Mein Tum Or Eid by Umme Hani NovelR50411 Last updated: 8 December 2025
Rate this Novel
Mein Tum Or Eid by Umme Hani
گرمی کے موسم میں بھی کی شامیں ٹھنڈی ہی رہتی تھیں رات کو حمنہ نے سوئے ہوئے نور اور ایمان کو کنفرڈر اوڑھایا اور انکے کمرے سے باہر آ گئ کافی کا ایک کپ بنا کر وہ جب اپنے کمرے میں آئی تو اصفر کمرے میں موجود نہیں تھا اسی کمرے سے منسلک گیلری میں ڈبل سیٹر کرولنگ صوفے پر شال اوڑھے بیٹھا تھا اور بے تابی سے حمنہ کا منتظر تھا ۔۔۔۔ وہ کافی لیکر گیلری میں آ گئ آجکل دوپہر کچھ گرم ہوتی تھی اس لئے رات کی ہلکی سی خنکی والی ہوا بھی اچھی لگ رہی تھی حمنہ اصفر کے بابر میں بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔ اس باہر اپنی شال حمنہ کو اوڑھانے میں اصفر نے پہل کی تھی ۔۔۔۔ اپنا ہاتھ اس کے کندھے کے گرد پھیلا کر خود سے قریب کیا تھا ۔۔۔۔ حمنہ کچھ جھجک سی رہی تھی ۔۔۔۔۔ چند دن پہلے ہی اصفر کی بینڈیج اتریں تھیں ۔۔۔ دو ماہ حمنہ نے اصفر کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔۔۔۔۔۔ اب وہ پہلے سے کافی بہتر ہو چکا تھا ۔۔۔ اس دو ماہ میں وہ جس قدر زخمی تھا حمنہ کے قریب نہیں س پایا تھا ۔۔۔ اور جب سے وہ کچھ بہتر ہوا تھا حمنہ اس سے کچھ کترا رہی تھی یا شاید چھ سال کی جدائی اور انکے بیچ جو کچھ بیت چکا تھا وہ اصفر سے محبت کرنے کے باوجود جھجک رہی تھی ۔۔۔ اس بار پہل اصفر نے کی تھی ۔۔۔۔
" کافی " حمنہ نے کافی کا کپ اسکی طرف بڑھایا پورا کپ دیکھ کر ایک مدھم سی مسکان اصفر کے چہرے پر سجی تھی ۔۔۔۔
"پہلے تم پیو " اصفر نے دھیمے لہجے سے حمنہ سے کہا
" پہلے آپ پی لیں ۔۔۔ میں ہمیشہ بعد میں ہی پیتی آئی ہوں "
" آج کے۔ بعد میں بعد میں پیا کروں گا ۔۔۔۔ " کپ حمنہ کے ہاتھ سے لیکر اصفر نے حمنہ کے لبوں پر لگایا تھا ۔۔۔ بڑی حیرت سے وہ اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
" حمنہ ایسے مت دیکھوں ۔۔۔ ان چھ سالوں کی جدائی نے ۔۔۔ مجھے یہ اچھی طرح سے بتا دیا ہے بیوی کیا ہوتی ہے ۔۔۔ اور اس کے بغیر زندگی کیسے بے رنگ ہو جاتی ہے ۔۔۔ میں نے تمہاری ویسے قدر نہیں کی جیسی تم ڈیزو کرتی تھی ۔۔۔۔ اس لئے اب میں چاہتا ہوں کہ تمہیں وہ مقام دوں جس کی تم حق دار ہو ۔۔۔۔ " اصفر کے اتنے سے التفات پر ٹپ ٹپ حمنہ کے آنسوں بہہ کر کافی میں گرے تھے ۔۔۔ وہ اصفر کے سینے سے لگ کر رونے لگی تھی
