Na Hona Mujhse Juda by Misbah Khalid NovelR40489 Na Hona Mujhse Juda Episode 10 (Last Episode)
No Download Link
Rate this Novel
Na Hona Mujhse Juda Episode 10 (Last Episode)
Na Hona Mujhse Juda by Misbah Khalid
غازیان الجھا
فاری کیا پوچھنا چاہتی ہو تم سیدھا سیدھا پوچھو
میں وہی پوچھنا چاہتی ہوں جو تم چھپا رہے ہو
غازی مجھے جاننا ہے تم اس شخص کے ساتھ کیا کررہے تھے جس نے مجھے بیچ راہ میں تنہا چھوڑ کر کسی اور کا ہاتھ تھام لیا
جس نے میرے آنسوٶں پر اپنی خوشیوں کا آشیانہ بنایا وہ شخص کیا کررہا تھا تمھارے ساتھ
فارینہ اس کا گریبان مٹھیوں میں جکڑے چیخی تھی
غازیان سارا معاملہ سمجھ چکا تھا
اس نے نرمی سے فارینہ کے ہاتھوں سے اپنا گریبان چھڑوایا تھا اور اسے اپنے حصار میں لیے بیڈ پر بٹھایا تھا
تمھاری طبیعت خراب ہوجاۓ گی اس طرح نہیں ظلم کرو خود پر تمھیں سچ جاننا ہے تو میں بتاتا ہوں نہ بس تم ریلکس رہو
غازیان محبت سے بولا
وہ تھوڑی ٹھنڈی ہوٸی
ٹھیک ہے بتاٶ مجھے کیا تعلق ہے تمھارا اس شخص سے
فاری تم جانتی ہو نہ میں تم سے بچپن سے محبت کرتا ہوں تمھیں میں نے کبھی کسی لڑکے کیا لڑکی کے قریب بھی نہیں ہونے دیا تو میں کیسے تمھیں کسی اور کا ہونے دیتا
موم نے جب مجھے بتایا تمھارا رشتہ طے ہوگیا ہے اور ایک ماہ بعد شادی ہے
مجھے ایسا محسوس ہوا کسی نے میری روح کھینچ لی ہو میرا دل بند ہونے کے قریب تھا
پھر میں نے باتوں باتوں میں موم سے اس لڑکے کے بارے میں سب پوچھ لیا
اور دوسرے دن ہی میں اس کے آفس پہنچ گیا
میں آفس کی عمارت میں داخل ہوتا اس سے پہلے ہی مجھے وہ باہر نکلتا نظر آیا وہ گاڑی میں بیٹھا اور نکل گیا میں نے اس کا پیچھا کیا
اس نے ریستوران کے سامنے گاڑی روکی میں بھی اس کے پیچھے تھا
وہ ریستوران میں داخل ہوا اور وہاں ایک لڑکی سے ملا
میں بھی ان کی ساتھ والی ٹیبل پر بیٹھ کر ان کی باتیں سننے لگا
وہ دونوں یونیورسٹی سے ایک دوسرے کو جانتے تھے اور محبت کرتےتھے لیکن عامر کے گھر والے نہیں مان رہے تھے کیونکہ لڑکی غریب گھر کی تھی
عامر کے والد نے اسے دھمکی دی تھی اگر اس نے ان کی پسند کی لڑکی سے شادی نہیں کی تو وہ اسے عاق کردینگے
وہ تم سے اپنے والد کے دباٶ میں آکر شادی کررہا تھا
وہ لڑکی بہت رو رہی تھی عامر بھی بے بس سا بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا
تو پھر تم نے کیا کیا ایسا جو وہ تمھاری بات مان گیا
فارینہ سنجیدگی سے بولی
میں نے ان دونوں سے بات کی اور ان کو شادی کرنے کا مشورہ دیا
ان کی رہاٸش اور نوکری کا مسلٸہ بھی میں نے حل کیا
عامر کو میں نے اپنے آفس میں جاب دے دی اور ایک مکان بھی کراۓ پر دلوا دیا
عامر اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا کب تک ناراض رہتے وہ اس سے ان کی شادی کے کچھ دن بعد وہ بھی مان گۓ اب وہ اپنی زندگی میں خوش ہے اور میرا اچھا دوست بھی ہے
اس نے تم سے پوچھا نہیں تم اتنا سب کچھ کیوں کررہے ہو اس کے لیے
فارینہ نے استفسار کیا
ہاں پوچھا تھا میں نے اپنی محبت کی کہانی سنادی
غازی مسکراتا ہوا بولا
دل تو چاہ رہا ہے کھینچ کر تھپڑ لگاٶں تمھارے جب یہ سب ہی کرنا تھا تو میری شادی والے دن کا انتظار کیوں کیا کیوں تماشا بنایا سب کے سامنے میرا
فارینہ خفا ہوٸی
پھر میری شادی تم سے نہیں ہوتی نہ اور گھر والے بھی نہیں مانتے اس دن تو معاملےکی نزاکت کو سمجھتے ہوۓ سب راضی ہوگۓ ویسے راضی نہیں ہوتے
غازیان بچوں کی طرح منہ بناتا بولا
اب تو معاف کردو میری جان سب سچ بتادیا میں نے تمھیں
غازیان کان پکڑ کر بولا
اچھا ٹھیک ہے معاف کیا مگر آٸندہ مجھ سے کچھ مت چھپانا تم
نہیں کبھی نہیں چھپاٶں گا
وہ محبت سے اسے بانہوں میں بھینچ گیا تھا
فارینہ نے بھی غازیان کے گرد اپنے بازوں حماٸل کرلیے تھے
غازی تم کہاں تھے میں نے تمھیں کتنی کالز کیں تم نے ایک کا بھی جواب نہیں دیا
فارینہ غازیان کو کمرے میں داخل ہوتا دیکھ فکر مند سی بولی تھی
یار فاری آفس میں کام بہت تھا ڈیڈ بھی آفس نہیں آۓ ساری زمہ داری مجھ پر آگٸ تھی اس لیے لیٹ ہوگیا
غازیان نے وضاحت دی
اچھا ٹھیک ہے تم یہ کپڑے پہنو جلدی سے تیار ہوجاٶ کچھ دیر میں نکاح شروع ہونے والا ہے
فارینہ غازیان کو کپڑے تھماتی بولی
یار روکو تو دیکھ تو لینے دو مجھے
غازیان فارینہ کو اپنے سامنے کھڑا کرکے اس کا سجا سنورا روپ آنکھوں میں بسا رہا تھا
فارینہ کو چھٹا مہینہ لگا تھا
اس کے جسم میں بدلاٶ آنے شروع ہوگۓ تھے
اس کا جسم بھی کافی بھر گیا تھا
ہر وقت اس کے چہرے سے مامتا کا نور پھوٹتا نظر آتا تھا
سرخ کڑھاٸی دار ریشمی لمبی قمیض کے ساتھ سفید پلازوں زیپ تن کیے بھاری آویزے کانوں کی زینت بناۓ ہاتھوں میں بھری بھری چوڑیاں پہنے ہلکے پھلکے میکپ کے ساتھ فارینہ بہت پیاری لگ رہی تھی اس پر بال کے خوبصورت ہیر اسٹاٸل نے چار چاند لگا دیے تھے
اچھا نہ بس کرو اب نظر لگاٶ گے کیا
غازیان فارینہ کی آواز پر ہوش میں آیا تھا جو فارینہ کے سراپے میں کہی کھو گیا تھا
پیاری لگ رہی ہو بہت میرے پاس ہی رہو یہ دنیا والے کہی تمیں نظر نہ لگادیں
غازیان فارینہ کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے خود کے قریب کرگیا تھا
غازی بدتمیزی نہیں باہر سب مہمان آگۓ ہیں جلدی تیار ہوکر نیچے آٶ
فارینہ غازیان پیچھے دھکیلتی پیچھے ہوٸی
آنکھیں بڑی کرکے گھورنا بھی ضروری سمجھا تھا
کرلو ظلم مجھ معصوم پر گھر چل کر گن گن کے بدلے لوں گا
غازیان چہرے پر مصنوعی خفگی سجاتا فارینہ کو دھمکی دیتا واشروم میں گھس گیا تھا
فارینہ بھی مسکراتی کمرے سے نکل گٸ تھی
فارینہ اپنے میکے آٸی ہوٸی تھی اور غازیان کو بھی ہدایت کی تھی وہ بھی یہی آکر تیار ہو جبکہ فاتح صاحب راحل اور راشد صاحب کے صبح سے گھنچکر بنے ہوۓ تھے
فروزہ بیگم بھی اپنی بھابھیوں کے ساتھ گھر کاموں میں ہاتھ بنٹا رہیں تھی
فارینہ کی حالت کو مدِنظر رکھتے ہوۓ اس سے کم ہی کام لیا جارہا تھا
آج احمر اور وانیہ کا نکاح تھا
وانیہ لڑکی تھی ظاہر سی بات ہے جہاں لڑکی ہو وہاں رشتے بھی آتے ہیں
وانیہ کے بھی رشتے آرہے تھے
احمر اور وانیہ کے رشتے کا خاندان میں کسی کو نہیں معلوم تھا کیونکہ یہ بات ابھی گھر والوں تک ہی محدود تھی
احمر کو یہ بات بہت ناگوار گزرتی تھی کہ اس کے ہوتے ہوۓ اس کی منگیتر (جو اس کی بچپن محبت بھی ہے )کے رشتے آرہے ہیں
اس نے گھر میں شور کردیا اس کا نکاح کروایا جاۓ تاکہ سارے خاندان والے جان جاٸیں وانیہ صرف احمر کی ہے اور رخصتی تب ہوگی جب وہ اپنے پاٶں پر کھڑا ہوجاۓ گا
احمر کی اس تجویز سے وانیہ بھی بہت خوش ہوٸی تھی وہ تو دیوانی تھی احمر کی بچپن سے اپنے نام کے ساتھ کسی اور کا نام سوچنا بھی وہ گناہ سمجھتی تھی
گھر والے بھی راضی ہوگۓ تھے کیونکہ اس میں کچھ غلط بھی نہ تھا
چل اب جا وہ کمرے میں اکیلا ہے
امی پلیز ایسا نہیں کریں وہ میرے بھاٸیوں کی طرح ہیں میں نہیں کرنا چاہتی یہ سب
وہ بے بسی سے بولی تھی
ٹھیک ہے مت کر زندگی بھر مجھ سے کلام نہیں کریو توں مرگٸ آج سے تیری ماں تیرے لیے
اس کی ماں بےحسی کی اعلیٰ مسند پر تھی
امی ایسے نہ بولیں جیسا آپ بولیں گی میں ویسا ہی کروں گی
وہ اپنی ماں ہاتھ تھامتی بولی
جا پھر جلدی جا کمرے میں وہ اکیلا ہے
ماں کے حکم پر وہ منہ لٹکاتی اپنے قدم گھسیٹتی غازیان کے کمرے میں داخل ہوٸی
کمرا خالی تھا واشروم سے پانی کی آواز آرہی تھی
غازیان نہا رہا تھا
وہ اپنے ہاتھ مسلتی چکر کانٹنے لگی
دس منٹ بعد واشروم کا دروازہ کھولا
غازیان ٹاول سے بال رگڑتا باہر نکلا
انابیہ تم میرے روم میں کیا کررہی ہو
غازیان اپنے سامنے کھڑی انابیہ کو دیکھ کر حیران ہوا تھا کیونکہ اس کو یاد تھا وہ کبھی اس کے اتنا قریب نہیں ہوا جو وہ اس طرح اس کے روم میں آگٸ ہے جیسے ان کے درمیان بہت خوشگوار تعلقات ہو
وہ وہ مجھے آپ سے بات کرنی ہے کچھ
انابیہ ابھی بھی اپنے ہاتھ مسلتی گھبراہٹ چھاپانے کی کوشش کررہی تھی
ہاں بولو سن رہا ہوں
غازیان بے زاری سے کہتا آٸینے کے سامنے کھڑا ہوکر بال سنوارنے لگا
وہ میں
وہ ہچکچاٸی تھی
اس کی ماں نے اس کو عجیب مصیبت میں پھنسا دیا تھا
ایک طرف ماں تھی تو ایک طرف جان سے پیاری پھپھو جس نے ہمیشہ اسے چھوٹی بہن جیسا مان دیا تھا
انابیہ جلدی بولو جو بولنا ہے میرے پاس فالتو وقت نہیں تم پر ضاٸع کرنے کے لیے
غازیان جھنجلا کر بولا
وہ میں آپ کو بہت پسند کرتی ہوں شادی کرنا چاہتی ہوں آپ سے
انابیہ نے آخر اپنی ماں کی بات کا مان رکھتے ہوۓ اپنا کردار مشکوک بنادیا
غازیان نے غصے میں ہاتھ میں پکڑا کومب کو آٸینے پر مارا تھا پھر انابیہ کی طرف آیا
اس سے پہلے میں اپنا ضبط کھو بیٹھو نکلو میرے کمرے سے
غازیان دبا دبا سا غرایا تھا
ضبط کے مارے چہرا سرخ ہوگیا تھا آنکھوں میں انتہا کی سختی تھی چہرے کے نقوش سخت سے سخت ہوتے جارہے تھے
انابیہ ابھی بھی ڈھیت بنی وہی کھڑی رہی
پلیز ایسا نہیں کریں میں بہت محبت کرتی ہوں آپ سے میں آپ کی دوسری بیوی بننے کو بھی تیار ہوں
عنایہ نظریں جھکاۓ اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتی گویا ہوٸی
ایسے نہیں مانو گی تم
غازیان نے اس کا بازوں اپنی مضبوط گرفت میں لیا تھا اور اسے گھسیٹتا ہوا دروازے کی طرف لے جا رہا تھا
چھوڑیں مجھے
انابیہ نے اپنی پوری طاقت لگا کر غازیان کو دھکا دیا تھا
غازیان گرتے گرتے بچا
اسے اندازہ نہیں تھا یہ نازک سی لڑکی اسے اس طرح دھکا بھی دے سکتی ہے
غازیان کو مزید طیش آیا تھا وہ دوبارہ اس کی طرف بڑھا
لیکن انابیہ نے شور مچانا شروع کردیا
نہیں چھوڑیں مجھے غازیان بھاٸی یہ کیا کررہے ہیں
چھوڑیں میں آپ کی بہن جیسی ہوں
پلیز دور رہیں مجھ سے
انابیہ شور کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا حلیہ بھی بگاڑ رہی تھی
اپنا دوپٹہ زمین پر پھینک دیا تھا بال بکھیر لیے ہونٹوں پر لگی لپسٹک پھیلا لی تھی قمیض کے گلے میں لگی ڈوریاں بھی کھول دی
غازیان دم بخوت سا اسے دیکھ رہا تھا
اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا جس کو وہ معصوم سیدھی سادھی لڑکی سمجھ رہا تھا وہ اس حد تک گرا ہوا فعل انجام دے سکتی ہے
تم پاگل ہوگٸ ہو کیا ؟
یہ کیا کررہی ہو ؟
غازیان نے اسے دونوں بازوں پکڑ کر جھنجوڑا تھا
عین اسی وقت دروازہ کھولا تھا
دروازے کے پار سے سب سنتی شہناز بیگم کمرے میں داخل ہوٸیں تھیں ان کے پیچھے کچھ مہمان اور گھر کے افراد بھی داخل ہوۓ تھے
جو انابیہ کی چیخ و پکار پر کمرے کی طرف متوجہ ہوۓ تھے
غازیان بجلی کی سی تیزی سے انابیہ سے دور ہوا تھا
امی
انابیہ بین کرتی شہناز بیگم کے سینے سے لگی تھی
یہ سب کیا ہورہا ہے غازیان کیا کررہے تھے تم میری بچی کے ساتھ
شہناز بیگم عنایہ کو اپنی بانہوں میں سماتی چیخی
میں نے کچھ نہیں کیا آپ کی بیٹی کا دماغ خراب ہوگیا ہے علاج کرواٸیں اس کا جاکر
غازیان نے دانت پیس کر جواب دیا
امی یہ جھوٹ بول رہے ہیں میں تو ان کو نکاح کے لیے بلانے آٸی تھی اور انہوں نے مجھے ہی پکڑ لیا
میں نے خود کو آزاد کروانے کی کوشش کی تو وحشی جانواروں کی طرح مجھ پر پل پڑے
وہاں جممع ہوۓ سب ہی لوگ دونوں کے بیان سنتے اندازہ لگانے کی کوشش کررہے تھے
کون سچا ہے کون جھوٹا
انابیہ تم جھوٹ بول رہی ہو میرا شوہر کبھی ایسا کام نہیں کرسکتا تمھیں ضرور غلط فہمی ہوٸی ہوگی
فارینہ لوگوں میں سے نکل کر سامنے آگٸ تھی
پھپھو میں جھوٹ نہیں بول رہی انہوں نے مجھے یہ بھی کہا تھا کہ میرا دل بھر گیا ہے تمھاری پھپھو سے میرا دل آگیا تم پر
انابیہ چھوٹ پہ جھوٹ بولتی غازیان کے کردار کو دغدار بنانے کی بھر پور کوشش کررہی تھی
فاری یہ جھوٹ بول رہی تم جانتی ہو نہ میرا دل صرف تمھارے لیے دھڑکتا ہے تم میری بچپن کی محبت ہو میں ایسا کبھی سوچ بھی نہیں سکتا
غازیان نے بھی اپنے حق میں گواہی دی تھی
لوگوں میں چہ مگوٸیاں شروع ہوگٸیں تھیں
گھر کے مردوں تک ابھی یہ بات نہیں پہنچی تھی
قدسیہ بیگم بھی نیچے تھیں انہیں بھی اس معاملے کا علم نہیں تھا
گھر کے لوگوں میں فارینہ اور اس کی چھوٹی بھابھی ہی تھی جو معاملہ طول پکڑتا دیکھ نیچے سے مردوں کو بلانے بھاگی تھی
تو تمھارا کہنا ہے غازیان نے تمھارے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی ہے
فارینہ سینے پر ہاتھ باندھ کر عنایہ کے سامنے کھڑی ہوٸی تھی
عنایہ نے گردن ہلا کر جواب دیا
چٹاخ ۔۔۔۔
اگلے ہی پل فارینہ نے پوری قوت سے انابیہ کے رخسار پر تھپڑ رسید کیا تھا
تھپڑ اتنی زور کا پڑا تھا کہ عنایہ وہی زمین پر جاگری
ہاۓ میری بچی
شہناز بیگم دل پر ہاتھ دھرتی انابیہ کی طرف لپکی تھی اسے اٹھا کر دوبارہ سینے سے لگایا تھا
انابیہ اپنی تزلیل پر پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی
خبردار میرے غازی کے کردار پر تم نے انگلی بھی اٹھاٸی تو جان لے لوں گی میں تمھاری
فارینہ غصے سے دھاڑی تھی
وہ اپنی حالت کی وجہ سے اب ہانپنے لگی تھی
غازیان نے آگے پڑھ کر اسے اپنے حصار میں لیا تھا
بس زیادہ غصہ نہیں کرو طبیعت خراب ہوجاۓ گی
وہ اس کے سینے پر سر رکھ کر اپنا سانس بحال کرنے کی کوشش کررہی تھی
یہ کیا ہورہا ہے کیا جو میں نے سنا وہ سچ ہے
راحل صاحب بھی آگۓ تھے ان کے پیچھے احمر فاتح صاحب راشد صاحب فروزہ بیگم بھی کمرے میں داخل ہوۓ تھے
راحل دیکھیں ان دونوں میاں بیوی نےمیری بچی کا کیا حال کردیا ہے
پورے خاندان میں بدنام کردیا میری بچی کو اب کون اپناۓ گا اس کو
شہناز بیگم روتی ہوٸی بولی
چپ کرو تم اور غازیان بیٹا تم مجھے بتاٶ شروع سے کیا ہوا تھا یہاں
غازیان نے شروع سے آخر تک سارا قصہ راحل صاحب کے گوش گزار کیا
ہممم ٹھیک ہے اب تم بتاٶ انایہ تمھارا کیا کہنا ہے
انابیہ نے اپنی جھوٹی کہانی گوش گزار کی
ایسے نازک معاملے کو حل کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہی ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کی پوری بات سنی جاۓ اور ہر پہلو پر غوروفکر کیا جاۓ
ناکہ کسی ایک کو قصوروار ٹھرا کر اسے سزادی جاۓ
تم غازیان کو بلانے کیوں آٸیں تھیں وہ بھی اکیلی یہ خود آجاتا یا فارینہ خود بلانے آجاتی تم کیوں آٸیں اس کے کمرے میں
راحل صاحب نے کچھ سوچ کر سوال پوچھا
وہ ابو میں وہ
میں نے بھیجا تھا اس کو غازیان کو بلانے
انابیہ کو پریشان ہوتا دیکھ شہناز بیگم فوری بولیں
ہمممم ٹھیک ہے انابیہ بیٹا میرے پاس آٶ
انابیہ گھبراتی ہوٸی راحل کے سامنے جاکھڑی ہوٸی
بیٹا میں تم اور غازیان دونوں میرے سامنے پلے بڑے ہو میں تم دونوں کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں غازیان کی آنکھوں میں فارینہ کے لیے محبت کوٸی بھی دیکھ سکتا ہے وہ کبھی ایسا نہیں کرسکتا اور میں اپنی بیٹی کو بھی بہت اچھی طرح جانتا ہوں میری بیٹی کبھی کوٸی ایسا کام نہیں کرے گی جس سے اس کے باپ بھاٸی کا سر شرم سے جھک جاۓ تو اب تم مجھے بتاٶ یہ سب تم نے کس کے کہنے پر کیا ہے
راحل صاحب کی محبت اور نرمی دیکھ کر انابیہ بکھر سی گٸ راحل صاحب کے سینے سے لگی زارقطار رونے لگی
ابو میں یہ سب نہیں کرنا چاہتی تھی امی نے زبردستی کروایا مجھ سے میرے لیے غازیان بھاٸی بلکل احمر بھاٸی جیسے ہیں میں نے ان کے بارے میں کبھی ایسا نہیں سوچا مجھے امی نے مجبور کیا یہ سب کرنے کے لیے
انابیہ ہچکیوں سے روتی اپنی ماں راز فاش کرگٸ تھی
ناہنجار عورت
چٹاخ۔۔۔
راحل صاحب طیش میں آتے شہناز بیگم کی طرف بڑھے تھے اور ان کے چہرے پر تھپڑ رسید کیا تھا
کیوں کیا ایسا کیوں اپنی بیٹی کو بدنام کیا ذرا خیال نہیں آیا تمھیں اس کا کہ لوگ اس پر انگلیاں اٹھاٸیں گے اس کو بدکردار سمجھیں گے کیا جواب دوں گی لوگوں کو
شہناز بیگم نے سوچا تھا اتنا کچھ ہونے کے بعد وہ غازیان کو ہی بلیک میل کرے گیں کہ وہ ان کی بیٹی سے شادی کرے کیونکہ اس کی وجہ سے ان کی بیٹی بدنام ہوٸی ہے لیکن یہاں تو ان کی بازی الٹی پڑھ گٸ تھی وہ خود ہی اپنے کھودے کنوےمیں جاگری تھیں
میں نے یہ سب عنایہ کے مستقبل کے لیے کیا تھا میں بھی چاہتی تھی میری بچی اچھے گھر میں جاۓ نوکر چاکر اس کے آگے پیچھے گھومیں میں نے شروع سے ہی سوچ رکھا تھا غازیان کی شادی عنایہ سے کرواٶں گی لیکن اس کی شادی فارینہ سے ہوگٸ
شہناز بیگم شرمندہ ہوتے اپنا سارا پلین بتارہیں تھیں
وہاں کھڑے سب ہی لوگ شہناز بیگم کی سوچ پر افسوس کے سوا کچھ نہ کرسکے
بیوقوف عورت یہ سب نصیبوں کے کھیل ہوتے ہیں غازیان کا نصیب فارینہ سے جوڑا تھا وہ اسے مل گٸ اور تم اپنی بیٹی کو بدنام کروا کر اسے غازیان کا نصیب بنانے چلیں تھی
اگر تمھارے پلین کے مطابق انابیہ کی شادی غازیان سے ہوبھی جاتی تو کیا وہ خوش رہ پاتی ساری زندگی لوگوں کی لعنت ملامت سنتی اس کے آگے پیچھے نوکر تو ہوتے لیکن شوہر کی محبت کہی نہیں ہوتی تم دیکھ پاتی اسے شادی کے بعد بھی اجڑا ہوا
راحل مجھے معاف کردیں میں اندھی ہوگٸ تھی پیسوں کی لالچ اور غازیان کے بڑے گھر کی چمک نے مجھے اندھا کردیا تھا مجھے معاف کردیں
اب کیا فاٸدہ ان سب کا تم نے اپنی بیٹی کی زندگی تو برباد کردی نہ کون اپناۓ گا اس کو اب
راحل صاحب افسردہ ہوتے بیڈ پر ڈھے گۓ تھے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گرالیا تھا
پھوپھا اگر آپ مجھے اپنی بیٹی کے لاٸق سمجھتے ہیں تو میں اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں
راحل صاحب نے سر اٹھا کر دیکھا تو ان کے سامنے گرے کلر کے کرتا شلوار میں خوبرو نوجوان کھڑا تھا
جبران تم تم کرو گے میری بیٹی سے شادی
راحل صاحب خوش ہوتے کھڑے ہوۓ تھے جبران کے دونوں کندھے تھام کر اس سے تصدیق چاہ رہے تھے
جی میں کروں گا شادی آپ یہ نہیں سمجھیے گا میں انابیہ پر ترس کھا رہا ہوں نہیں ایسا کچھ نہیں ہے میں پسند کرتا ہوں انابیہ کو امی نے کتنی مرتبہ شہناز پھپھو سے بھی بات کی لیکن وہ ہر بار انابیہ کی پڑھاٸی کا بہانہ بنا کر ٹال دیتی ہیں آج میں ڈاٸریکٹ آپ سے آپ کی بیٹی کا ہاتھ مانگ رہا ہوں کیا آپ اپنی بیٹی کا ہاتھ زندگی بھر کے لیے میرے ہاتھ میں دے گے
جبران آنکھوں میں محبت کے دیپ جلاۓ سوالی بنا کھڑا تھا
جی بھاٸی صاحب یہ سچ کہہ رہا ہے مجھے عنایہ بیٹی بہت پسند ہے میں نے کٸی دفع بات کی تھی شہناز سےلیکن اس نے کبھی مجھےصحیح جواب نہیں دیا اب آپ بتاٸیں آپ کا کیا فیصلہ ہے
سلمٰی بیگم بھی آگے آٸیں تھیں
مجھے کیا اعتراز ہوگا میرا دیکھا بھالا بچہ ہے کبھی کوٸی براٸی نہیں دیکھی اس بچےمیں اور اب تو اپنے باپ کے ساتھ بزنس میں ہاتھ بٹا رہا ہے مجھے اور کیا چاہیے میری بچی کو قابل لڑکا بیٹھے بیٹھاۓ مل گیا مجھے قبول ہے یہ رشتہ آج ہی نکاح ہوگا ان دونوں کا اگر آپ کو کوٸی اعتراز نہ ہوتو
راحل صاحب کے جواب پر جبران کا چہرا کھل اٹھا
راحل صاحب نے اسے اپنے سینے سے لگالیا
پریشانیوں کے بادل چھٹ گۓ تھے سب کی زندگیاں سنور گٸیں تھیں سب کو اپنی اپنی چاہت مل گٸ تھیں
شہناز بیگم نے بھی سب سے معافی مانگی تھی سب نے کھلے دل سے ان کو معاف کردیا تھا
تین سال بعد
فارینہ گلابی ساڑھی زیب تن کیے سموکی میکپ کیے اپنے لمبے بال کمر پر چھوڑے کانوں میں آویزے پہن رہی تھی جس کا ہک بند نہیں ہورہا تھا
آج احمر وانیہ اور جبران انابیہ کی شادی تھی اسی سلسلے میں یہ تیاری ہورہی تھی
کمرے میں داخل ہوتے ہی عازیان نے فارینہ کا خوبصورت سراپہ اپنی آنکھوں میں بساتے ہوۓ اس کی طرف قدم بڑھاۓ تھے
اور اس کے ہاتھ ہٹا کر اپنے ہاتھ سے ہک بند کیا تھا
تم کب آۓ
فارینہ نے اپنا رخ غازیان کی طرف کیا تھا
بس ابھی آیا
غازیان نے فارینہ کی کمر میں ہاتھ ڈال اسے اپنے قریب کیا تھا
اس کے بال گردن سے ہٹا کر اپنا چہرا اس کے گردن میں چھپاکر فارینہ کے جسم کی خوشبو اپنے اندر اتار رہا تھا
غازی ہمیں دیر ہوجاۓ گی پلیز پیچھے ہٹو
فارینہ کسمساٸی تھی لیکن اس سے دور نہیں ہوپاٸی تھی
غازیان نے اپنا دوسرا ہاتھ بھی فارینہ کی کمر میں ڈال کر اسے اپنے اور کیا تھا
اس کے لب غازیان کی بے داغ گردن کو چھو رہے تھے
فارینہ مدحوش ہوتی اپنی آنکھیں موند گٸیں تھی
غازیان گردن سے ذرا نیچے آیا ہی تھا کہ دھڑام سے دروازہ کھلا
ڈھاٸی سالہ حماد کمرے میں داخل ہوا تھا
دونوں ایک دم سے ایک دوسرے سے جدا ہوۓ تھے
دیڈ آپ میلی مما تو پھر تن تررہے تھے
”ڈیڈ آپ میری مما کو پھر تنگ کررہے تھے “
وہ کمر پر ہاتھ رکھے آنکھیں بڑی کرکے غازیان سے استفسار کررہا تھا
کچھ نہیں کررہا تمھاری مما کو میں لو رکھ لو اپنی مما کو اپنے پاس
غازیان منہ بگاڑتا اپنے ایٹم بم پر برسا تھا
جب سے حماد ان کی زندگی میں آیا تھا غازیان کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا تھا اور وہ بچوں کی طرح اپنے بیٹے سے لڑنے لگ جاتا
دونوں ہی فارینہ سے بہت محبت کرتے تھے اور ایک دوسرے کے جانی دشمن بھی تھے
اس کے باوجود دونوں سوتے بھی ایک ساتھ تھے ایک دوسرے کے بغیر دونوں کو ہی نیند نہیں آتی تھی
فارینہ دونوں باپ بیٹوں کی پیار بھری لڑاٸی دیکھ کھلکھلاتی رہتی تھی
”تم میری ہو تم میری ہو
نہ ہونا مجھ سے جدا “
