Mein Tum Or Eid by Umme Hani NovelR50411

Mein Tum Or Eid by Umme Hani NovelR50411 Mein Tum Or Eid Episode 4 (Last Episode)

341.6K
4

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tum Or Eid Episode 4 (Last Episode)

Tum Mein Or Eid by Umme Hani

” مائرہ کسی کو تو پہل کرنی ہی ہے اور ہم ہی اگر دوسروں کو دیکھتے رہیں گئے تو کوئی بھی اس ظلم کے خلاف نہیں اٹھے گا ۔۔۔ ” نوفل نے اس کا سر سہلاتے ہوئے کہا جو اسکے سینے ساتھ لگی رو رہی تھی

” میں کچھ نہیں جانتی ۔۔۔ سوائے اس کے میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی ہوں ۔۔یہ ۔ میری خود غرضی سمجھ لو یا محبت لیکن تم کہیں نہیں جاؤں گئے۔۔۔۔ ” مائرہ کی گرفت اتنی مضبوط تھی یہ سمجھنا مشکل ہو رہا تھا کہ سینے میں دھڑکنیں کس کی سنائی دے رہیں ہیں

” مائرہ سب دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔ ” نوفل اور مائرہ کو اس وقت حیا اور ناہید منہ کھولے دیکھ رہیں تھیں البتہ ارتضی اور ہمزہ نظریں جھکائے مسکرا رہے تھے ۔۔ نوفل اچھی خاصی سبکی محسوس کر رہا تھا جہاں اظہار کرنا چاہیے تھا وہاں تو اس نے ایک لفظ نہیں کہااور اب سب کے سامنے بے دھڑک محبت کا اظہار کر رہی تھی

” مجھے فرق نہیں پڑتا ۔۔۔ بس تم وعدہ کرو کے تم کہیں نہیں جاؤں گئے بہت خطرناک ہیں وہ لوگ نوفل جب انہوں نے پسٹل تم پر تانی تھی میری جان تو اسی وقت نکلنے لگی تھی ۔۔۔۔ تب مجھے پتہ چلا کہ تم میرے کیا ہو ۔۔۔۔ کتنے اہم ہو ۔۔۔۔۔ دل کسی ماہی بے آب کی طرح سے تڑپا تھا صرف تمہارے لئے ۔۔۔۔ میں تمہیں کھو کر جی ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔ کیوں سمجھ میں نہیں آتا ہے تمہیں ” مائرہ اب اس کے ساتھ لگی روتے ہوئے کہہ رہی تھی یہ ڈر لاحق تھا کہ اگر اس سے جدا ہو گئ تو کہیں وہ اسے چھوڑ کر نا چلا ہی جائے ۔۔۔۔

” ضروری تو نہیں ہے کہ میں مر ہی جاؤں گا کامیاب ہو کر بھی لوٹ سکتا ہوں ۔۔۔ لیکن کچھ بھی ہو سکتا ہے آپ کے آنسوں میرے ارادوں سے مجھے پیچھے نہیں ہٹا سکتے ۔۔۔ ہاں اگر آپ مسکرا کر بھیجیں گئیں تو کام کچھ آسان ہو جائے گا ۔۔۔۔ ” نوفل کی بات سن وہ پیچھے ہٹ کر اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ بہتے آنسوں سے نفی میں سر ہلانے لگی

” اتنا حوصلہ نہیں ہے مجھ میں

” ہاؤ رومنٹک ۔۔۔۔ لولی کپل ۔۔۔۔ ارتضی انہیں سے کچھ سیکھ لیں کہ محبت کیسے کی جاتی ہے ” حیا بنا آنکھیں جھپکائے نوفل اور مائرہ کو دیکھ رہی تھی

” یہ تو تمہیں سیکھنا چاہیے تمہیں تو میری بس اتنی ہی فکر ہے تمہارے ساتھ ملکر ناشتہ اور کھانا کون بنائے گا ” ارتضی کے طنز پر وہ کچھ نادم سی ہوئی تھی ۔۔۔۔

” مجھے نہیں پتہ ایسے بھی اظہار کیا جاتا ہے لیکن محبت میں بھی بلکل ایسی والی ہی کرتی ہوں ۔۔۔ ” حیا نے مائرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

” ہائے ہمزہ ویکھ کسے طوطا مینادی جوڑی لگ رہی ہے ۔۔۔۔ کیسے کٹ کے جپھی پائی ہے اس نے اپنے میاں نوں ” ناہید کی بات پر ہمزہ دھیرے سے ناہید کے کان کے پاس جا کر بولا

” تم ہی دیکھوں تو بہتر ہے ۔۔۔۔ کچھ دیر پہلے تم بھی روتے ایسا ہی کچھ میرے ساتھ کر رہی تھی ۔۔۔ ” یہ سن کر ناہید تھوڑا سا پیچھے ہٹی تھی

” اچھا۔۔۔۔؟ سچی ۔۔۔۔۔ ؟کھا میرے سر دی سو ۔۔۔۔ مینو تے چیتے ای نئیں کہ میں کیتا کی اے ” ناہید سب بھولے بیٹھی تھی

سب ہی بیویوں کا یہی حال ہے ۔۔۔ خیر اب اللہ سے دعا کرو کہ ہم جو سوچ رہے ہیں اس میں کامیاب ہو جائیں “

دوسری طرف نیناں اور ہادیہ کارو رو کے برا حال تھا ۔۔۔

” عزیر میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گی جہاں آپ جائیں گئے ۔۔۔ گولی لگے گئ تو میرے مجھے ۔۔۔۔جب زندگی ساتھ جینے کاوعدہ کیا ہے تو موت کو بھی اکھٹے ہی گلے لگائیں گئے ” ہادیہ نے عزیر کا ہاتھ زور سے تھام کر کہا

” پاگل پن مت کروں ۔۔۔۔ کچھ نہیں ہو گا ہمہیں پوزٹیو بھی سوچا جا سکتا ہے ضروری نہیں کہ نیگٹو ہی ذہن پر سوار رکھیں ۔۔۔۔

” شاہو پلیز یہ قدم انتہائی خطرناک ہے ” نیناں شاہزیب سے کہنے لگی

” کچھ بھی نا ممکن نہیں ہے نیناں تمہیں میرا حوصلہ بڑھانا چاہیے میرا ساتھ دینا چاہیے جیسے نو ون ویلنگ میں دیا تھا ۔۔۔ تم اگر میرا ساتھ نا دیتی تو میں کبھی وہ سب نا کر پاتا جسے کرنے سے کئ لڑکوں نے ون ویلنگ سے توبہ کر لی ۔۔۔۔ سچ میں نیناں ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ۔۔۔ اور ۔میں خوش نصیب ہوں میری بیوی نیناں ہے ۔۔۔۔ اب رونا بند کرو اور میری کامیابی کی دعا کرو ” شاہزیب کی ساری تسلیاں بے کار ہی جارہی وہاں ہادیہ ماننے کو تیار نہیں تھی اور نا نیناں کے آنسوں رک رہے تھے ۔۔۔

بچے اس وقت سو رہے تھے فائقہ اور رومان وہاں بیٹھے تھے جہاں شاہزیب اور عزیر بیٹھے تھے ۔۔۔

وہاں موجود ہر خاتون کا یہی حال تھا ۔۔۔ شوہر کے ساتھ لگے رو رہی تھی ۔۔۔ سب کی دبی دبی سسکیاں سن کر فائقہ کے بھی ٹپ ٹپ آنسوں بہنے لگے ۔۔۔ رومان کی اس پر نظر پڑی تو کچھ متذبذب سا ہو گیا رنگ تو اس کابھی اڑا ہوا تھا جب اس کے کمرے کادروازہ دھڑدھڑایا گیا تووہ ہڑبڑا کر اٹھا تھا ۔۔۔ بیڈ پر ارتضی اور حیا کو نا پا کر سمجھ گیا کہ ممی نے پھر سے کسی ٹرتھ اینڈ ڈیر کو پورا کرنے کے لئے اس وقت مری کے کسی پہاڑ کاانتخاب کیا ہو گا ۔۔۔ کوئی افلاطونی آئیڈیا حیا کے دماغ میں آیا ہو گا ۔۔۔۔ اسے لگا دروازے پر ارتضی اور حیا ہیں ۔۔ دروازہ کھولتے مسلح نقاب پوش افراد دیکھ وہ بری طرح سے ڈر گیا تھا ۔۔۔۔ سبحان اور مسکان کو گود میں لئے جب وہ ہال میں پہنچا تو حیااور ارتضیٰ نے بچوں کو اس پکڑ لیا تھا لیکن ساتھ ہی نقاب پوش نے رومان الگ جگہ پر بیٹھا دیا یہی سب کچھ فائقہ کے ساتھ بھی ہوا تھا ۔۔۔ اگر وہ مائرہ یا نوفل کے ساتھ بیٹھی ہوتی تو شاید کنفرٹیبل ہوتی لیکن اپنی عمر کے لڑکے ڈرے سہمے لڑکے کے بیٹھ کر اس کا خوف بڑھ ہی سکتا تھا

” دیکھیں سسٹر یہاں سب ہی پریشان ہیں ۔۔۔ آپ یوں مت روئیں انشاء اللہ اللہ بہتر کرے گا ۔۔۔ ” رومان خود تو بہت خوف ذدہ تھا لیکن ایک لڑکے ہونے کے ناطے بس رو نہیں سکتا تھا ۔۔۔ ایک تسلی ہی دے سکتا تھا ۔۔۔ جو دے رہا تھا

” مجھے امی ابو کے پاس جانا ہے ” یہ کہہ وہ ضبط کھو بیٹھی تھی ۔۔۔اس کی سسکیاں سن کر ہادیہ سر نیناں اپنی روتی ہوئی متورم نکھوں سے اس بچی کو دیکھا تھا ۔۔۔ جوانکے ساتھ ہی ہائیکس میں بیٹھ کر آئی تھی سامنے بیٹھی رو رہی تھی ۔۔۔

” جاؤ ہادیہ اس بچی کو چپ کرواں ۔۔۔ بیچاری ہمارے ساتھ یہاں پھنس گئ ہے ۔۔۔ ‘” ہادیہ اس کے پاس جا کر بیٹھ گئ ۔۔۔ اسے ساتھ لگایا تو فائقہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی رومان اٹھ کر عزیر کے پاس آکر بیٹھ گیا نیناں بھی فائقہ کے پاس بیٹھ کر اسے چپ کروانے لگی ۔۔۔

باہر پولیس کی کئ موبائل کے سائرنز کی آوازیں آنے لگیں ۔۔۔ پھر وہی مائیک پر یہ کہا جانے لگا کہ پولیس نے اس ہوٹل کو چاروں طرف گھیر لیا ہے ۔۔۔

لیکن اندر بیٹھے نقاب پوش بڑے مطمئن ہو کر بیٹھے تھے ۔۔۔ یہاں سے یہ پیغام۔ گیا کہ اگر پولیس نے اندر آنے کی کوشش بھی کی تو یہاں سے بے گناہ لوگوں کی موت کا نذرانہ باہر بھیج دیا جائے گا ۔۔۔۔

کچھ دیر میں ہیلی کاپٹر کی آوازیں بھی گونجنے لگی مطلب پر محکمہ جوش میں آ چکا تھا ۔۔۔ لائٹیں بند کر دو ساری کی ساری ” پل بھر میں گھپ اندھیرا ہو چکا تھا تا کہ ہوٹل کی روشنی سے ہیلی کاپٹر کوئی ایکشن ہی نا لے لیں

” تم لوگ کان کھول کر سن لو اگر کسی نے چوں بھی کیا تو اسی سمت فائر کھول دی جائے گی چاہے پھر ایک کے بجائے دس جانیں جائیں ہ۔ہیں کوئی پروا نہیں ہے ۔۔۔

سب نے ہی بچوں کو اپنے ساتھ سمیٹا تھا ۔۔۔ اس اندھیرے میں شاہزیب نے عزیر کے کان میں سرگوشی سے باہر نکلنے کے لئے کہا جہاں وہ بیٹھے تھے کھڑکی وہی موجود تھی ۔۔۔ آہستہ سے کھڑکی کھولی گئ تھی بنا آواز کے اندھیرا اس قدر زیادہ تھا کہ کوئی کسی کو نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔۔ وہ دونوں ہی کھڑکی سے باہر نکل چکے تھے ۔۔۔۔ باہر پہرے دار چکر کاٹ رہے تھے ۔۔۔ وہ لوگ دیوار کے ساتھ چیک کر آہستہ آہستہ قدم بڑھا رہے تھے کہ دوسری کھڑی سے بھی کوئی باہر کی طرف کودا تھا ۔۔۔ پہلے تو انہیں لگا کہ شاید کوئی پہرے دار ہے

اس لئے شاہزیب نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور عزیر نے اسکے دونوں بازوں جکڑ لئے لیکن اس کے چہرے پر کوئی بھی جواب نہیں تھا اس لئے شاہزیب نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا

” کون ہو تم ” دھیرے سے اس سے پوچھا

” نوفل ” نوفل بھی موقع دیکھ کر وہاں سے نکل گیا تھا ۔۔۔

” دیکھوں سب سے پہلے ہمیں مین گیٹ پر موجود پہرے داروں کو مارنا ہے تا کہ پولیس اندر داخل ہو سکے ۔۔۔ جیسے ہی پولیس کی بھاری نفری اندر داخل ہو گئ تو پھر کچھ بھی مشکل نہیں ہو گی ۔۔۔ تینوں نے مین گیٹ کی جانب رخ کیا تھا لیکن وہاں نقاب پوش نوجوانوں کے ہمراہ خون خوار کرے بھی موجود تھے ۔۔۔ تینوں کو تکنا پڑا تھا دیواریں بہت اونچی تھیں اگر ان میں سے کوئی دیوار پلانگتا بھی تو صاف دیکھائی دے جاتا اور پھر وہ تھے بھی بنا ہتھیار کے ۔۔۔

” دیکھوں ہم لوگ مردوں سے تو لڑ سکتے ہیں لیکن ان خونخوار کتوں سے لڑنا مشکل ہے ۔۔۔ اس لئے تم دونوں یہیں رکو میں بھاگنے میں اسپیڈ بہت تیز ہے میں ان کے سامنے سے تیزی سے بھاگوں کا اس لئے ان کتوں کی توجہ میری طرف ہو جائے گی یقینا کتوں کے ساتھ بہت سے نقاب پوش بھی میرے پیچھے بھاگیں گئے ۔۔ اس طرح سے میں گیٹ پر پہرے دار کم ہو جائیں گئے تو تم لوگ سنبھال سکتے ہو ” عزیر نے اپنا پلان بتایا

” نہیں عزیر یہ ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ وہ لوگ تم پر فائر بھی کر سکتے ہیں ۔۔۔ اور سب سے پہلے فائر ہی کریں گئے ۔۔۔ ” شاہزیب کو پلان کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا ۔۔۔

” نہیں شاہزیب عزیر ٹھیک کہہ رہا ہے جب یہ بھاگے گا تو سب کی توجہ اس پر ہو گی اس وقت ہم پہرے داروں کے ہاتھوں سے ہتھیار چھیننے کی کوشش آسانی سے کر سکتے ہیں ۔۔ کیونکہ ابھی وہ بلکل الرٹ کھڑے ہیں دھیان بٹتے ہی جیسے ہی انکی توجہ ہٹے گی ہمارا کام آسان ہو جائے گا ۔۔۔۔ ” نوفل کی بات کر شاہزیب مان گیا تھا ۔۔۔ عزیر تیزی سے بھاگتا ہوا انکے سامنے سے جیسے ہی گزرا ایک شور سا اٹھا گیا تھا کتے بھی بھونکنے لگے تھے اسی اثنا میں نوفل اور شاہزیب نے دو پہرے داروں کو سوجنے کا موقع ہی نہیں دیاتھا اور مکے کھونسے ان پر شروع کر دیے تھے ۔۔۔ اس وقت تک ارتضی اور ہمزہ بھی ان تک پہنچ گئے تھے پسٹل ہاتھ آتے ہیبس سے پہلے سب نے کتوں کا نشانہ لگایا تھا اس کے بعد جس کے جہاں گولی لگتی رہی انہوں نے فائر بند نہیں کیے تھے

******…..

اندھیر کا فایدہ اٹھا کر اصفر نے آپریشن کے اوزاروں میں سے تیز قسم کے کٹر اپنے ہاتھ

یں لئے تھے فارس بھی اس کے برابر میں ہی کھڑا تھا ایک کٹر اس کے ہاتھ میں دیا جہاں وہ لوگ کھڑے تھے ان نقاب پوش کا باس اسی طرف کھڑا تھا اتفاق تھا کہ اسکی پشت اصفر اور فارس کی جانب تھی فارس کے کان میں اصفر نے کہا کہ اگر ہم اس باس کے گلے میں یہ تیز کٹر رکھ دیں تو سارا گیم ہمارے ہاتھ۔ آ جائے گا بہت سے لوگوں کی جانیں بچ جائیں گئیں ۔۔۔ فارس نے بھی تیار ہو گیا دونوں دھیرے دھیرے قدم بڑھاتے اس باس تک پہنچ چکے تھے ۔۔۔ فارس نے اسے پیچھے سے جکڑا تھا،سور اصفے نے اسکی شہ رگ پر کٹر رکھ دیا تھا

” اگر ذرا بھی ہلنے کی کوشش کی تو جان سے جاؤں گئے ” اصفر کی بات پر وہ کچھ نہیں بولا تھا

ساتھ ہی اندھا دھن فائرنگ کی آوازیں سنائی دینے لگیں ۔۔۔ ہال کی لائٹس رومان نے کھول دیں تھیں اب پولیس اندر داخل ہو چکی تھی ۔۔۔۔ آنا فانا سب گرفتار ہو چکے تھے ۔۔۔۔ نیناں ہادیہ ناہید حیا اور مائرہ کو جب اپنے شوہر وہاں نظر نہیں آئے تو ہال سے کی جانب بھاگیں تھیں۔ ۔۔۔ لیکن باہر کا منظر ہی الگ تھا ۔۔۔۔ پولیس کے ساتھ وہ سب صحیح سلامت کھڑے تھے ان میں سب فارس اور اصفر بھی شامل تھے ۔۔۔ تمام نقاب پوش پکڑے جا چکے تھے بڑے بڑے کمشنرز اور آفیسرز انہیں داد دے رہے تھے ۔۔۔

چند نوجوانوں نے ہمت دیکھاتے ہوئے ناصرف لوگوں کو مرنے سے بچایا تھا بلکہ ایک خطر ناک گینگ کو بھی پکڑوا چکے تھے ۔۔۔۔

میڈیا پر جب یہ خبریں چلیں تو بختار صاحب اور زمان صاحب بھی دیکھ کر حیران ہوئے تھے دوسری جانب خبریں دیکھتے ہوئے اقبال صاحب بھی اپنے سپور کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے تھے ۔۔۔

وصی بھی نوفل کو دیکھ کر حیران تھا ۔۔۔ وہاج نے بھی اپنا چشمہ صاف کر کے ارتضی کو غور سے دیکھا تھا سلیمان صاحب بھی داماد کو دیکھ کر حیران ہوئے تھے ۔۔۔

سب لوگوں نے خوشی کے شادیانے بجائے تھے فجر کی اذانیں ہو چکیں تھیں سب نے پہلے نماز فجر ادا کی تھی اس کے بعد نماز عید سب ہی ایک دوسرے سے سارے گلے شکوے دور کیے گلے مل رہے تھے ۔۔۔ شام کو سب مرد اکھٹے بیٹھے ہنستے ہوئے اپنے اپنے کارنامے بتا رہے تھے ۔۔ اور دوسرے ٹیبل پر ان سب کی بیگمات اپنی باتوں میں مصروف تھیں ۔۔۔

” چلو اب بہت رو لیا ہم نے اب ہم بس مزے مزے کی باتیں کریں گئے اب سب یہ بتائیں کہ سب کے شوہروں نے انہیں سب سے پہلے کیسے پرپوز کیا تھا ” یہ سوال نیناں نے کیا تھا ۔۔۔

” سب سے پہلے تم ہی اس کا جواب دو ۔۔۔ تمہارے ویلنگ مین نے ت۔ہیں کیسے پرپوز کیا تھا ” ہادیہ نے الٹا اسی سے سوال کیا تھا نیناں مسکرانے لگی

” انہوں نے نہیں کیا تھا میں نے کیا تھا ۔۔۔ محبت کا اظہار بھی اور پرپوز بھی ” یہ سن کر سب نے ایک آواز ہو کر اووووہ کہا تھا

” واہ بڑی جرت دیکھائی ہے پھر تو تم نے ” حیا نے خوش ہوتے ہوئے کہا

“اب آپ لوگ بتاؤں ” نیناں کے برابر میں ہادیہ بیٹھی تھی نینان اسکی طرف سے اشارہ کیا

” ہماری محبت کی کہانی تو دشمنی سے شروع ہوئی تھی ۔۔۔ لڑتے لڑتے کب عزیر کو مجھ سے۔ محبت ہوگی میں نہیں جانتی تھی ۔۔۔ پرپوز انہوں نے ہی کیا لیکن میں نے صاف انکار کر دیا تھا ۔۔۔پھر ہادیہ کی مختصر سی کہانی سن کر سب ہی مسکرانے لگیں تھیں ۔۔۔

” زبردست ۔۔۔ کیا ناکوں چنے چبوائے ہیں تم نے اپنے میاں کو مزا ہی آ گیا سن کر ” ہادیہ کے برابر میں حیا بیٹھی تھی اسی نے یہ کہا تھا

“چلو اب تمہاری باری ” ہادیہ نے حیا سے کہا

” میری لواسٹوری کچھ سیڈ سی ہے ۔۔۔ کیا کہوں کہتے ہوئے ایک درد سا جاگ اٹھتا ہے دل میں ۔۔ اگر ارتضی میری زندگی میں نا آتے تو یہ درد کبھی بھی کم نہیں ہوتا ۔۔۔ پھر حیا نے اپنی کہانی مختصر سی سنائی جیسے سن کر سب کی آنکھیں ہی بھیگ گئیں تھیں

” بہت کم عمری میں نے تم نے بہت بڑی اذیت کو سہا ہے اور پروفیسر صاحب کے جذبے اور ظرف کو سلام کرنے کو جی چاہتا ہے ” یہ مائرہ نے کہا تھا جو حیا کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔۔ چلو مائرہ اب تمہاری باری ہے ۔۔۔ “

” میری کہانی بھی سب سے الگ ہے ۔۔ نوفل سے میری دوسری شادی ہے ۔۔۔ اور پہلے وہ میرا دیور تھا ۔۔۔ یہ سن کر سب کے حیرت سے منہ کھلے تھے ۔۔۔ مائرہ نے اپنی داستان آنسوں سے سنائی سب کی آنکھوں سے آنسوں چھلکے تھے ۔۔۔

” ہائے اتنے دکھ تسی ویکھے نے میں تے کج ہور سی سمجھی سی ” ناہید جو مائرہ کے برابر میں بیٹھی تھی وہ کہنے لگی

” انسان جیسا نظر آتا ہے ویسا ہوتا نہیں ہے ۔۔۔ ” مائرہ نے ٹھنڈی آہ بھری پھر ناہید سے دوبارہ مخاطب ہوئی

” تم بتاؤں تمہاری لو اسٹوری کہاں سے شروع ہوئی”

” تھپڑ سے ” ناہید نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا

” تھپڑ سے ” سب نے بیک وقت پوچھا

” آہو جی ہمزہ تو یہی کیتا ہے کہ میراتھپڑ کھا کے اسے ۔مجھ سے محبت ہو گئ تھیں ۔۔” اس کے بعد ناہید نے بھی آدھی پنجابی اور آدھی اردو میں اپنی کہانی سنائی تھی ۔۔۔ ناہید کے برابر میں حمنہ بیٹھی تھی ۔۔۔

” چلو بھئ ڈاکٹرانی صاحبہ ہن تسی شروع ہو جاؤں ” نائید نے حمنہ سے کہا

” میری محبت تو عام سی ہے جو ذیادہ تر لڑکیاں کرتی ہیں اپنی شادی کے بعد ۔۔۔ شادی سے پہلے کی محبت پر میرا کچھ خاص یقین ہی نہیں تھا ۔۔۔ پھر حمنہ نے اپنی کہانی سنائی ۔۔۔

” دیکھنے میں کتنی نازک سی ہو لیکن تمہارا ایمان اور یقین کس قدر مضبوط ہے میں بھی اپنی زینی کو ڈاکٹر بناؤں گی اور بلکل حمنہ ڈاکٹر جیسا ” ہادیہ حمنہ سے بیت امپریس ہوئی تھی

حمنہ کے بعد لائبہ کی باری تھی

” میری کہانی بہت مختصر سی ہے ۔۔۔ لیکن میں نے اپنی زندگی سے بس یہ سیکھا ہے کہ اس کے ساتھ زندگی گزارنے کی ہامی کبھی نا بھرو جو دل کے ہاتھوں بے بس ہو ۔۔۔۔ ” لائبہ کی بات سے دل حمنہ کا کٹ کے رہ گیا تھا باقی کوئی سمجھا تھا یا نہیں لیکن حمنہ لائبہ کی تکلیف کو سمجھتی تھی ۔۔۔

دوسری جانب سب مرد اپنے کام کاروبار اور ملک کے حالات کو ہی ڈسکس کرتے رہے

******…….

ٹی وی چل رہا تھا ۔۔۔ مری میں ہونے وہ ہنگامہ آرائی کی خبریں ہر چینل کی زینت بنی ہوئیں تھی ۔۔۔ عفان نے والیم تھوڑا اور بڑھایا تا کہ ناراض ناراض سی ماہم کے کانوں میں بھی آواز پہنچ جائے ۔۔۔ جس نے اس بار مری جانے کی فرمائش کی تھی ۔۔۔لیکن عفان اپنے پروجیکٹ کی وجہ سے جا نہیں پایاتھا اس لئے عید کے اس پر مسرت موقعے پر ببی بیوی کو مںا منا کر تھک گیا تھایکن وہ کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھی

لیکن جسہوٹل کے پیکج کے دھوم کراچی میں نبی ہوئی تھی اور ماہم بھی اسی پیکج کے لئے عفان سے کہہ رہی تھی واقع بھی اسی ہوٹل میں ہوا تھا اس لئے اٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔۔ اور نیوز دیکھنے لگی ۔۔۔

” دیکھ رہی ہو کیا ہو رہا ہے مری میں ۔۔۔ “

” ہاں تو ہو گیا ہو گا اسبار ۔۔۔۔ لیکن آپ تو مجھے اپنے پرجیکٹ کی وجہ سے نہیں لیکر گئے “

” ماہی اس رش میں مری جانے بھلا مزہ آتا ہے ۔۔۔ دیکھو ہم سریوں میں جائیں گئے آئی پرومس تمہیں سنو فولنگ دیکھاوں گا ” عفان کے کسی وعدے پر اسے اعتبار نہیں تھا

” بہانے مت کریں مجھ سے عفان ۔۔۔ “

” سچی ماہی آئی پرومس ضرور لیکر جاؤں گا ۔۔ اب موڈ تو ٹھیک کرو اپنا عید کا دن بھی کیا کوئی یوں روٹھ کر گزارتا ہے ” ماہم کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیکر وہ اسے بڑی محبت سے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔

” آپ کو میرے روٹھنے کی کیا پروا ہے ” مسلم اس کے ساتھ لگ کر بی

” ایک تمہاری ہی تو پروا ہے ” عفان نے بھی اسے اپنے حصار میں لیا تھا ۔۔۔

*****……

رات کو کھانے کے بعد ہی حمنہ اور لائبہ واپس جانے لگیں ۔۔۔ اگلے روز فارس کی واپسی تھی ۔۔۔۔ کچھ دل فارس کا بھی اصفر کے لئے بدل چکا تھا ۔۔۔ کچھ قسمت بھی صبر دے دیتی ہے ۔۔۔

اس لئے اب دل کا ملال کچھ کم تھا کہ حمنہ اصفر کا ہی نصیب تھی ۔۔۔ اور لائبہ اس کا ۔۔۔ اگلے روز حمنہ اور اصفر ان دونوں کی واپسی سے پہلے سے ملنے آئے تھے ۔۔۔ اس بار فارس آگے بڑھ کر اصفر سے گلے ملا تھا ۔۔۔ لائبہ بھی حمنہ کے گلے لگ کر رونے لگی تھی نا جانے اگلی ملاقات کب ہوتی

” اب کب آؤں گی؟”

” پتہ نہیں آپی ابو کا ڈانسفر دوسرے شہر ہو گیا ہے ۔۔۔ یہاں آنے کے سارے بہانے ختم ہو چکے ہیں لیکن میں آپ کو بہت کرتی ہوں” لائبہ کی بات سن کر فارس نے کہا

” بہانوں جی ضرورت نہیں ہے ہم یہاں آتے رہیں گئے ۔۔۔۔ تم جب چاہوں حمنہ سے مل سکتی ہو ۔۔۔ ” فارس کا جواب سن کر ایک خوشی کی چمک لائبہ کے چہرے پر آئی تھی ۔۔۔ وہ بھی اسے مسکرا کر دیکھ رہا ۔۔ پھر اصفر سے کہنے لگا

” مجھے خوشی ہو گی اگر آپ دونوں بچوں کے ساتھ میرے گاؤں آئیں میں نے وہاں چھوٹا کلینک کھول کر ابتدا کی ہے کوشش یہ ہے ایک ہاسپٹل کھولوں ۔۔۔ “

“کیوں نہیں ہم ضرور آئیں گئے اور تم ضرور ایک دن ہاسپٹل بنا لوں گئے ۔۔۔ ” اصفر نے جواب دیا واپس جانے سے پہلے وہ حمنہ کے س ے کھڑا ہو گیا

” کچھ رشتوں کی خوبصورتی بس دوستی کے رشتے تک ہی ہوتی ہے ۔۔۔ ہمارا رشتہ کچھ ایسا ہی تھا ۔۔۔ اس لئے میں چاہتا وہ اب قائم رہے ۔۔۔ میں اپنے دل بلکل آئنے کی طرح صاف کر چکا ہوں ۔۔۔ “

” میں دل میں تمہارا جومقام اور عزت کل تھی فارس وہ بھی اپنی جگہ قائم ہے ۔۔۔ اچھا ہے کہ تم بھی اس بات کو سمجھ گئے ۔۔۔ ” حمنہ نے بھی مسکرا کر اسے جواب دیا تھا ۔۔۔ وہ دونوں واپس جا چکے تھے ۔۔۔۔

حمنہ بھی بچوں کے ساتھ اپنے گھر واپس آ گئ ۔۔۔

دونوں بچوں کو سلا کر ایک کافی کے کپ کے ساتھ اصفر سے وہ ڈھیروں باتیں کرتی تھی ۔۔۔ اور وہ بھی گزرے ہوئے حسین لمحوں کو یاد کرتا تھا ۔۔۔۔

*****……

” عید عید کا کتنا شور ہوتا ہے اور دیکھوں عید ختم بھی ہو گئ ” سب ہی اب واپسی کی تیاری میں تھے جب آخری ملاقات کے لئے جمع ہوئے تھے تو شاہزیب نے عزیر سے کہا

” یہ تو ہے ۔۔۔ لیکن ہم پھر بھی ملتے رہیں گئے “

” مگر کیسے ” نوفل نے اداس ہوتے ہوئے کہا

” کیا مطلب کیسے بہت سی عیدیں باقی ہیں ” ارتضی نے جواب دیا

” لیکن مجھے مشکل لگتا ہے ” ہمزہ نے کہا

” وہ کیوں ” ارتضی نے پوچھا

” ریڈرز کا رسپونس مزیدار نہیں آیا ۔۔ مشکل ہی ہے کہ آپ رائٹر صاحبہ ہماری پھر کوئی ملاقات کروائے “نوفل اب بھی اداس لہجے سے کہہ رہا تھا

” یہ تو ہے ۔۔ لیکن کوئی بات نہیں ہم آپس میں رابطہ جوڑے رکھیں گئے ۔۔۔۔ باقی رائٹر جانے اور انکے چہرے ریڈرز ” شاہزیب نے جواب دیا پھر سب ہی اپنی اپنی منزل مقصود کے لئے روانہ ہو گئے