Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Na Hona Mujhse Juda Episode 1

Na Hona Mujhse Juda by Misbah Khalid

اے سمندر شور نہ کر

عشق روٹھا ہے مجھ سے

توں دلجوٸی نہ کر

دل میں ہزار دکھ لیے آیا ہوں

توں خود میں سماں لے

اب دیر نہ کر

اے سمندر توں شور نہ کر

دل ٹوٹا ہے میرا

توں میری دلجوٸی نہ کر

رات کی تاریکی میں وہ گرے پینٹ سیاہ شرٹ میں ملبوس ہونٹوں میں سیگریٹ دباۓ سی ویو کے کنارے کار کے بونٹ پر بیٹھا دنیا سے ناراض معلوم ہورہا تھا جبکہ سیاہ ٹاٸی اور گرے کوٹ سمندر کی ریت کی زینت بنے ہوۓ تھے

براٶن آنکھیں سرخ تھیں جیسے ان کو جانے کب سے نیند نصیب نہ ہوٸی ہو گھنے سیاہ بال سمندر سے آتی ٹھنڈی ہوا سے لہرا رہے تھے گلابی ہونٹ سیگریٹ پی پی کر اپنا اصلی رنگ کھو چکے تھے

سمندر کی لہروں سے برپا ہونے والا شور بھی اس کے اندر کا شور کم کرنے میں ناکام ثابت ہورہا تھا

اس کی دھڑکنیں اس سے چیخ چیخ کر کہہ رہیں تھیں

”تم میری ہو تم میری ہو نہ ہونا مجھ سے جدا“

” تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے بکواس بند کرو اپنی ارے عمر کا نہیں تو رشتوں کا ہی پاس رکھا ہوتا گھن آتی ہے مجھے تم جیسے انسان سے چلے جاٶ میری نظروں کے سامنے سے میں تمھارا چہرا نہیں دیکھنا چاہتی گھٹیا انسان “

وہ اپنے تلخ ماضی میں کھویا ہوا تھا

موباٸل کی چنگھاڑتی آواز سے وہ حال میں لوٹا تھا

اس نے ایک بےزار سی نظر موباٸل پر ڈالی تھی

موباٸل پر ایک خوبصورت سی ذرا فربہ جسامت کی نفیس سی خاتون کی تصویر جگمگا رہی تھی نام کی جگہ اسٹیپ مدر لکھا ہوا تھا

اَلسَلامُ عَلَيْكُم موم

وَعَلَيْكُم السَّلَام بیٹا آپ کب تک آٶ گے یہاں سب مہمان آچکے ہیں برات بھی آنے والی ہے جلدی آجاٶ بیٹا سب مجھ سے کتنی بار پوچھ چکے آپکا

فروزہ بیگم انتہاٸی محبت سے گویا ہوٸیں تھیں

وہ اس کی سوتیلی ماں تھیں لیکن کبھی سوتیلا جیسا سلوک نہیں کیا تھا

یہاں تک کے فروزہ بیگم کے گھر والے بھی انتہاٸی نرم طبیعت اور سادھا لوح تھے وہ بھی اسے بہت چاہتے تھے انہوں نے کبھی اس میں اور اپنے سگے بچوں میں فرق نہیں کیا تھا

موم آپ جانتی ہیں مجھے ان سب میں کوٸی دلچسپی نہیں ہے پھر آپ مجھے بار بار وہاں آنے پر فورس کیوں کررہی ہیں

وہ سنجیدہ تاثرات لیے خشک لہجے میں بولتا اپنی ماں کا دل دکھا گیا تھا جو پر امید سی اس کی منتظر تھیں

بیٹا آپ کے ڈیڈ بھی آٶٹ آف کنٹری گۓ ہوۓ ہیں بزنس کے سلسلے میں وہ بھی شادی میں شریک نہیں ہوسکے آپ بھی نہیں آٶ گے تو سب کو کتنا برا لگے گا کچھ دیر کے لیے آجاٶ پلیز آخر آپکی ایکلوتی خالہ کی شادی ہے

فروزہ بیگم نے ایک اور اپنی سی کوشش کی تھی

فروزہ بیگم کے آخری جملے پر وہ کرب سے آنکھیں میچ گیا تھا

اوکے موم کچھ دیر میں آتا ہوں

وہ اپنی ماں کی گزارش کو مزید رد نہ کرسکا

ٹھیک ہے جلدی آجاٶ بیٹا

فروزہ بیگم دل سے مسکراٸیں تھیں

ہممم خدا حافظ

وہ روکھے لہجے میں کہتا کال منقطعہ کرچکا تھا

ایسا نہیں تھا وہ اپنی ماں کی عزت نہ کرتا ہو یا انھیں پسند نہ کرتا ہو

لیکن غازیان ان سے ریزرو رہتا تھا

وہ کم گو سنجیدہ سا اکھڑ مزاج تھا نہ کسی سے زیادہ بات کرتا تھا نہ کسی کو اپنے قریب آنے دیتا تھا

فروزہ بیگم نے اپنی نرم مزاجی اور اپنی محبت سے اپنے شوہر اور بیٹے کا دل جیت لیا تھا

فاتح ملک صاحب سے فروزہ بیگم کی دوسری شادی ہوٸی تھی جبکہ ان کی پہلی شادی اپنے پھوپھی زاد فراز سے ہوٸی تھی

فراز صاحب نے فروزہ بیگم کے بانچ پن کی وجہ سے ان کو طلاق دے دی تھی اس کے بعد ہی ان کی شادی فاتح صاحب سے ہوٸی جو ان کے دور کے رشتے دار تھے

ان کی پہلی محبوب ہمسفر بیوی کینسر کے مرض میں مبتلا ہوکر پانچ سالہ غازیان اور اپنے محبوب شوہر کو تنہا چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوگٸیں تھیں

ان کی وفات کے دو سال بعد ہی فروزہ بیگم فاتح صاحب کے نکاح میں آٸیں

سات سالہ غازیان ان کی تڑپتی مامتا کی تسکین کا ذریعہ بنا تھا

غازیان ہاتھ کی انگلیوں میں دبی آدھی سیگریٹ ایک ہی کش میں ختم کرکے اسے سمندر کی گیلی ریت پر پھینکتا گاڑی کے بونٹ سے چھلانگ لگا کر نیچے اترا تھا

ریت پر پڑا اپنا کوٹ ٹاٸی اٹھا کر جھاڑتا کار کا دروازہ کھول کر ڈراٸیوینگ سیٹ پر بیٹھتا وہ سمندر پر الوداعی نظر ڈالتا وہاں سے نکل چکا تھا

گھر پہنچتے ہی وہ نہانے چلا گیا تھا بیس منٹ کی لگا تار محنت کے بعد وہ آٸینے کے سامنے تیار کھڑا اپنا مکمل معاٸنہ کر رہا تھا

سفید شرٹ پر نیلی واسکوٹ نیلی پینٹ پہنے بال جیل سے سیٹ کیے چہرے پر سنجیدہ تاثرات لیے وہ ناراض سا شخص بہت حسین لگ رہا تھا

اپنا جاٸزہ لینے کے بعد وہ مضبوط قدم چلتا کار میں آکر بیٹھ گیا تھا اگلے ہی پل گاڑی اپنی منزل کی طرف گامزن ہوگٸی تھی

پندرہ منٹ کی ڈراٸیو کے بعد وہ بینکوٸٹ پہنچا تھا

گاڑی پارک کرکے وہ خود کو مضبوط کرتا بینکوٸٹ میں داخل ہوا تھا لیکن وہاں کا منظر دیکھ کر اس کو دھچکا لگا تھا پراٶن آنکھوں میں حیرت کی ساتھ تجسس کے ملے جلے تاثرات تھے

وہاں موجود عورتیں ایک دوسرے کے کانوں میں گھوسیں تیرچھی نظروں سے اسٹیج پر بیٹھی سجی سنوری دلہن کو دیکھ کر کفتگو کررہیں تھیں

غازیان نے اسٹیج پر نظر ڈالی تو سب گھر والے وہی موجود تھے کچھ کھڑے تھے تو کچھ بیٹھے تھے

اس کی نانی اور ماں سر تھامے دلہن کے داٸیں باٸیں بیٹھیں تھیں جبکہ اس کی دونوں مامیاں دلہن کے سر پر کھڑی جانے کیا بول رہیں تھیں

اس کے دونوں ماموں پریشانی سے چکر کاٹ رہے تھے

وہ سب کچھ ناسمجھی سے دیکھتا اسٹیج کی طرف بڑھ گیا تھا

موم یہ سب کیا ہورہا ہے

غازیان کی آواز پر سب نے نظریں اٹھا کر اس کو دیکھا تھا

فروزہ بیگم روتے ہوۓ غازیان کے سینے سے لگ گٸیں تھیں

بیٹا سب ختم ہوگیا

موم کچھ بتاٸیں تو مجھے ہوا کیا ہے

غازیان نے فروزہ بیگم کو دونوں کندھوں سے تھام کر اپنے روبرو کھڑا کیا تھا

بیٹا وہ لوگ بارات لے کر نہیں آرہے ان کے بیٹے نے میری بہن سے شادی کرنے سے صاف انکار کردیا ہے وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے اور اس نے گھر والوں سے چھپ کر اس لڑکی سے شادی بھی کرلی ہے

فروزہ بیگم رندھے ہوۓ لہجے میں کہتیں دوبارہ غازیان کے سینے سے لگ گٸیں تھیں

غازیان نے اپنی خمدار پلکے اٹھا کر سرخ جوڑے میں بت بنی دلہن کی طرف دیکھا جو شاید سکتے میں تھی اپنی کم ماٸیگی پر

موم ساٸیڈ پر آٸیں مجھے آپ سے بات کرنی ہے

غازیان اپنے سینے سے لگی فروزہ بیگم کے کان میں سرگوشی کرتا

ایک خاموش گوشے کی طرف چل دیا تھا

فروزہ بیگم بھی ناسمجھی کے عالم میں غازیان کے پیچھے ہولیں تھیں

بیٹا بولو کیا بات کرنی ہے آپ کو

وہ موم آپ نانی ماموں سے میرے لیے بات کریں

کیا مطلب غازیان تمھارے لیے کیا بات کروں میں فروزہ بیگم حیرت ذدہ سی گویا ہوٸیں

آپ میرے لیے ہاتھ مانگے اپنی بہن کا صاف لفظوں میں کہوں تو میں آپ کی بہن سے شادی کرنے کا خواہش مند ہوں

غازیان نے اپنے ازلی روکھے انداز میں جواب دیا اس نے اتنی بڑی بات اتنی آسانی سے کہہ دی تھی جیسے وہ شادی کی نہیں کوٸی کار خریدنے کی بات کررہا ہو

فروزہ بیگم غازیان کی جرأت پر منہ کھولے آنکھیں پھاڑے اسے تک رہیں تھیں

جو ڈھیٹاٸی سے ان کے سامنے کھڑا جواب کا منتظر تھا

آپ بات کررہی ہیں یا میں خود جاکر بات کرلوں

فروزہ بیگم کو اپنی جگہ جمے دیکھ غازیان نے ایک اور بار اپنی زبان کو زہمت دی

وہ خالہ ہے آپ کی غازیان

فروزہ بیگم نے اس کو رشتہ یاد دلانا چاہا

سگی نہیں ہیں پورا خاندان جانتا ہے

غازیان نے فروزہ بیگم کی بات کی سعی کی

عمر میں بڑی ہے وہ آپ سے

فروزہ بیگم ایک اور فرق بتایا

مجھے کوٸی فرق نہیں پڑھتا

غازیان نے کندھے اچکا کر لاپرواہی سے جواب دیا اس کی نظر میں اس نے نارمل بات کی تھی

فروزہ بیگم شش و پنج میں مبتلا تھیں ان کو اپنی بہن کی بھی فکر تھیں لیکن وہ جذبات میں کوٸی غلط فیصلہ کرکے اپنی بہن کی زندگی برباد نہیں کرنا چاہتی تھیں وہ ہر طرح سے غازیان کو سمجھانا چاہ رہیں تھیں کہ اس کا کوٸی جوڑ نہیں ان کی بہن سے

بیٹاآپ کے ڈیڈ کو کیا جواب دوں گی وہ کبھی یہ رشتہ قبول نہیں کرے گے

فروزہ بیگم نے ایک اور ہربہ آزمایہ تھا

ان سے میں خود بات کرلوں گا آپ جاٸیں پلیز نانی ماموں سے بات کریں

وہ بے زار سا بولا تھا

غازیان بیٹا کیا آپ مجھے بتانا پسند کرو گے آپ اتنا بڑا فیصلہ کیوں لے رہے ہو

شادی کوٸی گڈے گڑیا کا کھیل نہیں ہے عمر بھر کا ساتھ ہوتا ہے آپ اچھی طرح سوچ لو

موم میں نے سوچ لیا ہے اچھی طرح آپ پلیز جاٸیں نانی ماموں سے بات کرکے ان کو قاٸل کرنے کی کوشش نہیں بلکہ ان کو راضی کریں

غازیان حتمی انداز میں گویا ہوا

اچھا ٹھیک ہے کرتی ہوں بات تم یہی کھڑے رہنا

فروزہ بیگم غازیان کو ہدایت کرتیں اسٹیج کی طرف بڑھ گٸیں تھیں