Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mere Dard Ki Tujhy Kia Khabar (Episode 17)Part1,2

Mere Dard Ki Tujhy Kia Khabar by Umme Abbas

سبین اپنے اہل و عیال کے ساتھ آئی ہوئی تھی سب کئ پسند کئ ایک ایک ڈش بناتے اچھی خاصی دعوت کا سا انتظام ہو گیا تھا ۔سبین کے رخصت ہوتے ہی سب اپنے اپنے کمروں میں جا گھسے تھے ۔برتنوں کا انبار کچن میں اسکا منتظر تھا ۔اس نے پہلے نماز پڑھی تھی ۔پھر کچن میں آ گئی تھی ۔وہ برتن دھو ہی رہی تھی جب زاور بھی وہیں آ گیا ۔وہ کچھ دیر پہلے ہی گھر لوٹا تھا ۔آہٹ پر اس نے مڑ کر دیکھا تھا جو اب فریج میں سر دیے کھڑا تھا ۔

“کچھ چاہیے زوار بھائی ؟”۔اس کے پوچھنے پر اسنے مڑ کر اسے دیکھا تھا ۔

“جی بھابھی کھانا چاہیے ۔بہت بھوک لگ رہی ہے “۔کہتے ہوئے وہ وہیں کچن میں رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھ گیا تھا ۔دعا سر ہلاتی ہاتھ دھوتی وہاں سے ہٹ کر اس کے لیے کھانا گرم کرنے لگی ۔وہ نماز پڑھ رہی تھی جب وہ آیا تھا ۔اسے لگا شاید شفق نے اسکو کھانا دے دیا ہوگا ۔

اس کے آگے کھانا چن کر وہ واپس برتن دھونے لگی تھی ۔زوار خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا ۔دعا نے کبھی اسے فالتو بات کرتے نہیں دیکھا تھا ۔اور اس سے تو وہ انتہائی ضرورت کے وقت ہی بات کیا کرتا تھا ۔اسے دیکھ کر پتہ نہیں کیوں طلحہ کئ بہت یاد آتی تھی حالانکہ دونوں کئ طبیعتوں میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔

کچھ ہی دیر گزری تھی کہ سعدیہ بھی وہیں چلی آئیں ۔زوار کو وہاں دیکھ انکا ماتھا ٹھٹکا تھا ۔

“تم یہاں کیا کر رہے ہو زوار ؟”۔انکے لہجے میں ناپسندیدگی تھی ۔

“دیکھ تو رہیں ہیں امی کھانا کھا رہا ہوں ۔”کندھے اچکا کر بےنیازی سے جواب دیا ۔

“باہر ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھ کر کھاؤ یہاں کچن میں کھانے کی کیا تک بنتی ہے بھلا ؟”۔وہ جرح پاس سے انسیت سی ہو چلی تھی ۔ر اتر آئی ساتھ اک غیض بھری نظر دعا پر بھی کی وہ اپنی جگہ چور سی ہو گئی ۔اب یہ قصور بھی اس کے کھاتے میں درج ہو جانا تھا ۔

“کیا ہے امی ۔یہاں بیٹھ کر کھا لیا تو کیا قیامت آ گئی ہے ۔ایک تو کسی کو میری پرواہ ہی نہیں ہے اتنی دیر سے آیا ہوا ہوں ۔آپ کی بیٹی صاحبہ نے دیکھنے کے باوجود کھانے کا دور پانی کے لیے بھی جھوٹے منہ نہیں پوچھا ۔بھابھی بےچاری کام میں لگیں تھیں ۔تو بس یہیں بیٹھ گیا ۔”وہ بے زاری سے کہتا اب اپنے ہاتھ صاف کر رہا تھا ۔سعدیہ کو اسکی دعا کے لیے یہ طرفداری ایک آنکھ نہ بھائی ۔

“تو انسانوں کئ طرح وقت پر گھر آیا کرو ناں ۔آدھی رات کو آؤ گے تو کون تمہیں پوچھے گا ۔ماں کے پاس بیٹھنے تک کے لیے دو گھڑی وقت نہیں ہوتا تمہارے پاس ۔اتنا نہ ہوا ماں کے کمرے میں ہی آ کر کھانا کھا لو ساتھ دو چار باتیں کر لو “۔وہ طنزیہ بولی تھیں زوار سر جھٹکتا ہوا باہر نکل گیا ۔ان سے اس وقت بحث کا وہ کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا ۔اسکا یوں بنا کچھ کہے چلے جانا انھیں اور بھی تپا گیا تھا ۔

اب انکا رخ دعا کئ طرف ہوا ۔

“بات سنو بی بی ۔دیور بھابھی کے رشتے کو آگ سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔تم خود احتیاط کیا کرو ۔بچی نہیں ہو جو ہر بات تمہیں سمجھائی جائے “۔اسے کھری کھری سنا کر دل کئ بھڑاس نکال کر وہ وہاں سے پیر پٹختی نکل گئیں تھیں ۔پیچھے دعا کے چہرے پر زردی گھل گئی تھی ۔وہ دبے لفظوں میں کیا کیا کہہ کر گئیں تھیں اسے اچھے سے سمجھ آ گئی تھی ۔آنکھوں میں تیرتی نمی نے سامنے کا منظر دھندلا کر رکھ دیا تھا ۔

🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷

رات وہ کمرے میں آئی تو تهكن سے پورا وجود درد کر رہا تھا ۔کمرے کا لاک لگا کر لائٹس آن ہی چھوڑے وہ بستر تک آئی ۔فارس کے جانے کے بعد وہ بتی جلائے رکھتی تھی ۔شروع سے وہ امی کے ساتھ سوتی آئی تھی اب اکیلے سوتے ڈر لگنا یقینی سی بات تھی ۔بستر پر لیٹ کر اس نے انگلیوں پر حساب لگایا تھا ۔اسے گے ہوئے آج سولہواں دن تھا ۔کمرے میں ابھی بھی جیسے اس کے وجود کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی ۔

اس کی طرح اس کمرے کے در ودیوار بھی اپنے مکین کی غیر موجودگی پر غمگیں تھے ۔اسکی آنکھوں کے سامنے اسکا عکس لہرایا تھا ۔دل کی دھڑکنوں نے اپنی لہہ بدلی تھی ۔اس سے اک خاص انسیت سی ہو چلی تھی اسے سوچتے سوچتے نیند کئ آغوش میں جانا عادت سی بن گئی تھی ۔وہ رفتہ رفتہ اسے اپنے سحر میں بری طرح جکڑتا جا رہا تھا ۔اسکے خیالوں کئ پناہ میں کھو کر وہ اپنے آپ سے بے نیاز ہو جایا کرتی تھی ۔

سعدیہ کا رو یہ کبھی کبھی اس کا دل سہمانے لگتا تھا ۔انکی باتیں اسے عجیب سی لگتی ۔انکی آنکھوں میں اک انجانی سی چھبن سی ہوتی تھی ۔شفق کے تو مزاج ہی نہیں ملتے تھے ۔وہ نک چڑھی سی موڈی طبیعت کی مالک تھی ۔رہی سبین تو اسکا رویہ بھی کچھ لیا دیا سا ہی تھا ۔

اس گھر میں زندگی اتنی آسان بھی نہیں تھی پر شروع شروع میں تو سب کو ہی مشکل پیش آتی ہے سوچ کر وہ اپنے خدشات میں گھرے دل کو تسلی دے دیا کرتی تھی ۔مگر آنے والا وقت اس کے لیے کیا عذاب لے کر آنے والا تھا وہ بے خبر تھی ۔

🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷

شفق اور سعدیہ دونوں ہی شفق کئ دوست کئ بہن کئ شادی میں شرکت کیلئے گئی ہوئی تھیں ۔زوار دو دن سے اپنے دوستوں کے ساتھ ٹرپ پہ گیا ہوا تھا ۔شام کا وقت تھا ۔دروازے پر ہوئی دستک پر وہ باہر آئی تھی ۔اور سامنے اچانک سے فارس کو دیکھ کر اس کے چہرے پر حیرت و انسباط کے کہیں رنگ نمودار ہوئے تھے ۔آنکھوں میں جگنو تیرنے لگے تھے ۔وہ بے یقین نظروں سے سا کت کھڑی اس کے وجیہہ چہرے کو نہار رہی تھی ۔جو پہلے تو اس کے راستہ دینے کا انتظار کرتا رہا پھر اسے یوں ہی جما دیکھ کر وہ ہلکہ سا تبسم لبوں میں لیے دو قدم آگے بڑھا تھا اسے شانوں سے تھام کر آہستگی سے پیچھے کیا ۔

“بے ہوش نہ ہو جانا یار ۔ورنہ سرپرائز مہنگا پڑ جائے گا ۔”اسکی حالت سے حظ اٹھاتا وہ لطیف سا طنز کرتا پیچھے مڑ کر دروازہ بند کر رہا تھا ۔دعا کو لمحوں میں اپنی بے اختیاری کا ادراک ہوا تھا ۔وہ حجل ہوتی انگلیاں چٹخانے لگی تھی ۔سرخ و سپید عارضوں کے نیچے قندیلیں سی جل اٹھی تھیں ۔فارس ہمیشہ بنا بتائے آنے کا عادی رہا تھا ۔
“اسلام عليكم “۔بلا آخر اسے یاد آ ہی گیا ۔وہ اب اسکی طرف رخ کر چکا تھا کندھے پر سفری بیگ لٹک رہا تھا ۔چہرے پر لمبی مسافت کے آثار تهكن کی صورت صاف نظر آتے تھے ۔مگر اس کے باوجود وہ بلیو جینز اور گرے چیک والی شرٹ میں بلا کا ہینڈسم لگ رہا تھا ۔دعا کی نظریں آپ ہی جھک گئیں ۔

“وعلیکم سلام ۔کیسی ہو ؟”۔اب وہ اندر کی جانب بڑھ رہے تھے ۔

“میں ٹھیک ہوں ۔الحمدللہ ۔”۔وہ بہت ٹھر ٹھر کر نرمی سے جواب دے رہی تھی لہجے میں خود بخود اک كهنک سی در آئی تھی ۔

“کدھر ہیں سب ؟”۔بیگ اتار کر رکھتے وہ گرنے والے اندا ز میں صوفے پر بیٹھا تھا ۔

“زوار بھائی تو ٹرپ پر گئے ہیں ۔اور امی اور شفق ،شفق کی دوست کی بہن کی شادی میں گئیں ہوئی ہیں “۔وہ تفصیلی جواب دیتی ساتھ ہی کچن میں گم ہو گئی تھی ۔فارس کا ماتھا ٹھٹکا ۔کچھ ہی لمحوں میں وہ ہاتھ میں پانی کا گلاس چھوٹی سی ٹرے میں سجائے آئی تھی ۔

“تم اکیلی تھی گھر پہ ؟”۔اسے دیکھتے ہی جھٹ سے سوال کیا تھا ۔

“نہیں ۔امی شاہین آنٹی کو بٹھا کر گئی ہیں وہ اندر نماز پڑھ رہی ہیں ۔ کہہ گئیں تھیں تھوڑی دیر تک واپس آ جائیں گی “۔اس کے بتانے پر ماتھے کے بل غائب ہوئے تھے پانی پی کر وہ اسے دیکھنے لگا تھا ۔کالے دوپٹے کے ہالے میں چمکتا اسکا چاند سا روشن چہرہ آنکھوں کو ٹھنڈک کا احساس بخش رہا تھا ۔

“تم بھی ساتھ چلی جاتی “۔اس نے سرسری سا کہا ۔

“نہیں میں بس ایسے ہی نہیں گئی “۔وہ اسے یہ نہیں کہہ سکی کہ اسے کسی نے ساتھ چلنے کا کہا ہی نہیں تھا ۔
“امی بتاتی رہتی ہیں تم انکے کہنے کے باوجود ان کے ساتھ کہیں آتی جاتی نہیں ہو ۔کبھی کبھی ساتھ چلی جایا کرو ۔طبیعت پر اچھا اثر پڑتا ہے ۔ہر وقت گھر میں رہ رہ کر بھی انسان بیزار سا ہو جاتا ہے “۔وہ اسے بہت نرم آواز میں ہلکی سی سرزنش کر رہا تھا ۔اسے سمجھ نہیں آئی سعدیہ نے کب اسے کہیں جانے کا کہا اور اس نے انکار کیا ۔اس نے کچھ کہنے کے لیے لب وا کئے ہی تھے کہ شاہین آنٹی وہاں آ گئیں ۔

“ارے فارس تم کب آئے بیٹا ؟”۔خوشگوار سی حیرت لیے وہ کہہ رہیں تھیں فارس انھیں سلام کرتا اٹھا تھا انہوں نے اسکا کندھا تهپتهپایا تھا ۔اب وہ اس سے حال چال پوچھ رہیں تھیں ۔دعا واپس کچن میiuں آ گئی تھی ۔چائے بنا کر واپس باہر آئی تو وہ دونوں باتوں میں مصروف تھے ۔

انھیں چائے دیتے وہ خود بھی شاہین آنٹی کے ساتھ ٹک گئی تھی ۔فارس کچن میں ہی سنک میں ہاتھ دھو آیا تھا ۔
“بڑے خوش قسمت ہو تم فارس جو اللّه نے اتنی پیاری بچی کو تمہارے نصیب میں لکھا ہے ۔قدر کرنا اسکی “۔دعا کے گود میں دھرے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھتے آنٹی نے کھلے دل سے اسکی تعریف کی تھی ۔دعا جهینپ سی گئی ۔
فارس دل سے مسکرایا ۔

“اچھا آنٹی تو اسے بھی بتائے ناں کہ یہ بھی کتنی خوش نصیب ہے جو اسے میں ملا ہوں “۔اسکی شوخی اپنے عروج پر تھی دعا نے حیرت سے اسے دیکھا تھا اس کا یہ روپ وہ بھلا کب دیکھ پائی تھی ۔

“بلکل ماشاءالله سے دونوں ہی کی جوڑی چاند سورج کی سی ہے ۔اللّه سوہنا نصیب اچھے کرے خوب خیر و برکت رکھے دونوں کے رشتے میں “۔اپنا کپ میز پر رکھتیں وہ پر خلوص دل سے دعا دے رہی تھیں ۔
“آمین “۔فارس نے با آواز بلند دعا کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔

“چلو بیٹا اب فارس آ گیا ہے تو میں بھی چلتی ہوں ۔”وہ کہہ کر اٹھیں ۔

“ارے کہاں آنٹی ۔بیٹھیں عرصے بعد تو یوں بیٹھ کر گپ شپ کا موقع ملا ہے “۔فارس ساتھ اٹھتا خوش دلی سے کہہ ربا تھا ۔

“ارے چھوڑو بیٹا ۔سامنے اتنی خوبصورت بیوی ہو تو کس کا دل کرتا ہے بڑی بوڑھی سے بات کرنے کا ۔دل میں دعائیں مانگ رہے ہو گے کہ آنٹی کب جائیں گی “۔اسے شرارت سے چھیڑ ا تو وہ پورے دل سے قهقہہ لگا اٹھا ۔دعا خفت زدہ سی دونوں کو تک رہی تھی ۔

“چلیں آنٹی اب آپ نے میرے دل کی آواز سن ہی لی ہے تو انشااللہ پھر ملاقات ہوگی “۔وہ انہی کے انداز میں آنکھوں میں شریر سی چمک لیے جواب دیتا ان کے ساتھ باہر کی جانب قدم بڑھانے لگا تو وہ اسکی بات پر ہنستے منع کر گئیں ۔

“تم تھکے ہوئے آئے ہو بیٹا ۔رہنے دو “۔

دعا انھیں گیٹ تک چھوڑنے آئی تھی ۔انھیں رخصت کر کے وہ واپس آئی تو وہ کہیں دکھائی نہیں دیا ۔اسکا بیگ بھی غائب تھا ۔یقیناً وہ اپنے کمرے میں چلا گیا تھا ۔

وہ کمرے میں آئی تو وہ الماری کھولے کھڑا تھا ۔

“دعا پلیز میرا موبائل چارجنگ پر لگا دینا ۔بیگ کی باہر والی زپ میں چارجر ہوگا “۔مصروف سے انداز میں اسے کہتا وہ کپڑے نکال کر الماری بند کر رہا تھا وہ “جی “کہتی اسکے بیگ کو جانب بڑھی تھی جو بیڈ پر پڑا ہوا تھا ۔

“اور ہاں میں شاور لے لوں تو کھانے کو کچھ بنا ہوا ہو تو دے دینا ۔آج دن کا لنچ بھی گول ہو گیا تھا “۔وہ اب سرسری سا اسے دیکھ کر واش روم کی جانب بڑھ رہا تھا ۔

“تو آپ نے خالی پیٹ چائے کیوں پی پھر ؟”۔اسے اپنی عقل پر ماتم ہوا تھا پوچھنا چاہئے تھا اسے ۔

“کوئی بات نہیں ۔آنٹی بیٹھی ہوئی تھیں انکار کرنا اچھا نہیں لگتا ۔میں آتا ہوں دس منٹ میں “۔واشروم کا دروازه بند ہو چکا تھا ۔وہ اسکا فون چارجنگ پر لگا کر خود کچن میں آ گئی تھی ۔

Part 2

کچن میں آ کر اس نے تازہ چپاتیاں بنائی تھیں ۔دن میں اس نے قیمہ مٹر بنایا تھا اور یہ بھی غنیمت تھی ۔کچھ دیر بعد وہ بھی وہیں آ گیا تھا ۔اسکو کھانا دے کر خود وہ پاس ہی کچھ فاصلے پر کھڑی ہو گئی تھی ۔سالن دیکھ کر وہ لمحے کے لیے رکا تھا ۔پانی پی کر اس نے اک نظر اسے دیکھا ۔

“بیٹھ جاؤ دعا ۔بلکہ ایسا کرو مغرب تو ویسے بھی ہونے والی ہے ۔تم بھی کھانا کھا لو ۔امی اور شفق تو کھا کر ہی آئیں گی “۔دوستانہ انداز میں اسے پیشکش کی گئی تھی ۔وہ اس اچانک پڑی افتاد پر وہیں جمی رہ گئی تھی ۔پتہ نہیں کیوں مگر اسکی ذرا سی توجہ بھی اسے بوکھلانے پر مجبور کر دیتی تھی ۔

“نہیں آپ کھائیں ۔میں نے صرف آپ کے لیے ہی روٹی بنائی ہے “۔اس نے کمزور سا عذر تراشا ۔

“تین روٹیاں ہیں یار میں نے زیادہ سے زیادہ دو ہی کھانی ہیں ۔اور تمہاری جان دیکھ کر لگتا ہے تم ایک بھی کھا لو تو بڑی بات ہے ۔آ جاؤ شاباش “۔سامنے رکھیں روٹی کا جائزہ لیتے وہ مصروف سا بولا تو دعا کو مرتی کیا نہ کرتی کی مصداق پر عمل کرتے ماننا ہی پڑی ۔

“میں پلیٹ لے کر آتی ہوں “۔

“میرے ساتھ شئیر کر لینا “۔اسکی بات پر وہ جو مڑنے لگی تھی جز بز ہوتی آ کر اسکے ساتھ والی کرسی پر ٹک گئی تھی ۔انداز ایسا تھا جیسے کسی بھی وقت وہاں سے اٹھ کھڑی ہوگی ۔فارس نے لبوں پر امڈ آنے والی ہنسی کو بڑی مشکل سے روکا تھا ۔وہ پہلے ہی نروس تھی وہ اسے مزید نہیں کرنا چاہتا تھا ۔

اب وہ پلیٹ میں سالن ڈال رہا تھا ۔دونوں نے ایک ساتھ کھانا شروع کیا تھا ۔فارس اسکی جھجک کو اچھے سے محسوس کر رہا تھا ۔

“بڑے بزرگ کہتے ہیں ۔ساتھ مل بیٹھ کر کھانے سے محبت بڑھتی ہے “۔نوالہ منہ میں رکھتے وہ اسے مسکراتی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔دعا کے نوالہ منہ کی طرف لے جاتے ہاتھ کی لرزش کو بہت غور سے اسکی پر شوق نگاہوں نے دیکھا تھا ۔اسکی نظریں جھکی تھیں فارس نے یہ منظر بڑی دلچسپی سے دیکھا تھا ۔

“مانتا ہوں ایک وعدہ کر کے گیا تھا مگر اتنا حق تو دو مجھے “۔یک دم اس کا لب و لہجہ بدلا تھا۔ذرا سا اسکی جانب جھک کر اسکے ماتھے کو اپنے لبوں سے چھوا تھا ۔اسکی اس جسارت پر وہ خود میں سمٹ سی گئی تھی ۔دلکش بھاری آواز نے دل کی دھڑکنوں میں تلاطم برپا کیا تھا ۔

دل کی دھڑکن کانوں میں سنائی دے رہی تھی ۔چہرے پہ قوس وقزع کے رنگ سمٹ آئے تھے ۔فارس نے نظریں چرائی تھیں ۔اٹھ کر سنک میں ہاتھ دھوئےتھے ۔

“میں جا رہا ہوں ۔اب ایزی ہو کر کھانا کھاؤ تم “۔وہ پیٹ بھر کر کھا بھی چکا تھا جب کہ دعا نے ابھی تک بمشکل آدھی چپاتی کھائی تھی ۔اس کے جانے کے بعد اسکی سانس میں سانس آئی تھی ۔اسکی ذرا سی توجہ ،تھوڑی سی قربت اسے پگھلانے لگتی تھی ۔جس دن وہ مہربان ہوگا پتہ نہیں اسکا کیا ہوگا ؟۔

🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷

شفق اور سعدیہ کے آنے پر اسی نے دروازه کھولا تھا ۔اسے دیکھ کر حیرت کا جھٹکا تو انھیں بھی لگا تھا مگر وہ خوش گوار ہرگز نہ تھا ۔مگر چہرے کے تاثرات سے انکی خوشی دیدنی تھی ۔ان سے مل کر وہ جب اندر آئے تو دعا بھی اسی وقت کمرے سے نکلی تھی دوپٹہ نماز کے سے انداز میں لیا گیا تھا ۔یعنی وہ نماز پڑھ کر نکلی تھی ۔سعدیہ کی نظروں سے تپش سی نکلتی اسے اپنے حصار میں لیتی محسوس ہوئی تھی ۔وہ زبان سے کچھ نہ بھی کہتے ہوئے اپنے رویہ سے اسے بہت کچھ سمجھا جاتی تھیں ۔شفق چینج کرنے جا چکی تھی ۔وہ اور سعدیہ صوفے پر بیٹھ گئے تھے ۔

“اس بار تو میرا بیٹا بہت جلدی واپس آ گیا ہے “۔لہجے میں محبت سموئے وہ اس کو دیکھ رہیں تھیں ۔
“آپ ہی تو کہتی رہتی ہیں جلدی جلدی چکر لگایا کرو “۔انکے شانوں پر بازو دراز کرتے وہ لاڈ جتاتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔دعا بھی مرے مرے قدموں سے چلتی وہیں آ گئی تھی ۔

“رہنے دو بیٹا ۔ماں کے کہنے پر آنے والے ہوتے تو دو دو ماہ اپنی شکل دکھانے کو نہ ترساتے ۔بہو کے آنے سے یہ تو اچھا ہو گیا ہے کہ اب تمہارا چہرہ جلدی جلدی دیکھنے کو مل جایا کرے گا” ۔اسکے کندھے پر ہلکی سی چپت رسید کرتے وہ معصنوئی خفگی سے کہتے آخر میں دعا کو دیکھتے لہجہ خوشگوار بنا گئیں مگر دعا کو انکی آنکھوں میں اپنے لیے اک کاٹ سی محسوس ہوئی ۔وہ نظریں چرا گئی ۔

“کیا کھائے گا میرا بچہ ؟”۔چکن پلاؤ بناؤں اپنے بیٹے کے لیے ؟۔اب وہ رخ اسکی طرف موڑے استفار کر رہیں تھیں ۔وہ نفی میں گردن ہلا گیا ۔

“کھانا میں کھا چکا ہوں ۔کل دن میں بنائیے گا اب “۔

“کیا کھایا ہے ۔مٹر قیمہ تو نہیں کھایا ؟۔وہ اچنبھے سے اسے دیکھ رہیں تھیں ۔اس نے سر اثبات میں ہلا دیا ۔انہوں نے دعا کی طرف چہرہ موڑا ۔

“دعا کچھ بنا ہی لیتی بیٹا ۔میرا بچہ اتنی دور سے آیا ہے ۔اور آگے کھانے کو بھی کیا ملا جو اسے پسند ہی نہیں ہے ۔پہلی بار ہی اس کے آنے پر میں گھر پر نہیں تھی ورنہ میں اپنے بچے کے لیے ہمیشہ اسکی پسند کا کھانا بناتی ہوں “۔ان کے انداز میں ناراضگی تھی دعا نے گڑبڑا کر فارس کو دیکھا ۔اسکے تو فرشتوں کو بھی علم نہ تھا اسے مٹر قیمہ اچھا نہیں لگتا ۔

“نہیں امی دعا بنانے لگی تھی میں نے ہی منع کر دیا بہت بھوک لگی ہوئی تھی ۔اور سالن مزے کا بھی بہت تھا ۔”۔اسکی اڑی رنگت کو دیکھتے اس نے نرمی سے سعدیہ کو اسکی صفائی پیش کی تھی ۔سعدیہ اس کی طرفداری پر دل مسوس کر رہ گئیں ۔دعا نے وہاں سے جانے میں ہی عافیت جانی ۔وہ کچن میں چلی گئی تھی ۔

“وہ تو ٹھیک ہے بیٹا ۔مگر دعا اب تمہاری بیوی ہے اسے پتہ ہونا چاہیے تمہاری پسند نا پسند کا ۔میں تو بتاتی بھی رہتی ہوں مگر پتہ نہیں دھیان کہاں ہوتا ہے اسکا ۔”انکا لہجہ سادہ سا تھا ۔فارس کچھ نہیں بولا تھا ۔

“اچھا چھوڑو ان باتوں کو ۔یہ بتاؤ کتنے دنوں کے لیے آئے ہو ؟”۔ہاتھ سے مكهی اڑاتے وہ لہجے میں مٹھاس لیے اب اس سے پوچھ رہیں تھیں ۔

“پرسوں واپس چلا جاؤں گا “۔

اب وہ اس سے چھوٹی چھوٹی باتیں کررہیں تھیں ۔جنکا وہ آرام سے ٹھر ٹھر کر جواب دے رہا تھا ۔یک دم اسے کچھ یاد آیا تھا ۔

“امی وہ میرے جاننے والے ہیں شاہد صاحب ۔انکا بیٹا میڈیکل میں ہے ۔شفق کےلیے وہ لوگ آنا چاہ رہے ہیں ۔کیا کہتی ہیں آپ ؟”۔

“ہاں بیٹا کیوں نہیں ۔بیٹی والے گھر تو رشتے آتے ہی رہتے ہیں تم بلا لو انھیں باقی جو اللّه کی مرضی ۔”۔سر ہلاتے وہ کچھ سوچتی ہوئی کہہ رہیں تھیں ۔

“پھر میں ان سے کہہ دیتا ہوں آنے کا ۔آپ کوئی دن رکھ لیں اور دیکھ لیں پھر جیسے آپکو مناسب لگے “۔وہ سیدھا ہو کر بیٹھا تھا ۔چہرے پر تهكن کے ڈیرے تھے ۔

“ایسا کرو انھیں کل ہی بلا لو تم بھی یہیں ہو گے ۔دیکھ سن لیتے ہیں ۔”چہرے پر تکلیف لیے وہ پاؤں جوتے کی قید سے آزاد کرتیں بولی تو وہ انکے پاوں کی طرف متوجہ ہوا ۔جو سوجن کا شکار تھے ۔

“امی پاؤں درد کر رہے ہیں ؟۔لائیں میں دبا دوں ۔”۔وہ جھک کر انکے پاؤں کو ہاتھوں سے چھو رہا تھا ۔

“نہیں بیٹا تم خود تھکے ہارے آئے ہو ۔رہنے دو خود ٹھیک ہو جائے گے “۔ہاتھ کے اشارے سے منع کرگئیں ۔

“نہیں آپ اٹھیں ۔چل کر لیٹیں میں تھوڑی دیر دبا دوں گا تو بہتر محسوس کریں گی آپ “۔اٹھ کر انھیں بھی اٹھنے میں مدد کرتا وہ انھیں لیے اندر کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔

“جیتے رہو بیٹا ۔اللّه خوش رکھے تمہیں “۔انکی آواز دور جاتے ہوئے مدھم ہوتی جا رہی تھی ۔

🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷

وہ تھوڑی دیر پہلے ہی کمرے میں آیا تھا ۔بستر پر دراز اپنا فون چیک کر رہا تھا ۔جب وہ کمرے میں آئی تھی ۔اسکی طرف دودھ کا گلاس بڑھایا تھا ۔جسے وہ خاموشی سے تھام چکا تھا البتہ آنکھیں اسکی کلائی میں سجی سبز چوڑیوں میں اٹک گئی تھیں ۔انکا ہلکا ہلکا ، مسرور کرتا شور دل میں جذبات کو بیدار کرنے لگا تھا ۔وہ جان بوجھ کر اس سے نظریں چرا رہا تھا ۔اس کا نو خیز حسن ،من موہنا چہرہ ،اور قیامت خیز سراپا وہ نظر انداز کئے جانے لائق تو ہر گز نہیں تھی جبکہ وہ اس پر جائز حق بھی رکھتا تھا ۔مگر وہ اپنی کہی بات کا بھی پابند تھا ۔اسکا رویہ اس بار خوش آئند تھا مگر وہ اسے پورا وقت دینا چاہتا تھا ۔اس رشتے کو وہ پوری دلی آمادگی سے اپنانے کا موقع دینا چاہتا تھا ۔پر دل کا کیا کرے جو اسکی طلب کر رہا تھا ۔کچھ سوچ کر وہ اسکی طرف دیکھنے لگا جو خاموش کھڑی اپنے ناخن کھرچتی اسکے گلاس واپس کرنے کا انتظار کر رہی تھی ۔

“دعا وہ سلیپنگ پلز کہاں ہیں ؟”۔اسکی یک دم آنے والی آواز پر وہ ہونق سی اسے دیکھنے لگی ۔چہرے پر سراسیمگی پھیل گئی تھی ۔اک انجانا سا خوف ۔جسے فارس کی زیرک نگاہ نے بھانپ لیا تھا ۔

“بتاؤ ناں ۔کہاں ہیں ؟”۔اسے یوں ہی کھڑے خاموش دیکھ اس نے دوہرایا ۔

“وہ آہستگی سے چل کر دوسری سائیڈ پر گئی تھی اور دراز سے وہ شیشی نکال کر لائی تھی ۔فارس نے ہاتھ بڑھایا ۔اس نے نا سمجھی سے اسکی جانب بڑھا دی ۔اب وہ گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھے اس کو کھول رہا تھا ایک گولی ہتھیلی پر رکھی پھر کچھ سوچ کر ایک اور نکالی تھی ۔دعا کا حیرت کے مارے منہ کھلا رہ گیا تھا جب وہ اس کے سامنے وہ گولیاں دودھ کے ساتھ نگل گیا تھا ۔فارس نے اسکی پھیلی آنکھوں کو دیکھا تھا ۔اس کے لب بھلے خاموش تھے مگر وہ قاتل آنکھیں اسے گھائل کرتی سوال کر رہی تھیں ۔وہ گلاس خالی کرتا اسکی جانب بڑھاتا ہوا اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا ۔

“احتیاطی تدبیر ۔بچاؤ کے لیے ضروری ہو گیا تھا ۔”آنکھ دبا کر شرارت سے کہتا وہ اسے حیرت زدہ چھوڑ اب لیٹ رہا تھا ۔وہ نا سمجھی سے اسے دیکھتی مڑ گئی تھی ۔کمرے میں اسکی چوڑیوں کی جلترنگ سی بج اٹھی تھی ۔
“اور ہاں یہ چوڑیاں بھی اتار دینا پلیز ۔آگے ہی بڑی مشکل سے بندھ باندھ رکھا ہے ۔انہوں نے اور حشر برپا کر دیا ہے “۔کروٹ کے بل لیٹتے وہ آنکھوں پر بازو رکھ چکا تھا ۔اس نے ایک نظر اپنی کلائی میں کی تھی اور پھر اسکی بات کو سوچتی باہر نکل گئی تھی ۔

“عجیب انسان ہیں ۔اس دن خواہ مخواہ مجھے ڈانٹ دیا حالانکہ میں تو لی بھی نہیں تھیں ۔اور آج خود کیسے مزے سے لی تھیں جیسے بچپن والی میٹھی گولیاں ہوں۔اوپر سے باتیں انکی میرے سر کے اوپر سے گذر جاتی ہیں ۔اس گھر میں سب نے مل کر مجھے پاگل کر دینا ہے ۔جھوٹے کہیں کے ۔دعا میں یہ گولیاں نہیں لیتا کبھی بھی ۔”آخر میں منہ کے زاویے بگاڑ کر اسے اس دن کہی بات پر نقل لگائی تھی ۔کچن کی جانب جاتے اسکی بڑبڑاہٹیں اپنے عروج پر تھیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *