Na Hona Mujhse Juda by Misbah Khalid NovelR40489 Na Hona Mujhse Juda Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Na Hona Mujhse Juda Episode 4
Na Hona Mujhse Juda by Misbah Khalid
غازیان کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی جو فارینہ کو زہر کے مترادف لگی
وہ غصے سے منہ موڑ گٸ
اگلے ہی پل اس کا جبڑا غازیان کے ہاتھ میں تھا
میرا چہرا پسند نہیں تمھیں ہاں یہ چہرا تمھیں زندگی بھر دیکھنا ہے بہتر یہ ہی ہے تمھارے لیے عادت ڈال لو اس چہرے کی چلو اب
وہ ایک جھٹکے سے اس کا منہ چھوڑتا آگے بڑھ گیا تھا غصے میں وہ آپ سے تم تک کا سفر طے کرگیا تھا فارینہ آنکھوں میں آٸی نمی صاف کرتی اس کے پیچھے چل دی تھی
بچوں تم اٹھ گۓ میں آنے والی تھی تم دونوں کو اٹھانے امی کا فون آیا تھا وہ لوگ ناشتہ لے کر کچھ دیر میں پہنچ جاٸیں گے
فروزہ بیگم ان دونوں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہوۓ بولیں تھیں
موم آپ منا کردیں نانی لوگوں کو ناشتہ لے کر نہ آٸیں وہ کیونکہ ہم دونوں باہر جارہے ہیں ناشتہ کرنے
وہ فارینہ کا ہاتھ تھامتا نرمی سے گویا ہوا
بیٹا یہ تو رسم ہوتی ہے نہ ناشتہ دلہن کے گھر سے ہی آتا ہے اسی بہانے دلہن مل بھی لیتی ہے اپنے گھر والوں سے
فروزہہ بیگم نے اپنے اکھڑ مزاج بیٹے کو نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی
او گاڈ موم میں نہیں مانتا ان فضول رسموں کو اور جہاں تک گھر والوں سے ملنے کی بات ہے تو پھر کسی اور دن مل لیں گیں یہ ویسے بھی اتنے سالوں سے اپنے گھر والوں کے ساتھ رہ رہیں تھیں لیکن اب ان کی زندگی میں میں ہوں تو ان کو مجھ پر توجہ دینی چاہٸیے
غازیان بے زاری سے کہتا فارینہ کو لے کر راہ داری کی طرف بڑھ گیا
فارینہ اپنی نم آنکھوں میں ڈھیروں شکوہ شکایت لیے فروزہ بیگم کو دیکھتی غازیان کے ہمراہ گھسیٹتی چلی گٸ
کیا کروں میں اس لڑکے کا ہر بات میں اس کو اپنی چلانی ہوتی ہے ابھی تو فاتح کو بھی اس کی شادی کا علم نہیں وہ پہاڑ بھی مجھے سر کرنا ہے اس لڑکے کی ضد پر میں نے شادی تو کروا دی نہ جانے فاتح کا کیا ردِ عمل ہوگا
فروزہ بیگم بڑبڑاتی اپنے کمرے میں چلیں گٸیں تاکہ کال کرکے گھر والوں کو آنے کا منا کرسکیں
یہ کس بات کا سوگ منایا جارہا ہے
فارینہ کو گاڑی میں بیٹھ کر روتا دیکھ غازیان سخت لہجے میں گویا ہوا
مجھے نہیں جانا تمھارے ساتھ مجھے اپنے گھر والوں کے پاس جانا ہے
فارینہ روتی روتی بولی تھی
اوہ سوری سویٹ ہارٹ تمھارے رونے کی وجہ یہ ہے تو بےشک روتی رہو مجھے فرق نہیں پڑھتا
غازیان لاپرواٸی سے کہتا گاڑی اسٹارٹ کرکے سڑک پر ڈال چکا تھا
فارینہ اپنے آنسوں پونچتی منہ کے زاویے بگاڑتی خاموشی سے بیٹھ گٸ تھی
یہ کیا کہہ رہی ہو تم یہ رسم ہوتی ہے تمھارا سرپھرا بیٹا خود کو سمجھتا کیا ہے جو نٸ نویلی دلہن کو یوں منہ اٹھاۓ سیر سپاٹوں پر لے کر نکل گیا
فروزہ بیگم کی والدہ بھڑک اٹھیں تھیں
امی میں نے بہت سمجھایا لیکن اس نے میری ایک نہ سنی فارینہ کو لے کر گھر سے باہر نکل گیا
آۓ دفع کر یہ بتا میری بچی کیسی ہے خوش تو ہے نہ
قدسیہ بیگم بیٹی کے نام پر سب بھولاۓ اس کے بارے میں معلوم کرنے لگیں
ماں کے سوال پر فروزہ بیگم کی نظروں کے سامنے فارینہ کی نم آنکھیں آگٸیں
فروزہ بتا بیٹا میری بچی خوش تو ہے نہ
فاٸزہ بیگم کو خاموش پاکر وہ دوبارہ گویا ہوٸیں
جی جی اماں ماشاءاللہ بہت خوش ہے
فروزہ بیگم ہوش میں آتیں ماں کی خوشی کے خاطر جھوٹ بول گٸٸیں تھیں
بس میری بچی خوش رہ کوٸی دکھ آزماٸش اس کو چھو کر نہ گزرے
قدسیہ بیگم خوش ہوتی اپنی بچی کے لیے دعا دینے لگی تھیں
جھٹکے سے گاڑی روکی تھی فارینہ نے اپنی بند آنکھیں وا کیں تھیں سامنے کا خوبصورت منظر دیکھ کر فارینہ کا اداس دل خوش ہوا تھا اس کے مرجھاۓ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آٸی تھی آنکھیں چمک اٹھیں تھیں
اس کے برابر میں بیٹھا غازیان بھی اس کو خوش ہوتا دیکھ مدھم سا مسکایا تھا
سمندر کی لہروں کا شور صبح کے اس خاموش ماحول میں ایک مدھر سی دھن کا کام کررہا تھا سمندر کے اردگرد دور تک پھیلی ریت ہوا اپنی بانہوں میں اٹھاۓ سب جگہ نچھاور کررہی تھی فارینہ اس خوبصورت ماحول میں کھو ہی گٸ تھی
کتنا خوبصورت منظر ہے نہ
غازیان کی آواز پر فارینہ ہوش میں آٸی تھی اور اپنے چہرے پر دوبارہ اداسی کے تاثرات سجا چکی تھی
اس کو دیکھ کر غازیان کا چہرا بھی اتر گیا تھا
چلو ناشتہ کرتے ہیں غازیان آنکھوں پر چشمہ لگاۓ گاڑی سے اتر گیا تھا
فارینہ بھی اپنی مدد آپ گاڑی سے اتر گٸ تھی
آہ
فارینہ کی ہیل والی سینڈیل ریت میں دھنس گٸ تھی جس سے وہ گرتے گرتے بچی تھی ریت کی وجہ سے بھی زمین پر فارینہ کا چلنا محال ہوگیا تھا
غازیان اسے لڑکھڑاتا دیکھ فوراً اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے سنبھال چکا تھا
دور ہٹو مجھ سے گھٹیا انسان
فارینہ غازیان کو دھکا دیتی چیخی تھی
اپنی زبان قابوں میں رکھو نہیں تو اس کو کاٹ کے پھینکنے میں وقت نہیں لگاٶں گا
غازیان سختی سے کہتا فارینہ کو اپنے ساتھ لیے سامنے بنے اوپن ریسٹورینڈ کی طرف بڑھ گیا تھا
فارینہ اپنے آنسو پیتی اس کے ہمراہ چلدی تھی
صبح کا وقت ہونے کی وجہ سے لوگ نہ ہونے کے برابر تھے وہ بھی فارینہ کو لیے ایک ٹیبل پر جا بیٹھا ویٹر کو آواز لگا کر ناشتے کا آرڈر دیا
اس بیچ فارینہ بے زار سی سب کچھ دیکھتی رہی
ناشتہ منگواتے وقت بھی غازیان نے فارینہ کی مرضی جاننے کی کوشش نہیں کی تھی سب اپنی مرضی سے منگوا لیا تھا
فاری جان اتنی بےزار کیوں نظر آرہی ہو تم مجھے
فارینہ غازیان کے سوال کو نظر انداز کرتی آس پاس دیکھنے لگی
کیا آپ کو عادت ہوگٸ ہے میرے ہاتھوں عزت افزاٸی کروانے کی
غازیان چہرے پر مسکراہٹ سجاتا گویا ہوا
غازیان کی مسکراہٹ فارینہ کو بہت بری لگی وہ نحوست سے منہ موڑ گٸ
ابھی غازیان نے کچھ بولنے کے لیے لب وا کیے ہی تھے کہ ویٹر ناشتہ لے کر آگیا
ہاں تو فاری جان میں کیا کہہ رہا تھا کہ سزا کے لیے تیار ہوجاٸیں
کیا تم تم مجھے یہاں بھی سزا دو گے
فارینہ پوری آنکھیں وا کیے صدمے سے گویا ہوٸی
جی ہاں بلکل سویٹ ہارڈ اور تمھاری سزا یہ ہے تم مجھے اپنے ہاتھوں سے ناشتہ کرواٶ گی اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو میں تمھیں بھی کچھ کھانے نہیں دوں گا
وہ جانتا تھا فارینہ رات کی بھوکی ہے اور وہ بھوک کی کتنی کچی ہے اس سے بہتر کوٸی نہیں جانتا تھا اس لیے اس نے فارینہ کے لیے یہ سزا منتخب کی
فارینہ نے غازیان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوۓ پراٹھے کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن اس کا ہاتھ غازیان پکڑ چکا تھا اور ہاتھ کی پشت پر اپنے لب رکھتا مسکراتا ہوا ہاتھ چھوڑ چکا تھا
فارینہ گھبراتی ہوٸی یہاں وہاں دیکھنے لگی
غازی تم ایسا کیوں کررہےہو سب دیکھ رہے ہیں کیا سوچے گے
فارینہ زچ ہوٸی تھی
کوٸی نہیں دیکھ رہا اب ناشتہ کرواٶ مجھے نہیں تو اب میں تمھاری سانس روکنے کا ارادہ رکھتا ہوں وہ لبوں پر نظریں ڈالتا بولا
فارینہ اس کا اشارہ سمجھ کر خاموشی سے نیولا بنا کر غازیان کی طرف بڑھایا جو وہ مسکراتا ہوا کھا چکا تھا
ہمممم ناشتہ تو بڑا لزیز ہے یا تمھارے ہاتھوں سے کھانے کی وجہ سے زیادہ لزیز ہوگیا ہے
غازیان فارینہ کو زچ کرنا نہیں بھولا تھا
اسی چھیڑ چھاڑ کے درمیان دونوں نے کھانا کھایا اور ریسٹورینڈ سے نکل آۓ
غازیان فارینہ کا ہاتھ تھامتا سمندر کے پاس لے آیا وہ اس کی پشت اپنے سینے لگا کر اپنی بانہوں میں لے چکا تھا
فارینہ نے مزاہمت کی لیکن سمندر کی اوٹ سے سورج طلوع ہوتا دیکھ اس منظر میں کھو گٸ
غازیان بھی اس کے کاندھے پر ٹھوڈی رکھ کر اس منظر کو اپنی آنکھوں میں سماع رہا تھا
فارینہ کی شفاف گردن غازیان کے سامنے تھی تو اس نے بھی موقعے سے فاٸدہ اٹھایا اور اس کی گردن پر لب رکھ دیے
بدتمیزی کی بھی حد ہوتی ہے غازیان فاتح
فارینہ غصے اور حیا کے ملے جلے تاثرات لیے غازیان کو دھکا دیتی چیخی تھی
ڈارلینگ بیوی ہو میری جب چاہوں جو چاہوں کرسکتا ہوں
غازیان ہڈدھرمی سے گویا ہوا
میں تمھیں جان سے مار دوں گی آج
فارینہ دانت پیستی غازیان کی طرف لپکی لیکن وہ پہلے ہی بھاگ چکا تھا
دونوں بچوں کی طرح ساحلِ سمندر پر اپنے قدموں کے نشان بناتے پیار بھری جنگ میں مشغول تھے
دو نفرت سے بھری آنکھوں نے ان دونوں کو خوش دیکھ کر اپنا آپ جھلستا ہوا محسوس کیا تھا
جلد ملیں گے غازیان فاتح بس مزید ایک ماہ اور خوش رہ لو اس کے بعد تمھاری زندگی میں اندھیروں کے سوا کچھ نہیں ہوگا وہ شخص کمینگی سے مسکراتا چہرے پر چشمہ لگاۓ اپنی لینڈ کروزر میں بیٹھ کر جاچکا تھا
اب کہاں لے جارہے ہو مجھے گھر جانا ہے
غازیان فارینہ کو لے کر دوبارہ سفر پر روانہ ہوگیا تھا اور فارینہ گھر جانا چاہتی تھی
اب ہم شوپینگ کرے گیں
نہیں مجھے شوپینگ کی ضرورت نہیں میرے پاس سب کچھ ہے
فارینہ فوراً بولی تھی
ہے لیکن وہ سب تم میکے سے لاٸی ہو سسرال کی طرف سے تو کچھ نہیں ہے اور ہاں میں نے تمھیں رونماٸی کا تحفہ بھی تو نہیں دیا تھا وہ بھی تم اپنی پسند سے لے لینا
غازیان ڈراٸیو کرتا تفصیل بتا رہا تھا
مجھے کچھ نہیں چاییے جہاں تک رونماٸی کے تحفے کی بات ہے تم نے جو کل رات کو کیا میرے ساتھ وہ کسی تحفے سے کم نہیں میرے لیے
فارینہ غصے سے کہتی رخ موڑ گٸ تھی
ویسے میں نے کیا کیا تھا کل رات کو ذرا تفصیل تو بتاٶ
غازیان معنی خیزی سے کہتا فارینہ کی طرف جھکا تھا
فارینہ خونخوار نظروں سے گھورتی رہ گٸ تھی
اس کے بعد غازیان نے فارینہ کی ایک نہ چلنے دی پورے دن اپنی من مرضی کرتا اور جہاں موقع ملتا وہاں فارینہ کے ساتھ چھوٹی موٹی شرارت کردیتا
فارینہ جلتی کڑھتی رہ جاتی
اتریں
وہ جو سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاۓ آنکھیں موندے بیٹھی تھی غازیان کی آواز پر آنکھیں کھول گٸ
آس پاس دیکھا تو معلوم ہوا غازیان اس کو اپنے گھر نہیں بللکہ فارینہ کے گھر لایا ہے
چلو اترو کیا سوچ رہی ہو اب گھر والوں سے نہیں ملنا تو بتا دو مجھے واپس گھر لے چلتا ہوں
غازیان سنجیدگی سے گویا ہوا
نہیں نہیں میں اتر رہی ہوں
فارینہ جلدی سے کار کا دروازہ کھول کر نیچے اتر گٸ
تم گھر میں چلو میں گاڑی پارک کرکے آتا ہوں
غازیان کے حکم پر فارینہ خاموشی سے گھر میں داخل ہوگٸ
یہ تین منزلہ مکان تھا جو بہت خوبصورت بنا ہوا تھا اوپر کی دو منزلوں میں سے ایک میں راحل صاحب اور دوسری میں راشد صاحب رہتے تھے جبکہ سب سے نیچے والے پورشن میں قدسیہ بیگم رہتی تھیں وہ لوگ فاتح صاحب کی طرح بہت امیر تو نہیں تھے لیکن اچھے کھاتے پیتے لوگ تھے
راحل صاحب سب سے بڑے تھے ان کے دو بچے تھے اٹھارہ سالہ انابیہ جو گیارویں جماعت کی طالبہ تھی اور انتہاٸی معصوم اور دبو قسم کی لڑکی تھی ہر وقت اپنی ماں کے آنچل چھپی رہتی تھیں
اکیس سالہ احمر جو یونیورسٹی میں میڈیکل کا طلبہ علم تھا اپنی بہن کے بلکل برعکس نڈر بہادر اور ہر ایک سے کھلنے ملنے والا
راشد صاحب فروزہ بیگم سے چھوٹے تھے ان کی ایک ہی بیٹی وانیہ تھی جس کی عمر انیس سال تھی اور بارھویں جماعت کی طالبعہ تھی وہ چنچل شوخ زندہ دل لڑکی تھی اس کا رشتہ بچپن سے ہی احمر کے ساتھ طے تھا
احمر اور وانیہ بھی ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کرتے تھے دونوں کے مزاج بھی کافی ملتے جھلتے تھے دونوں کی پڑھاٸی مکمل ہونے کے بعد شادی کا فیصلہ کیا گیا تھا
جبکہ شہناز بیگم نے انابیہ کے لیے غازیان کو سوچا ہوا تھا لیکن انھیں اپنی سوچ پر عمل کرنے سے پہلے فاتحہ پڑھنی پڑی کیونکہ غازیان کی شادی فارینہ سے ہوگٸ اور وہ ہاتھ ملتی رہ گٸیں
گھر میں سب سے چھوٹی اور لاڈلی فارینہ تھی راحل صاحب راشد صاحب فروزہ بیگم اس پر جان چھڑکتے تھے اس کی پرورش بھی ان تینوں بہن بھاٸیوں نے ہی کی تھی کیونکہ فارینہ قدسیہ بیگم کی بڑھاپے کی اولاد تھی وہ بیمار رہتی تھیں فارینہ کو سنبھال نہیں پاتی تھی اس لیے وہ اپنے بہن بھاٸیوں کے ہاتھوں میں پلی بڑھی
لیکن فروزہ بیگم کی طلاق اور بانجھ پن کی وجہ سے فارینہ کے رشتے نہیں آتے تھے بہت مشکل سے ایک رشتہ ملا تو وہاں فارینہ کو رسواٸی کا سامنہ کرنا پڑا لیکن غازیان نے فارینہ کو اپنی زندگی میں شامل کرلیا جو اس کی بچپن کی محبت تھی
اماں راشد بھاٸی راحل بھاٸی کہاں ہیں آپ سب لوگ
رات دس بجے کا وقت تھا اس وقت سب لوگ کھانا کھاکر اپنے اپنے کمروں چلے جاتے ہیں اس لیے اس وقت لاٶنج میں کسی کو نہ پاکر فارینہ آوازیں لگانے لگی
کچن میں دودھ گرم کرتیں شہناز بیگم فارینہ کی آواز سن کر جلدی سے باہر نکلی
اَلسَلامُ عَلَيْكُم بھابھی
فارینہ نے مسکراتے ہوۓ سلام کیا
وَعَلَيْكُم السَّلَام واہ بھٸ کیا قسمت پاٸی ویسے تم نے کتنا لمبا ہاتھ مارا ہے اتنا امیر کبیر خوبصورت کم عمر لڑکے نے تم سے شادی کی واہ بھٸ داد دیتی ہوں تم دونوں بہنوں کو بڑی نے باپ کو پھنسایا چھوٹی نے بیٹے کو
شہناز بیگم اپنی زبان کے جوہر دیکھانے سے آج بھی باز نہیں اٸیں تھیں
فارینہ کا چہرا پل میں بھیگ چکا تھا اتنے بڑے الزام پر اس میں کچھ کہنے کی سکت بھی نہیں رہی تھی وہ بس خاموش آنسوں بہارہی تھی
مامی جان کیا میں جان سکتا ہوں کس حق سے اور کیا سوچ کر آپ نے میری بیوی کے خلاف اتنا زہر اگلا ہے اس دن جو ہوا اس سے سارا خاندان واقف ہے پھر آپ کس بنا پر میری ماں اور بیوی پر الزام تراشی کررہی ہیں
غازیان شہناز بیگم کی ساری بات سن چکا تھا
تو اس نے جوابی کارواٸی شروع کردی
غازیان کے جواب پر فارینہ کو تھوڑی ڈھارس ملی وہ خاموشی سے اس کے حصار میں کھڑی تھی
ارے کچھ نہیں بیٹا میں تو مزاق کررہی تھی فارینہ سے
شہناز بیگم گھبراتے ہوۓ گویا ہوٸیں وہ جانتی تھی یہ شخص پل میں عزت دوکوڑی کی کردیتا ہے
مزاق نہیں آپ کی گندھی ذہنیت تھی یہ جو اب کھل کر سامنے آٸی ہے میں پہلی اور آخری بار کہہ رہا ہوں خبردار جو آٸندہ آپ نے میری ماں یا میری بیوی پر بے بنیاد الزام لگاۓ تو ورنہ ایسا دماغ درست کروں گا زندگی بھر کچھ سوچنے قابل نہیں رہے گیں
غازیان شہناز بیگم کو تنبیح کرتا فارینہ کو لے کر قدسیہ بیگم کے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا
اَلسَلامُ عَلَيْكُم نانو کیسی طبیعت ہے آپ کی
غازیان قدسیہ بیگم سے ملتا نرمی سے گویا ہوا قدسیہ بیگم اس کی سوتیلی نانی سہی لیکن انہوں نے ہمیشہ غازیان کو سگا نوازہ ہی سمجھا جبکہ غازیان کے سگے ننھیال والوں نے کبھی خیریت تک نہیں لی اس کی
میرے بچے آگۓ نہ بس اب میں بلکل ٹھیک ہوں
قدسیہ بیگم محبت سے غازیان کا ماتھا چومتی بولیں
امی میں بھی ہوں آپ کو تو اپنے نواسے کے سامنے کوٸی نظر ہی نہیں آتا
فارینہ کے شکوہ کرنے پر قدسیہ بیگم نے اس کی طرف مسکراتے ہوۓ بانہیں پھیلاٸیں تو وہ مسکراتے ہوۓ ان کی بانہوں میں سما گٸ
کیسی ہے میری بچی
میں ٹھیک ہوں امی آپ کیسی ہیں
دونوں ماں بیٹی کی آنکھیں پل بھر کو نم ہوٸیں تھیں
قدسیہ بیگم بیٹی کو دیکھ کر پرسکون ہوگٸیں تھیں
فارینہ ماں کے آغوش سما کر اپنے سارے دکھ فراموش کرگٸ تھی
غازیان بھی مسکراتا ہوا کمرے میں رکھے صوفے براجمان ہوگیا تھا
ایک ایک کرکے تقریباً سب ہی گھر والے قدسیہ بیگم کے کمرے میں آگۓ تھی سب ہی فارینہ کا مسکراتا چہرا دیکھ کر دل سے خوش ہوۓ تھے
وہاں ایک گھنٹہ گزار کر وہ لوگ گھر آگۓ تھے فروزہ بیگم سوچکی تھیں
وہ دونوں بھی خاموشی سے اپنے کمرے میں چلیں گۓ فارینہ اپنے گھر والوں سے مل کر بہت خوش تھی وہ وہاں روکنا چاہتی تھی لیکن غازیان کی گھوری پر شرافت کا مظاہرا کرتی ہوٸی واپس آگٸ
فاری ایک منٹ
غازیان کی آواز پر فارینہ کے ڈریسینگ روم کی طرف جاتے قدم تھمے تھے
