Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mere Dard Ki Tujhy Kia Khabar (Episode 04)

Mere Dard Ki Tujhy Kia Khabar by Umme Abbas

ماما جی ؟۔اسکی سوا چار سالہ بیٹی جو اپنی ڈرائنگ بک پر جھکی کلرنگ کر رہی تھی ہاتھ روکے اسے دیکھ کر پکاری تو وہ جو پاس بیٹھی اپنی ہی سوچوں میں غلطاں تھی چونک کر سیدھی ہوئی ۔
“جی میرا بچہ ۔”
مسکرا کر کہتے اس کے ماتھے پر آئے بال پیچھے کیے ۔
“بابا کب آئے گے ؟”معصومیت سے اپنا پسند دیدہ سوال پوچھا گیا تھا ۔
“بہت جلد آ جاۓ گے “۔اسے اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی تھی ۔
“سچی ماما ۔پھر کتنا مزہ آئے گا ۔آپ کو پتا ہے بابا میرے لئے اتنی بڑی ڈول لے کے آئیں گے” ۔وہ پر جوش سی بازو پھیلا کر روشن آنکھیں لئے ماں کو بتا رہی تھی ۔
“اور اس بار میں اپنی ڈول کسی کو نہیں دوں گی پچھلی بار بھی آپ نے ماہم آپی کو دے دی تھی “۔
سر نفی میں ہلاتی وہ اپنے خدشات بتا رہی تھی ۔دعا اسے دیکھ کر رہ گئی ۔پھر اسے اپنےسینے سے لگا لیا

“میری جان کی ڈول اس بار ہم کسی کو نہیں دے گے “۔اسکا ماتھا چومتے یقین دہانی کرائی ۔

“اور مزمل کی گاڑی بھی نہیں دے گے “۔اب اسے بھائی کی فکر ہوئی ۔

“وہ بھی نہیں دیں گے ۔اب خوش میرا بے بی ؟”اسکا من موہنا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لئے پیار سے کہا تو وہ کھلکھلا اٹھی ۔

“میں بابا سے بولوں گی وہ ماہم آپی اسد بھائی اور ہادی بھائی کے لئے بھی ڈول اور گاڑیاں لے کے آئیں پھر تو وہ ہماری چیزیں نہیں لیں گے۔ پر ماما بابا تو ہر بار انکے لئے بھی بھیجتے ہیں پھر بھی وہ ہمارے ٹوائز لے جاتے ہیں ۔میں اور مزمل تو ان کے نہیں لیتے ؟”۔اداس آنکھوں سے ماں کو دیکھتی وہ بولی تو دعا کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا تھا ۔اس کے بچے سواچار سال کے تھے مگر بہت شارپ مائنڈڈ تھے ۔اور حساس بھی ۔مزمل حریم سے بھی زیادہ حساس تھا مگر وہ کہتا نہیں تھا ۔جب کہ حریم ہر بات بول دینے والی بچی تھی ۔اب بھی وہ معصومیت سے کہتی ماں کو ذہنی اذیت سے دوچار کر گئی تھی ۔اسکے بچے بھی رویوں کی مار سہہ رہے تھے حالانکہ وہ پوری کوشش کرتی تھی انکو اس آگ سے بچانے کی جس میں وہ خود جل رہی تھی ۔لیکن بڑھتی عمر کے ساتھ وہ بھی محسوس کرنے لگے تھے ۔

“تو کیا ہوا میری جان کے پاس تو اتنے کھلونے ہیں ۔مامو نے کتنے زیادہ دلائے ہیں ۔اور اب بابا بھی بہت سارے لا کر دیں گے ۔اور ویسے بھی اللہ‎ تعالیٰ کو وہ بچے بہت اچھے لگتے ہیں جو شئیر کرتے ہیں پھر اللہ‎ تعالیٰ انھیں اور کھلونے دیتے ہیں “۔پیار سے اسے پچکار کر سمجھایا تو وہ سر ہلا گئی ۔

“ا ب مجھے دکھاؤ میری بیٹی نے کیا بنایا ہے ؟”

اسکا دھیان بٹانے کو وہ اسکی ڈرائنگ بک پر جھکی تھی ۔
“ارے واہ میرے بے بی نے تو بہت پیارے کلرز کیے ہیں “۔ ستائش بھری نظروں سے دیکھتے وہ بول رہی تھی اور حریم کھلکھلا کر ہنستی اب اسے اپنی ڈرائنگ کے بارے میں بتا رہی تھی ۔جبکہ مزمل نانی کے ساتھ ساتھ والے گھر گیا ہوا تھا ۔

**********%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%* **********

رات کو طلحہ کو اکیلے باہر لان میں بیٹھے دیکھ وہ بھی ادھر ہی آ گئی تھی ۔وہ جو اپنے موبائل میں مگن تھا بہن کو دیکھ دوستانہ مسکراہٹ لئے موبائل سامنے میز پر رکھے اسکی جانب متوجہ ہوا تھا ۔

“آئیے جناب ۔بیٹھیے شکر ہے بھائی کی بھی یاد آ گئی آپ کو ۔شرارتی انداز میں اسے چہیڑ ا ۔
“توبہ ہے طلحہ تم تو لڑاکا عورتوں کی طرح طعنے ہی دینے لگتے ہو “۔وہ بھی تپی تھی اسکے انداز پر طلحہ ہنسا تھا ۔
“ہاہاہاہا ۔لڑ کہاں رہا ہوں یار بس دیکھ رہا ہوں میری وہ معصوم اور بیوقوف سی بہن بہت سمجھدار اور سیانی ہو گئی ہے جو بچپن میں ہر چھوٹی چھوٹی بات پر پریشان ہوتی میرے پاس ڈوری چلی آتی تھی ۔”محبت بھرے لہجے میں اسے دیکھتے وہ بچپن کی یادوں میں کھویا کہہ رہا تھا ۔

“اب دو بچوں کی ماں ہو گئی ہوں اب بھی روتی بسورتی تمہارےپاس آیا کروں کیا ؟”اسکی بات پر وہ جھينپ سی گئی ۔

“اللہ‎ نہ کرے کبھی میری بہن کو رونا پڑے ۔تم ہمیشہ خوش رہو ۔”سیدھا ہوکر بیٹھتا اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے وہ صدق دل سے کہہ رہا تھا ۔دعا کا دل چاہا تھا صرف ایک بار ۔۔۔ایک بار وہ سبھی مصلحتیں پس پشت ڈال اسکے سینے سے لگ دھاڑے مار مار روئے ۔مگر ایسا وہ صرف سوچ سکی ۔

“اگر کبھی میں یہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آ جاؤں تو تم تنگ تو نہیں آ جاؤ گے ناں طلحہ ؟”۔نجانے وہ کس رو میں بہہ کر کہہ گئی تھی طلحہ اسکی بات سن کر ٹھٹکا ۔

“ایسا کیوں کہہ رہی ہو دعا کوئی مسلہ ہے کیا ؟۔فارس بھائی نے کچھ کہا ہے ؟۔تم مجھے بتا سکتی ہو ۔”ماتھے پر تفکر کی لکیریں لئے وہ پریشان سا کچھ دیر پہلے والا ہنستا مسکراتا بے فکر سا طلحہ تو نہیں تھا ۔دعا چونک کر ہوش میں آئی تھی اور پھر ہنستی چلی گئی ۔اسے ہنستا دیکھ طلحہ کی سانس بھی بحال ہوئی تھی ۔

“پاگل ڈرا کر رکھ دیا تھا” ۔چہرے کے خدوحال واپس نارمل ہو گئے تھے ۔

“ابھی تو بہت ڈھینگیں مار رہے تھے اب اتنی جلدی ڈر گئے “۔آنکھوں میں آیا پانی صاف کرتے وہ بولی تو طلحہ نے اسے گھورا تھا ۔

“بس میں نے سوچا تمہیں اپنی بیوقوف اور معصوم سی بہن کی پرانی ایک جھلک دکھا دوں جو اپنے رونے تمہارے سامنے رویا کرتی تھی “۔اس نے بات مذاق میں اڑا دی دل پے جو بیتی سو بیتی پر وہ اپنے پیاروں کو یہ دکھ نہیں دے سکتی تھی ۔

“جان نکال تھی بدتمیز ۔خبر دار جو آئندہ ایسا کوئی مذاق کیا تو “۔انگلی اٹھا کر تنبیہ کی تو وہ مسکرا دی ۔

“اچھا یہ بتاؤ اپنے بارے میں کیا سوچا ہے ۔کب تک ایسے ہی گھومنے کا ارادہ ہے ۔امی کا ہی احساس کر لو وہ بیچاری پورا دن اکیلی ہوتی ہیں ۔” وہ بات بدل کر اصل مدح پر آئی ۔

“کیا مطلب ایسے ہی گھوم رہا ہوں ۔ڈیوٹی کے بعد سیدھا گھر آتا ہوں ۔اورتمہاری شادی ہو گئی ہے میری جاب ہے تو ظاہری بات ہے امی کو اکیلا تو رہنا پڑے گا “۔کندھے اچکا کر وہ جان بوجھ کر انجان بن رہا تھا یا اسکی بات سمجھ نہیں پایا تھا دعا اندازہ نہ لگا سکی ۔

“تو تم شادی کر لو سمپل ۔امی کی بھی تنہائی دور ہو جائے گی ۔”اسی کے انداز میں کندھے اچکا کر کہا تو طلحہ کا چہرہ لمحے میں تاریک ہوا تھا ۔

“میری شادی کہاں سے بیچ میں آ گئی ۔اتنی جلدی بھی کیا ہے ؟”۔بے زاری سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے جواب دیا ۔

“جلدی نہیں صحیح وقت ہے یہی ۔خیر سے جاب بھی ہو گئی ہے ۔اور کیا چاھتے ہو ؟۔امی بھی یہی چاہتی ہیں اب تمہاری شادی ہو جاۓ ۔”اب کی بار اسکا انداز سمجھانے والا ہے ۔وہ خاموش رہا تھا ۔کچھ توقف کے بعد اسنے ڈرتےہوئے اسے دیکھا ۔

“امی چاہتی ہیں وہ تمہارے لئے وشمہ کا ہاتھ مانگیں ۔” ٹھر ٹھر کر کہتی وہ اسے جھٹکا لگا گئی تھی وہ بیٹھے سے اٹھ کھڑا ہوا ۔

“واٹ ؟ ہوش میں ہو تم ؟۔جانتی بھی ہو کیا کہہ رہی ہو ؟۔مامو لوگوں نے جو کیا وہ سب بھول گئے ہو تم اور امی جو ایسی حسرتیں پالنا شروع کر دی ہیں ۔اسکی آواز بلند ہو گئی تھی ۔لہجے میں خفگی جھلک رہی تھی ۔

“طلحہ بیٹھ جاؤ پلیز ۔ایک بار بات تو پوری سن لو ۔”اسکا ہاتھ پکڑے نرمی سے التجا کی ۔وہ اسکےایسے ری ایکشن کے لئے پہلے سے تیار تھی ۔وہ بیٹھنے کے بجائے ویسے ہی کھڑا اسکی جانب دیکھنے لگا ۔

“پلیز بھائی “۔وہ بہت کم اسے بھائی کہا کرتی تھی جب کبھی بہت لاڈ میں ہو یا اپنی بات منوانی ہو اسکے بچپن کی عادت تھی ۔اب بھی وہ گہر ی سانس بھرتا بیٹھ گیا تھا ۔

“جو ہوا قسمت کا لکھا تھا ۔جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں میرا جوڑ فارس کے ساتھ لکھا تھا آکاش کے ساتھ نہیں ۔اور پھر میں اپنے گھر خوش ہوں ۔اللہ‎ کے کاموں میں پوشیدہ مصلحت انسانی عقل سمجھنے سے قاصر ہے ۔جو ہوا اچھا ہوا پھر تم کیوں لکیر پیٹ رہے ہو ؟۔اس سب میں نہ تمہاری غلطی ہے نہ ہی وشمہ کی ۔میں جانتی ہوں تم اسے پسند کرتے ہو “۔آخر میں ترچھی نظروں سے اسے دیکھتے کہا تو وہ نگاہ چرا گیا ۔

تو پھر میں تمہاری طرف سے ہاں سمجھوں ؟”۔بہت دیر بعد بھی وہ کچھ نہ بولا تو وہ چہک کر گویا ہوئی ۔

طلحہ نے نظر بھر کر اس کے بے ریا چہرے کو دیکھا ۔پھر اداسی سے مسکرا دیا ۔

“تم کیسے اتنی جلدی سب بھول سکتی ہو ۔اب مامو کو یاد آئی ہے ہماری جب آکاش کی بیوی اسے لے اڑی ہے ۔اب انھیں اپنوں کی قدر ہوئی ہے ۔یہ دنیا بہت مطلب پرست ہے دعا ۔کبھی کبھی تمہاری معصومیت سے ڈر لگتا ہے مجھے ۔تم اس دنیا میں مس فٹ لگتی ہو ۔”وہ ہار مانتے ہوئے بے بسی سے کہہ رہا تھا لہجے میں بہن کے لئے محبت کا جہاں آباد تھا ۔
“جتنا نقصان اٹھانا تھا اٹھا لیا طلحہ تم سہی کہتے ہو میری نا سمجھی نے میرے نصیب میں بہت سے خسارے لکھ دیے ہیں “۔دل ہی دل اس سے مخاطب وہ چہرے پر مسکراہٹ لئے اسے دیکھ رہی تھی ۔

“شکر ہے یہ محاذ تو سر ہوا ۔اب میں امی کو جا کر خوش خبری سناتی ہوں “۔چہک کر اسکے کندھے سے لگی کہتی وہ جلدی سے پلٹی تھی جب طلحہ نے اسکا ہاتھ پکڑا ۔وہ مڑ کر دیکھنے لگی ۔

“دعا زندگی میں کبھی بھی کوئی بھی مشکل آئے ۔ساری دنیا بھی تمہارے خلاف ہو جاۓ تب بھی میرے پاس آنے میں جھجکنا مت ۔میں ہمیشہ تمہارے ساتھ کھڑا رہوں گا ۔تم کبھی بھی میرے لئے بوجھ نہ تھی نہ ہی ہوگی “۔اٹھ کر اسکے سر پر ہاتھ رکھتے یقین دہانی کرائی گئی تھی ۔یقیناً وہ اسکی کچھ دیر پہلے کہی بات کے زیر اثر کہہ رہا تھا ۔وہ مسکراتی سر ہلا گئی اس بھائی کی محبت پر وہ شک بھی کیسے کر سکتی تھی جو صرف اس کے لئے اپنی بچپن کی محبت تک سے دستبر دار ہونے کو تیار تھا ۔اندرونی دروازے سے داخل ہوتے گردن موڑ کر اسے دیکھا تھا جو اب کرسی پر بیٹھا تھا بلب کی روشنی میں اسکے چہرے پر کھلی مسکان بهلی لگ رہی تھی ۔اس نے دل میں اس کے صدا یوں ہی خوش رہنے کی دعا کی تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *