Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mere Dard Ki Tujhy Kia Khabar by Umme Abbas


طلحہ کو کک کی سہولت میسر تھی مگر دعا نے بھی کہہ دیا تھا کہ جب تک وہ یہاں ہے کھانا خود ہی بنا لیا کرے گی تو کک کو اس نے کچھ دنوں کی چھٹی پر بھیج دیا تھا ۔طلحہ کو کیا اعتراض ہونا تھا بہن کے ہاتھ کا پکا اتنے عرصے بعد ملنے والا تھا وہ تو خوش ہوا تھا البتہ امی کچھ بد مزہ ہوئی تھیں ۔
"یہ اچھا ہے ماں کے گھر آ کر بھی تم کام کرو ۔"ہر ماں کی طرح انھیں بھی تھا کہ بیٹی میکے آئی ہے تو کچھ آرام ہی کر لے ۔اففف یہ مائیں اور انکی ممتا بھری فکریں ۔دعا مسکرا دی ۔
"ہاں تو میں آپ کے پاس ہی ہوں اور تین لوگوں کا کھانا بنتے کتنا ٹائم لگے گا امی ۔اچھا ہے نا وہ بیچارہ بھی اپنی ماں اور گھر والوں کے ساتھ کچھ وقت گزار آئے گا ۔"سادگی سے جواب دیتی وہ اپنی امی کو چپ کروا گئی تھی اور وہ اسے دیکھ کر رہ گئیں تھیں انکی بیٹی آج بھی ویسی ہی تھی خود سے پہلے دوسروں کا سوچنے والی ۔
اب بھی وہ کچن میں موجود تھی جبکہ دونوں بچے سینڈوچ کھاتے آرام سے ٹی وی پر کارٹون دیکھ رہے تھے ۔امی انکے پاس سے اٹھتی کچن میں آئی تھیں جہاں وہ چھوٹی سی میز کے گرد رکھی ایک کرسی پر بیٹھی سبزیاں کاٹ رہی تھی انکو دیکھ کر نرم سی مسکان نے اسکے چہرے کا احاطہ کیا
"کیا بنا رہی ہو "۔ اس کے پاس بیٹھتے پوچھا ۔
"میکرونی۔ طلحہ کو پسند ہیں ناں "۔اپنے کام میں ہنوز مصروف جواب دیا ۔
دعا بیٹا مزمل اور حریم بہت پیارے اور فرمانبردار بچے ہیں ماشاءالله سے ۔مجال ہے جو تنگ کرتے ہوں ۔بڑا سلوک ہے آپس میں ورنہ تو اس عمر میں تو بچوں کی لڑائیاں ہی ختم نہیں ہوتی "۔اماں مسکرا کر اب باہر لاؤنج میں بیٹھے نواسہ نواسی کو دیکھتے کہہ رہی تھیں جنکی ہلکی سی جھلک کچن میں بیٹھے بھی دکھائی دے رہی تھی ۔
"مزمل کی وجہ سے لڑائی نہیں ہوتی امی ۔وہ بہت حساس طبیعت کا ہے ۔مجال ہے جو کبھی بہن کو روتا ہوا دیکھ لے بلکے وہ تو اب حریم کو بھی پتا چل گئی ہے اسکی کمزوری اب تو اسے بھائی سے کچھ چاہیے ہو تو بلیک میل کرتی ہے اسکو "۔دعا ایک نگاہ انکو دیکھ مسکراتے ہوئے امی کو بتا رہی تھی جو اب اسکی بات پر ہنس رہی تھیں ۔
"چلو اب مجھے تمہاری طرف سے بھی سکوں ہو گیا ہے ۔جب تمہاری شادی کی تھی تو دل کو بہت دھڑکا سا لگا رہتا تھا نجانے کیسے کر پاؤ گی تم ۔عمر بھی تو چھوٹی تھی ۔میرا بھی دل نہیں تھا بیٹا اتنا جلدی تمہیں پرایا کرنے کا پر کیا کرتی مجبور تھی ۔پر تمہاری ساس کا سخت رویہ دیکھ بہت دل دکھتا تھا ۔پر فارس بیٹے کی طرف سے پورا اطمینان تھا ۔"اماں بول رہی تھیں اور دعا کے سبزی کاٹتے ہاتھ ہلکے سے لرزے تھے پر وہ مسکرا کر ہاتھ روکتی امی کو دیکھنے لگی ۔
"میں جانتی ہوں امی ۔آپ ایسا نا سوچا کرے میں خوش ہوں ۔چھوٹی عمر میں شادی ہوئی تو کیا ہوا دیکھیں اللہ‎ تعالیٰ نے کتنے پیارے تحفے دیے ہیں اور وہ بھی ایک ساتھ دو دو ۔" وہ اپنی ہی بات پر ہنسی تھی ۔
اور امی جی کی تو طبیعت ہی تھوڑی سخت ہے ورنہ وہ دل کی اچھی ہیں ۔وہ تو میں خود رہنے نہیں آتی تھی آپ کی طرف کہ پھر پیچھے مسلہ ہو جاتا ۔شفق اور زوار بھائی پڑھ رہے تھے ۔سبین آپا اپنے گھر بار والی تھیں اور امی کو جوڑوں کا درد رہتا تھا بی پی بھی ہائی ایک دم ہو جاتا تھا ۔ایسے میں میرا خود ہی دل نہیں کرتا تھا ۔پھر شفق کی شادی ہو گئی اور زوار بھائی بھی اسپین چلے گے تو پیچھے امی بلکل اکیلی ہو گئیں تھیں ایسے میں آپ ہی بتائیں میں کیسے آتی بھلا ؟۔اب دیکھے امی زوار بھائی کے پاس چلی گئی ہیں تو آ گئی ناں میں رہنے ۔اب تب تک نہیں جاؤں گی جب تک آپ خود نہیں کہتی دعا اب چلی بھی جاؤ ۔"سنجیدگی و نرمی سے بولتی آخر میں وہ شرارتی انداز میں بولی تو امی نے اسے گھورا ۔
"ارے میں کیوں کہوں گی خیر سے آؤ اور خیر سے جاؤ تمہارا اپنا گھر ہے یہ بھی ۔بیٹیاں کوئی بوجھ تھوڑی ہوتی ہیں ۔اور تمہارے جیسی بیٹی تو اللہ‎ نصیب والوں کو دیتا ہے ۔میں تو خوش ہوتی تھی کہ اتنی چھوٹی سی عمر میں بھی میری دعا کتنی سمجهداری سے اپنے سسرال میں رچ بس گئی ہے کبھی کوئی شکایت کا موقع نا دیا "۔کہتے ہوئے اسکی ماں کے چہرے پر اطمینان و خوشی تھی جسے دعا نے نظر بھر کر دیکھا ۔
"آپ کو کیا پتا امی آپ کی دعا نے آپ کے اس اطمینان کے لئے کتنی بڑی قیمت چکا ئی ہےاور مجھے خوشی ہے اس بات کی کم از کم میری ذات آپ کے لئے تکلیف کا باعث نہیں بنی "۔دل میں ماں سے مخاطب وہ انھیں دیکھخوش دلی سے مسکرائی تھی ۔
"اچھا اب میری چھوڑے اور بتائیں طلحہ کے بارے میں کیا سوچا ہے "۔وہ دوبارہ سے اپنے سامنے رکھی سبزیوں کی جانب متوجہ ہوئی تھی ۔
"سوچنا کیا ہے بس اب جاؤں گی بھائی جان کی طرف اور وشمہ کا ہاتھ مانگوں گی اگر تمہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو "۔امی نے جانجتی نظروں سے بیٹی کی جانب دیکھا جو پہلے حیرت اور پھر خوشی سے انکی جانب دیکھ رہی تھی ۔
"مجھے کیوں اعتراض ہوگا امی بلکے میں تو بہت خوش ہوں گی اگر ایسا ہوا تو ۔وشمہ اور طلحہ ایک ساتھ بہت پیارے لگے گے ۔آپ نے طلحہ سے بات کی ؟"۔
"طلحہ سے تم خود بات کرنا ۔میں جانتی ہوں تمہاری وجہ سے وہ کبھی نہیں مانے گا ۔بھائی جان اور بھابھی نے تمہاری منگنی آکاش سے توڑی تھی اس بات کو لے کر وہ کبھی ہاں نہیں کرے گا جب کہ میں جانتی ہوں وہ بھی وشمہ کو پسند کرتا ہے "۔امی دکھی ہوئی تھیں کہی نہ کہی انھیں بھی اس بات کا افسوس تھا مگر اب جب کہ دعا اپنے گھر خوش تھی تو وہ چاہتی تھیں اس سب کی سزا وشمہ اور طلحہ کو نہ ملے ۔
"امی میرا فارس سے جڑا تھا آکاش سے نہیں ۔تقدیر سے لڑا نہیں جاتا بلکے حکم ربی جان کر انسان راضی ہو جاۓ یہی بہتر ہوتا ہے ۔میں بھی راضی ہوں ۔بس آپ دعا کیا کرے اللہ‎ میرے لئے آسانیاں پیدا کرے ۔اور رہی بات طلحہ کی تو میں خود بات کروں گی اس سے ۔وشمہ جیسی پیاری اور مخلص لڑکی کو نہ کر کے وہ کفران نعمت نہیں کرے گا انشااللہ "۔وہ مسکرائی تو امی کے دل سے بے ساختہ اس کے لئے دعا نکلی تھی ۔انکی بیٹی واقع ہی بہت پیارے دل کی مالک تھی جو اپنے ساتھ ہوئی زیاد تی کو بھلا کر بھائی کی خوشی کے لئے سب بھلا بیٹھی تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *