Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Foji Meri Marzi by Aina Ahmad Episode05

Mera Foji Meri Marzi by Aina Ahmad Episode05

یہ یہاں کیا کر رہے ہیں.. آج ماہا کی منگنی تھی حور کی وجہ سے وہ باقاعدہ بات تے نہیں کر پائے تھے.. اس لیے انہوں نے ڈائریکٹ منگنی ہی کر لی تھی.. فنکشن مارکی میں رکھا گیا تھا وہ اپنے دھیان سے سج دھج کر چل رہی تھی جب سامنے آہان کو دیکھ کر اس کے ماتھے پہ بل پڑ گئے.. اس لیے تو پوچھنے ماہا کے پاس آئی تھی.. جو راحب کے ساتھ بیٹھی تھی..
اس کی آمد پہ وہ تھوڑی محتاط ہو گئی تھی.. پتہ تو تھا کہ کچھ نہ کچھ عجیب ہی بولے گی اور راحب کا بھی دھیان نہیں کرنا اس نے..
کون.. وہ چونکی..
یہ آپ کے آہان بھائی.. میرے گٹنے کے مجرم.. حور نے اسے جیسے یاد دلایا..
حور کی بات پہ ماہا کو ہنسی تو بڑے زور کی ائی لیکن ضبط کر گئی..
باز آ جاؤ حور.. ماما نے اسپیشل انوائٹ کیا ہے انہیں.. ماہا نے مصنوعی غصے سے اسے گھورا.. جس پہ ول گہرا سانس لے کر سٹیج سے اتر آئی.. اب وہ اتنی بھی بد لحاظ نہ تھی کہ راحب کا خیال نہ کرتی.. اور کچھ بھی بول دیتی..
یہ اہان کے بچے کو تو میں چھوڑوں گی نہیں دیکھنا اب.. اس نے تو اب آہان سے واضح طور پہ بیر پال لیا تھا..
وہ اسی کے بارے میں مسلسل پلیننگ کرتی آگے بڑھ رہی تھی کہ سامنے سے آتے آہان سے ٹکر ہو گئی..
اففف انسان ہو یا آئرن مین.. اتنا سخت تن.. اپنے سر کو مسلتی آنکھیں میچے وہ سامنے والے کو سنا رہی تھی اب اسے کیا پتہ تھا کہ سامنے آہان ہے.. پتہ بھی ہوتا تو اس نے کونسا چپ کر جانا تھا..
آپ دیکھ کر نہیں آ رہی تھی پر خیر آپ کو ذیادہ لگی تو نہیں.. حور کو بازوؤں سے تھامتا وہ نرم لہجے میں بولا..
ہاں ہاں کہہ دے میری ہی غلطی ہے.. پہلے آپکی کار کے آگے آ کر گٹنا تڑوایا اور اب اپنا سر.. حور تو بھری پڑی تھی فورا چٹخ کر بولی..
دیکھیں حور.. میں نے آپکا گٹنا نہیں توڑا وہ سب اتفاق سے ہوا تھا اخر آپ کیوں نہیں سمجھ رہی.. بار بار گھٹنے ٹوٹنے کی بات سن سن کر اب اسکے لہجے میں بھی تھوڑی سختی آ گئ تھی.. آخر کو حور زچ کرنے کا ہنربھی تو خوب جانتی تھی..
توڑا ہے یا نہیں توڑا.. لیکن دوبارہ اپنی منحوس شکل لے کر میرے سامنے مت آئیے گا.. اقر اماں سے بھی جس حد تک دور رہے بہتر ہے..
اسے انگلی سے وارن کرتی وہ یہ جا وہ جا.. جبکہ پیچھے آہان حیرت سے حور کو دیکھ رہا تھا پھر کچھ سوچ کر اماں کی طرف بڑھا..
@@@
اماں مجھے آپ سے بات کرنی ہے.. اماں کے کہنے پہ ہی انہیں اس نے ماں کہنا شروع کیا تھا..
وہ جو کسی سے باتوں میں محو تھی.. ایکسکیوزمی کہتی سائد پہ آئی..
جی بیٹا کیا بات ہے.. انہیں اچھنبا ہوا..
مجھے حور سے آج اور ابھی منگنی کرنی ہے اور جانے سے پہلے نکاح.. دو منٹ میں ہی اس نے سارا پلین ترتیب دے دیا تھا..
لیکن اتنی جلدی کیا ہے..
پلیز اماں سمجھیں.. انکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے وہ آنکھوں سے جیسے سمجھانا چاہ رہا تھا اور اماں سمجھ بھی گئی تھی شاید اس لیے تو مسکرا دی تھی..
ٹھیک ہے آ جاؤ.. اس کا ہاتھ پکڑ کر وہ اسٹیج کی جانب بڑھی.. اور ماہا کے کان میں کچھ کہا.. حور دور سے یہ سب دیکھ تو رہی تھی پر خاص اہمیت نہیں دی.. بلکہ ماں کا چمچہ کہہ لر رخ موڑ گئی..
ماہا تو اماں کی بات سن کر بے حد خوش ہوئی اور پھر ساتھ ہیمشعل کو آواز دے کر حور کو بھی بلوا لیا..
سب کچھ جیسے لمحوں میں ہوا تھا حور کو تو کچھ پتہ نہ تھا جب اماں ہمسائی کو ملا کر ایک چھوٹی سے تقریر میں سب کو بتایا اور حور کے ہاتھ میں کیسے آہان کے نام کی انگوٹھی پہنا دہ وہ تو سب کی تالیوں سے بھی ہوش میں نہ آئی تھی..
@@@
اماں آپ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا.. گھر آتے ہی وہ چیخی تھی..
اچھا.. تو تم ہی بتا دو برا کیا کیا ہے.. اماں بھی آج اس سے اسٹریٹ فاروڈ بات کرنے کا ارادہ رکھتی تھی..
کیا کیا ہے.. آپ نے میری شادی اس سے کر دی جس کو جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے ہمارے گھر آتے..
پہلی بات کسی کو جاننے کے لیے ایک لمحہ ہی کافی ہوتا ہے اور میں تنہاری ماں ہوں ایک زمانہ دیکھا ہے میں نے اچھے اور برے کا فرق ہے مجھے..
اور دوسری بات شادی نہیں صرف منگنی ہوئی ہے البتہ اگر تمہارا دل کر رہا تھا شادی کو تو بتا دیتی میں تبھی نکاح خواہ کو بلا لیتی.. اماں نے بھی ٹھیک اسکی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا تھا اور وہ مٹھیوں کو بھینچتی وہاں سے واک آؤٹ کر گئی تھی..
@@@
دیکھا ہے اس کو ردا کتنی احسان فراموش نکلی ہے یہ.. اندر ہی اندر منگنی کر لی اور ہمیں بتایا بھی نہیں.. وہ دونوں آج یونی میں اس کے ارد گرد کھڑی اس کے لتے لینے کا مکمل ارادہ رکھتی تھی..
مشعل پلیز مجھے اس بارے میں کوئی بھی بات نہین کرنی.. رات سے ہی اسکا موڈ آف تھا..
لو جی ایک تو چوری چھپے منگنی کروا لی.. اوپر سے کہہ رہی ہے کہ بات نہیں کرنی تا کہ ٹریٹ نہ دینی پڑ جائے..
لسن.. مجھے کوئی شوق نہین ہے چھپ کر منگنی کروانے کا.. اور جہاں تک بات ہے ٹریٹ کی تو کوئی ایسی خوشی کی بات نہین جس کے لیے میں ٹریٹیں بانٹتی پھروں.. غصے سے اپنا بیگ اٹھاتی ول چلی گئی تھی کل رات سے ہی اسے اتنا غصہ آ رہا تھا کہ وہ اسکے نام سے منسوب کر دی گئ ہے وہ بھی اسکی مرضی کے بغیر.. اور نہ وہ اس غصے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی تھی..
@@@
کیسے حالات ہیں آپ کی دوست کے.. مشعل اور فائق کی بات چیت پہلے ہاسپٹل پہ ہی شروع ہو گئی تھی پھر نمبرز کا ایکسچینج بھی فنکشن پہ ہو گیا.. کیونکہ جب آگ دونوں طرف سے برابر لگی ہو تو کہاں انتظار ہوتا ہے..
ابھی بھی وہ حور کے بارے مین پوچھ رہا تھا کیونکہ کل اس کا مزاج اسے لچھ ٹھیک نہ لگا تھا..
کیسا ہونا ہے.. بہت ہی غصے میں ہے.. بلکل بھی کوئی بات نہیں سن رہی.. بیڈ پہ دراز ہوتے ہوئے وہ بولی..
ہممم.. یعنی معاملہ ذیادہ گھمبیر ہے.. وہ رکا..
مجھے لگتا ہے اب جو کچھ بھی کرے گا آہان ہی کرے گا..
توبہ کریں فائق.. مجھے نہیں لگتا وہ کچھ کر سکیں گئے.. کیونکہ آہان بھائی کے نام سے ہی اسے چڑ ہوتی ہے..
اللہ پھر تو آہان کا اللہ ہی حافظ ہے.. وہ ہلکا سا ہنسا..
اچھا جی.. ویسے اطلاع کے لیے عرض ہے کہ آپکا بھی اللہ ہی حافظ ہے.. اب وہ اسے چڑا رہی تھی..
کیوں.. آپ بھی مجھے تگنی کا ناچ نچانے کا ارادہ رکھتی ہیں.. اب کہ وہ بھی ہنسا..
نہیں میں نے کیوں ارادہ رکھنا ہے آپ خود ہی ناچیں گئے.. مشعل کی بات پہ فائق قہقہہ لگا کر ہنسا.. جو بھی تھا اسے مشعل کی کمپنی مزا دیتی تھی..
@@@
حور آ کر کھانا کھا لو.. ماہا اسے آواز دیبے کمرے میں آئی.. وہ جو کمرے میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی.. ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھا..
نہیں آپی مجھے بھوک نہیں.. پھر دوبارہ سے نظریں ٹی وی کی سکرین پہ جما لی..
تھوڑا سا تو کھا لو.. اب کی بار اس نے بلکل بھی کوئی جواب نہیں دیا تھا.. جبکہ ماہا تاسف سے سر ہلاتی نیچے آ گئی تھی.. جب سے منگنی ہوئی تھی تب سے ایسا ہی ہو رہا تھا وہ کسی سے کوئی بات نہیں کر رہی تھی..
ساری شرارتیں ختم کر دی تھی اور یہ اس کے ایکسٹریم غصے کا اظہار تھا..
کیا ہوا.. آئی نہیں وہ.. اماں جو کھانے کے ٹیبل پہ دونو کا نتظار کر رہی تھی اکیلی ماہا کو آتے دیکھ کر چونکی..
وہ کہہ رہی ہے اسے بھوک نہیں.. کرسی گھسیٹتے ہوئے وہ بولی..
کیا مطلب بھوک نہیں.. دوپہر کا کھایا ہے اور وہ بھی کچھ خاص نہیں.. انہیں بھی اچھنبا ہوا تھا..
اماں.. اپ کو نہیں لگتا ہم نے جلد بازی کی ہے.. ڈش میں سالن ڈالتے وہ پریشان تھی..
کیسی جلدبازی..
یہی منگنی کی..
میں نے بات کی ہے آہان سے.. معاملے کہ سنگینی کو وہ بھی اچھے سے سمجھتا ہے اور اس کا خیال ہے کہ اسکی اس سے شادی کر دی جائے.. اور میرے خیال سے یہ ٹھیک بھی ہے جتنا وہ دور رہے گی اتنا ہی بدگمان رہے گی.. شادی ہو جائے گی تو اسے پتہ چل جائے گا کہ اس کی ماں اس کے بارے میں بہترین فیصلہ کر رہی ہے..
وہ کھانا کھاتے ہوئے بے پرواہ سی بول رہی تھی جیسے انہیں حور کی ناراضگی کی کوئی پرواہ نہ ہو..
لیکن اماں کیا وہ مان جائے گی.. ماہا کو خدشہ لاحق ہوا..
جب اسے عین نکاح کے دن بتاؤں گی تو ضرور مانے گی.. کچھ سوچتے ہوئے وہ مسکرائیں.. آخر وہ بھی تو حور کی ماں تھی..
@@@
صبح سے ہی وہ گھر میں ہلچل محسوس کر رہی تھی لیکن ناراضگی کی وجہ سے کسی سے پوچھا نہ تھا.. وہ سمجھی شاید ماہا کے سسرال والوں کا آنا متوقع ہے کیونکہ اڑتی اڑتی خبر تو اسے مل چکی تھی کہ آہان کہ فیملی نہیں..
اس لیے وہ کان بند کیے کمرے میں بیٹھی مووی دیکھ رہی تھی کہ اسے ان سب سے کوئی سروکار نہین تھا..
جب انہیں میری پرواہ نہیں تو میں کیوں کروں.. منہ مین بڑبڑاتی وہ مسلسل لاپرواہ ببی ہوئی تھی جب اماں کمرے میں جوڑا لے کر داخل ہوئی..
یہ پہن لو.. بیڈ پہ رکھتے انہوں نے خلاف معمول اسے پیار سے دیکھا..
کیا موقع ہے.. وہ چونکی..
آج نکاح ہے تمہارا آہان کے ساتھ.. اماں کے الفاظ کم اسے بامب ذیادہ لگے تھے جو اسکی سماعتوں پہ گرے تھے..
نکاح.. سرگوشی نما آواز میں وہ بولتی حیران ہوتی اماں کو دیکھ رہی تھی..
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *