وہ میر شاہ نیازی کی اپنے کیبن والی

دھمکی کی کیمرہ ریکورڈنگ بھی جج کو پیش کر چکا تھا

جس سے اسکا فیصلہ آج ہی ہوکر اسے دس سال کی قید سنائی گئی تھی

میں تجھے چھوڑوں گا نہیں میر شاہ اسکے کلڑ پکڑتا ٹوٹے سے لہجے میں بولا اسکی اپنی بیوقوفی پر وہ اپنے بیٹے کو سزہ دلوا چکا تھا

تمہیں تو شکر گزار ہونا چاہیے نیازی ورنہ جو کام تمہارے

بیٹے نے کیا ہے نا اس میں لوگ قتل کے بدلے پھانسی یا

عمر قید مانگتے ہیں وہ تو پھر دس سال کی قید میں گیا ہے تسمیر اسکے ہاتھ درستگی سے جھٹکتا عام سے انداز میں کہنے لگا

یہ تجھے بہت مہنگا پڑھے گا وکیل بہت مہنگا غصے سے چلاتا وہ اس وقت سب کو پاگل ہی لگا تھا کے تسمیر بھی اسکی بات ہوا میں اڑا گیا

*******************

.جھٹکے سے گاڑی رکی تھی اور وہ ہوش میں آیا

بھائی دھیان سے! روحان اسکے اچانک بریک مارتا دیکھ گھبرا گیا

اس وقت وہ خان میشن کے سامنے تھے تیز تیز قدم بڑھاتا وہ اپنے روم کہ طرف بڑھتا کے علی صاحب نے اسکا راستہ روکا

کُبرا کہاں ہے؟

پتا نہیں! لیکن جلد پتا لگ جاۓ گا ہٹیے مجھے جلدی ہے ان سے نظریں چڑاتا وہ اوپر کی طرف بڑھا

کچھ دیر میں کچھ گنز اور ایک شال لیے نیچھے آیا جہاں سب اسی کے لیے منظر تھے

منع کیا تھا میں نے تمہیں اس فیلڈ میں آنے سے مجھے ہماری بچی صیح سلامت چاہیے سمجھے تم؟ آغا جان چلاۓ

اور یہ سب کیا لے کر جا رہے ہو تم؟ کسی کو کچھ نہیں کرو گے

جان سے ماروں گا! علی ابھی بول ہی رہے تھے جب وہ بات بیچ میں اچکتا تیزی سے باہر کی طرف لپکا

جبکہ اسکی سرخ آنکھوں سے سلمہ اور رخسانہ سہم.کر.رہے گئی تھیں

جہانگیر روحان ساتھ جاؤ اسکے! علی صاحب دل تھام کر بولے

کال کرو خرم کو پوچھوں اس سے کے نمبر ٹریس ہوا؟ دونوں انگلیاں کنپٹی پر مارتا وہ اب ہارے سے لہجے میں کہتا گاڑی تیزی سے سڑک پر بھاگا رہا تھا

سر یہ ریحان کا نمبر ٹریس ہوا ہے ایک گھٹنے پہلے وہ علاقے سے باہر کاغان میں پایا گیا ہے پولیس بھی نکل چکی ہے آپ پلزز اسپیڈ آستہ کر لیں لڑکا سہم.کر کہنے لگا

واٹ؟ بھائی کاغان تو ایک گھٹنے کے فاصلے پر ہے

ٹائم بڑھتا جبکہ تسمیر خان کا دل ڈوبتا جا رہا تھا

****************

آنکھوں پر پڑتی چبتی روشنی سے وہ با مشکل آنکھ پائی تھی

صبح کا منظر آنے پر حواس بختہ سی اس خالی کمرے کو دیکھنے لگی

کککوئی ہے؟ مجھے یہاں کیوں لاۓ ہو یہاں؟ ڈرتے ڈرتے وہ.چلائی

جب دروازہ جھٹکے سے کھلا اور وہ اندر داخل ہوا

اسکی غلیظ نظروں سے خوفذدہ ہوتی وہ ایک کونے میں ہوئی

آہ یہ تو سچ میں حسن کی مورتی ہے وہ اپنے ساتھ کھڑت شخص کو دیکھتا قہقہ لگا گیا

ککون ہو تتمم لوگگ؟ مجھے یہہاں کیوں لاۓ میرے شوہر

کو پتا لگے گا تو وہ تمہیں چھوڑے گے نہیں کُبرا ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہتی اسے تیش دلا گئی

آۓ ڈرتا نہیں ہوں میں تیرے شوہر سے اور میرا حشر تو وہ جب بگاڑے گا نا جب اسے پتا لے گا تو کہاں ہے

اسکی بات سے وہ اس نقاب پوش شخص کو دیکھنے لگی جس کی آنکھوں میں حوس صاف جہلک رہا تھا

سوچ ہے تمہاری تسمیر خان بس یہاں آتا ہی ہوگا اور پھر تم لوگوں کو ابھی وہ بول رہی تھی کے سامنے کھڑے شخص کا ہاتھ اٹھا

ایک لفظ اور نہیں بہت غرور ہے نا تیرے شوہر کو اپنی

پوسٹ پر بہت کچھ سمجھتا ہے وہ اپنے آپ کو آج اسکی ساری ھیکڑی نکال دوں گا میں وہ اسکا منہ بھینجے

وہ سخت تاثر لیے کہتا اسکی جان ہوا کر گیا تھا اسکے

تھپڑ سے ہونٹ سے نکلنے والے خون پر وہ بے صد سی اسے دیکھنے لگی

دوسری طرف وہ ٹرین کی سی رفتار سے گاڑی چلاتا خود پر ضبط کیے ہوۓ گاڑی اس خطر ناک راستے پر بھی ایک سو بیس کی اسپیڈ پر چلاتا اب کاغان پہنچا….

”تسمیر پولیس کا کام انہیں کرنے دینا قانون کو ہاتھ میں

مت لینا“ جون جو دوسری گاڑی میں ہونے کے باواجود اسکے ساتھ ہی فل اسپیڈ پر تھا

لیکن اسکی سن کون رہا تھا گاڑی دے اتڑ کر وہ بھاگنے کے انداز سے اس ہوٹل کے اندر گھوسا پولیس بھی انکے پیچھے اندر داخل ہوئی

ہوٹل کو سیل کرکے وہ اب ہر ایک روم میں اسے تلاش کر.رہا تھا اس وقت بکھرے بالوں والے اس ٹوٹے ہوۓ

شخص کو دیکھ کر کوئی یہ یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ یہ وہی تسمیر تھا

روم نمبر 22 جون اسے بتانے لگا پر وہ اس سے روم کی چابی لیے تیزی سے اندر کی طرف بڑھا

وہ جو مزے سے بیڈ پر لیٹا تھا اسے اپنے آئین سامنے دیکھ کر سٹپٹایا

کمینے انسان تسمیر اسے گردن سے دبوچ کر دو تین مکے جڑ چکا تھا

سر آپ چھوڑ دیں ہم دیکھ لیں گے اسے خرم اسکے ہاتھ تھامے بولا

میری بیوی کہاں ہے؟ بتا؟ سرخ آنکھوں سے جبڑے بھینج کر کہتا وہ وہاں موجود ہر شخص کو خوفذدہ کر رہا تھا

ممجھھے نہیں پتتتا ریحان خوفذدہ سا اس اسچویشن کو سمجھنے لگا اسکا پلان اس طرح چوپٹ ہوگا یہ تو اسنے سوچا ہی نہیں تھا

ٹھیک ہے ہم پھر اپنے طریقے سے پتا کرتے ہیں خرم کہتے ساتھ ہی اسکے سر پر بندوق تان گیا

بتا رہے ہو یا چلاؤں؟ خرم چلایا

مجھے نہیں پتا!

اوکے پھر مروں گن لوڈ کرکے خرم سے پہلے ہی تسمیر اوپر کی طرف فائر کر گیا

بتاتا ہوں بتاتا ہوں فورن سے پہلے وہ سیدھا ہوا

بھونک! تسمیر ڈھارا

وہ وہ مییر شاہ کے فام ہاؤس پر ہے! ریحان کے کہتے ہی تسمیر سر تھام گیا دماغ کی نسیں اب پھٹنے کو تھیں

کہاں ہے اسکا فام ہاؤس؟

*****************

ہمت کیسے ہوئی تیری؟ وہ جو اسکے قریب ہوا کُبرا کے اچانک تھوکنے پر وہ آگ بغولہ ہوا کے اسکی ڈھار سے کُبرا مزید جوفذدہ سی ہوئی

بہت ہمت ہے تجھ میں ہاں ابھی بتاتا ہوں غصے سے ہانپتا وہ اسکا ہاتھ اپنے پیروں کے نیچھے کچل گیا کُبرا کو اپنی ہڈی ٹوٹتی محسوس ہوئی

اب بتاتا ہوں تجھے میر نیازی سے پنگہ لینا کیسے ہوتا ہے تیش سے کہتا وہ چاقو نکالے اسکی گردن پر ایک گہرا سا کٹ لگا گیا کے اس اچانک حملے پر کُبرا کی دلخراش چیخ گونجی

ہٹو آگے سے ٹریفک میں پھنسا وہ جنونی سا دل پر ہاتھ رکھے چلایا اسے لگ رہا تھا اگر وہ ابھی اس تک نا پہنچا تو اسے ہمیشہ کے لیے کھو دے گا یا شاید وہ کھو چکا تھا

ہاں کہاں ہے تیرا شوہر؟ اسکے بالوں کو مضبوطی سے

تھامے وہ خباست سے قہقہ لگاۓ بولا جبکہ وہ اب بے سد سی اس سے خود کو چھڑوانے کی سعی میں تھی

یا اللہ مدد! اسکا زہریلہ.لمس محسوس کرتے ہی ایک آہ تھی جو اس وقت کُبرا کے منہ سے نکلی تھی

سسر کچھ لمحوں بعد ہی دروازہ کھولے ایک لڑکا تیزی سے اسکی طرف آیا

ہمم! وہ نشے میں دھت چہرہ اٹھا گیا

سر وہ پولیس باہر پولیس آگئی ہے لڑکا چلایا جس پر وہ جھٹکے سے اٹھا اپنا پلان ناکام ہوتے دیکھ وہ دانت پیس گیا

کے کُبرا اسکی بات سے غنودگی میں سکون کا سانس بڑھ گئی

نکلنے کی تیاری کرو چلو تیزی سے کہتا وہ باہر کی طرف بھاگا

سر یہی ہے! تسمیر جو ٹریفک کے باعث پولیس سے لیٹ پہنچا تھا انکی بات سن کر پر سکون ہوا

میں جاؤں گا پہلے ڈھرکتے دل سے کہا تھا

سر اس میں خطرہ!

آئی سیڈ میں جاؤں گا کندھے پر شال ڈالے وہ گن لیے اندر آیا

اسکے منع کرنے کے باواجود پولیس اسکے پیچھے ہی آئی تھی

سر وہ بھاگ رہا ہے جون چھت پر سے بھاگتے میر کو دیکھ کر خرم سے مخاطب ہوا

موؤ جانے نا پاۓ خرم سب ہلکاروں کو آڈدر دینے لگا جو اسکا آڈدر سنتے ہی سیدھا چھٹ کی طرف بڑھے

جبکہ ان سب سے بے نیاز تسمیر میر شاہ کو چھت پر سے بھاگتا دیکھ اوپر والے پورشن کی طرف بڑھا

ہر کمرہ تلاش کرکے وہ نیچھے کا رخ کرتا جب نظر ایک سائد پر بنے پرانے سے کمرے پر گئی

غیر ارادی توڑ پر وہ اس طرف آیا اور آگے کا منظر تسمیر خان کی سانس روکنے کو کافی تھا

وہ ایک کونے میں ڈوپٹے سے بے بناز پڑی تھی

بھاری بھاری قدم اٹھاۓ وہ اسکے قریب گیا

یہ پہلی بار تھا جب وہ خود کو بے بس محسوس کر رہا تھا لہرزتے وجود سے نیچھے بیٹھتا وہ اس بے سد پڑی لڑکی کو خود میں بھینج گیا تھا

کُبرا؟ اسکے کان کے قریب سرگوشی کی تھی لیکن آج نا تو وہ جواب دے رہی تھی بلکہ آنکھیں بند کیے پڑی اسکی جان نکال رہی تھی

اسکی گردن سے بہتا خون دیکھ کر ایک آنسو تھا جو آنکھوں کی باڑ سے آزاد ہوا تھا

( تمہیں میری وجہ سے کوئی آنچ آۓ یہ میں آفوڈ نہیں کر سکتا میں نہیں جانتا تم میرے ساتھ کب تک ہو لیکن یقین کرو جب تک تم میرے ساتھ ہو کوئی دوسرا تمہیں کبھی میری وجہ سے نقصان نہیں پہنچا سکتا اسئلے ڈرنا مت)

اپنے کہے گئے الفاظ یاد آتے ہی وہ ضبط کھو چکا تھا ہاں وہ رو رہا تھا تسمیر خان اس لڑکی کے لیے رو رہا تھا جو شاید اب اسے خود سے بھی زیادہ پیاری تھی

اسے خود میں بھینجے اسکا ڈوپٹا اٹھاۓ اسکے سر پر رکھتا وہ اپنی اوڑھی کالی شال اس پر ایسے لپیٹ گیا

جس سے وہ بلکل اس میں سمٹ گئی تھی

سر میر شاہ پکڑا گیا ہے خرم دروازے کے باہر کھڑا بولا

جس پر وہ سر ہلا کر سبز آنکھوں سے آنسو صاف کرتا اسے اپنے بازوں میں بھرے باہر کی طرف بڑھ گیا