Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Na Hona Mujhse Juda Episode 6

Na Hona Mujhse Juda by Misbah Khalid

فاتح صاحب تقریباً دو ماہ بعد لوٹے تھے ایسا پہلی بار ہوا تھا وہ اتنے دنوں کے لیے گۓ تھے عام طور پر وہ ایک ہفتے یا کچھ دنوں کے لیے جاتے تھے

اس دفع کام زیادہ ہونے کی وجہ سے ان واپس آنے میں وقت لگ گیا

وہ غازیان سے سختی سے پیش آتے اسے زیادہ محبت کا اظہار نہیں کرتے تھے لیکن سچ تو یہ تھا وہ دنیا میں سب سے زیادہ محبت غازیان سے ہی کرتے تھے فروزہ بیگم بھی دوسرے نمبر پر تھیں

ان دنوں انہوں نے بھی اپنی فیملی کو بہت مس کیا تھا

کیسا ہے میرا شیر بیٹا

فاتح صاحب غازیان کو خود میں بھینچتے گویا ہوۓ

ڈیڈ میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں

غازیان اپنے ڈیڈ کا لمس پاتے ہی جذباتی ہوا تھا اس کے لہجے نمی گھولی تھی

ارے یہ کیا اتنے بڑے بزنس مین کے بیٹے ہوکر روتے ہو

فاتح صاحب غازیان کو خود سے الگ کرکے اس آنکھوں کے کنارے پر اٹکے شبنم قطرے صاف کرتے بولے

ڈیڈ میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں مجھے پھر کبھی خود سے دور نہیں کریے گا

غازیان دوبارہ فاتح صاحب کے سینے سے لگتا گویا ہوا

اچھا اچھا نہیں کرتا دور خود سے اب یہ بتاٶ ساری باتیں یہی کر لوں گے یا گھر بھی چلو گے

کیوں نہیں چلیں ڈیڈ موم اور فاری انتظار کررہی ہیں ہمارا

غازی بیٹا وہ خالا ہے تمھاری خالا بولا کروں اس کو

فاتح صاحب نرمی سے گویا ہوۓ

جی ڈیڈ

غازیان نے فاتح صاحب کے بیگز گاڑی میں رکھے اور خود نے ڈراٸینگ سیٹ سنبھالی

واٶ آپی جیجو بے ہوش نہ ہوجاٸیں آپ کو دیکھ کر

you look gorgeous

فروزہ بیگم مہرون ریشمی ساڑھی زیب تن کیے ہلکے پلکے میک اپ میں بہت خوبصورت لگ رہیں تھیں

فارینہ انھیں تنگ کرنے سے باز نہیں آٸی

چپ کرو تم

فروزہ بیگم چھینپ گٸیں

کچھ دیر میں گاڑی کی آواز پر وہ دونوں صوفے سے اٹھ کھڑی ہوٸیں

فروزہ بیگم اپنے جذبات پر قابوں نہیں رکھ پاٸیں

دروازے داخل ہوتے فاتح صاحب کو دیکھ کر ان کے سینے سے جالگیں اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیں

فروزہ روتی کیوں ہو بیگم آ تو گیا ہوں واپس

فاتح صاحب فروزہ بیگم کے گرد بازوں حماٸل کرتے بولے

اب میں آپ کو کہی جانے نہیں دوں گی ایک ہفتے کا کہہ کر گۓ تھے دو ماہ بعد لوٹ رہے ہیں

فروزہ بیگم فاتح صاحب کے سینے پر مکا مارتی بولیں

اچھا بھٸ اب نہیں جاٶں گا اور گیا تو تمھیں ساتھ لے کر جاٶں گا اوکے

فاتح صاحب دوبارہ فروزہ بیگم کو بانہوں میں بھر چکے تھے

غازیان فاتح صاحب کے پیچے کھڑا فارینہ کو فلاٸگ کس دے رہا تھا جس پر وہ اسے آنکھیں دیکھا رہی تھی جس کا غازیان پر کوٸی نہیں ہورہا تھا

اب چھوڑے مجھے بچے دیکھ رہے ہیں ہمیں

فروزہ بیگم شرماتی ہوٸیں فاتح صاحب سے دور ہوٸیں

شکر ہے بیگم آپ کو خیال تو آیا

فاتح صاحب ہلکا سا مسکراۓ تھے

اَلسَلامُ عَلَيْكُم جیجو

فارینہ مسکراتی ہوٸی فاتح صاحب کے پاس آٸی تھی

وَعَلَيْكُم السَّلَام کیسی ہے میری بیٹی

فاتح صاحب نے محبت سے اس کو اپنے ساتھ لگایا تھا

ٹھیک ہوں جیجو میں آپ کیسے ہیں

میں بھی ٹھیک ہوں بیٹا

تمھارے ساتھ جو ہوا اس کا مجھے بہت افسوس ہے لیکن وہ اوپر والا جو بھی کرتا ہے ہماری حق میں بہتر کرتا ہے اس میں بھی کوٸی مصلحت ہوگی اس کی تم اداس نہیں ہونا میں اپنی بیٹی کے لیے اچھا سا شہزادہ ڈھںونڈوں گا

فاتح صاحب کی بات پر غازیان نے مٹھیاں بھینچی تھی وہ مجبور تھا ابھی کچھ بتا نہیں سکتا تھا ان کو وہ سفر سے تھکے ہوۓ آۓ تھے وہ ان کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے خاموش تھا

سب نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا تھا

فاتح صاحب سب کے لیے تحفے لاۓ تھے جو سب کو بہت اچھے لگے تھے ایک اچھی شام گزارنے کے بعد سب اپنے اپنے کمرے میں چلے گۓ تھے

فارینہ اکثر فروزہ بیگم کے گھر روکنے آتی رہتی تھی اس لیے فاتح صاحب نے فارینہ کو دیکھ کر کوٸی سوال نہیں کیا

فاری جان جاٶ یہ پہن کر آٶ

غازیان کمرے میں آتے ہی فارینہ کے ہاتھ میں ناٸٹی تھماتا بولا

یہ کہاں سے آگٸ میں نے تو ساری کاٹ دیں تھیں

فارینہ حیران ہوٸی

جی میری جان یہ میں آج ہی لایا ہوں چلو اب چپ چاپ جاٶ اور یہ پہن کر آٶ

غازیان حکمیہ انداز اپنایا

یار غازی مجھے نہیں پسند نہ یہ

فارینہ نے چڑتے ہوۓ کہا

بس فاری میں کچھ نہیں سنو گا اب چلو جلدی جاٶ پہن کر آٶ

غازیان فارینہ ڈریسینگ روم کی طرف دھکیلتا بولا

فارینہ منہ بناتی ڈریسینگ روم میں گھس گٸ

غازیان اپنا ٹاٶزر لے کر واشروم میں گھس گیا

دس منٹ بعد غازیان واشروم سے ٹاول سے بال رگڑتا ہوا نکلا

فارینہ منہ تک کمبل اوڑھے لیٹی تھی

غازیان مسکرایا

بال ہاتھ سے سیٹ کیے ٹاول صوفے پر پھینکا اور فارینہ کے ساتھ کمبل میں لیٹ گیا

فارینہ کو اپنی کمر پر غازیان کے ٹھنڈے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا تو وہ گھبرا کر خود میں سمٹ گٸ

غازیان فارینہ کے مزید قریب ہوا غازیان کی طرف فارینہ کی پشت تھی

غازیان نے فارینہ کی پشت پر بکھرے بال آگے کی طرف کیے اور اس کی پشت پر جابجا اپنی محبت کی مہر ثبت کرنے لگا

غازی میں تھک گٸ ہوں مجھے نیند آرہی ہے

فارینہ غازیان سے فاصلہ بناتی منمناٸی

نو آج رہاٸی نہیں ملے گی

غازیان فارینہ کا رخ اپنی طرف کرتا اس کے لبوں پر جھکا تھا

فارینہ کو اپنی آزادی مشکل ہی نہیں نا ممکن لگ رہی تھی اس لیے وہ خاموشی سے غازیان کی محبت میں بھیگتی رہی

فارینہ کی آنکھ صبح آٹھ بجے کھلی غازیان ابھی تک اس کو اپنی بانہوں میں قید کیا ہوا تھا

فارینہ نے خود کو آزاد کروانے کی کوشش کی تو غازیان کی آنکھ کھل گٸ

کیا ہوا سوجاٶ نہ غازی آٹھ بج رہے ہیں جیجو اٹھنے والے ہونگے مجھے تمھارے کمرے سے نکلتے دیکھے گے جانے کیا سوچے گے

فارینہ نے اپنا خدشہ ظاہر کیا

وہ جانتی تھی فاتح صاحب صبح خیز ہیں

ہاں تو سوچنے دو نہ میں تو چاہتا ہوں وہ خود مجھ سے سوال کریں میری خود تو ہمت نہیں ہورہی انھیں یہ سب بتانے کی

اوہ غازیان فاتح ملک کو ڈر لگ رہا ہے

فارینہ غازیان کا مزاق اڑاتی بولی

اچھا میں ڈر رہا ہوں ابھی بتاتا ہوں

غازیان فارینہ کو گدگدی کرنے لگا

دونوں کے قہقوں سے پورا کمرا گونج رہا تھا

یہ بچے نہیں اٹھے ابھی تک

فاتح صاحب کمرے سے نکلے تو لاٶنج میں فروزہ بیگم کو تنہا بیٹھے دیکھ استفسار کیا

جی وہ کل بہت تھک گۓ تھے کیا پتا آج لیٹ اٹھیں

فروزہ بیگم گھبراتی ہوٸی گویا ہوٸیں

ارے نہیں بھٸ جاٶ بچوں کو اٹھا کر لاٶ سب مل کر ناشتہ کرے گے

فاتح صاحب صوفے پر بیٹھتے گویا ہوۓ

جی میں ابھی اٹھا کر لاتی ہوں بچوں کو

فروزہ بیگم نے غازیان کے کمرے کی طرف قدم بڑھاۓ جو اوپر والی منزل پر تھا

فروزہ بیگم جیسے ہی کمرے کے قریب پہنچی ان کو دونوں کے قہقوں کی آواز سن کر حیرانگی ہوٸی

فارینہ تو پھر ہنس لیتی تھی مگر غازیان وہ کبھی اتنا زور زور سے نہیں ہنستا تھا بس ہلکا سا مسکرا دیتا تھا

اللہ میرے بچوں کو ہمیشہ ایسے ہی خوش رکھنا

فروزہ بیگم نے اوپر دیکھ کر دعا کی پھر دروازے پر دستک دی

دونوں ہی یکدم سیدھے ہوۓ

میں تمھیں کہہ رہی تھی نہ مجھے جانے دو تم نے سنی نہیں میری بات ضرور آپی اٹھانے آٸی ہونگی ہمیں اب جاٶ تم دروازہ کھولو میں فریش ہونے جارہی ہوں

فارینہ اپنی سناتی الماری سے کپڑے لیتی واشروم چلی گٸ

غازیان داٸیں باٸیں گردن ہلاتا بیڈ سے اٹھ کر

اپنی شرٹ پہن کر دروازہ کھولا

بچوں جلدی نیچے آٶ فاتح ناشتے پر انتظار کررہے ہیں تم دونوں کا

دروازہ کھولتے ہی فروزہ بیگم نے اپنے آنے کا مقصد بتایا

اوکے موم آپ چلیں ہم ابھی آتے ہیں

دونوں ایک ساتھ نہیں آنا الگ الگ آنا ورنہ تمھارے ڈیڈ کے سوالوں کے جواب خود دینا

ریلیکس موم آج ناشتے کے بعد میں ڈیڈ کو سب بتا دوں گا

غازیان نے فروزہ بیگم کو تسلی دی

ہمم ٹھیک ہے

فروزہ بیگم واپس چلی گٸ

غازیان نے لمبی سانس کھینچ کر اپنی تیز ہوتی دھڑکن کو قابوں کیا

اے اوپر والے میری مدد کرنا آپ جانتے ہیں نہ میں نے اپنی محبت حاصل کرنے کے لیے کتنے جتن کیے ہیں پلیز میری محبت کو مجھ سے دور نہیں ہونے دینا

غازیان اپنے حق میں دعا کرتا بیڈ پر لیٹ گیا آج آفس جانےکا اس کا کوٸی ارادہ نہیں تھا

پندرہ منٹ کے بعد وہ دونوں وقفے وقفے سے نیچے آۓ سب نے ہلکی پھلکی باتوں کے درمیان ناشتہ کیا

ناشتے کے بعد وہ سب لاٶنج میں بیٹھے چاۓ سے لطف اندوز ہورہے تھے

چاۓ پینے کے بعد فارینہ برتن اٹھانے کے لیے آگے بڑھی تو غازیان نے اس کا ہاتھ تھام لیا

فاری بیٹھ جاٶ ملازم اٹھا لیں گے

غازیان نے اسے اپنے پہلو میں بیٹھا لیا

یہ کیا ہورہا ہے

فاتح صاحب جو ان دونوں کو بڑے غور سے دیکھ رہے تھے مزید چپ نہیں رہ سکے

وہ ڈیڈ میں وہ ۔۔۔۔

کیا میں وہ کررہے ہو بولو

وہ ڈیڈ موم نے آپ کو فارینہ کے ساتھ جو ہوا بتایا تھا نہ

غازیان ہمت کرکے بات شروع کی

ہاں بتایا تھا پھر

فاتح صاحب ناسمجھی سے گویا ہوۓ

وہ ادھوری بات تھی اصل میں اس دن جب فاری کی بارات نہیں آٸی تھی لوگ ان کے بارے میں باتیں بنارہے تھے ان کے کردار پر انگلیاں اٹھا رہے تھے تو مجھ سے برداشت نہیں ہوا اور آپ جانتے ہیں میں تو ان سے بچپن سے محبت کرتا ہوں تو میں نے ان سے شادی کرلی

غازیان کی آخری بات پر فروزہ بیگم نے حیرانی سے غازیان کی طرف دیکھا

ان کو تو علم ہی نہیں تھا اس بات کا لیکن اس وقت وہ خاموش رہیں

فروزہ یہ غازیان کیا کہہ رہا ہے کتنی سچاٸی ہے اس کی بات میں

فاتح صاحب کا رخ اب فروزہ بیگم کی طرف تھا

جی غازیان جو بھی کہہ رہا ہے وہ سچ ہے

فروزہ بیگم نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا

یہ کیا کیا تم نے فروزہ میرے بیٹے کی شادی کردی مجھے بتاۓ بنا ارے مجھ سے پوچھنے کی توفیق نہیں ہوٸی تو بتا ہی دیتیں مجھے کیوں چھپاٸی مجھ سے اتنی بڑی بات

فاتح صاحب غصے سے دھاڑے تھے

فروزہ بیگم خوف سے کانپ گٸیں تھیں فارینہ نے بھی خوف سے غازیان کے بازوں کو مضبوطی سے تھام لیا تھا

ڈیڈ موم کی کوٸی غلطی نہیں جو کہنا ہے مجھے کہیں موم نے تو مجھے بہت سمجھایا تھا مگر میں نہیں مانا موم بلکل بے قصور ہیں آپ کو جو سزا دینی ہے مجھے دیں

غازیان صوفے سے اٹھ کر فاتح صاحب کے مقابل کھڑا ہوا نظریں ہنوز جھکی ہوٸیں تھیں

تمھیں احساس ہے تم نے کیا کردیا میں اپنے سرکل میں کیا بتاٶں گا میرے بیٹے نے ایسی لڑکی سے شادی کی ہے جو اس کی رشتے میں خالہ تھی اور اس سے عمر میں بھی بڑی ہے

فاتح صاحب کا چہرہ غصے کی زیادتی سے سرخ ہوگیا تھا

مجھے فرق نہیں پڑتا ڈیڈ کون کیا کہتا ہے میں خوش ہوں اپنی زندگی میں

لیکن میں خوش نہیں اور مجھے فرق پڑتا ہے تم اس کو ابھی اسی وقت گھر چھوڑ کر آٶ

فاتح صاحب درشتگی سے بولے

فارینہ اور فروزہ بیگم دونوں نظریں جھکاٸیں رو رہیں تھیں لیکن کچھ بولنے کی ہمت دونوں میں نہیں تھی

نو ڈیڈ نو یہ ظلم نہیں کریں سالوں تڑپنے کے بعد مجھے میری محبت نصیب ہوٸی ہے اب جدا نہ کریں ڈیڈ میں مرجاٶں گا

غازیان فاتح صاحب کی بات پر تڑپ گیا تھا

میں کچھ نہیں جانتا ابھی اسی وقت تم اس کو چھوڑ کر آٶ گے اور کچھ دن بعد اس کو طلا۔۔۔۔۔۔

نہیں نہیں ڈیڈ پلیز چپ ہوجاٸیں میرا دل بند ہوجاۓ گا

غازیان شدت جذبات سے چیخا تھا

تم ایسے نہیں مانو گے اگر تم اس کو ابھی اسی وقت اس کے گھر چھوڑ کر نہیں آۓ تو میں تمھاری ماں کو طلاق دے دوں گا

فاتح یہ کس قسم کی باتیں کررہے ہیں ہمارا اتنے سالوں کا ساتھ محبت آپ کے لیے کوٸی معنیٰ نہیں رکھتا

فروزہ بیگم اپنی ناقدری پر بلک بلک کر رو دیں تھیں

بس خاموش کوٸی ایک لفظ نہ بولے تم بتاٶ میں تمھاری ماں کو چھوڑ دو یا تم اس کو چھوڑ رہے ہو

فاتح صاحب فروزہ بیگم کو خاموش کرواتے غازیان سے مخاطب ہوۓ

جیجو می میں گھر جارہی ہوں آ آپ ڈراٸیور سے کہہ دیں وہ چھوڑ آۓ مجھے

فارینہ نے اپنا قفل توڑا تھا

تم چپ کرو میں کررہا ہوں نہ بات کہی نہیں جاٶ گی تم

غازیان فارینہ پر دھاڑا تھا

فارینہ سہم کر نظریں جھکا گٸ تھی

ڈیڈ اگر فارینہ اس گھر سے گٸیں تو رہوں گا میں بھی نہیں اس گھر میں

غازیان اٹل لہجے میں بولا

ٹھیک ہے تم دونوں سمیٹو اپنا سامان نکلو میرے گھر سے اور آفس میں قدم رکھنے کی ضرورت نہیں ڈھونڈو اپنے لیے جاب کھاٶ دھکے اب تم

ٹھیک ہے ڈیڈ اب میں اپنی شکل کبھی نہیں دیکھاٶں گا

غازیان فارینہ کا ہاتھ پکڑ کر کمرے کی طرف بڑھ گیا

فاتح روک لیں اسے ہمارا ایک ہی تو بیٹا ہے کیا اس کی خوشی کے لیے آپ ذرا سا جھک نہیں سکتے پلیز روک لیں فاتح میرے بچے کو کہاں جاۓ گا ہے ہی کون اس کا ہمارے سوا

فروزہ بیگم فاتح صاحب کے سامنے فریاد کرتی رہیں مگر وہ پتھر کی مورت بنے خاموش کھڑے رہے

غازی غازی میری بات سنو مجھے جانے دو گھر کچھ دن بعد جیجو کا غصہ ٹھنڈا ہوجاۓ گا تم پھر ان کو منانا وہ مان جاٸیں گے

بیگ میں کپڑے رکھتے غازیان کے ہاتھ تھام کر فارینہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی

نہیں فاری چاہے حالت کیسے بھی ہو میں تمھیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا

غازیان فارینہ کے ہاتھ جھٹک کر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگیا

کچھ ہی دیر بعد وہ اپنی روتی بلکتی ماں کو چھوڑ کر فارینہ کو لے کر گھر سے نکل گیا تھا

غازی گھر تو چھوڑ آٸیں ہیں اب کہاں جاٸیں گے

فارینہ غازی کے ہمقدم چلتی گویا ہوٸی

کیونکہ وہ صاحب غصے میں گاڑی بھی چھوڑ آۓ تھے

ٹیکسی

غازیان نے ہاتھ ہلا کر ایک ٹیکسی روکی اسے پتہ سمجھایا اور فارینہ کے ساتھ ٹیکسی میں بیٹھ گیا

غازی جواب دو مجھے کہاں جاٸیں گے ہم اب

فاری جان خاموشی سے بیٹھ جاٶ یار بس تھوڑی دیر میں سب بتا دوں گا

غازیان کو فارینہ چپ کروا کر کھڑکی باہر دیکھنے لگا

فارینہ بھی منہ بنا کر خاموشی سے بیٹھ گٸ

بس بھاٸی یہی روک دو

غازیان نے ایک خوبصورت عمارت کے کے سامنے ٹیکسی روکواٸی

غازیان صاحب آپ ؟

بڑے دنوں بعد آۓ

ٹیکسی سے نکلتے غازیان کو دیکھ کر عمارت کا چوکیدار جلدی سے آگے آیا

ہاں کچھ مصروف تھا ایسا کرو یہ سامان میرے فلیٹ تک تو پہنچاٶ

غازیان اپنے ازلی لہجے میں بولا

چوکیدار خاموشی سے سامان اٹھا آگے بڑھ گیا

غازیان فارینہ کا ہاتھ پکڑ کر عمارت کے اندر لے گیا

وہ پانچ منزلہ عمارت تھی ہر منزل پر خوبصورت طریقے سے فلیٹ بناۓ گۓ تھے

غازیان دوسری منزل کے فلیٹ کے دروازے کے سامنے روکا

وہاں چوکیدار کھڑا اس کا منتظر تھا

اس نے پینٹ کی جیب سے چابی نکال کر فلیٹ کا دروازہ کھولا

چوکیدار سے سامان فلیٹ میں رکھوا کر ہزار کا نوٹ اس کے ہاتھ میں تھمایا

وہ خوش ہوتا واپس نیچے چلا گیا

غازی یہ کس کا فلیٹ ہے

فارینہ نے فلیٹ کا جاٸزہ لیتے ہوۓ پوچھا

میری موم کا ہے

غازیان نے سنجیدگی سے جواب دیا

آپی کا

فارینہ بے اختیار بولی

نہیں میری مہوش موم کا ہے ڈیڈ نے ان کو فرسٹ اینیورسری پر گفٹ کیا تھا

موم جب بھی ڈیڈ سے ناراض ہوتی تھیں تو مجھے لے کر یہاں آجایا کرتی تھیں پھر ڈیڈ موم کو تلاش کرتے ہوۓ یہاں آتے تھے اور موم ڈیڈ کو بہت تنگ کرنے کے بعد مان جاتی تھیں پھر ڈیڈ موم اور مجھےگھومانے لے جاتے تھے وہ دن میری زندگی کے خوبصورت دن تھے

پھر ایک دن موم چلی گٸیں ہمیشہ کے لیے

غازیان دکھی ہو گیا تھا وہ اپنے اوپر چڑھایا خول آج خود ہی اتار رہا تھا فارینہ کے ساتھ اپنے اندر سالوں سے بھرے دکھ کو بانٹ رہا تھا

موم کے جانے کے بعد کوٸی چیز اچھی نہیں لگتی تھی بات بات پر غصہ آجاتا تھا مجھے میں ہر کسی سے لڑتا تھا

اسی وجہ سے ڈیڈ سے آۓ دن ڈانٹ کھاتا تھا اکیلے میں بیٹھ کر روتا تھا موم کو یاد کرتا تھا

وہ اپنی آنکھوں میں اترتی نمی چھپانے کو رخ موڑ گیا تھا

غازی کہہ دو آج سب کچھ کرلو اپنا دل ہلکا رونا آرہا ہے تو رو بھی دل پر دھرا بوج کم ہوگا

فارینہ نے غازیان کا چہرا محبت سے ہاتھوں میں بھرا تھا

وہ مزید خود پر ضبط نہیں کرسکا اور فارینہ کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا

وہ جذباتی ہوگیا تھا ماں تو بچپن میں بچھڑ گٸ تھی آج باپ نے بھی خود سے دور کردیا تھا

فارینہ کی آنکھوں میں نمکین پانی جما تھا جو کچھ پلو میں رخسارو پر آنکلا تھا

وہ ایک ہاتھ سے غازیان کی کمر سہلاتی دوسرے ہاتھ سے اس کے سر میں انگلیاں چلاتی اسے اپنے ہونے کا احساس دلا رہی تھی

غازی جو کچھ تمھارے دل میں ہے بول دو میں سننا چاہتی ہوں تمھیں

فارینہ اس سے الگ ہوتی اس کے آنسو صاف کرتی گویا ہوٸی

غازیان اسے لے کر لاٶنج میں رکھے صوفے پر بیٹھ گیا اور اپنی بات جاری کی

پھر فروزہ موم میری زندگی میں آٸیں وہ سچ میں بہت اچھی عورت ہیں

میں سمجھتا تھا وہ مجھے ڈیڈ سے دور کردیں گیں شروع شروع میں ان سے دور رہتا تھا ان سے بات تک کرنا پسند نہیں کرتا تھا اس کے باوجود وہ میری ساری بدتمیزیاں برداشت کرتیں

انہوں نے کبھی ڈیڈ سے میری شکایت نہیں کی اور اگر اسکول سے یا باہر سے میری کوٸی شکایت آتی تو وہ میرا دِفاع کرتیں ڈیڈ سے بچا کر اپنے مامتا بھرے آغوش میں بھر لیتیں

وہ دنیا کی بیسٹ مدر ہیں

غازیان کی اداس آنکھوں میں چمک آٸی تھی

میں ان سب میں کہاں ہوں میرا تو کوٸی ذکر نہیں کیا تم نے

ماحول میں چھاٸی اداسی دور کرنے کے لیے فارینہ نروٹھے پن سے کہا

میری جان تم تو ہر جگہ ہر وقت ہر لمحہ میرے حواسوں پر سوار رہتی ہو

غازیان محبت سے چور لہجے میں بولتا فارینہ کو مزید اپنے قریب کرگیا تھا

تم مجھ سے اتنی محبت کیوں کرتے ہو کب ہوٸی تمھیں مجھ سے محبت

چلو بتاٶ مجھے آج تمھارے اس دل میں دفن سارے راز جاننے کی خواہش ہے میری

فارینہ اس کے دل پر انگلی رکھتی گویا ہوٸی

ہمممم تو سنو تم اس دن سے میرے دل میں ہو جب پہلی بار میرے گھر آٸیں تھیں

ماضی

چپ بلکل میں نے فیصلہ کرلیا ہے تمھیں میں اب بوڈینگ اسکول بھیج رہا ہوں تمھارے روز روز کے لڑاٸی جھگڑوں سے تنگ آگیا ہوں میں

ڈیڈ میں نے کچھ نہیں کیا تھا طاہر نے شروع کیا تھا پہلے اس نے مجھے مارا تھا جب ہی میں نے اس کو مارا

سات سالہ غازیان نے روتے روتے صفاٸی پیش کی

آج اسکول میں غازیان کی لڑاٸی ہوگٸ تھی اس کے کلاس فیلو طاہر سے جو انتہاٸی بدتمیز بچہ تھا ہر کسی پر اپنا روعب جھاڑتا تھا ہر بچہ اس سے ڈرتا تھا سواۓ غازیان کے

آج اس نے غازیان پر روعب ڈالنے اور اسے ڈرانے کے لیے سب کے سامنے غازیان کو تھپڑ مارا

غازیان تو ویسے ہی ماں کی جداٸی پر غمزدہ رہنے کے ساتھ چڑچڑا اور اکھڑ مزاج ہوگیا تھا

طاہر کے تھپڑ مارنے پر بھپرے شیر کی طرح اس پر پل پڑا

دونوں آپس میں گھتم گھتا تھے کہ اپنی آفس کی کھڑکی سے پرنسپل صاحب کھیل کے میدان کو میدانِ جنگ بنتا دیکھ جلدی سے باہر آۓ اور دونوں کو کارلر سے پکڑ کر ایک دوسرے سے جدا کیا

غازیان کے ہونٹ سے خون نکل رہا تھا

جبکہ غازیان کے مقابلے میں طاہر زیادہ زخمی ہوا تھا

طاہر کی ناک اور ہونٹ سے خون نکل رہا تھا ایک آنکھ بھی سوج رہی تھی

غازیان خود سے دو تین سال بڑے طاہر پر بھاری پڑ گیا تھا

پرنسپل صاحب نے دونوں بچوں کے والدین کو بلا کر شکایت کی طاہر کے خوف کے زیرِ اثر بچوں نے سارا الزام غازیان پر ڈال دیا

اسی وجہ سے فاتح صاحب نے غازیان بوڈینگ اسکول بھیجنے کا فیصلہ کیا

بس خاموش میں ایک نہیں سنوں گا تمھاری

فاتح صاحب نے حتمی انداز میں کہا

اَلسَلامُ عَلَيْكُم

وَعَلَيْكُم السَّلَام واہ بھٸ آج ہماری سالی صاحبہ کو ہماری یاد کیسے آگٸ

فاتح صاحب بارہ سالہ فارینہ کو دیکھ کر خوش ہوگۓ تھے

بس جیجو آپی کی یاد آرہی تھی تو میں آگٸ

فارینہ نے فروزہ بیگم گلے بانہیں ڈالتے ہوۓ جواب دیا

فاتح صاحب مسکرا دیے

غازیان نے ایک نظر سبز آنکھوں والی کھڑے نین نکوش والی دھان پان سی فارینہ پر ڈالی اور دوبارہ گردن جھکا کر اپنے شوغل میں مصروف ہوگیا

کس کے ساتھ آٸی ہو گڑیا

فروزہ بیگم نے محبت سے اپنی چھوٹی بہن کو اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ کہا

آپی راحل بھاٸی چھوڑ کرگۓ رات کو آفس سے گھر جاتے ہوۓ لے جاٸیں گے مجھے

اچھا چلو یہاں بیٹھو تم میں کھانا لگواتی ہوں پھر سب ساتھ بیٹھ کر کھاٸیں گے

فروزہ بیگم اور فاتح صاحب کی ایک ماہ قبل شادی ہوٸی تھی

فروزہ بیگم نے گھر اور غازیان کو بہت اچھے سے سنبھالا ہوا تھا

فاتح صاحب کے دل میں اپنا بہت اچھا مقام بنا لیا تھا وہ اپنی دوسری شادی سے بہت خوش تھیں ان کے دل کے سارے خدشات فاتح صاحب نے دور کردیے تھے

چھوٹے شہزادے تم کیوں رو رہ رہے ہو

فارینہ صوفے پر بیٹھی تھی اس کو اپنے سامنے والے صوفے پر غازیان روتا نظر آیا

ڈیڈ مجھے بورڈینگ اسکول بھیج رہے ہیں مجھے نہیں جانا وہاں

غازیان اپنا دکھ بتاتا دوبارہ رونے لگا

اوہ جیجو کیوں ظلم کررہے ہیں آپ اس معصوم پر نہ بھیجیں اسکو بورڈینگ اسکول

سالی صاحبہ آپ نہیں جانتیں اس کو کوٸی معصوم نہیں ہر روز لڑجھگڑ کر آتا ہے اس لیے میں اس کو بورڈینگ بھیجوا رہا ہوں گھر والوں سے دور رہے گا نہ خود ہی عقل ٹھیکانے آجاۓ گی اس کی

فاتح صاحب نے فارینہ کو پیار سے سمجھایا

فارینہ نے روتے ہوۓ غازیان کو دیکھا تو اس کے اندر ہمدردی کا جذبہ اجاگر ہوا

جیجو میں اس سے دوستی کرکے اس کو اچھا بچہ بنادوں گی بلکل اپنی طرح آپ پلیز اس کو نہیں بھیجواٸیں

فارینہ نے فاتح صاحب کے ہاتھ پکڑ کر معصوم چہرا بنا کر کہا تو وہ مسکرا دیے

اچھا چلو تمھارے کہنے پر میں اسکو ایک موقع دے رہا ہوں

اور تم اگر ایک ماہ تک تم بنا لڑے جھگڑے سکون سے رہے تو میں تمھیں بورڈینگ اسکول بھیجنے کا ارادہ ترک کردوں گا

فاتح صاحب نے فارینہ کو جواب دیتے ہوۓ غازیان کو سختی سے تنبیح بھی کر ڈالی جس پر وہ مہذب بچوں کی طرح اثبات میں گردن ہلا گیا

آجاٶ سب کھانا لگ گیا ہے

فروزہ بیگم کی آواز پر سب ہی کھانے کی ٹیبل پر جا بیٹھے

فارینہ غازیان ایک دوسرے کے دیکھتے مسکراتے ہوۓ کھانا نوش فرما رہے تھے جبکہ فروزہ بیگم نہ سمجھی سے ان کو دیکھ رہیں تھیں

فاتح صاحب نے فروزہ بیگم کی الجھن سلجھاٸی

پہلو میں براجمان فروزہ بیگم کی سماعت میں سرگوشی کی اور انھیں سارا معاملہ سمجھا دیا جس پر وہ دل سے خوش ہوٸیں تھیں

ایک ماہ میں غازیان انھیں بہت عزیز ہوگیا تھا

فارینہ آپ میرے روم میں چلو میں آپ کو اپنے کھلونے دیکھاٶں گا

غازیان کھانا کھا کر فارینہ سے مخاطب ہوا

غازیان خالا ہے یہ تمھاری

فاتح صاحب نے غازیان کو ٹوکا

یہ تو دوست ہیں نہ میری

دوست کا تو نام لیتے ہے نہ

غازیان نے معصومیت سے جواب دیا

پر بیٹا۔۔۔۔۔

چھوڑے نہ جیجو ٹھیک ہے ایسے ہی

فاتح صاحب کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی فارینہ نے مداخلت کردی

اچھا ٹھیک ہے جیسی تم لوگوں کی مرضی

اس دن فارینہ پورا دن غازیان کے ہمراہ رہی دونوں ایک دوسرے سے مانوس ہوگۓ تھے غازیان نے ضد کرکے فارینہ کو گھر پر ہی روک لیا تھا

اور کچھ دنوں بعد غازیان نے فاتح صاحب کو کسی طرح منا کر فارینہ کے اسکول میں داخلہ لے لیا

فاتح صاحب نے بھی یہ سوچ کر داخلہ کروا دیا اسکول میں بھی سارا دن فارینہ کے ساتھ رہے گا تو لڑے گا بھی نہیں کسی سے وہ بھی مطمعن ہوگۓ تھے

فارینہ اور غازیان ایک دوسرے کے بہت قریب آگۓ تھے غازیان فارینہ کو لے کر بہت حساس ہوگیا تھا وہ اسکول میں نہ خود کسی سے دوستی کرتا نہ فارینہ کو کرنے دیتا اور جو اس کی ایک دو سہیلیاں تھیں غازیان فارینہ کو ان سے بھی دور کرچکا تھا

وقت پر لگا کر گزر گیا غازیان پندرہ سال کا ہوگیا فارینہ اکیس کی ہوگٸ

غازیان میٹرک میں تھا وہ روز فارینہ کو یونیورسٹی سے پک کرتا دوپہر کا کھانا اس کے ساتھ کھاتا پھر اسے گھر چھوڑتا

روز کی طرح آج بھی وہ اسے یونیورسٹی پک کرنے آیا تھا لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر غازیان کا دماغ گھوما تھا

فارینہ یونیورسٹی کے گیٹ پر کھڑی کسی لڑکے سے محو کفتگو تھی

غازیان نے فارینہ کو کسی لڑکی سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی تھی یہ تو پھر لڑکا تھا جو اس کے روبرو کھڑا اس سے ہمکلام تھا

وہ دندناتہ ہوا ان تک پہنچا تھا

بنا کچھ سنے اپنے سے بڑی عمر کے لڑکے کا گریبان جکڑ چکا تھا

اس نگہانی آفت پر وہ دونوں یکدم بوکھلا گۓ تھے

غازی کیا کر رہے ہو چھوڑو

فارینہ نے غازیان کے ہاتھ پیچھے کرنے کی کوشش کی تھی

اس کی ہمت کیسے ہوٸی آپ کے قریب آنے کی اور آپ سے بات کرنے کی چھوڑوں گا نہیں میں اس کو

غازیان اس وقت کہیں سے بھی پندرہ سالہ لڑکا نہیں لگ رہا تھا وہ کوٸی جنونی مرد لگ رہا تھا

غازی ہمیں سر نے پریسینٹیشن دی ہے اسی سلسلے میں ہم بات کررہے تھے اور کوٸی بات نہیں پلیز چھوڑو اسے

فارینہ نے منت کرتے ہوۓ زبردستی غازیان کے ہاتھ سے اس لڑکے کا گریبان چھوڑوایا تھا

خبردار اگر توں نے فاری کے زیادہ قریب آنے کی کوشش کی تو صرف پریسینٹیشن کے حوالے سے بات کریو نہیں تو تیری جان لینے میں ایک سیکینڈ نہیں لگاٶں گا سمجھا توں

غازیان غصے سے دھاڑا تھا

ج جی

سامنے کھڑا ڈرپوک سا لڑکا کانپ کر رہ گیا تھا

آس پاس لوگ جما ہوتے دیکھ فارینہ غصے سے بھرے غازیان کا ہاتھ پکڑ کر کار میں آکر بیٹھ گٸ تھی اور ڈراٸیور سے گھر چلنے کو کہا تھا

وہ خود دروازے سے چپک کر بیٹھ گٸ تھی غازیاں کو مکمل نظر انداز کررہی تھی

فاری کھانا نہیں کھاٶ گی کیا آج

غازیان نے فارینہ کے ذرا قریب ہوتے پوچھا تھا

نہیں ! نہیں کھانا مجھے کھانا سمجھے تم وہاں جاکر بھی تم ایسے ہی تماشا کرو گے اب کہیں بھی نہیں جاٶں گی میں تمھارے ساتھ

تمھیں ضرورت نہیں ہے کل مجھے لینے آنے کی میں بھاٸی کو کہہ دوں گیں وہ لینے آجاٸیں گے

فارینہ تو بھری بیٹھی تھی

غازیان کے بولنے پر ہی اس پر برس پڑی

اب اس بیٹری کے لیے مجھ سے لڑیں گی

غازیان اس لڑکے کے کا کہا جس کو وہ ابھی دھمکی دے کر آیا اس کے عینک لگا ہوا تھا اسی لیے غازیان نے اسے بیٹری کا لقب دیا

اس کی بات نہیں ہے غازی میرا یونی میں دوسرا سال ہے اور تم چار دفع جھگڑا کرچکے ہو کیوں کرتے ہو تم ایسا

فاری آپ جانتیں ہیں نہ آپ کے علاوہ میرا کوٸی دوست نہیں میرے دل میں یہ خوف رہتا ہے کوٸی دور نہ کردے آپ کو مجھ سے

غازیان بےبسی سے بولا تھا

افف غازی تم اتنے انسیکیور کیوں ہو بچپن سے ہم ساتھ ہیں یار میں کبھی تمھیں نہیں چھوڑ سکتی

فارینہ نے غازیان کا ہاتھ تھاما تھا

ہممم اچھا ٹھیک ہے سوری اب نہیں کروں گا ایسا

غازیان بچوں کا سا منہ بناتا بولا تھا

اچھا ٹھیک ہے معاف کیا

فارینہ مسکراٸی تھی

اب کھانا کھانے چلیں

غازیان خوش ہوتا بولا تھا

اوکے

ڈراٸیور بابا اچھے سے ریسٹورینڈ کی طرف گاڑی موڑ لیں

مزید کچھ وقت گزرا غازیان فارینہ کے بارے میں دوستی سے ذرا بڑھ کر سوچنے لگا وہ اکثر اس کی مسکراہٹ میں کھو سا جاتا اس کی کھولیں زلفیں کی مہک اپنے اندر اتارنے کو دل چاہتا

وہ ہر وقت فارینہ کو اپنے من پسند کپڑوں میں دیکھنے کا خواہش مند رہنے لگا تھا

وہ اپنی حالت خود نہیں سمجھ پارہا تھا

پھر جب وہ سولہ سال کا ہوا تو اس پر انکشاف ہوا کہ وہ محبت جیسے جذبے میں گوڈے گوڈے ڈوپ چکا ہے وہ بے انتہا خوش تھا اس کو یقین تھا فارینہ بھی اسے چاہنے لگی ہوگی

جانے کیوں اس کو ایسا گمان ہوا تھا جو بلکل غلط ثابت ہونے والا تھا

موم میں فاری سے ملنے جارہا ہوں

غازیان ان اکو اطلاع دیتا باہر جاتا ان کی واپس پر روک گیا

جی موم

بیٹا آج نہیں جاٶ آج اسے کچھ لوگ دیکھنے آنے والے ہیں

کون لوگ موم کیوں دیکھنے آرہے ہیں فاری کو

غازیان نا سمجھی سے گویا ہوا

بیٹا اس کا رشتہ آیا ہے اب اس کی پڑھاٸی مکمل ہونے کے بعد شادی کردیں گے

فروزہ بیگم محبت سے بولیں

اوکے موم

غازیان خاموشی سے کمرے میں آگیا تھا

نہیں نہیں فاری آپ صرف میری ہو صرف میری اگر آپ کے نام کے ساتھ کسی کا نام جڑے گا تو وہ غازیان فاتح ملک کا ہوگا

غازیان جنونی انداز میں کہتا بیڈ پر اوندھے منہ گرا تھا اب وہ تھا اور اس کا جنون

اس کے بعد غازیان نے فارینہ کو اپنے دل کی بات بتا دی لیکن فارینہ نے اس کی محبت کو دھتکار دیا

لیکن غازیان نے دل میں عہد کیا تھا چاہے کچھ بھی ہوجاۓ وہ فارینہ کو کسی اور کا تو کبھی ہونے نہیں دے گا

حال

غازی تم میرے دل میں اونچی مسند پر جگہ بنانے میں کامیاب ہوگۓ ہو اور اب وہاں مرتے دم تک تمہی رہو گے

یار فاری مرنے کی باتیں نہیں کرو ہمیں ساتھ جینا ہے بہت سارا دادا دادی اور نانی کے مرتبے پر بھی فاٸز ہونا ہے اپنی اولاد کی اولاد کی خوشیاں دیکھنی ہیں

غازیان فارینہ کو سینے سے لگاتا بولا تھا

اففف غازی تم نے تو بہت لمبی پلینیگ کی ہوٸی ہے حد ہے یار

فارینہ کھلکھلاتے بولی تھی

غازیان اس کے لبوں پر جھکا تھا اور اس کی بولتی بند کرگیا تھا

ہیلو باس

ہاں بول شیدے کیا خبر ہے

فون کی دوسری طرف ایک بھاری روعب دار آواز موصول ہوٸی تھی

سر اس امیر زادے کو اس کے باپ نے گھر سے نکال دیا ہے

کیا یہ تو زبردست خبر سناٸی ہے توں نے شیدے اب تو اس پر ہاتھ ڈالنا اور بھی آسان ہوگا نظر رکھیو اس پر کہاں جاتا ہے اب وہ میرا بیٹا جلد ہی جیل سے رہا ہوجاۓ گا پھر اس سرپھرے سے اپنا انتقام لے گاوہ

سر میں نے پوری طرح نظر رکھی ہوٸی کلفٹن کی طرف جو فلیٹ ہیں نہ وہاں آیا ہے وہ اپنی بیوی کو لے کر لگتا ہے اب وہی رہے گا

شیدے نے اپنا خیال ظاہر کیا

واہ رے شیدے دل خوش کردیا توں نے تو آج

وہ شخص خوش ہوا تھا

سر ایک بات کہوں

شیدہ تھڑا ہچکچایا

ہاں بول شیدے گھبرا مت

سر اس امیر زادے کی بیوی بڑی ٹاٸٹ ہے آپ کا حکم ہو تو اٹھا لوں

اے شیدے اس کی عورت سے ہمیں کوٸی لینا دینا نہیں ہم صرف اس لونڈے سے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا چاہتے ہیں ہم مرد ہیں مرد سے مقابلہ کرے گے آج تو توں نے یہ بات بول دی ہے آٸندہ سوچنا بھی نہیں

وہ شخص تھوڑا سختی سے بولا

جی سر اب نہیں بولوں گا معافی چاہتا ہوں

شیدہ فوراً بولا تھا

چل ٹھیک ہے رکھ فون پھر بات ہوگی

فروزہ میری بات تو سنو

کیا سنوں میں ؟

آپ بات نہیں کریں مجھ سے جوان بیٹے کو گھر سے نکال دیا کیا میری بہن اتنی بری ہے کہ آپ اس کو اس گھر میں بہو کے روپ میں قبول نہیں کرسکتے

جب سے غازیان فارینہ گھر سے گۓ تھے

فروزہ بیگم نے رو رو کر اپنی حالت خراب کرلی تھی

فاتح صاحب ان کو منانے کی کوشش کررہے تھے لیکن وہ مان نہیں رہیں تھیں

فروزہ میری بات تو سن لو ایک دفع دیکھو میں نے جو بھی کیا ہے ان دونوں کے لیے ہی کیا ہے ان کا فاٸدہ ہے اس میں

کیا فاٸدہ اس میں بچوں کو گھر بدر کردیا کہاں جاٸیں گے وہ

فروزہ بیگم کا غم کم ہونے میں ہی نہیں آرہا تھا

فروزہ میری بات سنو کب سے روۓ جارہی ہو خاموش ہو میری بات سنو پہلے پھر منا لے نہ غم بیٹے بہو سے بچھڑنے کا

فاتح صاحب ذرا سختی سے بولے تو فروزہ بیگم خاموش ہوگٸیں

دیکھو فروزہ غازیان بہت جذباتی ہے اور فارینہ سے اس کا پہلے خالا بھانجے کا رشتہ تھا اب وہ شوہر ہے اس کا

ان کے اس نۓ رشتے سے جہاں لوگ خوش ہوۓ وہی بہت سے حاسد بھی پیدا ہوگۓ ہیں جو اس رشتے کو توڑنے کی کوشش کرے گے کیونکہ غازیان میرا اکلوتا بیٹا ہے میری بیش بہا دولت کا اکلوتا وارث ہر کوٸی چاہتا ہے کہ اس کی بیٹی میری بہو بنے اسے وجہ سے لوگ غازیان اور فارینہ کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گے

تو اسی وجہ سے میں نے اس کو گھر سے نکالا ہے میں دیکھنا چاہتا ہوں وہ اپنی محبت کے لیے دنیا سے لڑ سکتا ہے یا اس دنیا کی باتوں میں آکر اپنی محبت کو چھوڑ دیگا

سمجھی بیگم فاتح صاحب محبت سے بولے

جی ٹھیک ہے میں سمجھ گٸ لیکن غازیان فارینہ گۓ کہاں ہو گے امی کے پاس تو کبھی نہیں جاٸیں گے وہ تو پھر کہاں گۓ ہوگے

غازیان فارینہ کو لے کر مہوش کے فلیٹ پر گیا ہے میرے آدمی نے مجھے خبر دی ہے تم فکر نہیں کرو وہ دونوں محفوظ ہیں بلکل

فاتح صاحب نے انھیں مطمٸعن کیا

جی لیکن میں آپ سے پھر بھی بات نہیں کروں گی آپ مجھے طلاق دے رہے تھے اتنے سالوں کی محبت ریافاقت کا یہ صلہ دیا آپ نے مجھے نہیں کرنی مجھے آپ سے بات

فروزہ بیگم راضی ہونے کے بجاۓ دوبارہ ناراض ہوگٸیں

اففففف فروزہ

فاتح صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گۓ

اچھا آٸی ایم سوری وہ میں نے ایسے ہی کہا سچ میں میرا وہ سب کرنے کا ارادہ بلکل نہیں تھا

نہیں مجھے بات نہیں کرنی آپ سے میں ناراض ہوں آپ سے

فروزہ بیگم تو جوان لڑکی بنی فاتح صاحب کو خوب نخرے دیکھا رہیں تھیں وہ بیچارے ان کو منانے میں ہلکان ہورہے تھے

اور پھر کچھ دیر کی محنت کرنے کے بعد وہ ان کو منانے میں کامیاب ہوگۓ تھے

کچھ دن جوتے گیھیسنے کے بعد غازیان کو ایک اچھی کمپنی میں جاب مل گٸ وہ خوش تھا اپنی زندگی میں لیکن پھر بھی وہ اپنے ڈیڈ کی بے رخی پر دکھی تھا فارینہ اس کا بہت خیال کرتی تھی ہر طرح سے اس کی دلجوٸی کرتی فروزہ بیگم بھی روز کال کرکے ان کی خیر خیریت پوچھتی رہتیں

فاتح صاحب بھی خود پر سختی کا خول چھڑاۓ غازیان سے لاتعلق بنے ہوۓ تھے

مگر ہر وقت دل سے دعا کرتے ان دونوں کی خوشیوں اور سلامتی کی

روز کی طرح آج بھی غازیان آفس سے گھر لوٹ رہا تھا

آج معمول سے ہٹ کر روڈ پر رش تھا غازیان نے ایک آدمی سے رش کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا آگے پولیس چیکینگ چل رہی ہے اسی وجہ سے رش ہے

تین چار گاڑیوں کے بعد غازیان کی گاڑی کا نمبر آیا

پولیس اہلکاروں نے غازیان کو کار سے باہر نکلنے کو کہا

تو وہ خاموشی سے باہر آگیا

انسپیکٹر نے دو حولدار کو غازیان کی کار کی تلاشی لینے کا اشارہ کیا خود غازیان سے سوال جواب کرنے لگا جن کے پوری ایمانداری سے جواب دیے

قریب پانچ منٹ بعد ایک حولدار ہاتھ میں ایک سفید پیکٹ پکڑے آیا

سر یہ ان کی گاڑی سے برامد ہوا ہے گاڑی میں اور بھی ہے

یو آر انڈر آریسٹ غازیان فاتح ملک

انسپیکٹر ہتھکڑی غازیان کے ہاتھ میں ڈالتے ہوۓ کہا

غازیان کنگ رہ گیا تھا اس کی گاڑی سے ڈرگس برآمد ہوۓ ہیں اس کو اپنے باپ کی اتنے سالوں بناٸی ساخت مٹی ہوتی نظر آرہی تھی

جانے کیسے میڈیا کو بھی غازیان کے آریسٹ ہونے کی خبر مل گٸ پولیس اسٹیشن پھنچتے ہی بہت میڈیا والے اپنے ماٸیک اور کیمرے لیے اس سے سوال کررہے تھے

وہ صدماتی کیفیت میں انسپکٹر کے ساتھ کھینچتا چلا جارہا تھا

چل سالے تجھ جیسے نوجوانوں کی وجہ سے ہی ہماری قوم تنزلی کی طرف جارہی ہے ایسا سبق سیکھاٶں گا نہ تجھے کے زندگی بھر یاد رکھے گا

انسپیکٹر نفرت سے کہتا اسے جیل میں قید کرچکا تھا

غازیان کو ابھی بھی کوٸی ہوش نہیں تھا وہ تو بس صدمے میں تھا آج صبح تک سب کتنا اچھا چل رہا تھا مگر یہ اچانک سے کونسا طوفان آگیا اس کی زندگی میں اب کونسی آزماٸش ہے منتظر ہے اس کی

فاتح صاحب آفس سے ابھی گھر لوٹے تھے فروزہ بیگم کو چاۓ کا کہہ کر خود ٹی وی پر خبریں سننے بیٹھ گۓ

سارے خبروں کے چینل پر غازیان ہی چھایا ہوا تھا ہر نیوز چینل اپنی طرف سے نمک مرچ لگا کر خبر نشر کررہا تھا

بیٹے کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں دیکھ کر فاتح صاحب کا دل کٹ کے رہ گیا

انھوں نے جلدی سے ٹی وی بند کیا

کار کی چابی اور موباٸل اٹھا کر گھر سے باہر نکل گۓ