Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Na Hona Mujhse Juda Episode 3

Na Hona Mujhse Juda by Misbah Khalid

فارینہ کیوں میرے صبر کا امتحان لیں رہی ہیں

غازیان نا چاہتے ہوۓ بھی نرم ہوا تھا

تم نے کیوں کیا ایسا غازی تم جانتے ہو نہ میں نے کبھی ایسا نہ سوچا تھا نہ چاہا تھا پھر کیوں تم نے مجھے اپنایا تمھیں کوٸی بھی اچھی لڑکی مل جاتی پھر میں ہی کیوں میں تو تم سے عمر میں بھی بڑی ہوں پھر کیوں مجھے اپنایا

فارینہ بے بسی کی تصویر بنی گویا ہوٸی تھی

فارینہ میں آج بھی آپ سے اتنی ہی محبت کرتا ہوں جتنی سولہ سال کی عمر میں کی تھی اب میری محبت اور بڑھ گٸ ہے میرا آپ کے بنا اب گزارا نہیں فارینہ سمجھتی کیوں نہیں آپ پلیز

میں آپ کو محسوس کرنا چاہتا ہوں

غازیان فارینہ کی کلاٸی چھوڑ کر اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا بولا تھا

غازیان فارینہ کے اتنے قریب تھا کہ اسے غازیان کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس ہورہیں تھیں

غا غازی پلیز دور ہوکر بات کرو

فارینہ گھبراتی ہوٸی غازیان سے دور ہوٸی تھی

نہیں فاری اب نہیں

غازیان اپنی کہتا فارینہ کو بیڈ پر لیٹاتا خود بھی اس پر جھک چکا تھا

نہیں نہیں غازی تم میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے پلیز مجھے تھوڑا وقت دے دو پلیز غازی

فارینہ روتی ہوٸی غازیان سے التجا کررہی تھی

لیکن غازیان فارینہ کی التجاٸیں نظر انداز کرتا

فارینہ کے بھرے بھرے ہونٹوں پر جھک چکا تھا

فارینہ کی آنکھیں پھٹنے کے در پہ تھیں اس کا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا

فارینہ کو اپنے منہ میں خون کا ذاٸقہ محسوس ہوا تھا ہونٹ کے کنارے پر جلن سی ہوٸی تھی سانس تھمنے کو تھی

غازیان کو آخر کار رحم آگیا تھا اس نازک جان پر وہ اپنا شدت بھرا لمس چھوڑتا سیدھا ہوا تھا

فارینہ زور زور سے سانسیں لیتی غازیان کے پیچھے ہٹ جانے پر دل میں شکر کررہی تھی

لیکن یہ فارینہ کی بھول تھی

غازیان اپنی شرٹ اتار کر صوفے پر پھینکتا دوبارہ اس پر جھکا تھا اس بار اس کے ہونٹوں کانشانہ فارینہ کی شہ رگ تھی

نہیں غازی پلیز نہیں میں تیار نہیں ابھی غازی پلیز غازی چھوڑ دو

نہیں فاری جان آج تو مجھے آپ کو محسوس کرنا ہے آپ کو دیکھانا ہے غازیان فاتح آپ سے جنون کے حد تک محبت کرتا ہے

غازیان جنونی انداز میں بولتا فارینہ کی گردن پر جھک گیا تھا

ساری رات فارینہ سسکیاں لیتی غازیان کی شدتیں برداشت کرتی رہی

فاری جان رونا تو بند کریں میں نے کچھ غلط تو نہیں کیا اپنا حق وصول کیا ہے

غازیان نرم لہجے میں کہتا فارینہ کے آنسو بھی صاف کررہا تھا جو بار بار نکل رہے تھے

غازی پلیز بخش دو مجھے میں اور نہیں سہہ سکتی

ہاہاہاہا فاری جان ایک رات میں یہ حال ہے آپ کا پوری زندگی کیسے گزارے گیں میرے ساتھ

غازیان فارینہ تمسخر اڑاتا گویا ہوا

دور ہٹو مجھ سے گھٹیا انسان اکیلا چھوڑ دو مجھے

اپنے اوپر جھکے غازیان کو پوری طاقت سے دھکا دیتی فارینہ زور سے دھاڑی تھی

غازیان کا موڈ پل میں بدلہ تھا فارینہ کی دھتکار نے اس کے دل پر ضرب لگاٸی تھی

اس کی آنکھیں شعلہ برسا رہی تھیں

فارینہ خود ان شعلوں کی لپیٹ میں محسوس کررہی تھی ڈروخوف اس کے ننھے سے دل قابض ہوگیا تھا

آٸی ایم سوری غازی میں بس تمھیں تھوڑا دور کرنا چاہ رہی تھی

غازیان کا غصہ عروج پر تھا

بیڈ سے اترنے کی کوشش کرتی فارینہ کی پینڈلی غازیان اپنی گرفت میں لیتا اسے واپس اپنے پاس کھینچ چکا تھا

آٸی ایم سوری غازی اب نہیں کروں گی پلیز چھوڑ دو

وہ نازک کلی دیو ہیکل غازیان کے سامنے منت کرنا شروع ہوگٸ تھی

نو نو جان اب سزا تو ضرور ملے گی آپ کو

وہ فارینہ کے بال اپنی مٹھیوں میں جکڑتا گویا ہوا

آہ غازی مجھے درد ہورہا ہے بال چھوڑ دو

تڑپتی بل بلاتی رو رہی تھی لیکن غازیان تو آج اپنی محبت کو تکلیف دینے پر تلا تھا

آپ کو اپنے یہ لمبے بال بہت پسند ہیں نہ فاری اگر یہ کٹ جاٸیں اور صرف آپ کی گردن تک رہ جاٸیں تو

نہیں نہیں غازی میں اب کچھ نہیں کروں گی غلطی ہوگٸ معاف کردو میرے بال نہیں کاٹو

ارے ایسے کیسے آج چھوڑ دیا تو پھر غلطی کرے گیں آپ نہیں ایسے نہیں چھوڑ سکتا میں آپ کو

غازی نہیں پلیز میں وعدہ کرتی ہوں اب نہیں کروں گی

غازیان کو دراز سے قینچی نکالتے دیکھ فارینہ مزید خوفذدہ ہوگٸ تھی

اوکے اوکے آپ کی پہلی غلطی ہے اس لیے چھوڑ رہا ہوں لیکن آٸندہ خیال رکھیے گا

غازیان روتی بلکتی اپنی محبت کو مزید نہ تڑپا سکا اور اس کے بال آزاد کردیے

آزادی ملتے ہی فارینہ جلدی سے کمبل میں منہ چھپاۓ بیڈ کے دوسری طرف دراز ہوگٸ

غازیان بھی اپنی جگہ پر لیٹ کر آنکھیں موند گیا

فارینہ صبح بیدار ہوٸی تو خود کو غازیان کی بانہوں میں قید پایا رات کو جانے کس پہر غازیان

کی آنکھ کھلی تھی اور وہ فارینہ کو اپنی بانہوں میں بھرتا دوبارہ نیند کے آغوش میں چلا گیا تھا

فارینہ نے کسمسا کر خود کو آزاد کروانے کی کوشش کی تو غازیان مزید فارینہ کو خود میں بھینچ گیا

غا غازی کیا کر رہے ہو چھو چھوڑو میرا دم گھٹ رہا ہے

فارینہ نے بہ مشکل اپنے الفاظ ادا کیے اس کو سانس نہیں آرہی تھی

اب دور جانے کی کوشش کرو گی مجھ سے

غازیان کروٹ بدلتا فارینہ کی آنکھوں میں دیکھتا سمجیدگی سے بولا تھا

نہ نہیں

فارینہ جلدی سے نفی میں سر ہلاتی بولی تھی

ہمممم گڈ گرل

غازیان فارینا کا رخسار تھپتھپاتا پیچھے ہوا تھا

فارینہ موقع ملتے ہی بیڈ سے اٹھ کر واشروم میں بھاگ گٸ

غازیان کچھ سوچ کر بھرپور طریقے سے مسکرایا تھا

آہ یہ کیا ہوگیا مجھ سے میں تو کپڑے لانا بھول گٸ

ہاۓ اپنے کپڑے تو لے لیتی کھا تو نہیں جاتا وہ تجھے اب کیا کروں میں

فارینا اپنے سر پر ہاتھ مارتی اپنی بے وقوفی پر خود کو ہی سلواتیں سنا رہی تھی

غازی

فارینہ نے ہمت کرکے غازیان کو آواز لگا ہی دی

جی جانِ غازی

غازیان اسی پل کے انتظار میں تو بیٹھا تھا فارینہ کے بلانے پر لمحہ زایع کیے بنا جواب دیا

وہ میں کپڑے بھول گٸ پلیز دے دو

مجھے کیا ملے گا اس کے بدلے

غازیان نے موقعے سے فاٸدہ اٹھانا ضروری سمجھا

غازی پلیز مزاق نہیں کرو دے دو کپڑے

فارینہ نے التجا کی تھی

میرا آپ کا کیا مزاق میں سنجیدہ ہوں بتاٸیں مجھے کیا ملے گا

لہجہ سخت تھا لیکن چہرے پر شریر سی مسکراہٹ نے آہتہ کیا تھا

فارینا کا چہرا پل میں سرخ ہوا تھا لیکن غصے سے نہ کے شرم سے

غازی میں تمھارا منہ توڑ دوں گی کپڑے دو مجھے

فارینہ تپ ہی گٸ تھی غازیان کی ڈھیٹاٸی پر

رات بھر تنگ کرکے سکون نہیں ملا تھا جو ابھی دوبارہ شروع ہوگیا

پڑی رہو واشروم میں اب

غازیان کا بھی میٹر گھوما تھا وہ واشروم کو باہر سے لاک کرکے خود دوسرے کمرے کے واشروم میں چلا گیا تھا

فارینہ کی بدتمیزی اس سے ہضم نہیں ہوٸی

کلک کی آواز پر فارینہ دروازے کی طرف متوجہ ہوٸی دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو وہ لاک تھا

اب اس کو سمجھ آیا تھا غازیان کے لفظوں کا مطلب

”پڑی رہو واشروم میں “

نہیں نہیں غازی تم میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے کھولو دروازہ میں آپی سے شکایت کروں گی تمھاری غازی کھولوں دروازہ

فارینا ایک بار پھر رونا شروع ہوچکی تھی

پندرہ منٹ بعد غازیان ٹاول سے بال رگڑتا کمرے میں داخل ہوا واشروم سے فارینہ کی ہلکی ہلکی سی رونے کی آواز آرہی تھی

فاری اگر آپ باہر آنا چاہتی ہیں تو میری بات مان لیں غازیان نے مسکراتے ہوۓ ہانگ لگاٸی

واشروم میں روتی فارینہ ایک دم ہوش میں آٸی

غازی کیا چاہتے ہو مجھسے تم کہتے ہو مجھ سے محبت کرتے ہو تو کیا جس سے محبت کرتے ہیں ان کو ایسے رولاتے ہیں کیا ایسے تنگ کرتے ہیں ان کو پلیز دروازہ کھولو اور میرے کپڑے دے دو

فاری جان آپ سے محبت کا داعویدار تو میں اب بھی ہوں مگر جو پانچ سال پہلے آپ نے میرے ساتھ کیا تھا میری محبت کا جواب تھپڑ سے دیا تھا چلیں وہ تھپڑ میں بھول جاتا ہوں لیکن اس کے بعد جو بابا سے آپ نے میری شکایت لگاٸی کہ میں آپ پر بری نظر رکھتا ہوں اتنی سی عمر میں جانے کیا کیا کرتا پھیرتا ہوں اس کی سزا تو آپ کو ملنی ہیں نہ کیونکہ آپ کے اس عمل کی وجہ سے آج تک بابا سے میں نظریں نہیں ملا پایا

انھوں نے بیلڈ سے مجھے مارا تھا ایک ہفتے بستر پر پڑا رہا تھا میں میرے جسم پر جگہ جگہ سرخ زخموں کے نشان تھے جو بہت گہرے تھے کیونکہ بابا نے مجھے بیلڈ کے کلف کی طرف سے مارا تھا

اس کے بعد آج تک وہ میرے ہر فعل پر نظر رکھتے آٸیں ہیں آج تک میں ان کا بھروسا نہیں جیت پایا میں صرف آپ کی وجہ سے فاری صرف آپ کی وجہ سے میں اپنے بابا سے دور ہوگیا

اس لیے تیار رہیں آپ میری ہر سزا کے لیے کپڑے دے رہا ہوں خاموشی سے پہن کر باہر آجاٸیں

غازیان کا شوخی سے بھرا لہجہ پل میں سخت ہوا تھا چہرے پر انتہا کی سنجیدگی تھی

فارینہ بھی غازیان کی سزا والی بات پر اندر تک کانپ گٸ تھی جانے وہ کس کس طرح اس کو سزا دے گا وہ اپنے کیے پر بھی شرمندہ تھی

اس کو لگا تھا فاتح صاحب غازیان پر غصہ کرے گے یا ایک دو تھپڑ لگا دے گے لیکن فاتح صاحب کے اس اقدام کا سن کر فارینہ سچ میں شرمندہ ہوٸی تھی

وہ اپنی سوچوں میں گھوم تھی دروازہ ناک ہونے پر ہوش میں آٸی

یہ کپڑے لے لو جلدی پہن کر باہر آٶ

فارینہ نے ہلکا سا دروازہ وا کرکے ہاتھ باہر نکالا تو غازیان نے اس کے ہاتھ میں کپڑے تھما دیے

فارینہ نے جلدی سے ہاتھ اندر کیا اور دروازہ واپس بند کردیا

غازیان تیار ہونے میں مصروف ہوگیا

پانچ منٹ بعد فارینہ مہرون رنگ کی انار کلی فراک زیب تن کیے باہر نکلی

وہ غازیان سے ابھی تک خوف ذدہ تھی اس لیے بنا کچھ بولے خاموشی سے اپنے بال سلجھانے لگی

غازیان نک سک سے تیار ہوکر صوفے پر بیٹھا فارینہ کو تک رہا تھا چہرے پر سنجیدگی ابھی بھی اپنا ڈیرا جماۓ بیٹھی تھی

غازیان کی نظریں خود پر محسوس کرکے فارینہ کے ہاتھ پاٶں کانپ رہے تھے اس کو ڈر تھا کہی غازیان اسے بھی بیلڈ سے نہ مارنا شروع ہوجاۓ

غازیان فارینہ کی حالت کا احساس کرکے موباٸل میں مصروف ہوگیا تب کہی جاکر فارینہ پر سکون ہوٸی اور تیار ہونے میں مصروف ہوگٸ

کدھر

کچھ دیر بعد فارینہ کو خاموشی سے دروازے کی طرف جاتا دیکھ غازیان روکھاٸی سے گویا ہوا تھا

وہ وہ نیچے آپی کے پاس جارہی ہوں

فارینا ڈرتی ڈرتی گویا ہوٸی

کوٸی ضرورت نہیں ہے کہی جانے کی میرے ساتھ چلیں ہم ناشتہ باہر کرے گے

غازیان فارینہ کا ہاتھ تھامتا کمرے سے باہر نکل گیا

غازی یہ کیا کہہ رہے ہو تم میرے گھر والے آنے والے ہونگے میرے لیے ناشتہ لے کر میں ان کے ساتھ ناشتہ کروں گی

جانتا ہوں تب ہی لے جارہا ہوں

غازیان ذرا رک کر فارینہ کی آنکھوں میں جھانکتا گویا ہوا تھا