Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Na Hona Mujhse Juda Episode 8

Na Hona Mujhse Juda by Misbah Khalid

شیدہ کمرے کے دروازے کے باہر کھڑا ساری کفتگو سے لطف اندوز ہورہا تھا

پلیز مجھے معاف کردو مجھے جانے دو میں پریگنینڈ ہوں مجھ پر نہیں تو میرے بچے پر ترس کھاٶ

ہاں وہ امید سے تھی جس دن غازیان جیل گیا اسی دن اسے معلوم ہوا تھا اس کو اپنی طبیعت کچھ ناساز لگی تو وہ قریب کی کلینیک چلی گٸ وہاں ڈاکٹر نے اسے یہ خوشخبری سناٸی وہ یہ خوشخبری سب سے پہلے غازیان کو سنانا چاہتی تھی اس لیے سب کو اب تک لاعلم رکھا تھا

ارے واہ غازیان کا ڈبل نقصان کرنے میں تو اور بھی مزہ آۓ گا

حالد اس وقت کوٸی شیطان ہی معلوم ہو رہا تھا وہ ہر لحاظ بالاۓ طاق رکھ کر اس پر جھپٹا تھا

چھوٹے صاحب چھوڑ دو اس بے قصور کو یہ حاملہ ہے بخش دو اس کو

شیدہ فوراً اندر آیا تھا

شیطان بنے حالد کو روکنے کی کوشش کی تھی

ابے چل نکل یہاں سے آج اس کے اور میرے درمیان کوٸی نہیں آسکتا

وہ شیدے کو باہر دھکیلنے لگا تھا

چھوٹے صاحب اتنے ہی گناہ کرو جتنی جہنم کی آگ برداشت کر سکو ڈرو اس خدا سے میں اندھا ہوگیا تھا ہوس میں لیکن میری آنکھیں کھل گٸیں ہیں چھوڑ دو اس کو اس کے وجود میں ننھی جان پل رہی ہے

شیدے کی التجاٶ کا اس شیطان پر کوٸی اثر نہ ہوا وہ اس کو کمرے سے باہر نکال کر دروازہ بند کرچکا تھا

یہ کیا ہو رہا ہے مجھے میرا دل اتنا کیوں گھبرا رہا ہے میری فاری ٹھیک تو ہے کیا کروں میں

”اے اوپر والے میری جانِ عزیز محبوب بیوی کی حفاظت کرنا اسے کچھ نہ ہو بس “

غازیان کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا تھا پسینے سے شرابور وہ اپنی حالت خود سمجھنے سے قاصر تھا

تم کیوں کررہے ہو یہ سب کیا بگاڑہ ہے میرے غازیان نے تمھارا

فارینہ حالد کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ چیخی تھی

ہممم چلو تم بھی کیا یاد کرو گی بتا دیتا ہوں

یہ کالج کے دنوں کی بات ہے میری ملاقات اس سے کالج میں ہوٸی تھی ہم دونوں ایف ایس سی کررہے تھے

میں نے اس سے زبردستی دوستی کی کیونکہ وہ امیر تھا میرے دھندے میں بہت کام آسکتا تھا

وہ مجھ سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا خاموش خاموش رہتا تھا

لیکن ایک دن وہ غصے میں میرے پاس آیا اس کا ایک رخسار بھی سرخ تھا

میں نے بہت پوچھا کیا ہوا لیکن کچھ نہیں بولا بس اپنا سر پکڑ کر بیٹھا رہا

میں نے اسے ایک سیگریٹ دی جو کوٸی عام سیگریٹ نہیں تھی اس میں ڈرگس تھی

وہ بھی کسی طرح اپنا غصہ کم کرنا چاہتا تھا اس لیے مجھ سے سیگریٹ لے کر کر کش پر کش لگانے لگا اس کو وہ عجیب لگی پھر بھی پیتا رہا

جب وہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے مجھ سے پوچھا

کیا ہے یہ عام سیگریٹ تو نہیں

اس کا سر چکرا رہا تھا

یہ ایسا نشہ ہے جو بھی اس کو پیتا ہے وہ اپنا دکھ درد سب بھول جاتا ہے

کیا مطلب میں سمجھا نہیں

ارے یہ دیکھ اس سیگریٹ میں یہ تھا

حالد نے جیب سے ایک سفید پڑیا نکالی

یہ کیا ہے ؟

”ڈرگس “

وہاٹ” ڈرگس “

غازیان اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا

ارے ہاں یار توں یہاں بیٹھ دیکھ مجھے نہ ایک پارٹنر کی ضرورت ہے میں اپنے اس ڈرگس کے دھندے کو بڑھانا چاہتا ہوں توں میرا پارٹنر بن جا ہم خوب پیسہ کماٸیں گے اور عیش کرے گے

حالد نے دوبارہ غازیان کو اپنے پاس بیٹھا کر سمجھانا چاہا

میں اس حرام کام میں تیرا کبھی ساتھ نہیں دوں گا تیرے لیے بھی بہتر یہی ہے یہ کام چھوڑ دے اور تجھے پیسوں کی اتنی حوس کیوں ہے تیرا باپ تو خود پولیٹشن ہے بےشمار دولت ہے تیرے پاس پھر بھی تو غلط راہ پر چل نکلا

ہاں میرے باپ کے پاس دولت ہے مگر مجھے اپنی ہر خواہش پوری کرنے کے لیے ان کے آگے ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں پیسے کہاں خرچ کیے کس پر خرچ کیے ہر چیز کا حساب دینا پڑھتا ہے

مجھ سے نہیں ہوتا یہ سب اس لیے میں نے اپنا کام شروع کیا توں بھی آجا میرے ساتھ خوب عیش کرےگے

حالد نے ایک اور کوشش کی غازیان کو اپنے ساتھ ملانے کی

نہیں کبھی نہیں تمھارے اس گھٹیا کام میں تمھارا ساتھ میں کبھی نہیں دوں گا

غازیان اپنا فیصلہ سناتا وہاں سے نکل گیا

اس دن کے بعد بھی غازیان نے حالد کو سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن اس نے وہ کام نہ چھوڑا

ایک دن غازیان کالج کی لاٸبریری میں بیٹھا نوٹس بنا رہا تھا اسے کافی دیر ہوگٸ

وہ ابھی لاٸبریری سے نکلا ہی تھا اسے کچھ آوازیں سناٸی دیں

وہ متجسس ہوا

آواز کی سمت میں چلتے ہوۓ اس کو ایک کلاس نظر آٸی

آوازیں اب صاف سناٸی دیں رہیں تھیں کوٸی لڑکی کسی سے منتیں کررہی تھی کچھ مانگ رہی تھی لیکن وہ لڑکا مسلسل انکار کررہا تھا

غازیان تھوڑا آگے بڑھا ہلکا دروازہ کھول کے اندر دیکھا

حیرت کی زیادتی سے اس کی آنکھیں پھٹنے کو تھیں

وہاں کا منظر کچھ یوں تھا

نوجوان لڑکے لڑکیاں وہ زہر (ڈرگز) سیگریٹ میں بھر بھر کے ناک کے ذریعے اپنے اندر انڈیل رہے تھے

وہ نشے میں دھت آڑے تیرچھے پڑے تھے

انھیں کے درمان حالد بیٹھا تھا

ایک نوجوان لڑکی اس کے سامنے بیٹھی تھی اس کی عمر تقریباً انیس سال ہوگی

وہ کبھی اپنے بال نوچتے تو کبھی گردن مسلتی

کبھی اپنے ہاتھ پر خارش کرتی

پلیز دے دو میں تمھیں پیسے کل دے دوں گی ابھی نہیں ہے میرے پاس میرے گھر والوں نے مجھے خرچا دینا بند کردیا ہے

وہ سمجھتے ہیں ایسا کرکے میری نشے کی لت چھوڑوا دیں گے لیکن وہ غلط ہیں

اس کے استعمال سے مجھے سکون ملتا ہے اور وہ میرا سکون غارت نہیں کرسکتے پلیز تھوڑا سا دےدو

دیکھو تم پہلے بھی ادھار لے چکی ہو وہ پیسے بھی تم نے مجھے ابھی تک نہیں دیے اب میں تمھیں اور نہیں دے سکتا

حالد نے سفاکی سے کہا

میں کہاں سے لاٶں پیسے پلیز دے دو تھوڑا سا

لڑکی نے التجا کی

مجھے نہیں پتا جاٶ بھیک مانگو جو بھی کرو پیسے لاٶ مفت میں تو تمھیں کچھ نہیں ملنے والا

حالد کے جواب پر وہ لڑکی منہ لٹکاۓ اٹھ کھڑی ہوٸی

غازیان اس لڑکی کو آتا دیکھ جلدی سے وہاں سے نکل گیا

اس نے اپنے ذہین دماغ کا استعمال کرتے ہوۓ

وہاں کی ویڈیو بنا لی تھی

تاکہ حالد کو اس ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کرکے اسے یہ کام چھوڑنے پر امادہ کرسکے لیکن یہ شاید ناممکن تھا وہ اس گھٹیا فعل میں بہت آگے نکل گیا تھا

غازیان وہاں سے نکل کر پارکینگ میں آکھڑا ہوا حالد کو کال کرکے وہاں آنے کو کہا

حالد بھی اپنے مفاد کے خاطر غازیان سے ملنے آگیا

ہاں غازیان بول کیوں بلایا مجھے

حالد نے آتے ہی استفسار کیا

یار حالد دیکھ یہ زہر فروخت کرنا چھوڑ دیں نوجوان لڑکے لڑکیوں کی زندگیاں برباد کررہا ہے یہ زہر تجھے پیسے کمانے ہیں ہم کوٸی اور راستہ نکالتے ہیں دونوں مل کر کوٸی اچھا کاروبار شروع کرے گے بس توں یہ سب چھوڑ دے میرے بھاٸی

غازیان نے تحمل سے حالد کو سمجھانے کی کوشش کی

کیا یار غازیان میرا وقت برباد کیا توں نے مجھے تو لگا توں میرا ساتھ دے گا توں تو درس دینے لگا مجھے نہیں سنی تیری کوٸی بات

وہ خفا ہوتا جانے کو پلٹا تھا

غازیان نے اس کا بازوں پکڑ کے کھینچا

اور اس کو وہ ویڈیو دیکھانے لگا

یہ ویڈیو ڈیلٹ کر غازیان

حالد گھبرایا

پہلے تو وعدہ کر یہ زہر اب فروخت نہیں کرے گا

ہاہاہاہا توں کیا سمجھا میں ڈر گیا میں حالد رضوی ہوں کوٸی میرا بال بھی بینکا نہیں کرسکتا کیا توں جانتا نہیں میں کس کا بیٹا ہوں خالق رضوی کا میرے ڈیڈ سیاست میں ہیں جو کرسکتا ہے کرلے توں میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا

حالد مغرورانہ انداز میں بولا

توں اندھا ہوچکا ہے حالد تیری آنکھوں پر پیسوں کی پٹی بندھ گٸ تجھے کہاں حلال حرام سمجھ آۓ گا

غازیان نے افسوس کیا

ہاں ٹھیک ہے یار چلتا ہوں تیرا لیکچر سننے کا موڈ نہیں میرا

حالد اپنی سنا کر چل دیا

غازیان نفی میں سرہلاتا اپنی باٸیک پر سوار ہوکر نکل گیا

ابھی وہ کالج سے کچھ دور ہی پہنچا تھا کہ اسے ایک جگہ لوگوں کا ہجوم نظر آیا وہ باٸیک ساٸیڈ پر کھڑی کرکے لوگوں کے ہجوم کو چیرتا ہوا آگے نکلا

وہاں کا منظر دیکھ کر غازیان کو بہت تکلیف ہوٸی

دل چاہا حالد کو زندہ دفن کردے

یہاں ایک لڑکی خون میں لت پت اپنی زندگی کی بازی ہار بیٹھی تھی

یہ لڑکی وہ ہی تھی جو حالد سے وہ ڈرگس مانگ رہی تھی

لوگوں سے معلوم ہوا

وہ لڑکی روڈ کے بیچ و بیچ چل رہی تھی دیکھنے سے کوٸی پاگل معلوم ہورہی تھی لوگوں نے بہت کوشش کی کہ وہ سڑک کے کنارے پر آجاۓ مگر اس نے کسی کی نہ سنی اور اسی اثنا میں ایک ٹرک والا اسے مار گیا

غازیان کو اس لڑکی کا بہت دکھ ہوا تھا وہ انیس یا بیس کی تھی اور نشے کی لت نے اس سے اس کی زندگی چھین لی تھی

غازیان نے فیصلہ کرلیا تھا اسے کیا کرنا ہے

اس نے وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر واٸرل کردی لڑکی کا چہرا چھپا دیا تھا

ویڈیو کے واٸرل ہوتے ہی پولیس کو ناچاہتے ہوۓ بھی حالد کو گرفتار کرنا پڑا

اور پھر عدالت میں کیس چلا

غازیان نے بھی گواہی دی اور اس لڑکی کی موت کا بھی سب کو بتایا

حالد کو سزا ہوگٸ تھی

خالق رضوی کچھ نہیں کرسکے اپنے بیٹے کے لیے کیونکہ حالد مجرم ثابت ہوچکا تھا جس کا ثبوت پوری دنیا نے دیکھا تھا

ان دونوں باپ بیٹو نے غازیان سے بدلہ لینے کا تہیہ کرلیا تھا

ان سب کا فاتح صاحب کو کوٸی علم نہیں تھا وہ ان دنوں ملک سے باہر تھے اور غازیان ویسے بھی اپنے معاملے خود تک محدود رکھتا تھا

تمھیں ذرا بھی شرمندگی نہیں تمھاری وجہ سے ایک جوان لڑکی کی جان چلی گٸ

فارینہ نے حالد کو شرمندہ کرنے کی کوشش کی تھی

نو بے بی وہ اپنی موت مری تھی کونسا میں نے اپنے ہاتھوں سے اس کو ٹرک کے سامنے دھکا دیا تھا

اب مجھے یہ بکواس نہیں سننی چپ چاپ میری بانہوں میں سماجاٶ

حالد نے اپنے دونوں بانہیں پہلا کر فارینہ کو ان میں سمانے کا اشارہ کیا

بے غیرت زلیل انسان گھن آرہی ہے مجھے تم سے تھو

فارینہ نے باقاٸدہ حالد کے مقروہ چہرے پر تھوکا تھا

اب بج کے دیکھا توں مجھ سے وہ حالت کروں گا تیری دن رات اپنے زندہ ہونے پر افسوس کرے گی توں

حالد بھپرا ہوا فارینہ پر جھپٹا تھا ایک ہی جھٹکے میں اس کا دوپٹہ اس کے تن سے جدا کیا تھا

غازیاااان غازیاااااااااان آجاٶ پلیز

فارینہ روتے روتے چیخی تھی

حالد نے دھکا دے کر اسے بیڈ پر گرایا تھا ابھی وہ اس پر جھکتا کہ دھماکے سے دروازہ کھولا

خالق رضوی صاحب انتہاٸی طیش میں حالد کی طرف بڑھے اور اسے دو تھپڑ لگاۓ

تمھیں میں نے منا کیا تھا نہ لڑکی کو ہاتھ مت لگانا ہماری دشمنی اس کے شوہر سے ہے ہم صرف اس سے بدلہ لے گے پھر کیوں تم نے اس کو اغوا کروایا

حالد سرخ چہرا لیے خالق صاحب کو گھور رہا تھا

ڈیڈ یہ ہمارے دشمن کی بیوی ہے اس غازیان کی محبوبہ اس کو تکلیف ہوگی تو اس سے زیادہ غازیان تڑپے گا تو ہمیں غازیان کے بجاۓ اس سے بدلہ لینا چاہیے نہ

حالد نے فارینہ کے سراپے پر نظر ڈالتے ہوۓ کہا

فارینہ سکڑی سیمٹی دیوار کے چپکی کھڑی تھی زمین پر پڑا دوپٹہ بھی وہ اٹھا کر اپنے اوپر لپیٹ چکی تھی