Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Na Hona Mujhse Juda Episode 5

Na Hona Mujhse Juda by Misbah Khalid

فاری ایک منٹ

غازیان کی آواز پر فارینہ کے ڈریسینگ روم کی طرف جاتے قدم تھمے تھے

اب کیا مسلٸہ ہے تمھارے ساتھ میں کپڑے بھی اپنی مرضی سے بدلنے نہیں جاسکتی

فارینہ رخ موڑ کر تڑخ کر بولی تھی

یہ پکڑو جاٶ پہن کر آٶ

فارینہ کا سوال نظر انداز کرتا وہ اس کے سامنےایک شوپر کرتا بولا تھا

اس میں کیا ہے ؟

فارینہ نے سوالیہ نظروں سے غازیان کو دیکھا تھا

جو بھی ہے تمھیں اس کو پہننا ہے اب یہ شوپر پکڑو اس میں جو بھی ہے پہن کر آٶ

غازیان فارینہ کے ہاتھ زبردستی تھیلی تھماتا بولا تھا

فارینہ نے شوپر کھول کر اس میں موجود کپڑے نکالے تو فارینہ کا منہ کھلا رہ گیا شرم اور غصے سے چہرہ سرخ ہوگیا

کیونکہ اس شوپر میں ایک سرخ رنگ کی ناٸیٹی تھی جو صرف گھٹنوں تک تھی آستین تو نہ ہونے کے برابر تھیں اگلا اور پچھلا گلا کافی گہرا تھا

میں نہیں پہنوں گی یہ فرنگیوں کا لباس

فارینہ ناٸیٹی صوفے پر پھینکتی ڈریسینگ روم میں چلی گٸ تھی

اس سے پہلے وہ دروازہ بند کرتی غازیان بھی ناٸٹی اٹھا کر ڈریسینگ روم میں گھس گیا تھا

کوٸی بات نہیں فاری جان اگر تمھیں یہ ڈریس پہننے میں کوٸی دقت پیش آرہی ہے تو میں خود اپنی جان کو یہ ڈریس پہنا دیتا ہوں

غازیان دروازہ بند کرتا فارینہ کی طرف بڑھا تھا

دی دیکھو غا غازی تو تم میرے ساتھ ای ایسا نہیں کا کر سکتے جاٶ یہاں سے

فارینہ الٹے قدم لیتے گھبراتی ہوٸی بولی

نہیں یہ ڈریس تمھیں پہنا کر ہی باہر نکلوں گا

غازیان نے ایک جھٹکے سے فارینہ کا دوپٹہ اتار کر پھینکا تھا اس کی کمر پکڑ کر اپنے قریب کرتا اس کے کندھے سے قمیض سرکاٸی تھی

ااااچھا اچھا مہ میں خود پہن ر رہی ہوں پ پلیز چھوڑو مجھے

فارینہ اپنی بےبسی پر آنسوں بہاتی راضی ہوگٸ تھی

ہمم گڈ کرل جلدی سے پہن کر آجاٶ میں باہر ویٹ کررہا ہوں

غازیان فارینہ کا رخسار تھپتھپاتا باہر نکل گیا تھا

واٶ فاری جان یو لُک ہاٹ

(you look hot)

غازیان فارینہ کا خوبصورت سراپہ دیکھتا گویا ہوا تھا

فارینہ کی ٹانگیں لرز رہی تھیں آنکھوں میں نمی تھی اپنے دل میں وہ غازیان کو کتنی ہی بار کوس چکی تھی بےشرم بدتمیز جیسے القابات سےبھی نواز چکی تھی

بس دیکھ لیا تم نے مجھے اب میں جارہی ہوں کپڑے بدلنے

فارینہ ابھی بول کر گھومی ہی تھی

غازیان نے آگے بڑھ کر اس کا نازک وجود بانہوں میں بھر لیا

چھوڑو مجھے کیا کر رہے ہو گھٹیا انسان چھوڑو مجھے

فارینہ ہاتھ پیر مارتی چلارہی تھی

غازیان بہرا بنا اسے لیے بیڈ کی طرف بڑھ گیا تھا

آہ جاہل انسان جنگلی کہی کے

غازیان نے فارینہ کو بیڈ پر پھینکا تھا

فارینہ نے کراہتے ہوۓ غازیان کو نۓ القابات سے نوازہ تھا

ابھی پتا چلے گا تمھیں جان

میں کتنا جنگلی اور جاہل ہوں

غازیان شرٹ کے بٹن کھولتا گویا ہوا

فارینہ نے اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی لیکن غازیان اس کی پینڈلی پکڑتا واپس اپنے پاس گھسیٹ چکا تھا

نہیں نہیں غازی پلیز مجھے یہ سب نہیں پسند پلیز غا…..

فارینہ کے باقی لفظ اس کے منہ میں دم توڑ چکے تھے کیونکہ غازیان فارینہ کے لبوں کو اپنی قید میں لے چکا تھا

غازیان خود کو سیراب کرتا آہستہ آہستہ اس کی گردن کی طرف جھکا تھا وہ اس پر جابجہ اپنا لمس چھوڑتا ہر حدود پار کرگیا تھا

فارینہ نڈھال سی اس کی بانہوں میں قید آنسوں بہاتی رہی تھی

فاری جان صبح ہوگٸ ہے اٹھنا نہیں ہے کیا جلدی سے اٹھو مجھے دیر ہورہی آفس کے لیے

غازیان آٸینے کے سامنے کھڑا ٹاٸی باندھتا فارینہ کو آوازیں لگا رہا تھا لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوٸی

وہ صبح نہا کر فجر کی نماز پڑھ کر سوٸی تھی ساری رات غازیان نے اس کو سونے نہ دیا تھا اس لیے اب وہ بے خبر سورہی تھی

غازیان نفی میں سر ہلاتا بیڈ کے قریب فارینہ کے سرہانے کھڑا ہوگیا

فاری جان اٹھنے کا موڈ نہیں کیا

غازیان نے جھک کے فارینہ کے کان میں سرگوشی کی تھی

سونے دو نہ غازی

فارینہ منہ بسورتی نیند میں ہی بڑبڑاٸی تھی

فاری اٹھو مجھے دیر ہورہی ہے آفس کے لیے ناشتہ بنا کر دو مجھے

غازیان ساری نرمی ایک طرف رکھتا درشتگی سے گویا ہوا

میں تمھاری نوکر نہیں لگی گھر میں بہت نوکر ہیں بنوالو کسی سے بھی ناشتہ

فارینہ بھی غصے سے دھاڑی تھی

نوکر نہیں بیوی تو ہو آج سے میرے سارے کام تم کروگی سمجھی تم

میرے کسی کام کو موم یا کوٸی ملازم ہاتھ نہیں لگاۓ گا میرے ایک ایک کام تم کرو گی

اٹھو اب جلدی

غازیان غصے سے کہتا فارینہ کا بازوں پکڑ کر اسے کھینچ کر بیڈ سے اٹھا چکا تھا

تمھیں شرم نہیں آتی اپنی ایک دن کی دلہن سے گھر کے کام کرواتے ہوۓ ابھی تو میرے ہاتھوں کی مہندی بھی نہیں ہٹی تم مجھے گھر کے کاموں پر لگا رہے ہو

غصہ کام نہ آیا تو فارینہ نے دوسرے طریقے سے جان چھڑانا چاہی لیکن افسوس یہ طریقہ بھی کام نہ آیا

یہ چونچلے مجھے نہیں پسند جاٶ جلدی ناشتہ بناٶ میرے لیے آرہا ہوں میں

فارینہ پاٶں پٹختی دل میں غازیان کو صلواتے سناتی کمرے سے باہر نکل گٸ

فارینہ تم صبح صبح کچن میں کیا کررہی ہو

آپ کے لاڈلے کے لیے ناشتہ بنا رہی ہوں

وہ اپنا غصہ برتنوں پر نکالتی غازیان کے لیے ناشتہ بنانے میں مصروف تھی فروزہ بیگم کی آواز پر گردن موڑ کر ان کو جواب دے کر دوبارہ اپنے کام میں لگ گٸ

کیا تم کیوں بنا رہی ہو ناشتہ ہٹو پیچھے میں بناٶں گی ناشتہ ابھی تو تمھاری ہاتھ کی مہندی کا رنگ تک نہیں اترا اور تم ہوکہ ناشتہ بنانے کھڑی ہوگٸیں

فاٸزہ بیگم حیران ہوتیں فارینہ کو پیچھے کرتی بولیں

آپی یہ بات نہ آپ اپنے اس گھامڑ کو سمجھاٸیں جس نے مجھے نیند سے جگا کر زبردستی کچن میں بھیجا ہے

فارینہ دانت پیستی بولی

اچھا میں سمجھا دوں گی اس کو تم چھوڑو یہ میں گوندھ لوں گیں آٹا تم جاٶ تیار ہوکر آٶ

فروزہ بیگم فارینہ کے ہاتھ سے آٹا لیتی بولیں

موم میں پہلی اور آخری بار کہہ رہا ہوں میرے سارے کام فارینہ کرے گیں میرا ناشتہ دوپہر کا کھانا رات کا کھانا میرے کپڑے پریس کرنا اور میری ہر ضرورت کا خیال رکھنا سب آج سے فارینہ کی ذمہ داری ہے آپ صرف آرام کریں اور اپنے شوہر کی خدمت کریں

غازیان کے دوٹوک الفاظ پر فروزہ بیگم بھی خاموش ہوگٸیں

دیکھا آپ نے آپی آپ کا یہ بدتمیز بیٹا مجھے اپنی خدمتیں کرانے کے لیے بیاہ کر لایا ہے اس کو ذرا شرم نہیں آرہی اپنی ایک دن کی دلہن سے نوکروں کی طرح کام کرواتے ہوۓ

فارینہ رندھے ہوۓ لہجے میں کہتی بچوں کی طرح فروزہ بیگم سے غازیان کی شکایت کرنے لگی

بیٹا ۔۔۔۔

نو موم نو بلکل حمایت لینے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو ان کی یہ میری بیوی ہیں جیسا میں چاہوں گا یہ وہی کرے گیں اور ویسے بھی مستقبل میں بھی تو میرے سارے کام یہ ہی کرے گیں نہ تو ابھی سے کام کرنے میں کوٸی مضحکہ نہیں

فاٸزہ بیگم کے کچھ کہنے سے پہلے ہی غازیان اپنی بات شروع کرچکا تھا

دونوں ہی خاموش ہوگٸیں تھیں کیا کہتی اس بدلحاظ شخص کے سامنے

میں ویٹ کررہا ہوں پانچ منٹ میں ناشتہ بنا کرلاٶ

غازیان فارینہ کو آرڈر دیتا کچن سے باہر نکل گیا

فروزہ بیگم نفی میں سر ہلاتے چاۓ کا پانی رکھنے لگیں فارینہ بھی منہ بناتی دوبارہ کام میں لگ گٸ

فاری جان تم بھی تو ناشتہ کرو میرے ساتھ

فارینہ کو واپس کچن میں جاتا دیکھ غازیان نے اس کا ہاتھ تھام کے محبت سے کہا

میں آپی کے ساتھ کرلوں گی ناشتہ اور ویسے بھی میں نے صرف تمھارا ناشتہ بنایا ہے اپنا نہیں بنایا

فارینہ اپنا ہاتھ غازیان کے ہاتھ سے چھڑواتی گویا ہوٸی

تو کیا ہوا ہم اسی میں سے ناشتہ کرلے گے ویسے بھی ساتھ کھانے سے محبت بڑھتی ہے

غازیان فارینہ کا ہاتھ پکڑتا اسے اپنی گود میں بٹھا چکا تھا

غازیان فاتح یہ کیا حرکت ہے چھوڑوں مجھے شرم نام کی کوٸی چیز ہے بھی یا نہیں تم میں بے ہودہ انسان

فارینہ غازیان کی گود میں مچلتی دانت پیستی بولی

فاری جان سیدھی طرح میری بات مان لیتیں تو میں یہ سب نہ کرتا لیکن اب تمھیں ایسے ہی میرے ساتھ میرے ہاتھوں سے ناشتہ کرنا ہوگا

غازی چھوڑوں پلیز کوٸی دیکھ لے گا کیا سوچے گا ہمارے بارے میں

فارینہ غازیان کا ڈھیٹ پن دیکھتے ہوۓ التجا کرنے لگی

نو جان نو اب کچھ نہیں ہوسکتا اور جس کو دیکھنا ہے دیکھ لے جو سوچنا ہے سوچ لے آٸی ڈونٹ کیر

فارینہ خاموش ہوگٸ غصے اور حیا سے چہرا سرخ ٹماٹر ہوگیا تھا

غازیان نے نیوالا بنا کر فارینہ کی طرف بڑھایا تو اس نے خاموشی سے کھا لیا

کیونکہ اب اس کے پاس خاموشی سے ناشتہ کرنے کے علاوہ کوٸی راستہ نہیں

ایک دو نوکر بھی ان کو اس طرح دیکھ کر نظریں جھکاتے نکل گۓ فارینہ کا جھکا سر مزید جھک گیا

کاش غازی بازار میں شرم فروخت ہوتی تو میں تھوڑی سی شرم لا کر تمھارے منہ پر مار دیتی

فارینہ غصے سے غازیان کے سینے پر ہاتھ مارتی بولی

کاش تم کرسکتی لیکن افسوس یہ تو نہ ممکن ہے

غازیان نے فارینہ کا مزید خون جلایا

فارینہ غصے سے اسے گھورتی رہی اور وہ مسکراتا رہا اسی تکرار کے درمیان ناشتے کا اختتام ہوا

غازیان نے فارینہ کا سرخ رخسار چوما اور اسے گود سے اتار دیا

فارینہ رہاٸی ملتے ہی کمرے میں بھاگ گٸ

غازیان مسکراتا ہوا فروزہ بیگم کو الوداع کہتا گھر سے باہر نکل گیا

”اب تو بے مقصد ہی مسکراتا ہوں

میری محبت جو میرے پاس ہے “

بدتمیز گھٹیا انسان بے ہودہ بے حیا چھچورا ٹھرکی کہی کا ۔۔۔۔۔

غازی میں تمھارا خون پی جاٶں گی

کتنی شرمندگی ہوٸی مجھے ملازموں کے سامنے تمھاری وجہ سے چھوڑوں گی نہیں میں تمھیں

فارینہ خود سے باتیں کرتی غازیان کو سبق سیکھانے کا منصوبہ بنا رہی تھی

موم کیا ڈیڈ سے آپ کی بات ہوٸی ہے کب تک واپسی ہے ان کی

غازیان نے کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہوۓ پوچھا

وہ تینوں اس وقت رات کا کھانا کھا رہے تھے غازیان کو فاتح مالک کی واپسی کی فکر ہوٸی

جی بیٹا میری بات ہوٸی تھی ان سے بس کچھ دن میں لوٹ آٸیں گے وہ

کیا آپ نے ڈیڈ کو میری شادی کا بتا دیا ہے؟

نہیں ابھی نہیں بتایا مجھے ٹینشن ہورہی ہے معلوم نہیں تمھاری شادی کے بارے میں جان کر ان کا ردِ عمل کیسا ہوگا

فروزہ بیگم فکر مندی سے بولیں

موم آپ ریلکس ہوجاٸیں میں سنبھال لوں گا ویسے بھی شادی میں نے اپنی مرضی سے کی ہے تو ڈیڈ کو جوابدہ بھی میں ہوں گا آپ نہیں

غازیان نے بر اعتماد لہجے میں کہا

ٹھیک ہے لیکن بیٹا آپ آرام سے بات کرنا جانتے ہیں نہ آپ کے ڈیڈ کا غصہ کتنا تیز ہے

فروزہ بیگم جانتی تھی ان کا غصہ کتنا تیز ہے

ان کو وہ دن یاد آگیا

وہ کچن میں موجود دوپہر کا کھانا تیار کررہیں تھیں کہ غازیان کے کمرے سے فاتح صاحب اور غازیان کی چیخ و پکار کی آواز سن کر فوراً بھاگی تھیں

وہاں کا منظر دیکھ کر ان کی آنکھیں پھٹی رہ گٸیں تھیں

فاتح صاحب بےدردی سے سولہ سالہ غازیان کو بیلڈ سے مار تھے وہ روکتی رہ گٸیں لیکن فاتح صاحب کو اپنے اکلوتے بیٹے پر ترس نہیں آیا تھا

وہ پوچھتی رہ گٸیں کیا کیا ہے غازیان نے لیکن وہ کچھ نہیں بولے

اپنا غصہ زخموں سے چور غازیان پر نکال کر کمرے سے چلے گۓ تھے

سسکتے غازیان کو اپنے سینے لگا کے فروزہ بیگم بھی رو دیں تھیں

غازیان سے بھی انھوں بہت بار پوچھا اس نے ایسا کونسا جرم کیا تھا کہ فاتح صاحب نے اسے اتنا مارا لیکن وہ خاموش رہا

اس کے بعد فروزہ بیگم نے بھی کبھی دوبارہ اس بات کا ذکر نہیں کیا

موم آپ فکر نہیں کریں

غازیان نے فروزہ بیگم کے پریشان چہرے پر نظر ڈالتے ہوۓ ان کو یقین دلایا تھا وہ سب ٹھیک کردے گا

غازیان بھی اپنی ماں کا ڈر سمجھ گیا تھا

جبکہ فارینہ خاموشی سے اپنے کھانے میں مصروف تھی اسے تو جیسے کوٸی فرق نہیں پڑھ رہا تھا ان باتوں سے

امی آپ کی چاۓ

بس یہ ہی کرنا تم بس کتنا سمجھایا تھا پھنسا لے اس امیر زادے کو مگر نہ بھٸ مجال ہو کبھی ماں کی کوٸی بات سنی ہو تو اب لے اڑی نہ تیری وہ سیانی پھوپھو اس شہزادے کو جانے کب عقل آۓ گی تجھے

شہناز بیگم انابیہ کو صلواتے سناتی چاۓ کا کپ تھام چکی تھیں

امی ساری باتیں تو مانتی ہوں آپ کی آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں وہ غازیان بھاٸی میرے لیے بلکل احمر بھاٸی کی طرح ہیں میں نے ان کے بارے میں کبھی ایسا نہیں سوچا

انابیہ نے شہناز بیگم کو سمجھانے کی کوشش کی

اری چپ کر بھاٸی سمجھتی ہوں شادی سے پہلے سب بھاٸی ہوتے ہیں اور میں تجھے آخری بار کہہ رہی ہوں اگر توں نے اب میرے کہے پر عمل نہ کیا تو مجھے کبھی ماں نہ کہہ کر پکاریو یوں سمجھ لیوں مر گٸ تیری ماں سمجھی توں

شہناز بیگم نے انابیہ کا بازوں پکڑ کر جھنجوڑا

امی کیسی باتیں کررہی ہیں ایسے تو نہ بولیں

انابیہ روہانسی ہوٸی تھی

چپ بلکل اب جیسا میں بولوں ویسا کرنا ہے تجھے نہیں تو بھول جاٸیوں تیری کوٸی ماں بھی ہے اس دنیا میں

شہناز بیگم کی بات سن کر انابیہ بےبسی سے اثبات میں سر ہلا گٸ تھی

وہ آہستہ سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا تھا آٸینے کے سامنے کھڑی اپنی کل کاٸنات کو دیکھ کر اس کا دل شاد ہوا تھا

وہ دھیمے قدم چلتا اس کی پشت پر کھڑا ہوا اسے تک رہا تھا ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر پھیلی ہوٸی تھی

فاری جان ناٸٹی نہیں پہنی جو میں کل دلا کر لایا تھا

وہ اس کی پشت سے اسے بانہوں میں بھرتا گویا ہوا

نہیں میں نے سوچا تم آٶ گے تو تم سے پوچھ کر تمھاری پسند کی ناٸیٹی پہنوں گی

فارینہ آٸینے میں دیکھتی اپنے پیچھے کھڑے غازیان کو دیکھتی میٹھے لہجے میں گویا ہوٸی

غازیان جو یہ سوچ رہا تھا فارینہ ابھی دھکا مار کر اسے خود سے دور کرے گی فارینہ کے جواب پر حیران رہ گیا

پھر خود پر قابوں کیے گویا ہوا

جی جان کیوں نہیں تم مجھے بتاٶ ناٸٹی کہاں رکھیں ہیں میں ابھی خود نکال کر لاتا ہوں تمھارے لیے اپنی پسند کی ناٸٹی

غازیان چہک کر بولا

ڈریسینگ روم میں رکھیں ہیں

اوکے میں ابھی لاتا ہوں

غازیان مسکراتا ہوا ڈریسینگ روم میں چلا گیا

اب آۓ گا مزا

غازیان فاتح مالک تمھیں بہت شوق ہے نہ مجھے یہ فرنگیوں کا لباس پہنانے کا

ہنہ یہ گھٹیا لباس پہنتی ہے میری جوتی

فارینہ ایک ادا سے بال جھٹکتی خود کلام ہوٸی

فارینہ یہ کیا کیا تم نے میں نے کتنے پیار سے خریدیں تھیں تمھارے لیے اور تم نے یہ حال کیا ان کا

غازیان ہاتھ میں کٹی پٹی ہوٸی ناٸٹیاں پکڑے ڈریسینگ روم سے باہر نکلا

یہ بدلہ ہے تمھاری صبح والی بےحیاٸی کا تم جانتے ہو تمھاری وجہ سے میں پورے دن ملازموں کے سامنے شرمندہ ہوتی رہی

کس بات کی شرمندگی میں کوٸی غیر ہوں تمھارا اپنا ذاتی شوہر ہوں

غازیان فارینہ کو بانہوں میں بھرتا بولا

ہٹو پیچھے زیادہ چپکا نہیں کرو مجھ سے

فارینہ غازیان کو پیچے کرتی بیڈ پر جا کر لیٹ گٸ

غازیان بھی کہاں ماننے والا تھا

وہ بھی کمرے کی لاٸٹ بند کرکے بیڈ پر جاکر لیٹ گیا اور فارینہ کو اپنی طرف کھینچ کر اسے بانہوں میں بھر کر آنکھیں موند گیا

فارینہ کو معلوم تھا غازیان سوتے ہوۓ کسی طور اسے خود سے دور ہونے نہیں دے گا اس لیے خاموشی سے آنکھیں موند گٸ

وقت آہستہ آہستہ گزر رہا تھا

غازیان نے اپنے کہے کے مطابق اپنا سارا کام فارینہ کے ذمےلگا دیا تھا

فارینہ بھی کچھ حد تک غازیان کے ساتھ کو قبول کرچکی تھی

فارینہ کا ساتھ پاکر غازیان کی شخصیت میں کچھ تبدیلی آٸی تھی اب تھوڑا بہت مسکرا لیا کرتا تھا

فروزہ بیگم سے بھی اپنی محبت کا اظہار کرنے لگا تھا وہ صبح آفس جاتے ہوۓ فارینہ کے ساتھ فروزہ بیگم کی پیشانی پر بھی بوسہ دیتا تھا

فروزہ بیگم غازیان کے اندر آنے والے بدلاٶ سے بہت خوش تھی فارینہ کی طرف سے بھی پرسکون تھی کیونکہ فارینہ نے بھی آہستہ آہستہ ہی سہی غازیان کے ساتھ کو قبول کرلیا تھا کیونکہ اس کے علاوہ اس کے پاس کوٸی چارہ نہیں تھا

دوسرا یہ کہ غازیان کی بے انتہا محبت نے فارینہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا

وہ بھی یہ بات سمجھ چکی تھی غازیان کے علاوہ اسے کوٸی خوش نہیں رکھ سکتا

ان کی شادی کو ایک ہفتہ ہوچکا تھا

آج فاتح صاحب کی وطن واپسی تھی

فروزہ بیگم اپنے محبوب شوہر کے لیے ان کے من پسند پکوان تیار کررہیں تھیں

فارینہ ملازموں سے گھر کی صفاٸی کروا رہی تھی

غازیان فاتح صاحب کو لینے اٸیرپورٹ گیا ہوا تھا

آپی یار بس کریں سب تیار ہوگیا ہے آپ جاٸیں تیار ہوجاٸیں کہی جیجو آپ کو دیکھ کر ڈر نہ جاٸیں

اچھا میری حالت اتنی خراب ہورہی ہے کیا

فروزہ بیگم خود پر نظر ڈالتی بولیں

آپی میں مزاق کررہی ہوں یار آپ جلدی جاٸیں تیار ہوٸیں میں غازی سے کال کرکے پوچھتی ہوں وہ لوگ کب تک پوچھ رہے ہیں

اچھا اچھا میں تیار ہوکر آتی ہوں

فروزہ بیگم مسکراتی ہوٸیں اپنے کمرے میں چلیں گٸیں

فارینہ غازیان کو کال ملاتی لاٶنج میں رکھے صوفے پر بیٹھ گٸ

میری جان کو کیسے یاد آگٸ میری

نہ سلام نہ دعا بس کال اٹھاتے ہی بکواس شروع

اچھا سوری

اَلسَلامُ عَلَيْكُم

غازیان منہ بسورتا گویا ہوا

ہممم گڈ بواۓ وَعَلَيْكُم السَّلَام

چلو بتاٶ جیجو کو لے کر کب تک آرہے ہو

بس ڈارلینگ کچھ ہی دیر میں آپ کا غلام حاضر ہوتا ہے آپ کے سسر کو لے کر

غازیان خوش تھا فارینہ اب اس سے لڑتی جھگڑتی نہیں تھی بلکے نرمی سے بات کرتی تھی اور اس کی شرارت سے بھری محبت پر مسکراتی تھی نہ کے غصہ کرتی

اوکے جلدی آجاٶ ہم لوگ کھانے پر ویٹ کررہے ہیں

ہممم جو آپ کا حکم بیگم

غازیان دل پر رکھتا گویا ہوا

اوکے خدا حافظ

فارینہ کھلکھلاتی ہوٸی کال منقطع کرگٸ

فلاٸٹ لینڈ ہوچکی تھی سب اپنے پیاروں کے انتظار یہاں وہاں نظریں دوڑا رہے تھے جن میں غازیان بھی شامل تھا

کچھ ہی دیر میں اسے سامنے والے دروازے سے فاتح صاحب نکلتے نظر آۓ

ڈییییییڈ

غازیان فاتح صاحب کو دیکھتا ہاتھ ہلاتا چیخا

اس کے چیخنے پر بہت سے لوگوں نے اسے پلٹ کر دیکھا تھا لیکن فکر کس کو تھی

فاتح صاحب بھی غازیان کو دیکھ چکے وہ مسکراتے ہوۓ اپنی بانہیں پھیلاتے غازیان کی طرف بڑ رہے تھے

غازیان خوش ہوتا بھاگتا ہوا ان کی بانہوں میں سما گیا ۔