Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Foji Meri Marzi by Aina Ahmad Episode10

Mera Foji Meri Marzi by Aina Ahmad Episode10

یہ سب تم نے کیا ہے نا.. وہ گھوڑے سے اتر کر اس کے پاس آیا.. وہ جو ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی..اس کے آنے پہ بھی اس نے ہنسی روکنے کی کوشش نہیں کی تھی..
ویسے بھی ہنسی رک ہی نہیں رہی تھی اسکی..
میں نے کیا کیا ہے.. ایکدم سیدھی ہو کر وہ بولی.. آنکھوں میں شرارت اور لبوں پہ مسکراہٹ ابھی تک مچل رہی تھی..
تمہیں پتہ ہے میں کس چیز کی بات کر رہا ہوں.. یہ گھوڑے والی حرکت تم نے کی ہے نا.. وہ شدید غصے کا اظہار کرنا چاہ رہا تھا پر ابیہا کا ہنستا چہرہ ااس کے دل کو غصہ کرنے نہیں دے رہا تھا..
یہ لو.. یہ بھی عجیب بات کہی آپ نے.. نہ گھعڑا میرا نہ مجھے گھوڑوں کی خصلت کا پتہ.. نہ کبھی ان سے پالا پڑا.. تو میں کیسے کر سکتی کچھ.. معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے وہ بولی..
اور بس اسی لمحے ہاں اسی لمحے آہان کو ادراک ہوا کہ وہ بہت بڑی ڈرامے باز ہے..
غصے سے اسے آنکھیں دکھاتا آگے بڑھ گیا.. کیونکہ اسے کچھ بھی کہنا فضول تھا.. جبکہ اس کے مڑنے پہ حور کا پھر سے جاندار قہقہہ لگا تھا..
@@@
پتہ نہیں حور کیا کر رہی ہو گی.. وہ اپنی سوچوں می گم بیٹھی تھی جب ماہا ان کے پاس چائے لے کر آئی..
اماں آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں.. آہان بھائی ہے نا.. وہ سب بہت اچھے سے سنبھال لیتے ہیں.. اور آپ نے اس دن دیکھا نہیں تھا کیسے آہان بھائی کے آگے پیچھے گھوم رہی تھی.. آہان بھائی کی قدر کرنے لگی ہے اب وہ بھی.. ماہا انہیں سمجھا رہی تھی لیکن ان کا دل پھر بھی نہیں مان رہا تھا..
کہتی تو تم ٹھیک ہو ماہا پر میں جانتی ہو اپنی اولاد ہو.. اتنی جلدی وہ سیدھی ہونے والی نہیں ہے.. مانو نہ مانو داغ میں کچھ تو کالا ضرور ہے اور اس بار یہ بات آہان بھی مجھ سے چھپا رہا ہے..
انہیں حور کی تابعداری مسلسل کھل رہی تھی یوں جیسے کچھ نہ کچھ غلط ضرور تھا کچھ بناوٹی سا..
اماں آپ پریشان نہ ہوں.. ابھی کل صبح میں اس کا فون آیا تھا.. بہت خوش ہے اور آہان بھائی اس کا بہت خیال رکھتے ہیں.. اس نےیہ باتیں مجھ سے خود کہی ہیں.. اور ویسے جو شوخی تھی وہ شادی سے پہلے تھی اب تو ماشاءاللہ کافی سمجھدار ہو گئی ہے حور..
ماہا بڑی بہن کا فرض نبھاتے ہوئے اماں کو جس حد تک مطمئن کر سکتی تھی کر رہی تھی..
ان کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر وہ انہیں تسلی دیتی ہوئی بولی..
ہمم.. ٹھیک کہتی ہو.. ارے ہاں.. تم نے حور کو بتایا عائزہ کی شادی کے بارے میں.. اور مشعل کی منگنی کا بھی..
عائزہ ان کے ہمسائے میں رہتی تھی اور حور کی ان سے اچھی بنتی تھی اسی کی منگنی پہ تو ماہا کو اس کے سسرال والے پسند کر کے گئے تھے..
مشعل اور فائق بھی منگنی کر رہے تھے.. لیکن یہ بات ابھی آہان اور حور دونوں کو نہ پتہ تھی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ چاہتے تھے کہ ان کا ہنی مون ٹرپ خراب نہ ہو.. واپسی پہ وہ انہیں بتا دیتے..
اماں جب آئے گی تو بتا دوں گی.. ماہا بھی چاہتی تھی کہ ابھی انہیں بتانا مناسب نہیں..
تم جانتی نہیں ہو میری اولاد کو.. اگر اسے بعد میں پتہ چلا نا تو آسمان سر پہ اٹھا لے گی اور پھر تم جانتی ہو اسکی ناراضگی کو.. مانے گی بھی نہیں وہ..
اماں تو کچھ ذیادہ ہی خائف تھی حور سے.. ویسے بھی ماں تھی اور حور کی نیچر کو اچھے سے جانتی تھی..
اچھا ٹھیک ہے میں بتا دوں گی اب آپ پریشان نہ ہوں.. اور بس چائے پیئے اور سب ٹینشنز سے آزاد ہو جائیں..
وہ انہیں ہلکا پھلکا کرتی خود بھی چائے پینے لگی..
@@@
آج چار دن بعد وہ بلکل ٹھیک اٹھا تھا ورنہ تو جب بھی اٹھا حور کی کسی نہ کسی نئی شرارت سے ہی اٹھا اور آج حیرت انگیز طور پہ حور نے اسے بلکل بھی تنگ نہیں کیا تھا..
نہ تو کوئی کالی مرچ تھی نہ پانی کا گلاس نہ ہی چیخنے والا الارم.. آہان تو جتنا بھی حیران ہوتا کم تھا..
بلکہ جب وہ اٹھا تو وہ فلیٹ میں موجود چھوٹے سے کچن میں ناشتہ بنا رہی تھی اور یہ سب ہی آہان کے لیے غیر متوقع تھا.. کچھاچھے کی امید تو اسے حور سے بلکل نہیں تھی.. نجانے کیو اس نے آہان کی ناک میں دم کر رکھا تھا..
لیکن یہ سب آہان کو اچھا بھی لگتا تھا وہ اسے کچھ کہتا نہیں تھا کیونکہ اس کی ہنسی اسے نئی زندگی بخشتی تھی..
چپ چاپ اٹھ کر اس نے وارڈروب سے کپڑے نکالے اور دروازے پہ چپل اتار کر واشروم کی طرف بڑھا..
حور جو ناشتہ بنا رہی تھی دروازے کے بند ہونے کی آواز پہ فورا کمرے میں آئی.. کیونکہ یہ سائن تھا کہ وہ واشروم میں جا چکا ہے..
واشروم سے باہر پڑی چپل کو اس نے ہنستے ہوئے دیکھا..
@@@
وہ واشروم سے تولیے سے سر رگڑتا ہوا باہر نکلا.. ایک نظر وارڈروب کے پاس کھڑی حور پہ ڈالی.. اور کچھ بولے بنا چپل پہنتا آگے بڑھا..
مگر یہ کیا جونہی اس نے پاؤں آگے بڑھایا جوتا وہی رہ گیا اور پاؤں سلیپری ہونے کی وجہ سے وہ دھڑام نیچے گرا..
اگر وہ بروقت زمین پہ اپنے ہاتھ نہ رکھتا تو آج اس کے ناک کی ہڈی یقیناً شہید ہو چکی تھی..
اس کے گرتے ساتھ ہی حور کا جاندار قہقہہ پڑا تھا..
ارے کیپٹن.. سلپ ہو گئے ہو یا باہر نکلتے ہی ایسے ہو.. ہنستے ہوئے وہ اس کے پاس آئی..
گر تو چکا تھا اپنی عزت بچانے کو اسی پوزیشن میں پش اپس لگانے شروع کر دیے.. لیکن عزت تو حور شاید سوچ چکی تھی کہ وہ اسکی بچنے نہیں دے گی..
میں باہر نکلتے ساتھ ہی پش اپس لگاتا ہوں.. گرا نہیں ہوں میں.. سمجھی.. خود کو کور کرتا وہ پش اپس لگا رہا تھا.. اور حور ابھی بھی ہنس رہی تھی..
آہاں.. چلو میری جان کور کرنے کے بعد ناشتے کی ٹیبل پہ آ جانا.. وہ ہنستے ہوئے کچن کی طرف بڑھی..
جوں ہی وہ باہر گئی آہان سیدھا ہو گیا..
یہ لڑکی ایک نہ ایک دن میری عزت کا کباڑہ کروا کر ہی رہے گی.. گلے سے گیلا ٹاول اٹھا کر سائڈ ہہ رکھا اور پھر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بڑھا..
آہان میری جان تو کیو چپ ہے.. محبت ہے پر کچھ فن تو ہونا چاہیے نا.. کچھ سوچتے ہوئے وہ آئینے کے سامنے اپنا عکس دیکھ کر مسکرایا..
@@@
وہ ناشتہ ٹیبل پہ ریڈی کر کے بیٹھی اسی کا انتظار کر رہی تھی جب وہ تیار ہو کر آیا..
وہ اس کے لیے اتنا اہتممام کرے یہ تو ممکن ہی نہیں تھا یقیناً داغ میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور تھا.. وہ سیدھا چیئر گھسیٹ کر اس پہ آ بیٹھا..
اور سب سے پہلے کھانے کی اشیاء کی طرف دیکھا.. دیکھنے میں تو سب ٹھیک لگ رہا تھا.. یقیناً اس میں نمک مرچ کی ذیادتی ہو گی..
(ہائے آہان کے نکّے نکّے خواب)..
بڑے احتیاط سے اس نے بریڈ کا ایک پیس اٹھایا اور پھر انڈے کا.. دونوں کا ایک لقمہ لگا کر دیکھا.. اور اس کی حیرت کی انتہا واقع نہیں رہی جب دونوں بلکل ٹھیک تھے..
ستائشی نظروں سے اس نے حور کو دیکھا اور اس نے بھی سر کو خم دے کر جیسے داد وصول کی ہو..
پھر جیسے کچھ یاد آنے پہ اٹھی..
ارے ایک منٹ.. جوس تو اندر ہی رہ گیا.. میں لے کر آتی ہوں.. وہ بھاگم بھاگ اندر گئی جوس کا جگ لینے کے لیے.. لیکن جاتے جانتے اپنی پلیٹ کو ڈھانپنا نہ بھولی تھی..
اس کے جانے کے بعد آہان نے ایک نظر اس کی ڈھانپی ہوئی پلیٹ کو دیکھا..
اب مسکرانے کی باری اس کی تھی..
@@@
وہ فورا جوس کا جگ لے کر آئی.. اور اسے کے پاس لا کر رکھا..
ارے پہلے مجھے جوس تو ڈال دو.. وہ جو پلیٹ ہٹانے لگی تھی اس کے آرڈر پہ مسکراتے ہوئے اس کے لیے گلاس میں جوس نکال کر اسے پیش کیا..
وہاں اس نے پلیٹ کا کور اٹھایا تھا اور وہاں آہان نے جوس کا گلاس منہ کو لگایا تھا..
پلیٹ اٹھاتے ہی حور چیخ کر پیچھے ہٹی تھی کیونکہ ایک زندہ کاکروچ اس کی پلیٹ پہ مہاراجوں والے انداز میں لیٹا اپنی ٹانگیں ہلا رہا تھا..
اور اس کی حالت سے محظوظ ہوتے جو آہان نے جوس کا گلاس منہ سے لگایا تھا تو وہ بھی اسے کم مہنگا نہ پڑا تھا.. کیونکہ
Cinnamon
جو جوس میں اچھی خاصی مقدار میں موجود تھی اس کی زبان اور تالو سے چپک گئی تھی..
جاری ہے..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *