Mera Foji Meri Marzi by Aina Ahmad

ہائے.. وہ گھر آتے ہوئے بھی ابھی تک کراہ رہی تھی.. فائق اور آہان اسے ہاسپٹل سے گھر چھوڑنے آئے تھے اور آہان اس اٹھانے کو بڑھا ہی تھا کہ وہ پھر سے دہائیاں دینے لگی اسکی دہائیوں پہ اپنی امڈ آنے والی مسکراہٹ کو اس نے بمشک روکا اور گھر کی جانب بڑھا..
تھینک یو سو مچ آپ کا آہان بھائی.. لیکن اب ہم آگے چلیں جائین گئے.. کیوں حور.. مشعل کو پتہ تھا کہ اماں نے اگر ایسے دیکھ لیا تو شاید غصہ کرے اسے وہ وہی سے آہان اور فائق کو چلتا کر دینا چاہتی تھی پر ہائے رے حور کی زبان.. فورا کی اس کی بات کاٹ کر بولی..
کیوں کیا مطلب.. اب مجھ نہیں چلا جا رہا تو ان کا فرض ہے کہ مجھے گھر کے اندر تک چھوڑ کر آئے.. آخر اماں کو بھی اس مجرم کا پتہ چلے نا جس نے انکی بیٹی کا گٹنا توڑا ہے..
ابھی مشعل اسکی بات پہ کچھ اور کہتی آہان بول پڑا..
مشعل اٹس اوکے میں لے چلتا ہوں.. اسے آنکھوں سے خاموش ہونے کا اشارہ کر کے وہ اندر کی جانب بڑھا.. ہاسپٹل میں دونوں کی تھوڑی بہت بات چیت ہوئی تھی اور جب بھی آہان نے اسے بلایا تھا شروع میں اسے بہنا ضرور کہا تھا نہ صرف لفظوں میں بلکہ لہجے میں بھی اس کے لیے بہت عقیدت لگی تھی..
اسی لیے تو وہ بھی اسے بھائی کے عہدے پہ فائز کر چکی تھی.. لیکن حور کا اس سے کیا کلیش تھا یہ بات مشعل سمجھنے سے قاصر تھی..
دروازہ حسب توقع اماں نے ہی کھولا تھا اور سامنے ہی حور کو کسی لڑکے کی بازوؤں میں دیکھ کر ماتھے پہ بل پڑے تھے مگر ساتھ ہی انکی نظر گٹنے سے پاؤں تک پٹی بندھی دیکھی تو لہجے میں فورا ہی فکرمندی در آئی..
ارے یہ کیا ہوا.. انہیں راستہ دیتی وہ فورا پیچھے ہوئی..
آہان حور کو پکڑے آگے بڑھا جبکہ فائق نے ڈیٹیل بتانی شروع کر دی کہ کیسے ٹکر لگی اور اسکے بعد جو کچھ بھی ہوا.. ساتھ میں معذرت بھی کر ڈالی..
اماں کو دونوں لڑکے شکل سے اچھے لگے تھے ورنہ آج کل کے زمانے میں کون اتنا کرتا ہے اور پھر اس بات کی گواہ مشعل بھی تو تھی.. حور کو بیڈ پہ بیٹھا کر انہوں نے وہی قریب دونوں کو صوفے پہ بٹھایا..
بچوں کیا لو گے.. اسی دوران ماہا بھی وہی آ گئی تھی اور حور کا حال چال پوچھ رہی تھی..
نہیں ن.. آہان کی بات ابھی منہ میں تھی جب حور صدمے سے بولی..
اماں ان کی وجہ سے مجھے اتنی زور سے چوٹ لگی ڈاکتر اتنا بڑا انجیکشن لگایا مجھے.. آپ سوائے ان کی درگت بنانے کے ان کو بٹھا کر کچھ کھانے پینے کو پوچھ رہی ہیں.. حور کو تو وہ لمحہ نہیںبھول رہا تھا جب ڈاکٹر نے پین کلر کے نام پہ اسے اتنا بڑا انجکشن لگا دیا اور یہ مشعل بھی ان دونوں کے ساتھ مل کر بجائے ڈاکٹر کو روکنے کے اس کو روتا دیکھ رہے تھے. .
حور میرا بچہ انہوں نے تمہیں ڈاکٹر سے چیک بھی تو کروایا ہے اور وہ کہہ تو رہے ہیں کہ ان سے سب غلطی سے ہوا.. پھر چھوڑدو بات کو.. ساجدہ بیگم اسے پیار سے سمجھاتی ہوئی بولی..
واہ.. مجھ سے توغلطی سے واس بھی ٹوٹجائے تو اتنا ڈانٹتی ہیں.. انہوں نے تو میرا گٹنا توڑ دیا اور آپ انہیں کچھ نہیں کہہ رہی.. یعنی یہ کرے تو ٹھیک ہم کرے تو ہاہ ہائے.. حور کا دکھ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا
وہ جو سوچے بیٹھی تھی کہ جب اماں کو پتہ چلے گا تو وہ انکی درگت بنائے گی اور تب اس کے کلیجے میں ٹھنڈک پڑے گی جو کہ تب سے نہیں پڑ رہی تھی وہ سب بے سود نکلا اماں تو انکے واری صدقے ہو رہی تھی اور یہی بات حور کوجلا کر راکھ کر رہی تھی..
اس سے پہلے کہ اماں اسے مہمانوں کا لحاظ کیے بغیر اسے سناتی آہان اور فائق خود ہی بول پڑے..
آنٹی اب ہم چلتے ہیں.. کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے.. انشاءاللہ کل ہم دونوں پھر آئیں گے.. دونوں ہی ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے تھے..
چلو بیٹا جیسے تم لوگوں کی مرضی لیکن کل کچھ کھائے پیئے بغیر جانے نہیں دوں گی.. اماں نے ان دونوں کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا..
ارے آنٹی بیٹا بھی کہتی ہے اور تکلف بھی کرتی ہے.. اگلی بار بھی کوئی تکلف نہیں.. آہان دروازے سے نکلتےہوئے انہیں کہہ رہا تھا اور وہ آگے سے اسے مزید بھی کچھ کہہ رہی تھی پر حور سن نہیں پائے کیونکہ وہ دروازے سے پار جا چکےتھے..
فراڈیا.. دروازے کی منہ کر کے اس نے بری سی شکل بنا کر کہا پھر سامنے دیکھا تو ماہا اور مشعل دونوں خون خوار نظروں سے اسے گھور رہی تھی..
کیا ہوا.. پتہ تو تھا اسے پھر بھی اس نے کہاں غلطی ماننی تھی..
کیا ضرورت تھی اتنی بک بک کرنے کی.. اس بار تو ماہا کو بھی غصہ تھا وہ ان کے گھر مہمان تھے لیکن حور نے انہیں مہمان رہنے نہیں دیا تھا..
بلکل.. اور آپی آپ کو پتہ ہے اس نے وہاں کیا کیا ہے.. مشعل نے بھی تائید کی تھی ماہا کی اور اب اسے ہاسپٹل میں ہونے والا قصہ سنانے لگی..
ڈاکٹر آئے انہوں نے اسے چیک کیا اورچکہنے لگے ہڈی کو نقصان نہیں ہوا صرف سوزش ہے.. وہی اس نے ضد پکڑ لی انہیں کہتی اپ ڈاکٹر ہے ایکس رے تو نہیں نا.. پہلے ایکس رے کرے.. پھر پتہ چلے گا کہ کیا ہوا.. بڑی بحث کے بعد اس نے ایکس رے کروایا اور اس میں نکلا کچھ بھی نہیں.. مشعل ماہا کو اس کا کارنامہ بتا رہی تھی اور ماہا تاسف سے اسے دیکھ رہی تھی..
حور باز آ جاؤ.. اسے نظروں سے تنبہیہ کرتی وہ باہر چلی گئی تھی..
چلو بھئی میں بھی اب چلتی ہوں.. بہت ٹائم ہو گیا ہے.. مشعل بھی اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے بولی..
ہاں تم نے اپنا کام جو کر دیا ہے چغل خور.. دفعہ ہو جاؤ اب.. حور اسے خونخوار نظروں سے گھور رہی تھی ابھی چل نہیں پا رہی تھی ورنہ دھکے دے کر اسکو خود نکالتی..
جا رہی ہوں میں خود ہی.. مشعل بھی کہتے ساتھ ہیدروازے سے باہر نکل گئی تھی جبکہ حور بند دروازے کو گھور رہی تھی..

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *