Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Foji Meri Marzi by Aina Ahmad Episode09

Mera Foji Meri Marzi by Aina Ahmad Episode09

کمرے میں آ کر اس نے سب سے پہلے کپڑے چینج کیے تھے.. صبح کے بعد وہ گھرنہیں آیا تھا.. فائق کے ساتھ ہی کہیں بزی رہا تھا.. اس لیے حور کو سکون رہا تھا..
اس کا خود بھی آج سارا دن ہی تھکا دینے والا تھا.. پہلے پارلر پھر رسیپشن پھر فلائیٹ سے وہ ابھی کاغان کے ہوٹل میں پہنچے تھے..
بیٹھ بیٹھ کر اسکی کمر تختہ ہو گئی تھی اوپر سے آہان کا خوف بھی ذہن پہ سوار تھا..
صبح کی اس کی دھمکی وہ بلکل نہیں بھولی تھی.. اس لیے اس کے آنے سے پہلے فورا چینج کر کے وہ کوئی بھی شرارت کیے بغیر سونے کے لیے لیٹ گئی..
کچھ تھکاوٹ کا اثر تھا کچھ آہان کا خوف وہ فورا ہی نیند کی وادیوں میں چلی گئی تھی..
@@@
وہ ابھی ریسیپشن سے ہفتے بھر کا پیکج کروا کر آیا تھا.. اس کا دل تھا کہ وہ یہ ہفتہ حور کے ساتھ دل کھول کر انجوائے کرے..
کمرے میں آتے ہی اسکی پہلی نظر بیڈ پہ گئی تھی جہاں وہ سکڑی سمٹی لیٹی تھی.. اسے دیکھ کر آہان کے ہونٹوں کو مسکراہٹ چھو گئی تھی..
سلی گرل.. منہ میں بڑبڑاتا وہ اس کے قریب آیا..
ٹھنڈ ذیادہ ہونے کی وجہ سے اس کی ناک سرخ ہو رہی تھی.. کمبل بھی سینے تک تھا اور شمالی علاقہ جات میں تو ویسے بھی ٹھنڈ بہت ہوتی ہے.. وہ بغیر روم ہیٹر آن کیے لیٹی تھی اس لیے ٹھنڈ سے سرخ ہوئی تھی..
آہان نے پیار سے اسکی ناک کو چھوا.. پھر ایک انگلی اسکے ہونٹوں پہ پھیری.. اور وہی گردن تک لے گیا..
ہو تو تم مجھے بہت پیاری.. لیکن فکر مت کرو تمہاری اجازت کے بغیر نہیں چھوؤ گا تمہیں.. تم میری بیوی ہو ضد نہیں.. میرا مقصد تمہیں اپنا بنانا ہے نا کہ حاصل کرنا..
وہ اس کے سوئے وجود سے کافی دیر تک باتیں کرتا رہا.. اور یہ باتیں اگر حور ہوش میں سن لیتی تو شاید آہان کے کردار کی قائل ہو جاتی.. لیکن کہتے ہیں.. سونا مرنے کے برابر ہے اس لیے اس کی تمام حسیات فی الحال منجند تھی..
اس کے ماتھے پہ اپنی نحبت کی نشانی ثبت کر کے اس نے پیار سے اس کندھے تک کمبل اوڑھایا.. جسے حور نے نیند میں بے اختیار منہ تک لے لیا..
آہان اس کے اس حرکت پہ مسکراتا اٹھا.. روم ہیٹر آن کیا.. اور پھر اسی کے ساتھ لیٹ گیا..
وہ اسے دیکھ تو نہیں پا رہا تھا کیونکہ اس کے چہرے پہ کمبل تھا لیکن اس کے سکون کو محسوس ضرور کر سکتا تھا.. اور اس کو میں ہی آہان کا سکون تھا.. جس کی وجہ سے اس نے بھی اپنی آنکھیں موند لیں تھیں..
@@@
جونہی اس نے کروٹ لے کر ٹانگ باہر نکالی اسے اپنا سر کسی سخت چیز پہ محسوس ہوا.. آنکھیں کھل نہیں رہی تھی اس لیے اہنے ہاتھ سے ہی اندازہ کرتے اٹھی.. اور جب حسیات بیدار ہوئی تو خود کو مکمل آہان کے اوپر دیکھ کر اس کی چیخ نکلتے نکلتے بچی..
اللہ یہ کیا ہو گیا.. منہ پہ ہاتھ رکھے وہ اسے دیکھ رہی تھی جو نجانے کب آیا تھا اور اتنا پرسکون سویا تھا کہ حور کے ایک دم اٹھنے سے بھی اس کی آنکھ نہیں کھلی..
بڑے پیار سے وہ بیڈ سے اتری تھی تا کہ اسے خبر نہ ہو.. پھر اسی طرح واشروم میں گھسی اور فریش ہو کر باہر آیا..
وہ ابھی تک اسی پوزیشن میں سو رہا تھا.. اس نے ایک نظر اسے دیکھا..
ٹھیک کہتی ہے آپی میں واقعی پورے بیڈ پہ گھومتی ہوئی سوتی ہوں.. جبھی تو ہوش نہیں رہتا مجھے.. خود کو کوستی وہ اسکے قریب آئی..
قصور اس کا بھی تو ہے کیا ضرورت تھی اتنا قریب سونے کی.. اس پہ ایک قہر آلود نظر ڈال کر اس نے صوفے پہ پڑا اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا..
ارادہ ماہا کو کال کرنے کا تھا.. لیکن جونہی اس نے ہاتھ اندر ڈالا اس کے ہاتھ ایک شیشی پہ پڑا.. باہر نکال کر دیکھا تو وہ کالی مرچ کی ڈبی تھی جو کل رات اس نے ملازمہ سے لی تھی..
کچھ سوچ کر وہ مسکرائی.. ہھر آہان کی طرف دیکھا جو کرواٹ لیے سو رہا تھا..
آئندہ مرچوں کا مذاق نہیں.. آہان کی بھولی بھٹکی آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی.. لیکن خود کو خودی مطمئن کرتے وہ بولی..
وہ تو سرخ مرچوں کی بات ہوئی تھی کالی موچوں کا تو کہا ہی نہیں تھا ویسے بھی یہ کونسا کھانی یا لگانی ہے..
خود کو مطمئن کرنے کے بعد بھی اس کا دل دھک دھک کر رہا تھا.. لیکن شرارت اتنی چڑھی تھی کہ کچھ مرچی اس کے پاس نکال کے لے ہی گئی..
اس کے سرہانے پہ ناک کے پاس رکھ کر پیچھے ہو گئی.. وہ جو نیند میں گہرے خراٹے لے رہا تھا سانسوں میں کالی مرچوں کی آمیزش سے اسے ناک میں خارش ہوئی تھی..
اور پھر چھینکوں کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا تھا.. اسے ہوش بعد میں آیا تھا اور چھینکیں پہلے..
اس کے ہڑبڑا کے اٹھنے پہ حور کا قہقہہ نکلا تھا اور اس کے مسلسل چھینکنے پہ اس کی ہنسی تھی کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی..
حور.. مسلسل چھینکنے سے اس کی ناک اور آنکھیں سرخ ہو گئیں تھیں.. وہ اس کے پیچھے لپکا تھا وہ بھاگتی ہوئی بیڈ کی دوسری طرف گئی تھی..
آہان سوری پلیز آئندہ نہیں کروں گی.. بھاگتے ہوئے وہ کہہ تو رہی تھی پر ہنسی اس کی ابھی تک نہیں رک رہی تھی..
کل بھی یہی کہا تھا نا تم نے.. وہ بیڈ کے بلکل درمیان میں چڑھی تھی اور وہ بیڈ کے سامنے کھڑا تھا.. تا کہ وہ جہاں سے بھی آئے حور دوسری سائڈ سے آسانی سے اتر سکے.. کمر پہ ہاتھ رکھے وہ اس سے پوچھ رہا تھا..
ہاہاہا.. ہاں کہا تھا.. لیکن پکا آئندہ واقعی نہیں کروں گی.. اپنے کانوں کو ہاتھ لگا کر ہونٹ باہر نکال کر معافی مانگتے وہ آہان کو اتنی پیاری لگی کی اس نے اسے بخشنے کا ارادہ کر ہی لیا..
ٹھیک ہے لیکن. یہ لاسٹ ٹائم ہے اوکے.. اس ہاتھ کی انگلے سے وارن کیا جبکہ حور نے اچھے بچوں کی طرح اثبات میں سر ہلایا جیسے ہمیشہ اسی کی تو مانتی رہی ہے وہ..
وہ ایک نظر اس پہ پیار کی ڈال کر واشروم کی طرف چلا گیا.. جبکہ حور اب پھر سے ہنستے ہوئے اپنے بیگ کی طرف بڑھی تا کہ ماہا کو اپنے اور آہان کی خیریت کی اطلاع دے سکے..
@@@
ابھی وہ باہر سیر کرنے نکلے تھے آج ان کا پہلا دن تھا کاغان میں.. دھوپ نام کو نہیں تھی بلکہ اس وقت درجہ حرارت مائنس کو پہنچا ہوا تھا..
وہ خود کو اچھی طرح کور کر کے آئی تھی لیکن پھر بھی ٹھنڈ سے کانپ رہی تھی..
گھوڑے کی سواری کرو گی.. آہان تو اس طرح کے موسموں کا عادی تھا ٹریننگ میں اکثر اسے اس سے بھی ٹھنڈے علاقوں کا وزٹ کرنا پڑتا تھا.. یہ سردی تو اسے کچھ بھی نہیں لگ رہی تھی..
ٹھنڈ سے کانپتی حور کو دیکھتے اس نے بولا..
نہیں.. مجھے نہیں کرنی گھڑ سواری.. ایک دفعہ بیٹھی تھی تو گر گئی تھی.. اتنی دیر تک اینکل میں درد ہوتا رہا تھا اب نہیں بیٹھوں گی.. اس نے تو بلکل ہی ہاتھ کھینچ لیا تھا..
ٹھیک ہے تم نہیں کرو گی تو میں کر لیتا ہوں.. اس کی آفر قبول نہ کرنے پہ وہ خود ہی ایک لین میں بڑھا جہاں مختلف گھڑسوار اپنا اپنا گھوڑے لیے کھڑے تھے.. حور بھی اس کے پیچھے پیچھے چل دی..
آدمی سے رائڈ کی بات کر کے وہ گھوڑے کی طرف بڑھا.. اسے گھوڑے پہ بیٹھتے دیکھ کر حور کو ایک شرارت سوجھی..
خان بابا.. یہ آپ کا گھوڑا کسی بات پہ پاگل بھی ہوتا ہے.. آئی مین گھوڑوں کے اکثر سائنز ہوتے ہیں نا جس سے وہ پاگل ہو جاتے ہیں.. میں نے موویز میں دیکھا ہے.. آہان گھوڑے پہ اب بیٹھ چکا تھا.. حور بلکل آہستہ آواز میں بول رہی تھی اس لیے آہان سن نہ سکا..
جی بی بی جی.. ایک قسم کا سیٹی سے یہ پاگل ہو جاتا ہے.. اب آہان آہستہ آہستہ اس پہ نیٹھ کر گھوڑے کو چلا رہا تھا..
کونسی سیٹی ہے خان بابا.. ذرا بجا کر تو دکھاؤ.. حور بڑے پیار سے اسے انسسٹ کر رہی تھی.. اور خان بابا بھی شاید کچھ ذیادہ ہی جوش میں آ گیا تھا..
فورا سے پہلے بی بی کو سیٹی بجا کر دکھا دی.. اب جیسے ہی سیٹی بجی گھوڑا سر پ[ بھاگنے لگا اور کبھی اپنی اگلی ٹانگیں اٹھاتا.. آہان سے اسے سنبھالنا بلکل مشکل ہو رہا تھا..
خان بابا بھاگتا ہوا گھوڑے کو سنبھالنے کے لیے گیا.. جبکہ حور کا ہیچھے آہان کو بوکھلائے دیکھ کر ہنس ہنس کا برا حال ہو رہا تھا..
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *