Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mere Dard Ki Tujhy Kia Khabar (Episode 19)Part 1,2

Mere Dard Ki Tujhy Kia Khabar by Umme Abbas

کتنی دیر گذر گئی تھی سرد ،رگوں میں بہتے لہو کو جما دینے والی سردی میں وہ وہاں یخ ٹھنڈے وجود کے ساتھ بیٹھی تھی ۔باہر گلی میں کہیں دور کتے کے بھونکنے کی آوازیں آ رہیں تھیں ۔وہ سر گھٹنوں کے گرد باندھے بازوؤں سے اٹھا کر اب خالی خالی آنکھوں سے زمین پر کسی غیر مر ئی نقطے کو دیکھ رہی تھی ۔متورم ،سوجی ہوئی آنکھیں بہت سارا رونے کے بعد اب تھک کر خشک ہو گئیں تھیں ۔اسے اپنے خرماں نصیبی پر یقین ہو چلا تھا ۔

یہاں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں تھا جو اسے بے گناہ گردانتا ۔وہ جو رات کمرے سے نکل کر کچن میں پانی پینے جانے کے لیے سو بار سوچ کر اٹھتی تھی ۔اس وقت آدھی سے زیادہ گذر گئی رات میں تن تنہا باہر صحن میں اندھیرے کھلے آسمان تلے بیٹھی تھی ۔قسمت نے اس پہ رحم نہیں کھایا تھا ۔وہ اپنی نا سمجھی و بھولپن میں ماری گئی تھی ۔خسارے اس کے حصے لکھے جا چکے تھے ۔جن کا ماتم اسے اب سالوں تک کرنا تھا ۔

اپنے بے جان ہوئے وجود کو گھسیٹ کر وہ اندر کی طرف بڑھی تھی ۔ہمیشہ سلیقے سے سر پر جمی شال اسکے کندھے پر ایک طرف پڑی اس کے قدموں میں رل رہی تھی ۔بالوں کی کہیں لٹیں چوٹی سے نکل کر اسکی گردن اور چہرے کے گرد سوگوار سی لپٹی اسکے دکھ میں شریک گریہ زدہ تھیں ۔چہرے پر کسی کی بے رحمانہ تهپڑوں کے نشان بہت نمایاں تھے ۔

بھاری ہوئے قدموں اور بو جهل ہوئی سانسوں کے ساتھ اس نے کمرے میں قدم رکھا تھا ۔وہ سامنے بیڈ کی پائینی سر جھکائے نظریں زمین پر گاڑھے دونوں ہاتھ بیڈ پر اطراف میں رکھے بیٹھا تھا ۔اس کے آنے پر اس نے نظریں اٹھائی تھیں ۔دعا نے اسکی طرف دیکھا تھا وار اسکا دل یک لخت بے طرح دھڑکا تھا ۔زندگی میں پہلی بار کسی کی آنکھوں سے اسے خوف محسوس ہوا تھا ۔

وہ آنکھیں کیسی تھیں؟ سرخ لہو رنگ ،غیر شناسا ئی کے رنگ لیے ،غم و غصے کی طفیانی اپنے اندر لیے وہ اس کے وجود کو نیست و نا بود کرنے کے درپے تھیں ۔

دعا کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی تھی ۔وہ مرے ہوئے قدموں سے اندر آئی تھی ۔اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی وہ بنا جرم کے سر جھکائے نظریں گرائے ہوئے تھی ۔انسان وقت اور حالات سے کبھی نہیں ہارتا ،اسے اپنوں کی بےاعتنائی مار دیتی ہے ۔جیسے اسے فارس کی بے اعتباری نے جیتے جی مار دیا تھا ۔

وہ کتنی دیر اسے اپنی شعلہ بار آنکھوں سے بهسم کرتا رہا تھا جن کی تپش اسکے گال دہکا گئی تھی ۔مگر اس کے منہ سے اک لفظ نہیں نکلا تھا ۔جہاں یقین نہ ہو وہاں وضاحتیں انسان کو اور زیادہ بے مول کر جاتی ہیں ۔اسکی خموشی نے اسے انگاروں پر لٹا دیا تھا ۔وہ جھٹکے سے اٹھا تھا ساتھ ہی دعا نے سہم کر اک قدم پیچھے لیا تھا ۔

وہ بے گناہ ہو کر بھی کٹہرے میں کھڑی کر دی گئی تھی ۔اپنی بے گناہی میں اس کے پاس سوائے اپنی گواہی کے کچھ نہیں تھا اور جس پر فارس کو اس وقت یقین کرنا نا ممکن تھا ۔

“کیوں کیا یہ سب ؟کیوں ؟۔تمہیں ایک لمحے کے لیے بھی مجھ پر ترس نہیں آیا ؟۔اگر تم آج وہ سب کر گزرتی تو کیا منہ دکھاتا میں دنیا کو ؟۔لوگ ہنستے مجھ پر دعا ۔کیا مانگا تھا تم سے صرف وفا داری ۔تم سے وہ بھی نہیں ہوسکی ۔”۔اسکی آواز میں بھیگا پن تھا ،خود اذیتی تھی، اک کرب تھا ۔دعا نے اپنی پلکیں موندی ۔اتنے درد میں ہو کر بھی وہ اس کی تکلیف کو محسوس کر رہی تھی ۔

“یہ وجہ تھی مجھ سے دوری اختیار کرنے کی ہے ناں ؟۔اور میں بیوقوف تمہیں اس رشتے کو اپنانے کا وقت دیتا رہا ؟”وہ استہزا سا خود پر ہنسا تھا ۔آنکھ سے اک آنسو ٹوٹ کر گال پر بکھرا تھا ۔”تم ہنستی ہوگی مجھ پر کیسا عقل کا اندھا مرد ہے کتنی آسانی سے بیوقوف بن گیا “۔چہرہ اوپر کرتے اس نے گہرا سانس خارج کیا تھا ۔اسکی یہ چپ اسے اندر ہی اندر طیش دلا رہی تھی ۔وہ عین اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا ۔

“دعا کیوں کیا تم نے ایسا ؟۔تمہیں ایک بار بھی احساس نہیں ہوا کہ تم کیا کرنے جا ر ہی تھی ۔مجھے نہیں پتہ تھا اس خوبصورت اور معصوم چہرے کے پیچھے اس قدر مکروہ اور بدصورت حقیقت چھپی ہو گی “۔اپنے ہاتھوں کی انگلیاں اسکے شانوں میں کبھوئے اسے جھنجو ڑ تا وہ غضب بھری سرخ آنکھوں سے اس دیکھتا دھیمی آواز میں چنگھاڑ رہا تھا ۔

“فارس میں نے کچھ نہیں کیا ؟۔میں کیسے یقین دلاؤں آپکو ۔میں ایسی لڑکی نہیں ہوں ۔وہ سب شفق کا کیا دھرا ہے “۔وہ بیٹھی ہوئی آواز میں چینخی تھی ۔ایک آخری کوشش ۔جو اسے اور مہنگی پڑی تھی ۔وہ بھول گئی تھی وہ شفق سے کتنی بے لوث محبت کرتا ہے ۔اندھا اعتبار تھا اسے سعدیہ پر پھر کیسے وہ اپنی آنکھوں پر بندھی انکی جھوٹی محبت کی پٹی سے اسکی سچائی جان پاتا ۔

“تم ویسی لڑکی نہیں ہو مگر میری بہن ویسی لڑکی ہے ۔یہی کہنا چاہ رہی ہو ناں تم ؟۔وہ تلملا کر بولا تو دعا کو احساس ہوا تھا وہ کتنی بری طرح پھنسی ہے ۔وہ خود کو بے گناہ تبھی ثابت کر سکتی تھی جب وہ شفق کا جرم ثابت کرتی جو فلحال نا ممکنات میں سے تھا ۔

“دعا بس کر دو ۔اپنی غلطی دوسروں کے کھاتے میں ڈالنا بند کر دو ۔میں نے تمہاری بہت سی باتوں کو تمہارا بچپنا سمجھ کر نظر انداز کیا ہے مگر اب اور نہیں “۔وہ اسے دیکھتے جیسے کسی نتیجے پر پہنچا ۔
“تم بھول گئی تھی تم فارس احمد کی بیوی ہو ۔لیکن غلطی میری ہے میں نے ہی تمہیں کبھی احساس نہیں دلایا ہمارے رشتے کا ۔آج میں تمہیں اچھے سے باور کرواؤں گا تاکہ تم دوبارہ کبھی نہ بھول سکوں “۔اسکی آنکھوں میں سفا کیت در آئی تھی ۔

اور پھر اسکی قربت میں دعا نے جانا تھا مرد جب نظر سے گری اور دل سے اتری عورت کو برتتا ہے تو کیسا سفاک و بے رحم بن جاتا ہے ۔اسکا قرب عورت کو صرف پامالی کے احساس سے دوچار کرتا ہے ۔وہ روئی تھی ،سسكی تھی مگر وہ اس کے معاملے میں پتھر بن گیا تھا ۔بے حس ،ہر احساس سے بے بہرہ ۔

🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷

اگلی صبح اسکا وجود کسی پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا ۔وہ بخار میں بری طرح تپ رہی تھی ۔ایک ہی رات میں اسکے چہرے کی شادابی نچڑ کر رہ گئی تھی ۔اس نے کل رات سے کچھ نا کھایا تھا نا ہی پانی کا اک گھونٹ حلق سے اترا تھا ۔فارس صبح صادق اٹھ کر بنا اس سے کچھ بھی کہے کمرے سے نکل گیا تھا ۔دعا ساری رات روتی تڑ پتی رہی تھی صبح فجر کی نماز ادا کر کے کتنی دیر وہ جائے نماز پر بیٹھی رہی تھی اس نے پہلی بار کوئی دعا نہیں مانگی تھی مگر اسکی آنکھ سے گرتا ہر آنسو رب کے حضور فریاد کر رہا تھا ۔اسکی سانسوں سے جیسے بهاپ نکل رہی تھی ۔وہ واپس آ کر بستر پر لیٹ گئی تھی ۔اور پھر وہ سو گئی تھی ۔دن گياره کے قریب اسکی آنکھ کسی آواز پر کھلی تھی ۔سامنے سعدیہ ہاتھ میں ٹرے لیے کھڑی تھیں ۔انکی آنکھوں میں اپنے لیے حقارت اس نے صاف محسوس کی تھی ۔کہنی کے بل وہ اٹھ بیٹھی ۔تو انہوں نے ٹرے بیڈ پر ہی جگہ بناتے ہوئے رکھی اور خود بھی بیٹھ گئیں ۔اس کی اجڑی حالت پر اک گھری نگاہ کی تھی ۔

“تمہارے ساتھ جو ہوا مجھے اسکا افسوس ہے ۔مگر کسی خوش فھمی میں مت رہنا کہ تم کبھی خود کو بے گناہ ثابت کر پاؤ گی ۔شفق کا نام بھولے سے بھی اب اپنی زبان پر مت لانا ۔ورنہ ۔۔۔۔طلاق کا ٹھپہ لگا کر اس گھر سے چلتا کروں گی ۔ماں تو پہلے ہی طلاق کا میڈل لیے ہوئے ہے ۔تم بھی جا کر دہلیز پر بیٹھ جاؤ گی تو دنیا والے تھو تھو کریں گے ۔کہیں گے یہ تم لوگوں کا خاندانی مشغلہ ہے ۔ناشتہ کر کے یہ دوائی کھا لینا ۔فارس کو ابھی بھی تم سے ہمدردی کا بخار چڑھا ہوا ہے “۔استہزائیہ انداز میں اسے کہتے وہ رعونت سے سر جھٹک کر باہر نکل گئیں تھیں ۔وہ ویران چہرہ اور سراسیمہ آنکھیں لیے ان کی چھوڑی جگہ کو دیکھتی رہی ۔

وہ تین دن رہا تھا گھر ۔اور وہ تین دن اسکی زندگی کے سب سے بد ترین دن تھے ۔پھر وہ جرمنی چلا گیا تھا ۔اور اس سے بے پرواہ ہو گیا ۔دن مہینوں میں بدلے تھے اور مہینے سالوں میں ۔وہ بے خبر رہا تھا اس سے ۔وہ بے حسی کا لبادہ اوڑھ گیا تھا ۔تو دعا نے بھی خود کو ہر چیز سے بے نیاز کر لیا تھا ۔قدرت کو اس پہ رحم آیا تھا ۔اسکی گود میں حریم اور مزمل کو ایک ساتھ ڈال دیا ۔وہ ان میں پناہ اختیار کر گئی تھی ۔کوئی کیا کہتا ہے کیا کرتا ہے اس نے فکر کرنا چھوڑ دی تھی ۔سعدیہ فارس کو اس کے بارے میں کیا کیا کہتی ہیں اسے پر واہ نہ رہی ۔اس کا دل مر گیا تھا ۔اب اسے کسی کی خوشی نا خوشی سے کوئی مطلب نہ رہا تھا ۔اہم تھے تو صرف اسکے بچے ۔جو اسکی زندگی میں واحد امید کی کرن تھے اس کی آتی جاتی سانسوں کی ضمانت ۔

Part 2

“حریم ۔۔۔۔حریم ماما کو تنگ مت کریں ۔آ جائیں پہلے یہ فنش کر لیں “۔دعا ہاتھ میں باؤل لیے اس کے پیچھے پیچھے گھوم رہی تھی اور حریم ہاتھ میں اپنی فیورٹ ڈول لیے پورے گھر کی انسپیکشن پر نکلی ہوئی تھیں کافی دیر سے یہ کھیل فارس خاموشی سے لاؤنج میں بیٹھا لیپ ٹاپ کھولے اپنے آفس کا کام کرتے ہوئے گاہے بگاہے دیکھ رہا تھا ۔کتنی بار اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی ۔اسکی بیٹی کو ٹھنڈے مزاج کی حامل دعا کو بھی تپانا خوب آتا تھا ۔

“حریم ۔میں آخری بار کہہ رہی ہوں ۔اب اگر آپ نے میری بات نہیں سنی تو پھر میں صرف مزمل کی مما بن جاؤں گی “۔اس نے اپنی آزمودہ دھمکی دی تو حریم کے پاؤں کو بریک لگی ۔دعا نے تشکر کا سانس لیا ورنہ اتنی دیر سے اس کے پیچھے چلتے اسکی ٹانگیں دکھنے لگی تھیں ۔اس نے منہ لٹکا کر شکایتی نظروں سے ماں کو دیکھا تھا ۔

“ماما جی مجھے یہ نہیں پینا ۔یہ گندہ ہے ۔”اسکی آنکھوں میں نا پسندیدگی تھی ۔منہ ٹیڑھا کر کے اس نے بد مزہ سا منہ بنایا ۔

“بری بات حریم ۔کھانے پینے کی چیزوں کو ایسے بولو تو اللّه تعالیٰ کٹی ہو جاتے ہیں ۔اور یہ تو بہت ٹیسٹی ہے ۔بھائی بھی تو پی رہا ہے ناں مانو “۔پیار سے پچکار کراس کے سامنے بیٹھتے ، اس نے یخنی کو چمچ میں بھر کر اس کے منہ کی طرف لے جاتے کہا ۔

“سوری اللّه تعالیٰ ۔پر مجھے اچھا نہیں لگتا ناں ۔”وہ تھوڑا پیچھے ہوئی تھی دعا نے اب کی بار اسے گھورا تھا ۔اسکی چالاکی پر وہ صبر کا گھونٹ پی کر رہ گئی ۔کبھی کبھی حریم اسے بہت ٹف ٹائم دیتی تھی ۔اس نے مڑ کر اک نظر مزمل کو دیکھا جو بڑے آرام سے ڈا ئینگ ٹیبل پر بیٹھا انھیں دیکھتا ساتھ میں سوپ بھی پی رہا تھا ۔(میرا پیارا بیٹا )۔دعا مسکرائی ۔

“بیٹا سردی ہے ناں آپ یہ پیے گی تو انشااللہ بیمار نہیں ہونگی ۔”ایک آخری کو شش کی گئی تھی ۔
فارس لیپ ٹاپ بند کرتا اب ماں بیٹی کے ہوتے مزاکرات سے محظوظ ہونے لگا تھا ۔جن میں فلحال حریم کا ہی پلڑہ بھاری تھا ۔بیچاری دعا اسے اس پر ترس آیا ۔حریم نے اک نظر اسے دیکھا تھا پھر گردن گھما کر فارس کو ۔کھلکھلا کر ہنستی وہ بھاگ کر باپ کی گود میں جا بیٹھی تھی ۔دعا جو اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی پیچ وتاب کھا کر رہ گئی ۔

اس نے سخت نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔فارس نے اسکو نرمی سے خود میں بھینچ کر اسکے سر پر پیار کیا تھا ۔
“دعا مجھے دے دو ۔بابا خود اپنی حریم کو پلائیں گے ۔ہے ناں حریم بابا کے ہاتھ سے پیے گی ؟”۔اور حریم نے سعادت مندی سے سر ہلایا تھا ۔دعا نے جا کر باؤل فارس کے ہاتھ میں تهمایا تھا ۔اور پھر اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی تھی جب حریم صاحبہ نے آنکھیں ٹپٹپا کر بہت مزے سے بنا کوئی برا منہ بنائے وہ سوپ باپ کے ہاتھ سے پیا تھا بلکہ اسے پسندیدگی کی سند بھی دے دی تھی ۔

دعا نے ناراض نظروں سے حریم کو دیکھا تھا مگر اسکی ساری توجہ کا مرکز اس وقت سامنے بیٹھا چمچ اس کے منہ کی طرف لے جاتا فارس تھا ۔مزمل بھی اپنا باؤل لیے انکے پاس آ گیا تھا ۔اب صورتحال کچھ یوں تھی کہ وہ ایک چمچ حریم اور دوسری مزمل کی طرف بڑھا رہا تھا ۔کچھ دیر بے مقصد وہ کھڑی انھیں دیکھتی رہی تھی ۔
(بڑے کوئی بے وفا نکلے تم دونوں ۔اتنے سال میں نے اتنا خیال رکھا ،اتنی محبت کی اس پر باپ کی صرف دو ماہ کی محبت غالب آ گئی )۔

دل ھی دل ان دونوں سے شکوہ کرتی وہ سست روی سے چلتی ڈائینگ ٹیبل کی چیئر پر بیٹھ کر بے خیالی میں میز کی سطح پر انگلی پھیرنے لگی تھی ۔اسے برا لگا تھا بچوں کا خود کو یوں نظر انداز کرنا ۔آج کل وہ یوں ہی عجیب سی کیفیت کا شکار ہونے لگی تھی ۔اسے غصہ آنے لگا تھا ۔وہ دل ہی دل ناراضگی پالنے لگی تھی ۔گلئیشئر پگھلنے لگا تھا ۔اس کے احساسات پر جمی برسوں پرانی بے حسی کی برف فارس کی موجودگی کی گرماہٹ سے ڈھلنے لگی تھی ۔وہ آہستہ آہستہ نارمل ہو رہی تھی ۔

🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷

“وشمہ آج کی تاریخ میں ناشتہ مل جائے گا یار ؟”۔فل یونیفارم میں تیار وہ جوتوں کے تسمے باندھ رہا تھا ۔کمرے سے نکلتے نزہت نے اسے گھورا تھا ۔

“طلحہ انسان بن جاؤ ۔کیوں صبح صبح اسکو گھن چکر بنا دیتے ہو ؟۔بیچاری کا ایک پاؤں کچن اور دوسرا بیڈ روم میں ہوتا ہے ۔کبھی تمہیں کچھ نہیں مل رہا ہوتا تو کبھی کچھ ۔اور پھر تم اسے آرام سے ناشتہ بھی نہیں بنانے دیتے ۔اوپر سے اس نے میرا داخلہ بھی کچن میں ممنوع قرار دے دیا ہے ۔”۔امی نے اس کے پاس آ کر اسے ڈپٹا تھا ۔جو اب مزے سے مسکرا رہا تھا ۔

“ہائیں امی قسم سے بڑا مزہ آتا ہے ۔جب وہ صبح صبح پریڈ کرتی ہے تو ۔اچھا ہے ناں ایسے بندہ فٹ رہتا ہے موٹا نہیں ہوتا “۔انکے دونوں گال پکڑ کر ہلکے سے کھینچتے وہ شرارت سے کہہ رہا تھا ۔امی نے اسکے ہاتھوں کو پکڑ کر پیچھے کیا تھا پھر اسکے کندھے پر ایک چپت رسید کی تھی ۔

“بیٹا جی وہ سوئی ہوئی شیرنی کی طرح ہے ۔جس دن جاگ گئی ناں لگ تمہیں پتہ جانا ہے ۔”اس کے ماتھے کے نشان پر انگلی پھیرتے وہ مسکرائی تھیں طلحہ نے بڑی مشکل سے اپنا قہقہہ ضبط کیا ۔

“ارے چھوڑیں امی وہ سب پرانی باتیں ہیں ۔اب تو آپ کے بیٹے کے نام کاڈنکا بجتا ہے “۔کا لر جھٹک کر بڑے سٹائل سے کہا گیا تھا ۔امی ہنس دیں ۔

“اللّه پاک میرے بچوں کو یوں ہی شاد و آباد رکھے “۔صدق دل سے دعا دی ۔

“آ جائیں ناشتہ ریڈی ہے “۔تبھی وشمہ کچن سے ناشتے کی ٹرے لیے باہر ڈ ائینگ ٹیبل کی طرف بڑھی تھی ۔لائم گرین کھدر کے سوٹ میں سیاہ شال لپیٹے بالوں کا دھیلا سا جوڑا اسکی گردن کو ڈھانپے ہوئے تھا ۔وہ پیاری تھی مگر طلحہ کو خوبصورت ترین لگتی تھی ۔اک اور چکر لگا کر وہ تما! تمام لوازمات ٹیبل پر سجا کر خود بھی آ بیٹھی تھی ۔طلحہ نے کچن سے ہی ہاتھ دھوئے تھے ۔سربراہی کرسی پر امی براجمان تھیں ۔وہ طلحہ کے ساتھ والی کرسی سنبھال چکی تھی ۔

“طلحہ اٹھتے آپ خود لیٹ ہیں اور پھر شور میرے سر پر مچاتے ہیں ۔چائے بناتے امی کو دیتے ہوئے اس نے زچ ہوتے کہا تھا ۔

“تو اس میں بھی تمہاری غلطی ہے “۔جلدی جلدی ناشتہ کرتے وہ بولا ۔دعا سٹپٹائی تھی ۔

“تمہیں ٹھیک سے جگانا ہی نہیں آتا “۔امی سے آنکھ بچا کر اسکی طرف مڑتے وہ آنکھ دبا کر اسکو دیکھتا ہنسا تھا ۔

“کل سے ٹھیک سے جگاؤں گی ۔الارم لگا کر۔ فکر نہ کریں “۔دانت پیس کر مصنوئی مسکان لبوں پر سجائے وہ بولی تھی آخر میں اسے گھورا تھا ۔امی چائے پیتے انکی نوک جھونک سے لطف اندوز ہو رہیں تھیں ۔وہ جلدی سے دو چار نوالے لے کر وہ چائے کا ایک بڑا سا گھونٹ لیتا ٹشو سے منہ صاف کرتا اٹھا تھا امی کو جھک کر ساتھ لگا کر انکا سر چوما ۔

“طلحہ ناشتہ تو ٹھیک سے کرو بیٹا “۔امی نے ٹوکا تھا ۔

“میرا ہو گیا ہے امی ۔دیر ہو رہی ہے ۔اللّه حافظ ۔”کہتا وہ باہر کی جانب لپکا تھا ۔

“اللّه اپنے حفظ و امان میں رکھے “۔امی کی آواز نے اسکا پیچھا کیا تھا ۔وشمہ اسے چھوڑنے باہر تک آئی تھی ۔گھر کے اندر و نی دروازے کے پاس کھڑے ہو کر اسکی جانب مڑا تھا ۔اسکا گال تهپتهپا کر وہ باہر کی جانب بڑھ گیا تھا ۔وشمہ اسے اللّه کی امان میں دیتے واپس آ گئی تھی ۔

اب وہ دونوں سکون سے ناشتہ کر رہیں تھیں جو طلحہ کے ہوتے نا ممکن تھا ۔اسکے صبح ڈیوٹی پر جانے تک اک عجیب ہڑبڑی مچی ہوئی ہوتی تھی ۔

🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷

آفس سے واپسی پر وہ آج معمول کی نسبت کچھ ڈل سا لگ رہا تھا ۔حریم اور مزمل اس کے ساتھ ہی بیڈ روم میں چلے گئے تھے ۔آفس سے واپسی پر اسے پانی پیش کرنے کی ذمہ داری مزمل نے اپنے چھوٹے چھوٹے کندهوں پر لے لی تھی ۔حریم تو اسے دیکھ کر ہی باہیں پھیلا کر اسکی طرف بھاگتی تھی جبکہ مزمل کچن کی طرف ۔چائے لے کر وہ جب کمرے میں آئی تو وہ بنا چینج کیے بستر پر نیم دراز سا لیٹا ہوا تھاالبتہ ٹائی اور کوٹ ندارد تھا ۔آنکھوں کے گو شے سرخی ما ئل هو رہے تھے ۔حریم اور مزمل اسکے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے تھے ۔اور اشتیاق سے اسکے ہاتھوں کو دیکھ رہے تھے ۔جن میں ایک جدید ماڈل کا خوبصورت سا سمارٹ فون تھا اور وہ اس میں سم کارڈ انسرٹ کر رہا تھا ۔

“ماما جی بابا آپ کے لیے فون لائے ہیں ۔”اسے دیکھتے ہی حریم خوشی سے چینخ کر بولی تھی ۔دعا نے حیراں نظروں سے فارس کو دیکھا تھا جو اب موبائل کا بیک کور بند کر رہا تھا ۔اس نے پاس آ کر چائے اسکی طرف بڑھائی تھی ۔کپ تھام کر فارس نے اسے دیکھتے موبائل آگے کیا تھا ۔

“تمہارے لیے ۔اب تو کم از کم یہ مت کہنا تمہیں اسکی ضرورت نہیں ہے “۔ماضی کی کسی بھولی بسری یاد کا تذكرہ کرتے اس کی آواز میں نہ چاہتے ہوئے بھی ہلکی سی خفگی کی رمق در آئی تھی ۔دعا نے اسے پوری شدت سے محسوس کیا تھا ۔بنا کچھ کہے اس نے موبائل لے لیا تھا ۔مزمل بیڈ سے اتر کر ماں کے پاس آ کھڑا ہوا تھا ۔
فارس نے اپنے ماتھے کو مسلا تھا ۔

“پین کلر هو گی ؟۔سر درد کر رہا ہے ۔”

دعا جو مزمل کی طرف دیکھ رہی تھی چونکی اور نظر اسکی جانب کی تھی ۔

“جی میں لاتی ہوں “۔وہ کمرے سے نکل گئی تھی ۔

“بابا میں سر دباؤں ؟”۔حریم اسکو دیکھتی اسکے ماتھے کو چھو کر پیشکش کر رہی تھی ۔چائے کا کپ سائیڈ پر رکھتے وہ ہولے سے مسکرایا ۔

“نہیں میرا بچہ ۔بابا بلکل ٹھیک ہیں “۔اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکی ہتھیلی چومی ۔مزمل خاموش سا اسکے پیروں والی سائیڈ بیٹھ گیا تھا ۔

“پھر ماما کو کیوں بولا سر میں درد ہے ؟”۔اسے باپ کا جھوٹ بولنا شاید پسند نہیں آیا تھا ۔

“شش ۔۔۔حریم بولنے سے سر میں درد زیادہ ہو تا ہے ۔”مزمل نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ کروایا تھا ۔معصومیت بھرا فکر مندانہ انداز فارس کا دل موہ گیا تھا ۔وہ اس کا پر تو تھا ۔وہ منہ سے اظہار نہیں کرتا تھا مگر اسکا ہر عمل اسکے احساسات کا عکاس ہوتا تھا ۔دعا ہاتھ میں ٹیبلٹس لیے واپس آئی تھی اسے دے کر اب وہ حریم اور مزمل کی طرف متوجہ ہوئی تھی ۔

“بیٹا آپ دونوں باہر چلو ۔مما آتی ہیں ابھی ۔”وہ دونوں تابعداری سے باہر کی جانب بڑھ گئے تھے ۔مزمل نے دروازے سے نکلتے مڑ کر اک بار اسے دیکھا تھا ۔فارس اسے دیکھ کر مسکرایا تو وہ شرماتا ہوا باہر نکل گیا ۔

“آپ تھوڑی دیر ریسٹ کر لیں ۔بہتر فیل کریں گے ۔”اسکے ہاتھ سے کپ لیتی وہ مدھم سی آواز میں بنا اسکے چہرے کی جانب نگاہ کئے بولی تھی ۔فارس بنا کچھ کہے لیٹ گیا تھا ۔دعا نے كمبل کھول کر اسکے اوپر پھیلایا تھا ۔پھر کپ اٹھا کر آہستگی سے دروازہ بند کرتی باہر آ گئی تھی ۔لاؤنج میں وہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے ۔

“بابا کے سر میں درد ہے تو کوئی شور نہیں کرے گا ۔ماما کارٹون لگا کر دیں گی اور میرے بچے آرام سے بیٹھ کر دیکھے گے۔ ٹھیک ہے ؟”۔

ٹی وی آن کرتے وہ مصروف سی انھیں سمجھا رہی تھی ۔

“بھائی دادو کتنا شور کرتی تھیں جب انکو سر درد کرتا تھا ۔بابا تو نہیں کیا؟ “۔حریم نے سر گو شی کے انداز میں مزمل کے کان کے پاس منہ کر کے کہا تھا ۔جو دعا کے کانوں نے بھی آسانی سے سنا تھا ۔

“بری بات حریم ۔ایسے نہیں بولتے ۔اب بلکل شور کی آواز نہ آئے “۔

کچن میں آ کر اس نے ہانڈی چڑھائی تھی ۔مگر دھیان بار بار بھٹک رہا تھا ۔کچھ دیر تو وہ نظر انداز کرتی لگی رہی تھی پھر بے بس سی ہوتی برنر بند کرتی فریج میں سے سیب نکال کر کاٹا تھا اور پلیٹ آ کر بچوں کے آگے رکھی تھی ۔

(میں بس ایک نظر دیکھ کر واپس آ جاؤں گی )۔دل نے جیسے صفائی پیش کی تھی ۔

کمرے کا دروازہ آرام سے کھولا تھا ۔پھر کچھ سوچ کر کھلا ہی رہنے دیا تھا ۔یہاں سے حریم اور مزمل کا ترچھا رخ دکھائی دیتا تھا ۔وہ بلکل سیدھا چت لیٹا ہوا تھا ۔آنکھیں بند تھیں ۔دروازہ کھلنے پر بھی اسکے وجود میں کوئی حرکت نہیں ہوئی تھی شاید وہ سو گیا تھا ۔چہرے پر ہنوذ اضطراب کی سی کیفیت تھی ۔دعا اسے دیکھ کر واپس مڑی تھی ۔

پھر دروازے کے پاس جا کر رک گئی تھی ۔دل آماده نہیں ہوا تھا ۔گھری سانس خارج کرتے وہ واپس پلٹ کر اس تک آئی تھی آہستگی سے اسکے سرہانے کے پاس بیٹھ کر اس نے احتیاط سے لرزتے ہاتھوں سے اسکی پیشانی کو چھوا تھا ۔دل گھبرا بھی رہا تھا اگر وہ جاگ گیا تو ؟۔مگر پھر ہر سوچ پس پشت چلی گئی تھی ۔یاد رہا تو صرف اتنا کہ وہ تکلیف میں ہے اس وقت ۔اس کے معاملے میں دعا کا دل ہمیشہ سے موم کا دیا ثابت ہوا تھا اسکی ذرا سی تکلیف پر پگھل جانے والا ۔زیر زبان مختلف قرآنی آیات کا ورد کرتی وہ ہولے ہولے اسکا ماتھا دبا رہی تھی۔کچھ دیر بعد بھی جب وہ ساکت پڑا رہا تو اسکے گھری نیند میں ہونے کا گمان لیے اس کی گھبراہٹ معدوم ہوئی وہ نظریں باہر لاؤنج میں بیٹھے سیب کھاتے بچوں پر جما ئے ہوئے تھی ۔

اس نے ایک بار بھی بھولے سے اسکے چہرے کی جانب نگاہ نہیں کی تھی ورنہ اسکی جنبش کرتی گھینری پلکوں سے اسکے جاگنے کا راز پا لیتی ۔اسکی سرد مخروطی نرم انگلیوں کا لمس اپنے درد سے پھٹتے ماتھے پر محسوس کرتے اس کے اندر تک سکون کی لہر دوڑ گئی تھی ۔ جیسے جلتی آگ پر ٹھنڈی پھوار برسی ہو ۔وہ جو اتنی دیر سے چاہ کر بھی سو نہیں پا رہا تھا اب نیند کی میٹھی آغوش میں جاتا ہوش و حواس سے بیگا نہ ہوتا جا رہا تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *