Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Na Hona Mujhse Juda Episode 7

Na Hona Mujhse Juda by Misbah Khalid

پندرہ منٹ کی ڈراٸیو کے بعد وہ پولیس اسٹیشن کے سامنے کھڑے تھے

وہاں میڈیا والوں کا ہجوم دیکھ کر انہوں نے گہیری سانس خارج کی اور مضبوط قدم جماتے سب کو پرے کرتے پولیس اسٹیشن میں داخل ہوگۓ

کہاں ہے میرا بیٹا مجھے ملنا ہے اپنے بیٹے سے

فاتح صاحب غصہ ضبط کرتے گویا ہے

انسپیکٹر نے حولدار کو اشارہ کیا تو وہ فاتح صاحب کو اپنے ساتھ لے گیا

غازیان میرا بیٹا

فاتح صاحب جیل کی سلاخیں تھامے قرب ذدہ سے گویا ہوۓ

ڈیڈ ! ڈیڈ میں نے کچھ نہیں کیا مجھے نہیں معلوم میری کار میں ڈرگس کیسے آۓ ڈیڈ آپ کو یقین ہے نہ مجھ پر میں ایسا نہیں کرسکتا

غازیان بے بسی سے گویا ہوا

بیٹا تم فکر نہیں کرو میں جلد ہی تمھیں رہا کروا لوں گا مجھے بھروسا ہے تم پر میرے بچے

ڈیڈ فاری کا خیال رکھیے گا آپ پلیز ان کو گھر لے جاٸیے گا وہ اکیلی کیسے رہے گیں

غازیان کو فارینہ کی فکر بھی لاحق تھی

بیٹا میں یہاں سے جاتے ہوۓ اسے اپنے ساتھ گھر لے جاٶں گا تم مجھے بتاٶ کیا تمھیں کسی پر شک ہے کوٸی دشمن تمھارا جس نے تم سے بدلہ لینے کے لیے یہ سب کیا ہو

ڈیڈ نہیں میرا تو کوٸی دشمن نہیں آپ جانتے تو ہیں میں تنہاٸی پسند ہوں کبھی کسی سے فضول گوٸی نہیں کرتا تو یہ دشمن کہاں سے پیدا ہوگۓ

غازیان تفصیلی جواب دیا

اچھا یہ بتاٶ تم آج کہاں کہاں گۓ تھے ؟

ڈیڈ میں تو معمول کے مطابق صبح آفس کے لیے نکلا تھا اور پھر سارا دن گاڑی آفس کی پارکینگ میں کھڑی رہی

آفس سے چھٹی ہوٸی تو میں گھر کے لیے نکل گیا لیکن راستے میں یہ سب ہوگیا

بیٹا جہاں تک مجھے لگ رہا ہے تمھاری آفس کی پارکینگ میں یہ کام سرانجام دیا گیا ہے کیا وہاں کیمرے لگے ہیں

فاتح صاحب پر سوچ انداز میں بولے

جی لگے تو ہیں دو کیمرے لیکن صبح ہی دونوں خراب ہوۓ ہیں اس سے تو کچھ بھی معلوم نہیں ہوگا

غازیان نے افسوس سے کہا

ایسا کیسے ہو سکتا ہے دونوں کیمرے بیک وقت کیسے خراب ہوسکتے ہے غازیان یہ سب سوچی سمجھی سازش کے تحت ہوا ہے میں اس سازش کا پتہ لگا کر رہوں گا بیٹا تم پریشان نہیں ہو تمھارا باپ زندہ ہے ابھی زیادہ دن جیل میں نہیں رہنے دوں گا میں تمھیں

فاتح صاحب غازیان کو دلاسہ دیتے وہاں سے باہر نکل گۓ

غازیان پر سوچ انداز میں وہی دیوار کے ساتھ لک کر بیٹھ گیا

ہیلو آپی غازی سے بات ہوٸی ہے کیا آپ کی کب سے کال ملا رہی ہوں اٹھا نہیں رہا

فارینہ بہت دیر سے غازیان کا انتظار کررہی تھی لیکن وہ نہیں آیا نہ ہی اس کا فون لگ رہا تھا فارینہ پریشان ہوگٸ تھی

نہیں میری تو بات نہیں ہوٸی سب ٹھیک تو ہے نہ تم دونوں کے درمیان لڑاٸی تو نہیں ہوٸی نہ

فروزہ بیگم پریشان سی بولیں

آپی سب ٹھیک ہے وہ مجھے بول کر گیا تھا آج جلدی گھر آۓ گا مجھے امی سے ملوانے لے جاۓ گا اب تو آٹھ بج گۓ ہیں وہ نہیں آیا مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے آپی کہی اسے کچھ ۔۔۔۔

فارینہ سے اپنا جملہ بھی مکمل نہیں کیا گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دی

تم رو نہیں میں فاتح کو کہتی ہوں وہ کچھ کریں گے میری جان تم پریشان نہیں ہو میں کچھ دیر میں تمھیں کال کرتی ہوں

فروزہ بیگم بھی فکر مند ہوگٸیں تھیں غازیان بہت زمیدار تھا وہ کبھی بھی ایسے بنا بتاۓ غاٸب نہیں ہوتا تھا

فارینہ روتے روتے بار بار غازیان کا نمبر ڈاٸل کررہی مگر نمبر مسلسل بند جارہا تھا

دروزے پر دستک ہوٸی تھی فارینہ موباٸل صوفے پر پھینکتی دروازے کی طرف لپکی تھی

”غازی “

جیجو آپ ؟

میرا غازی کہاں ہے ؟

آپ غازی کو ساتھ نہیں لاۓ ؟

فارینہ فاتح صاحب کے آس پاس غازیان کو تلاشتی ہوٸی بولی

فارینہ تم میرے ساتھ چلو گھر غازیان جیل میں ہے کسی نے اس کو پھنسا دیا ہے جھوٹے ڈرگس کے کیس میں

یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ جیجو یہ سب کیسے ہوا

فارینہ الجھی

بیٹا تم گھر چلو میں سب بتادوں گا تمھیں

تم اپنا ضرورت کا سامان لے کر باہر آٶ میں تمھارا ویٹ کررہا ہوں

فاتح صاحب فارینہ سے نظریں چراتے گھر سے باہر نکل گۓ

فارینہ اپنے آنسو پونچتی اپنا ضرورت کا سامان لےکر باہر آگٸ

کچھ دیر بعد وہ گھر پہنچے تو وہاں پہلے سے راحل صاحب راشد صاحب اور قدسیہ بیگم بیٹھے تھے

وہ لوگ بھی غازیان کی گرفتاری کی خبر ٹی وی دیکھ چکے تھے اب معاملے سمجھنے فاتح صاحب کے پاس آۓ تھے

فروزہ بیگم قدسیہ بیگم کے گلے لگے روۓ جارہیں تھیں

فاتح صاحب نے سب گھر والوں پورے معاملے سے آگاہ کیا تو سب سر پکڑ کر بیٹھ گۓ

غازیان کی کار سے بیگ بھر کر ڈرگس فراہم ہوۓ تھے اس کو بے قصور ثابت کرنا بہت مشکل تھا سب ہی پریشان تھے فارینہ بار بار غازیان سے ملنے کی ضد کررہی تھی

فاتح صاحب بھی اپنے گھر سوگ کا سا سما دیکھ دکھی ہوگۓ تھے

ناجانے میری فاری کیسی ہوگی کچھ کھایا بھی ہوگا کہ نہیں

موم کا تو رو رو کے برا حال ہوگیا ہوگا

ڈیڈ اکیلے سب کچھ کیسے سنبھال رہے ہوں گے

اگر مجھے سزا ہوگٸ تو میری فاری کا کیا ہوگا ان کی زندگی برباد ہوجاۓ گی

غازیان جیل کی دیواروں کا تکتا خود سے ہی باتیں کررہا تھا

وہ اپنی سوچوں میں گھوم تھا دروازہ کھولنے کی آواز پر چونکہ

انسپیکٹر جیل میں داخل ہوا تھا

دیکھو غازیان جو پوچھ رہا ہوں سچ سچ بتانا کیا پتا تمھاری سزا کم ہوجاۓ

غازیان خاموش رہا

چلو بتاٶ یہ ڈرگس کہاں لے جارہے تھے ؟

خاموشی

کس کے لیے کام کرتے ہو ؟

خاموشی

اور کون کون ملوس ہے تمھارے ساتھ اس کام میں ؟

خاموشی

سالے سناٸی نہیں دے رہا تجھے منہ میں دہی جما کر بیٹھا ہے جواب دے مجھے

انسپیکٹر غازیان کا گریبان پکڑتا دھاڑا تھا

میں کچھ نہیں جانتا مجھے پھنسایا جارہا ہے میں نہیں جانتا میری کار میں ڈرگس کیسے آۓ

غازیان بھی چیخا تھا

تجھ میں بہت چربی ہے ایسے نہیں بتاۓ گا نہ توں

حولدار

جی سر

لٹکاٶ الٹا اس کو آج ساری اکڑ نکالوں گا میں اس امیر ذادے کی

اگلے ہی لمحے غازیان کی چیخیں جیل کی درو دیوار سے ٹکرا رہیں تھیں

جی ناظرین آپ کو بتاتے چلیں شہر کے مشہور بزنس مین فاتح ملک کے بیٹے غازیان فاتح ملک کو گاڑی میں سے ڈرگس برآمد ہونے پر ہراست میں لے لیا گیا ہے

فاتح صاحب کا اگلا قدم کیا ہوگا ؟

ٹی وی پر نیوز اینکر گلا پھاڑ رہی تھی

ٹی وی کے سامنے بیٹھے تین نفوس اپنی فتح کا جشن منا رہے تھے

ایک بے قصور کو جیل میں ڈلوا کر اپنے دل ٹھنڈے کررہے تھے

خالق رضوی سیاست کا اہم رکن اس کی شے پر اس کے پیٹے حالد رضوی اور اس کے وفادار پلے شیدے نے یہ کام سرانجام دیا تھا

شیدہ جو کافی دن سے غازیان کے تعاقب میں تھا

حالد کے جیل سے آزاد ہوتے ہی اس کے حکم پر

غازیان کی آفس کے پارکینگ کے کیمرے رات کے اندھیرے میں خراب کیے

اور دوپہر کی چلملاتی دھوپ میں جب ہر کوٸ چھایا تلاش کررہا ہوتا ہے

پارکینگ میں کھلی جگہ ہونے کے باعث کافی دھوپ ہوتی تھی دوپہر میں وہ جگہ سناٹے میں ڈوبی ہوتی تھی

اسی وقت یہ گھٹیا فیل سرانجام دیا گیا

وہ دونوں اپنا کام کرکے خاموشی سے نکل گۓ

اب وہ تینوں بیٹھے اپنی کامیابی کا جشن منارہے تھے

رات سے دن ہوگیا تھا ہزار کوششوں کے باوجود فاتح صاحب کے کوٸی سرا ہاتھ نہیں لگ رہا تھا انہوں نے اپنے ہر بندے کو کام پر لگا دیا لیکن نتیجہ جوں کا توں تھا

انسپیکٹر رات بھر وقفے وقفے سے غازیان پر تشدد کرتا رہا غازیان کی حالت کافی ابتر ہوگٸ تھی

جسم پر جگہ جگہ زخم تھے چہرہ بھی خون سے تر تھا

آہہہ فاری میرا سکون کاش تم اس وقت یہاں ہوتیں بہت ضرورت ہے تمھارے غازی کو تمھاری پتا نہیں تمھیں دوبارہ دیکھ سکوں گا یا نہیں میری جان بہت یاد آرہی ہے تمھاری

غازیان زخموں سے چور جیل میں پڑا اپنی متاع حیات کو یاد کررہا تھا

غازی میرے غازی جلد لوٹ آٶ پلیز میں نہیں رہ سکتی تمھارے بنا میں تو تمھیں سرپراٸز دینے والی تھی مگر یہ سب کیا ہوگیا خوشیاں ملنے سے پہلے ہی روٹھ گٸیں ہم سے

فارینہ ہاتھ میں غازیان کی تصویر تھامے اس سے باتیں کررہی تھی

رو رو کے فروزہ بیگم کی طبیعت خراب ہوگٸ تھی فارینہ نے بڑی مشکل سے انھیں نیند کی دواٸی کھلا کر سلایا تھا

فاتح صاحب صبح کے نکلے ہوۓ ابھی تک نہیں لوٹے تھے دوپہر ہوگٸ تھی لیکن وہ بیٹے کو چھوڑوانے کے لیے پوری کوشش کررہے تھے

اوۓ سن شیدے توں بتا رہا تھا اس غازیان کی ایک عدد بیوی بھی ہے

حالد نشے میں دھت شیدے سے پوچھ رہا تھا

ہاں ہے

کیسی دیکھتی ہے خوبصورت ہے کیا ؟

بہت خوبصورت ہے سالی قیامت ہے قیامت

پھر انتظام کر اس کی خوبصورتی کو خراج بخشنے کا

حالد خباثت سے بولا

چھوٹے صاحب وہ اپنے سسرال میں ہے وہاں سے اسے نکالنا مشکل ہے وہاں کافی سیکیوریٹی ہے

ہممم کچھ سوچتے ہیں

حالد اپنی ہلکی داڑھی مسلتا ہوا بولا

لیکن بڑے صاحب نے اس کی بیوی سے دور رہنے کو کہا تھا ان کو کہنا مرد کا بدلہ مرد سے ہی لے گے

آبے بتاۓ کا کون ڈیڈ کو توں ایسا کر اس کا فون نمبر نکال کہی سے ہم اسے بہانے سے اپنے فارم ہاٶس پر بلاٸیں گے پھر خوب عیش کرے گے سالی کے ساتھ

حالد اپنے مقروہ چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجاتا گویا ہوا

صاحب ٹھیک ہے کل تک نمبر مل جاۓ گا

شیدے نے شراب کا گلاس لبوں سے لگایا

دونوں دوبارہ اپنے مشغلے میں مصروف ہوگۓ تھے

غازیان کو آج تیسرا دن تھا فاتح صاحب بھی اس سے مل کر گۓ تھے اپنے بیٹے کی زخمی حالت پر ان کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا

لیکن اسے اپنی کوٸی پروا نہیں تھی اس نے فاتح صاحب کو فارینہ کا خیال رکھنے کی ہدایت دی

فاتح صاحب اس کی اس دیوانگی پر حیرت ذدہ تھے وہ کتنا چاہتا تھا اس کو کہ اپنا بھی کوٸی ہوش نہیں تھا اسے

یہ کس کا نمبر ہے

موباٸل کی روشن ہوتی اسکرین پر نظر پڑی تو فارینہ نمبر پہچاننے کی کوشش کرنے لگی لیکن وہ تو کوٸی رانگ نمبر تھا

فارینہ نے موباٸل کی اسکرین پر چمکتے سرخ بٹن کو ٹچ کیا تو کال آنا بند ہوگٸ

اس نے ابھی موباٸل واپس رکھنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا کہ دوبارہ کال آنے لگی

فارینہ نے اس دفع کال اٹھا لی

اَلسَلامُ عَلَيْكُم فارینہ نے سلام کیا

وَعَلَيْكُم السَّلَام

آپ فارینہ بات کررہی ہیں ؟

اس شخص مہذب انداز میں جواب دیا

جی میں فارینہ ہوں

آپ کون ؟

میں پہچانی نہیں آپ کو

جی آپ مجھے اپنا محسن سمجھ لیں

جی میں سمجھی نہیں کیا کہنا چارہے ہیں آپ

فارینہ الجھی

میرے پاس کچھ ایسے ثبوت ہیں جس سے آپ اپنے شوہر غازیان فاتح ملک کو بےقصور ثابت کرسکتی ہیں

کیا سچ میں پلیز مجھے دے دیں وہ ثبوت

جی ضرور لیکن اس کے لیے آپ کو مجھ سے ملنے آنا ہوگا وہ بھی اکیلے

فارینہ گھبراٸی

اکیلے کیوں ؟

دیکھیں میں کسی کی نظروں میں نہیں آنا چاہتا میں نہیں چاہتا کل کو آپ کے شوہر کے دشمن میرے پیچھے پڑے ہو میں بھی فیملی والا ہوں غازیان صاحب کے مجھ پر بہت احسانات ہیں بس انھیں کے عوض میں یہ سب کررہا ہوں آگے آپ کی مرضی

وہ شخص اپنی کہہ کر خاموش ہوگیا

فارینہ اپنی سوچوں میں غلطہ تھی

آپ اچھی طرح سوچ لیں میں ملاقات کی جگہ اور وقت آپ کو میسیج کررہا ہوں اگر اپنے شوہر کو بچانا چاہتی ہیں تو آکر مجھ سے ثبوت لے جاٸیں

کال منقطہ ہوچکی تھی

فارینہ کو موباٸل پر ایک پیغام موصول ہوا تھا

اس میں جگہ اور وقت لکھی ہوٸی تھی

اسے آج شام سات بجے کا وقت دیا گیا تھا اور جگہ بتاٸی تھی وہ وہاں سے ایک گھنٹے کی مسافت پر تھی اور کافی سنسان بھی

فارینہ ڈر رہی تھی لیکن اسے بہادر بننا تھا اپنے شوہر کے خاطر وہ فیصلہ کرچکی تھی

وہ شام چھے بجے سب سے نظر بچا کر گھر سے نکل گٸ

فروزہ بیگم اپنے کمرے میں تھیں

فاتح صاحب گھر میں موجود نہیں تھے

فارینہ نے موقعے سے فاٸدہ اٹھایا اور گھر سے باہر نکل گٸ

گارڈز کو جھوٹ بولا کہ وہ واک پر جارہی ہے کوٸی پوچھے تو بتا دینا

گھر سے کچھ دور آکر اس نے ٹیکسی لی

ٹھیک سات بجے وہ اپنی مطلوبہ جگہ پہنچ چکی تھی وہاں گھر ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر بنے تھے دور دور تک کسی مخلوق کا نشان نہیں تھا

وہ آس پاس کا معاٸنہ کررہی تھی کہ اس کا موباٸل بج اٹھا

موباٸل پر انجان شخص کا نمبر جگمگا رہا تھا

اس نے کال اٹھاٸی

میں آگٸیں ہوں آپ کہاں ہیں

آپ جس گھر کے سامنے کھڑی ہیں نہ وہاں اندر آجاٸیں میں وہی ملوں گا پریشان نہیں ہو گھر میں میرے بیوی بچے بھی موجود ہیں

اس شخص نے فارینہ کی گھبراہٹ کو سمجھتے ہوۓ کہا

اوکے میں آتی ہوں

فارینہ اس گھر کی اندر داخل ہوٸی

وہ گھر بہت شاندار تھا ہر چیز قیمتی تھی خوبصورت فانوس اعلیٰ قسم کا فرنیچر اسے گھر اچھا لگا تھا

وہ کسی کی تلاش میں ارد گرد نظر دوڑا رہی تھی

ایک ملازم آیا اور اپنے ساتھ آنے کا کہا

وہ بھی اس کی پیروی کرتی ہوٸی چلدی

وہ اسے ایک کمرے میں لے گیا

کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے تٸیس چوبیس سالہ نوجوان صوفے پر بیٹھا نظر آیا

وہ بیڈروم تھا وہاں وہ تنہا بیٹھا تھا

فارینہ کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا وہ پھر بھی مضبوط بنی کھڑی رہی

آٸیں بیٹھیں فارینہ

وہ میزبانی دیکھاتا اسے بیٹھنے کا کہنے لگا

نہ نہیں مجھے جانا ہیں آپ مجھے ثبوت دے دیں

فارینہ کا حلق خشک تھا چہرے پر پسینے کی ننھی بوندیں چمک رہیں تھی

فارینہ کی حالت دیکھ کر وہ شخص کھل کر مسکرایا تھا

دی گریٹ غازیان فاتح ملک کی بیوی اتنی بے وقوف ہوگی سوچا نہ تھا

وہ اس کے مقابل آکھڑا ہوا تھا

کیا مطلب تمھارا

فارینہ دو قدم پیچھے ہوٸی

حالد نے اس کی کلاٸی تھامی

نہ نہ جانِ من اب تو دور رہنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا

آج رات مجھے خوش کرو کل تمھارا شوہر آزاد

حالد سفاکی سے گویا ہوا

فارینہ نے ایک جھٹکے سے اپنی کلاٸی چھڑواٸی اور اس کے منہ پر تھپڑ رسید کیا

گھٹیا انسان تمھاری ہمت کیسے ہوٸی مجھ سے یہ سب کہنے کی غازیان جان سے مار دے گا تمھیں

سالی کتیا مجھ پر ہاتھ اٹھاتی ہے حالد خالق پر بتاتا ہوں تجھے میں ابھی

حالد اس کے بال مٹھی میں لے کر اسے بیڈ کی طرف دھکیلا تھا

اس نے اپنی پینٹ سے بیلڈ نکال کر فارینہ پر وار کیا تھا اس کی چیخیں پورے فارم ہاٶس کی درو دیوار ہلا گٸیں تھیں