341.6K
4

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tum Or Eid Episode 3

Tum Mein Or Eid by Umme Hani

عزیر اور شاہزیب ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے بڑی ترنگ سے ہوٹل کی رسپشن پر پہنچے تھے ۔۔۔

” روم نمبر 17″۔ دونوں کے منہ سے بیک وقت نکلا تھا ۔۔۔۔ پھر ایک دوسرے کو دیکھ کر نا فہم سے ہوئے تھے کیونکہ دونوں نے ایک کی روم کی چابی مانگی تھی ۔۔۔ رسپشنر نے اپنا پہلے سے کھلا ہوا رجسٹر چیک کر کے بولا

” یہ کمرہ تو کسی عزیر شاہزیب کے نام ہے ۔۔۔ آپ میں عزیر شاہزیب کون ہے ” رسپشن پر کھڑے لڑکے نے استفہامیہ انداز سے پوچھا

” میں عزیر ہوں ” عزیر آگے بڑھ کر بولا

” اور میں شاہزیب ” شاہزیب نے بھی ایک قدم اگلے بڑھایا ۔۔۔

” اوہ شاید کچھ غلطی ہو گئ ہے آپ میں سے ڈبل روم کس نے بک کروایا تھا ” رسپشنر نے سر کھجاتے ہوئے پوچھا تو تو دونوں نے بیک وقت۔ کہا

” میں نے ” پھر ایک نظر ایک دوسرے پر ڈالی رسپشنر کچھ پریشان ساہوا تھا پھر ہمزہ بھی ناہید کے ساتھ پہنچ گیا اس کا کمرہ سنگل تھااور پہلے سے بک تھا اس کی چابی اسے مل گئ تھی ۔۔۔ رسپشنر چند منٹ تک رجسٹر کے صفحے کھنگالتا رہا تھا بولا کہ پورا ہوٹل بھر چکا ہے بس یہی ایک کمرہ بچا ہے اس لئے میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ لوگ اسی ایک کمرے میں ایڈجسٹ کر لیں روم تو ڈبل ہے بس واش روم ایک ہے ۔۔۔۔ رسپشنر کی بات سن کر سب سے پہلے شاہزیب نے انکار کیا تھا ۔”

٫ ایم سوری میں بلکل بھی ایڈجسٹ نہیں کر سکتا ہوں میں نے ڈبل روم بک کروایا تھا اس لئے مجھے آپ میرے روم کی چابی دیں کیونکہ میں نے یہ بکنگ کراچی سے کروائی تھی وہ بھی پورے پندرہ دن پہلے آپ کیسے میرے روم کو کسی اور دے سکتے ہیں ” شاہزیب کی بات سن کر عزیر بھی رسپشنر کو کہنے لگا کہ وہ بھی کسی کے ساتھ روم شیر ہر گز نہیں کرنا چاہے گا اس نے بھی کمرے کی بکنگ پندرہ دن پہلے ہی کروائی ہے ۔۔۔ اس لئے جس نے بکنگ پہلے کروائی ہے وہی اول کمرے کا حقدار ہے ۔۔۔۔ سب سے پہلے عزیر کا نام لکھا ہے اور دوسرا نام شاہزیب کاتو اس کاصاف مطلب تو یہ ہے کہ پہلے بکنگ عزیر نے کروائی تھی اس لئے کمرے کا حقدار وہ ہے

شاہزیب کو یہ پہلے لکھے جانے والے نام سے کوئی غرض نہیں تھا اس لئے پہلے ہتھے سے وہ اکھڑا تھا

” یہ نام وام سے کچھ نہیں ہوتا میرے روم کی چابی مجھے دیں “

” نام ہی سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ پہلے بکنگ میں نے کروائی ہے ۔۔۔ تم بحث کیوں کر رہے ہو ۔۔۔ کمرہ پہلے میرے نام پر بک ہوا ہے ” عزیر کو شاہزیب کی بات غلط لگ رہی تھی ۔۔۔

” لیکن وقت توایک ہی ہے ہوسکتا ہے پہلے میرے نام پر بک ہو تمہارا نام ذرا چھوٹا سا ہے تو وہ میرے نام سے پہلے لکھ دیا ہو ۔۔۔ یہ کوئی وجہ نہیں ۔۔۔ اور میں بحث کے موڈ میں بھی نہیں ہوں ” شاہزیب نے اپنی بات کو آگے رکھا

“تو کیا میں بحث کر رہا ہوں ۔۔۔۔ ” عزیر نے تعجب سے شاہزیب کے بدلتے ہوئے رنگ دیکھے تھے

” دیکھوں عزیر اپنی دوستی یاری اپنی جگہ لیکن میں کمرہ کسی کے ساتھ شیر نہیں کر سکتا ۔۔۔ ایم رئیلی سوری ” شاہزیب کی صاف گوئی پر وہ بولا

” یہ تو عام سی بات ہے میں بھی اپنا کمرہ کسی دوسرے کے ساتھ کبھی شیر نہیں کرنا چاہو گا ” عزیر کی بات سن کر شاہزیب مسکرانے لگا

” تھنکس ” عزیر سے یہ کہہ شاہزیب نے پھر سے روم کی چابی مانگی لیکن پیچھے سے عزیر کی بات سن کر اسےاچھی خاصی تپ سی چڑ گئ تھی

” لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہر گز نہیں ہے کہ میں اپنا کمرہ تمہیں دے دوں ” عزیر کی بات وہ اب غصے سے پلٹ کر اسے دیکھنے لگا اور بولا

” تمہارا کمرہ ؟تمہارے باپ کا ہوٹل ہے جو اتنا بھرم دیکھا رہے ہو وہ بھی شاہو کو ۔” عزیر کا یہ سن کر دماغ گھوما تھا

” دیکھوں باپ تک مت پہچوں ورنہ منہ توڑ دونگا تمہارا ” عزیر بھی غصے سے بھبک کر بولا اگلے پل شاہزیب نے عزیر کا گریبان پکڑ چکا تھا ۔۔۔۔ عزیر بھی اپنے سے باہر ہوا تھا اس نے اگلے پل شاہزیب کا گریبان پکڑا تھا

نیناں کا تو یہ دیکھ کر اوپر سانس اوپر ہی رہ گیا تھا فورا شاہزیب کے پاس آئی تھی

” شاہزیب پلیز چھوڑیں انہیں کیا کر رہے ہیں آپ ” شاہزیب نیناں کی بات کو نظر انداز کر کے عزیر کی آنکھوں دیکھتے ہوئے بولا

” تم میرا منہ توڑو گئے تو کیا میں نے ہاتھ میں چوڑیاں پہن رکھی ہیں ناظمہ باد کا شیر ہوں میں ۔۔۔ زمین میں گاڑ کے رکھ دونگا تمہیں ” شاہزیب بلند لہجے سے بولا ہمزہ اور ہادیہ عزیر کے پاس آگئیں ناہید ہونق بنی کھڑی تھی

” عزیر بھائی آپ میرے کمرے میں آ جائیں ۔ پھر دیکھتے ہیں کہ کیا ہو سکتا ہے۔۔۔ ” ہمزہ نے صلح کروانی چاہی

” نہیں ہمزہ میں بھی تو دیکھوں کہ کتنا دم ہے اس میں ۔۔۔۔ یا تو یہ مجھے خود اپنا کمرہ دے گا یا پھر

مجھے زمین میں گاڑے گا ۔۔۔ ” یہ کہہ کر عزیر نے شاہزیب کا ہاتھ پکڑ لیا تھا جس سے شاہزیب نے عزیر کا گریبان پکڑا تھا ۔۔۔۔ اور ہاتھ دبانا شروع کیا

لیکن بار عزیر کے مقابل کوئی کچا کھلاڑی نہیں تھا جو بلبلا اٹھتا شاہزیب تھا

شاہزیب نے اپنے دوسرے ہاتھ سے عزیر کا گلا دبانا شروع کیا تھا وہاں موجود لوگوں میں سے بھی کسی نے چھڑوانے کی کوشش نہیں کی چپ چاپ خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے ۔۔۔۔ نوفل مائرہ کی باتوں سے دل برداشتہ ہو کر کمرے سے نکل کر نیچے آیا تھا اور سامنے عزیر اور شاہزیب کو ہاتاپائی ہوتا دیکھ کر ان کے پاس پہنچا تھا ہمزہ اور ہادیہ عزیر کر کھنچنے کی کوشش کر ر ہے تھے اور نیناں بیچاری اکیلی شاہزیب کو کھنچ رہی تھی ۔۔۔ ناہید کے تو ہاتھ پاؤں ویسے ہی اس قسم کی لڑائی دیکھ کر پھول جاتے تھے ۔۔ نوفل نے شاہزیب کے ہاتھ کو پوری قوت لگا کر عزیر کے گلے کو آذاد کروایا تھا ۔۔۔

” پاگل ہو گئے ہو تم لوگ جانوروں کی طرح سے کیوں کر رہے ہو ۔۔۔ ” دونوں کو ایک دوسرے سے پیچھے دھکیل کر نوفل نے چلا کر کہا

دونوں پیچھے تو ہٹ گئے تھے لیکن ایک دوسرےکو دیکھ غصے سے ہی رہے تھے ۔۔۔ ہمزہ نے ساری سچویشن نوفل کو بتائی تھی ۔۔۔

” مجھے نہیں پتہ تھا کہ آپ لوگ ایک کمرے پر یوں لڑنے لگوں گئے

یار اس وقت کسی بھی ہوٹل میں کمرہ نہیں ملے گا ۔۔۔ اس لئے آپ میں سے جو چاہے وہ میرے کمرے

ساتھ کمرہ شیر کر سکتا لیکن لڑائی تو مسلے کا حل نہیں ہے ” نوفل کی بات پر عزیر اور شاہزیب تو کچھ نہیں بولے لیکن ہمزہ ضرور بول پڑا

” میں تو خود کہہ رہا ہوں انہیں کہ جب یہاں اس قدر رش ہے کوئی بھی حل نہیں ہے تو مصلحت کے راستہ اختیار کریں بجائے لڑنے کے “

” میرے خیال سے ایسے موقع پر جذبات سے ذیادہ عقل سے کام لینا چاہیے اور آپ عزیر دیکھنے میں اچھے خاصے دیندار لگتے ہیں کچھ تو مزاج میں نرمی ہونی چاہیے

میرے ساتھ بھی وہ بچی بھی ہے جس کی بس گم ہو چکی تھی ۔۔۔ اور وہ ہمارے ساتھ ہی اسلام آباد تک جائے گی میں بھی اسے اپنے کمرے میں ہی ایڈجسٹ کر رہا ہوں ۔۔۔ آپ میں سے جو چاہے وہ میرے ساتھ کمرہ شیر کر سکتا ہے مل کر ہی ہم ایک دوسرے کا احساس کر کے مشکل وقت گزار سکتے ہیں ۔۔۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا اگر کوئی میرے ساتھ شیر کر بھی لے تو ” نوفل نے لڑائی ختم کرواتے ہوئے کہا “

” ٹھیک مجھے کمرہ شیر کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔ ” سب سے پہلی ہامی عزیر نے بھری تھی جس کا گلے پر ناخنوں کی خرونچ لگی ہوئی تھیں جس سے ہلکا ہلکا خون بھی رس رہا تھا شاہزیب بھی اپنا ہاتھ دباتے ہوئے نظریں چرا گیا تھا شاید بات اتنی بڑی نہیں تھی جتنی وہ لوگ بڑھا چکے تھے مزاج کے دونوں ہی ایک جیسے تھے ۔۔۔ غصہ دونوں کی ناک کی نوک پر دھرا رہتا تھا ۔۔۔

” میں بھی رہ لوں گا ۔۔۔۔ ” شاہزیب نے۔ بھی دھیرے سے کہا

” ایسا کرتے ہیں کہ میرے پاس سنگل روم ہے وہ آپ لوگ رکھ لیں ہم اور عزیر بھائی ایک ہی فیملی سے ہیں ہم آپس میں ایڈجسٹ کر لیں گئے ۔۔۔ ” ہمزہ کی بات سب کو ہی معقول لگی تھی اس لئے ہمزہ نے اپنی کمرے کی چابی شاہزیب کو پکڑا دی ۔۔۔۔

عین اسی وقت حیا اور ارتضی اپنے بچوں کے ساتھ ہوٹل میں داخل ہوئے تھے ۔۔۔ حیا کی خوشی جوش قابل دید تھا ۔۔۔۔

کمرے کی چابی ارتضی سے پہلے حیا نے پکڑی تھی ۔۔۔۔ رش چھٹ چکا تھا سب ہی اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے ۔۔۔ ہادیہ ساتھ ساتھ آنسوں بہا رہی تھی ساتھ ساتھ عزیر کے کے گلے پر رستے ہوئے خون کو صاف کر رہی تھی

” کیا ضرورت یہ سب کرنے کی ۔۔۔۔ اگر وہ گلا اور زور سے دبا دیتا پھر “

” جتنی زور سے میں نے اس کا ہاتھ دبا رکھا تھا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ وہ اس سے ذیادہ طاقت کا مظاہرہ دیکھا پاتا ۔۔۔ آہستہ آہستہ اسکی گرفت کم ہو رہی تھی لیکن پہلی کسی نے اتنی ہمت دیکھائی ہے ۔۔۔ ” عزیر کی بات سن کر ناہید بول پڑی

۔” نا مینو اے دس لڑے بغیر تینو روٹی ہضم نئں ہوندی ۔۔۔ “

” تم کچھ دیر کے لئے چپ ہو سکتی ہو ۔۔۔ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا بس بات کچھ زیادہ ہی بڑھ گئ ورنہ میں یہ سب چھوڑ چکا ہوں ” عزیر نے کچھ پشمان سا لگ رہا تھا اس کا واقع ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔۔۔

دوسری طرف نیناں کے نیناں آنسوں بہا رہے تھے شاہزیب کا ہاتھ ہلنے سے بھی انکاری تھا اس وقت نیلا ہو چکا تھا ۔۔۔ نیناں بینڈج باندھتے ہوئے یوں تو رہی تھی جیسے شازہب کے بجائے چوٹ نیناں کے ہاتھ پر لگی ہو ۔۔۔

” میری مینا اتنا بھی درد نہیں ہو رہا جتنے تم آنسوں بہارہی ہو ۔۔۔ کم آن یار میں بلکل تھیک ہوں “

” آپ کو ضرورت کیا تھی یہ سب کرنے کی شاہو “

” پتہ نہیں کیوں میں خوہخواہ اس سے الجھ گیا ۔۔۔ حالانکہ میرا ایسا ارادہ نہیں تھا سب کچھ اچانک ہی ہوا ہے ۔۔۔ “

ہادی اور سعدی دونوں چپ چاپ صوفے پر بیٹھے اپنے باپ کو ماں کے آنسوں صاف کرتے دیکھ رہے تھے اور ماں کے چہرے پر پر باپ کی تکلیف کے آثار کو ۔۔۔ شاہزیب کے لاکھ منانے پر بھی نیناں کے آنسوں رکنے سے انکاری تھے ۔۔

” بس بھی کرو نیناں اب بچوں کے سامنے تو ۔میں تمہیں اپنے طریقے سے چپ بھی نہیں کروا سکتا ورنہ تمہارے آنسوں اپنی پلکوں سے سے چن لیتا ۔۔۔۔ اسی لئے کہہ رہا تھا کہ ان دونوں کو دادا دادی کے پاس رہنے دو ساری لڑائی انہیں وجہ سے ہوئی ہے ” نیناں پہلے تو شاہزیب کی بات پر شرم سے گلابی ہونے لگی تھی لیکن ابھی شرمانا بھی ٹھیک سے پورا نہیں ہوا تھاشایزیب کے اگلے جمعلے پر متعجب سی ہو کر اسے دیکھنے لگی

” بچوں کی وجہ سے لڑائی کیسے ہوئی تھی ۔۔۔ انہوں نے تو کچھ بھی نہیں کہا معصوموں کی طرح بیچارے ایک کونے میں سامان کے پاس کھڑے تھے ” نیناں کی حیرت بھری نظروں میں وہ اپنی شوخ بھری نظریں ڈال کر سر گوشی میں بولا

“ڈبل روم میں نے انہیں کے لئے بک کروایا تھا ۔۔۔ تا کہ ہمہیں ڈسٹرب نا کریں ” نیناں کے چہرے پر بہتے آنسوں رکے تھے پہلی نظر بچوں پر پڑی تھی کہ کہیں باپ کی گل فشانیاں نا سن چکے ہوں ۔۔۔

” شاہزیب بہت بے شرم ہیں آپ ” یہ کر اٹھ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔ رات کو دونوں بچے سو چکے تھے

نیناں بیڈ پر دونوں بچوں کے ساتھ سو رہی تھی اور شاہزیب صوفے پر ۔۔۔

رات کو اپنی پیشانی پر کسی کے ہونٹوں کا لمس محسوس کر کے نیناں کی آنکھ کھلی تھی ۔۔۔ اندھیرے میں بس ایک ہیولا سا ہی نظر آیا تھا ۔۔۔ پہلا خیال کسی چور کا نیناں کو آیا تھا ہلکی سی چیخ منہ سے بر آمد ہوئی تھی اور اگلے ہی لمحے پٹی والا باتھ منہ پر رکھا گیا تھا

” میں ہوں شاہزیب ۔۔۔ ” اس اندھیرے میں بھی نیناں پوری آنکھیں پھیلائے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ شاہزیب۔ نے اپنا ہاتھ ہٹایا

” شاہزیب یہ طریقہ ہے جگانے کا “

” آہستہ بولو تمہارے یہ دونوں چوکیدار اگر اٹھ گئے تو میرا سارا ٹرپ برباد ہو جائے گا ۔۔۔ چلو فٹافٹ سے جیکٹ پہنو باہر چلتے ہیں ” شاہزیب نے دھیرے سے کہا تا کہ ہادی اور سعدی کی آنکھ نا کھل جائے ۔۔۔

” لیکن اس وقت رات کے دو بجے ” نیناں نے اٹھ کر بیٹھ چکی تھی موبائل پر وقت دیکھ کر پوچھنے لگی “

۔” ہاں تو ۔۔۔۔ باہر جا کر دیکھوں ہم جیسے دیوانے کیسے جاگ کر ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں ” نیناں نے پہلے تو شاہزیب کو دیکھا جس نظروں میں شوخی اور بے تابی تھی پھر اٹھ کر گرم شال لینے لگی ۔۔۔۔

دوسری طرف حیا کو چین نہیں تھا ارتضی سمیت سب بچے سو چکے تھے پہلے تووہ گلیری میں کھڑی رہی پھر کمرے میں سگی ارتضی کو سوتا دیکھ کر شرارت سوجی تھی

اس لئے اس کے پاس بیٹھ کر اپنے ڈوپٹے کے کنارے کو انگلیوں سے مروڑ کر باریک سا کر کے اس نے ارتضی کے کان میں ڈال کر

ہلانا شروع کیا تھاوہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا تھا ۔۔ اور کان کھجانے لگا ارتضی کو یوں لگا جیسے کان میں کوئی کیڑا چل کر اندر گیا ہو ۔۔۔ لیکن یک دم حیا کو پاس دیکھ کر وہ بری طرح چونکا تھا ۔۔۔

” تم ؟تم کیا اس وقت بھوت پریت کی طرح یہاں بیٹھی مجھے ڈرانے کی کوشش کر رہی ہو ” یہ کہہ کر ارتضی دوبارہ سے کام کھجانے لگا

” پتہ نہیں کون میرے کان میں اس وقت کیا گھس گیا ہے “

” کچھ بھی نہیں ہے ۔۔ وہ میں تھی ۔۔ حیا نے مسکرا کر اعتراف کیا ” ارتضی نے زریک نظروں سے اسے دیکھا تھا

” حیا ٹھیک ہے تم مجھ سے چھوٹی لیکن اتنی بھی نہیں کہ میرے کان گھس سکو ” ارتضی کئ بات وہ ہسنتے ہوئے اپنی کارستانی بتانے لگی نا چاہتے ہوئے بھی وہ ارتضی کو مسکرانے پر مجبور کر دیتی تھی ۔۔اسکی بے رنگ زندگی میں حیا کے رنگ ہی تھے جو اسکی زندگی کو خوبصورت بناتے تھے ۔۔۔ نا جانے کیوں آج اس پر بے ساختہ پیار آیا تھا حیا کو اپنے ساتھ لگا کر بینچ کر بولا

” آئی لو یو سو مچ حیا ۔۔۔ ” اس طرح کی بے قراری پر حیا کی کچھ پل تو بولتی بند ہوئی تھی ارتضی نہایت ہی ٹھنڈے مزاج کا شخص تھا ایسا جذباتی اظہار بس ایک بار ہی حیا ہر جتایا،تھس وہ بھی تانیہ سمجھ کر ۔۔۔ لیکن آج جب حیا سمجھ کر جتایا تھا تو حیا کو لگاسچ وہ جیت چکی ہے

” پروفیسر صاحب آپ کو بھی پیار میں ایسی بے قراری دیکھانی آتی ہے ؟ یقین کرنا مشکل ہے میرے لئے ” حیا کی بات سن وہ پیچھے ہٹا تھا ۔۔

” تم نے سیکھا دی ہے ۔۔۔ اتنے رنگ بھر دیے ہیں میری زندگی کے جی چاہتا ہے پھر سے لڑکپن جیسا ہو جاؤں ۔۔۔۔ “

” چلیں پھر نیک کام میں دیر کیسی اٹھیں اور میرے ساتھ باہر چلیں ۔۔۔۔ آج ویسے جیتے ہیں جیسے دل کی خواہش ہے ” حیا نے ارتضی کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھانا چاہا

” حیااس وقت “

” آئے نا ارتضی بہت مزا آئے گا ” حیا کے کہنے پر اسے اٹھنا پڑا ۔۔۔۔ کمرہ لوک کر کے وہ باہر نکل گئے تھے ۔۔۔

*******……

عزیراور ہادیہ باہر کمرے میں لیٹ گئے تھے اور ناہید اور ہمزہ اندر کمرے میں ۔۔۔

عزیر کا بازو سیدھا کر کے ہادیہ اسکے بازو پر سر رکھ کر لیٹ گئ

” کتنے شوق سے ہم نے پلان بنایا تھا اور آپ کے غصے اور لڑائی نے سارا مزہ کرکرا سا کر دیا ہے “

” تو اب بتاؤں کیسے مناؤں تمہیں ” اپنا رخ ہادیہ کی طرف کر کے وہ پوچھنے لگا

” جانے بھی دیں عزیر آپ صرف لڑنا ہی جانتے ہیں ” ” اب ایسی بھی بات نہیں ہے چلو اٹھوں تمہیں باہر لیکر جاتا ہوں ۔۔۔ اس ٹھنڈ میں آئسکریم کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے

رات کو باہر جانے کا پلان عزیر نے بنایا تھا

” اور زینی؟” ہادیہ نے سوئی ہوئی زینب کی طرف اشارہ کر کے پوچھا

” ہمزہ اور ناہید ہیں نا سنبھال لیں اٹھو نا مسز “

” عزیر وہ بھی یہاں انجوائے ہی کرنے آئیں ہیں “

” ناہید نیند کی بہت پکی ہے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ رات کو گھومنے نکلے ۔۔۔ تم چلو نا یار میں ہمزہ میسج کر دیتا ہوں وہ زینی کو دیکھ لے گا ” عزیر نے اپنے موبائل سے ہمزہ ہو اطلاع دی اور وہ دونوں بھی باہر چلے گئے ۔۔۔

برابر والا کمرہ نوفل اور مائرہ کا تھا فائقہ عائزہ اور منزہ کے ساتھ اندرونی کمرے میں سو گئ تھی کہانی سننے کے بہانے ولی بھی فائقہ کے ساتھ سو گیا تھا ۔۔۔ مائرہ سو چکی تھی نوفل ہی جاگ رہا تھا ۔۔۔۔ اپنے کمرے کی گیلری میں کھڑا تھا ۔۔۔۔ مری بہت کچھ سوچ کر آیا تھا ۔۔۔ لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ ہمسفر جب تک ساتھ دینے پر آمادہ نا ہو لمحے گلاب کبھی نہیں ہوتے ۔۔۔۔ نا جانے کیوں سگریٹ جیب سے نکال کر ہونٹوں میں دبائی اور لیٹر سے سلگا کر پینے لگا ۔۔۔ مائرہ کی آنکھ کھلی برابر میں کی جگہ خالی تھی ۔۔۔۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔۔ ناک میں سگریٹ کی بو سونگھ کر وہ ابھی سمجھ ہی نہیں پائی تھی جب نوفل کے بے ساختہ کھانسنے پر دماغ میں ایک خیال بجلی کی طرح سے کوندا تھاجھڑ سے اٹھ کر گیلری میں پہنچی تھی نوفل سگریٹ پی رہا تھا وہ تیزی سے اسکی طرف بڑھی اور اسکے منہ سے سگریٹ کے زمین پر پھنک دیا

” یہ کیا کر رہے ہیں جانتے ہیں کہ یہ آپ کے لئے نقصان دہ ہے “

” میری پروا مت کیا کریں ۔۔۔ میں ایسے ہی ٹھیک ہوں اور بے فکر رہیں کچھ نہیں ہوتا مجھے ۔۔۔ اگر ہونا ہوتا تو بھائی کی جگہ آج میں قبر میں ہوتا ۔۔۔ “

“نوفل “

” ٹھیک کہہ رہا مائرہ کاش کے بھائی مجھے نا بچاتے ۔۔۔ کم از کم آپ خوش رہتیں میں چاہ کر بھی بھائی کاوعدہ نہیں نبھا سکتا جب تک آپ نا چاہیں ۔۔۔۔چاہ کر بھی آپ کے دل کو اپنی طرف مائل نہیں کر سکتا ہوں ۔۔۔۔ اچھا ہوتا کہ میں ہی مر جاتا ” مائرہ اسے حیرت سے دیکھ رہی نم آنکھوں سے وہ اسے دیکھ کر بے بسی سے کہہ رہا تھا

” میں نے آپ کو آپ کے حق سے روکا نہیں۔ ہے نوفل ” مائرہ نے کمزور سا جواز سامنے رکھا تھا

” کون سا حق دیا ہے آپ نے مجھے ۔۔۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے ۔۔۔ شوہر بس ایک ہی حق رکھتا ہے ۔۔۔۔

جسے آپ فرض سمجھ کر مجبورا نبھائیں ۔۔۔۔ نہیں مائرہ مجھے ایسی زندگی نہیں گزارنی ہے ۔۔۔ جہاں سامنے والا رشتہ ایک مجبوری طور پر نبھا رہا ہو ۔۔۔” مائرہ نے نوفل اسکے حق سے روکا نہیں تھا لیکن کبھی اظہار محبت بھی نہیں کیا ہر ملاقات کے بعد وہ آنسوں بہانے لگتی تھی جیسے سب کچھ کسی مجبوری کے تحت کر رہی ہو نوفل اسی لئے یہاں لایا تھا کہ وہ خوشی سے اس کے زندگی گزارنے کی ابتدا کرے ۔۔۔۔ ہر رشتہ محبت سے سنوارتا ہے اسی سے رشتے میں خوبصورتی بھی آتی ہے یہی بات مائرہ کو سمجھانا چاہ رہا تھا

” ایسا نہیں نوفل ” ۔

“ایسا ہی ہے ۔۔۔۔ آپ کتراتی ہیں مجھ سے ۔۔۔ جیسے لگے بندھے آپ میرا ساتھ نبھانے پر مجبور ہیں ” نوفل کی بات وہ کچھ دیر چپ رہی جو کسی حد تک سچ تھی ۔۔۔ وہ قدم بڑھا چکا تھا بس مائرہ نہیں بڑھا نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔ یہ نہیں تھا اس کے بارے سوچتی نہیں سوچنے لگی تھی لیکن اپنی ہچکچاہٹ کو دور نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔ اسے یقین دلانے کے ہی خاطر آنکھیں بند کر کے وہ اسکے سینے ساتھ لگنے لگی لیکن وہ پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔

” نہیں مائرہ مجھے ایسا ساتھ کی ہر گز ضرورت نہیں ہے جس سے آپ مجھ سے نظریں بھی نا ملا سکیں میرے پاس اب آپ تب آئیے گا جب میرے آنکھوں آنکھیں ڈال کر محبت کا اظہار کر سکیں اور اس بار مجھے سچا اظہار چاہیے ” یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔ لیکن اگلے ہی لمحے ایک پسٹل اس کے سر پر کسی نے تانی تھی۔۔۔

******…….

شاہزیب نیناں ۔۔۔عزیر ۔ہادیہ ارتضی سر حیا جیسے باہر نکلنے لگے کالے لباس میں نقاب پوش مروں کے ہاتھ میں اسلحہ دیکھ سب کے ہی رنگ اڑے تھے ۔۔۔

انکو لڑکوں نے پسٹل نیناں ہادیہ اور حیا پر ثانی تھی ۔۔۔۔ “

“چلو اندر “سخت اور کرخت لہجے سے وہ بولے ۔۔۔ عورتوں کا نشانہ اس لئے بنایا تاکہ نوجوان لڑکے ان پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ بھی نا سکیں اندر جہاں ریسٹورنٹ تھا وہ بہت بڑا ہال نما بنا ہوا تھا وہیں لے جا کر انہیں دھکے سے اندر دھکیلا گیا تھا ۔۔۔۔ وہ بیس بائیں سے ذیادہ نقاب پوش نوجوان تھے ۔۔۔ جو ایک ایک کر کے سب کمروں میں موجود لوگوں کو باہر نکال کر اس ہال میں تیزی منتقل کر رہے تھے ۔۔۔۔ نوفل کے سر پر پسٹل تان کر وہ کمرے میں داخل ہوئی ساری لائٹس ان کر کے بلند آواز میں باہر نکلنے کا کہنے لگے مائرہ گیلری سے باہر نکلی تو نوفل کے سر پر پسٹل دیکھ کر اسکی جان ہی نکل گئ تھی

” چلو بی بی بی جلدی سے دوسرے کمرے کا دروازہ بجاں باہر نکلو سب ورنہ اسے گی سے اڑا دوں گا ۔۔۔ مائرہ بد حواس سی ہو گئ تھی

” نہیں پلیز انہیں کچھ مت کہیے گا ” مائرہ کا رنگ اڑا ہوا تھا جلدی سے اس نے دوسرے کمرے کادروازہ لڑکھڑایا فائقہ بھی دیکھ پر پریشان ہوئی تھی۔۔ سوئے ہوئے ولی کو مائرہ نے گود میں اٹھایا تھا ۔۔۔ آدھے گھنٹے میں ہوٹل میں موجود سب لوگوں کو اس حال میں منتقل کر دیا گیا تھا ہال کے دو ہی دروازے تھے جس کی پہرے داری دو بدمعاش اندر سے کر رہے اور دو باہر سے کھلیوں کے باہر بھی وہ لڑکے چکر کاٹ رہے تھے ۔۔۔۔ ہوٹل کا مینجر اور باقی اسٹاف بھی اسی ہال میں ہال بہت بڑا سا تھا سب کو ایک ایک سائیڈ پر وہ لوگ بیٹھا رہے تھے تا کہ ان پر مسلط ہونا آسان ہو اتفاق ایسا تھا کہ یہ سب لوگ ایک ساتھ ہی بیٹھے تھے ناہید کی رنگت اڑی ہوئی تھی ۔۔۔ باقی خواتین کی بھی یہی حالت تھی ۔۔۔ جب سب ہوٹل ہال نما کمرے ۔میں منتقل ہو گئے توسب کی پہلی سوچ یہی تھی کہ شاید وہ لٹیرے ہیں اور لوٹنے آئے ہیں ۔۔۔

سب سے پہلے تو انہوں نے سب سے موبائل چھینے تھے ۔۔۔۔ سب موبائل لیکر انہوں نے مردوں کی تلاشی لی تھی لیکن پیسے نہیں نکالے تھے ۔۔۔۔ نارورتوں سے ان کے زیورات مانگے تھے ۔۔۔۔ ہال کی ساری بتیاں جل رہیں تھیں ۔۔۔۔۔ چار نوجوان اندر داخل ہوئے تھے ۔۔۔

” کیا خبر ہے ؟ “

” باس پورا ہوٹل خالی ہو چکا ہے ۔۔۔ “

” گڈ ۔۔۔ ٫ ” اندر کھڑے نقاب پوش نے کہا پھر کسی کو کال کرنے لگا ۔۔۔

” مجھے کمشنر سے بات کرنی ہے ۔۔۔ ” وہ بڑے کرخت لہجے ۔میں بول رہا تھا ۔۔۔

” دیکھو ہم مری کے ایک ہوٹل کے تمام لوگوں کو یرغمال بنا چکے ہیں ہماری مانگیں پوری کر دو تو یہ لوگ زندہ سلامت مل جائیں گئے ورنہ کل سے تم لوگوں میں سے ایک ایک نعش تحفے کے طور پر ملنی شروع ہو جائے گی ۔۔۔ ” یہ سن کر تو وہاں موجود سب لوگ ہی بری طرح سے گھبرا گئے تھے عورتیں رونے لگیں تھیں ۔۔۔

” چپ ہو جاؤں تم لوگ ورنہ ابھی گولی سے اڑا کے رکھ دوں گا ” وہ شیر کی طرح چنگھار کر بولا ۔۔۔۔

ایک دم ہی ہال میں سناٹا سا ہو گیا تھا ۔۔۔

” بیٹھ جاؤں سب لوگ ” اس شخص نے دوبارہ سے اسی طرح سے دھاڑا تھا سب لوگ بیٹھ گئے تھے کمرے کے سارے پنکھے چلا دیے گئے تھے ۔۔۔

بچے تک سہمے پڑے تھے ۔۔۔

” دیکھوں ہماری تم لوگوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے ہمارے کچھ خاص لوگ پولیس کی کسڈی میں ہیں وہ اگر ہمہیں لوٹا دیے جائیں تو ہم آپ لوگوں کو چھوڑ دیں گئے ۔۔۔۔ ورنہ مجبور ہمیں کل شال سے ایک ایک شخص کی موت کا نظرانہ پیش کو پیش کرنا پڑے گا۔۔۔۔ یہ بات سن کر ہر شخص پریشان تھا ۔۔۔ سب ہی بچے ماؤں کے ساتھ اور مائیں اپنے شوہروں کے ساتھ چپکی بیٹھی تھیں ۔۔۔

اتفاق کچھ ایسا تھاشایزیب اور عزیر پھر ساتھ ساتھ بیٹھے تھے

” یقینا کوئی بڑا مجرم پکڑا گیا ہو گا ۔۔۔ جس کے ذریعے سے ایسے گینگ تک پہنچا جاسکتا ہو گا جس سے ملک بہت بڑے نقصان سے بچ سکتا ہے ۔۔۔ ” عزیر نے زیر لب دھیرے سے کہا

” مجھے بھی یہی لگتا ہے ۔۔۔ لیکن یہ بھی یو سکتا ہے کہ پڑوسی ملک کے خفیہ ایجنسی کے لوگ گرفتار ہوئے ہوں اور یہ لوگ انہیں سپورٹ کرتے ہوئے یہاں سے نکالنا چاہتے ہوں ” شاہزیب کی بات سن کر عزیر کا بھی دماغ گھوما تھا کچھ دن پہلے والی ٹی وی پر چلنے والی خبر یاد آنے لگی تھی جہاں یہ بتایا جا رہا تھا کہ ہمسائے ملک کے چند خفیہ ایجنسی کے لوگوں کو ہماری آئی ایس آئی نے گرفتار کر لیا ہے ۔۔۔ جو فقیروں کا لبادہ اوڑھے غیر قانونی کام سر انجام دے رہے تھے ۔۔۔

” ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔۔ لیکن اب ہو گا کیا “

” ہونا کیا ہے ۔۔۔ ابھی آدھے ایک گھنٹے بعد پولیس کی موبائل سائرن بجاتی ہوئی آئیں ہیں مائیک پر شور شرابہ کریں گئیں “شاہزیب نے تاسف سے کہا

” اور اسکے بعد یہ کہیں گئے کہ پولیس نے آپ لوگوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے آپ ے آپ کو پولیس کے حوالے کر دو وغیرہ وغیرہ ” شاہزیب کی بات عزیر نے مکمل کی تھی ۔۔۔

” اس کے یہ باس نامی بد معاش یہاں سے ایک بے گناہ کو گولی مارے گا اور اسے باہر بھیج دے گا یہاں لوگ مزید خوف و حراس میں مبتلا ہوں گئے باہر سے پولیس فائرنگ کرے گی ۔۔۔ ” شاہزیب نے پولیس کااگلا لائحہ عمل بتایا

” اس کے یہ لوگ شاید پھر کسی بے گناہ مار کر باہر بھیجیں گئے ۔۔۔ اور باہر سے یہ شور اٹھایا جائے گا کہ ان کی شرطوں کو مان لیا جائے ” عزیر کی بات پر شاہزیب نے تائید کی

” بلکل اور پھر ان مجرموں کو چھوڑ دیا جائے گا ۔۔۔ تا کہ بے گناہ لوگ بچ سکیں “

” لیکن یہ سب تو غلط ہے ۔۔۔ اسی طرح اگر مجرم چھٹتے رہے تو ہم پر کوئی بھی کبھی حملہ کر سکتا ہے “

” بہت بڑا گیم ہے برادر افسوس یہ کہ پولیس کے بہت سے آفیسر بھی شامل ہیں ۔۔۔ میں تو بھکت چکا ہوں پولیس والوں کو پیسہ پھنک تماشہ دیکھ والی مثال ہے ” شاہزیب نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا ۔۔۔

دوسری جانب ارتضی اور ہمزہ ساتھ بیٹھے تھے

” یہ تو بہت بڑا ظلم ہے “نوفل نے تاسف سے کہا

” ہے تو لیکن یہی نظام چل رہا ہے ۔۔۔۔۔ ہم بے بسی سے تماشا ہی دیکھ سکتے ہیں ” ارتضی نے جواب دیا

” ہمہیں کچھ کرنا چاہیے ” نوفل کی بات سن کر ارتضی نے نوفل کی طرف دیکھا تھا

” گولی مار دیں گئے یہ لوگ ہمہیں وہ بھی بنا سوچے سمجھے ۔۔۔ بہتر ہے چپ چاپ بیٹھے رہو اپنے بیوی بچوں کے بارے میں سوچوں “ارتضی نے جواب دیا

” یہی توالمیہ ہے دوست ہم لوگ صرف اپنے بیوی بچوں کے بارے میں ہی سوچتے ہیں ۔۔۔کیا گولی کھانے کی ذمے داری صرف ان شیر جوانوں کی جو ہے ۔۔۔ جو باڈر پر سینہ تانے کھڑے ہیں انکے بھی تو بیوی بچے ہوتے ہیں لیکن ہم لوگ اپنے گھروں میں محفوظ سکون کی نیند سو سکیں اس لئے وہ ہماری پہرے داری دے رہے ہوتے ہیں” ۔۔۔ ہمزہ بھی وہیں قریب ہی بیٹھا تھا ۔۔۔ نوفل کی بات سن کر بولا

” بات تو ٹھیک ہی کہی ہے ۔۔۔ کیا دشمنوں سے مقابلہ کرنا صرف ہماری فوج کی ذمہ داری ہے

اگر ہر پاکستانی مرد سپہ سالار بن جائے تو دشمن ہی دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو جائیں گئے ۔۔۔ “نوفل نے بھی جوش دیکھاتے ہوئے کہا

” بلکل دوست یہی بات ہے ۔۔۔ ” ہمزہ نے نوفل کی بات کی تائید کی تھی ۔۔۔ لیکن اپنے اپنے شوہروں کے پہلوؤں کے ساتھ لگیں بیویوں کے دل بہت چھوٹے تھے سب سے پہلے ہمزہ کے ساتھ لگی ناہید آنسوں بہاتے ہوئے بولی

” ہمزہ اینج دیاں گلاں نا کر ویکھ پھپھی امینہ داخواب تو ہی تے پورا کرنا اے ۔۔۔ ” ناہید کے آنسوں ٹپ ٹپ گرنے لگے تھے ہمزہ کے کچھ اور قریب ہو کر بیٹھ گئ تھی ۔۔۔۔

” ناہید عورت مرد کا حوصلہ بڑھاتی ہے یوں آنسوں بہا کر اڈے کمزور نہیں کرتی ” ہمزہ نے اسء ساتھ لگا کر سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔

سامنے کھڑے اس شخص نے اپنے ساتھی سے کہا

تم دونوں کسی قریبی ہسپتال جاؤں اور وہاں سے چند ڈاکٹرز اور دوائیں لیکر آؤں پولیس کے پہنچتے ہی وہ لوگ فائرنگ سے باز نہیں آئیں گئے ۔۔۔ اگر ہم میں سے کوئی زخم ہی ہو گیا تو ڈاکٹر تو ہونا ہی چاہیے ” دو لڑکے اپنے باس کا حکم سن کر وہاں سے باہر نکل گئے

*******…….

حمنہ کی ڈیوٹی ایمرجنسی میں لگائی گئی تھی وہ مسلسل دس گھنٹے سے ڈیوٹی دے رہی تھی ۔۔۔ اس لئے کچھ دیر آرام کے غرض سے اپنے کمرے میں جانے لگی جب کوریڈور پر ہی فارس سے ٹاکرہ ہو گیا

فارس اسے دیکھتے ہی پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔ اور دوسری جانب سے ایمرجنسی وارڈ میں جانے لگا ۔۔۔

” فارس ” حمنہ کی پکار پر آج بھی اسے قدم کسی میکانکی کی طرح سے روکے تھے ۔۔۔ حمنہ دو قدم بڑھا کر اسکے مقابل کھڑی ہو گئ ۔۔۔

” ہم اچھے دوست بھی تھے ‘

” کبھی تھے ۔۔۔ ” فارس نے دو لفظی جواب دیا تھا

” اب بھی بن سکتے ہیں “

” نہیں ڈاکٹر حمنہ اصفر ۔۔۔۔ اب کبھی نہیں بن سکتے ” فارس کے بے تاثر چہرے کو دیکھ کر حمنہ نے بست کو بدلا تھا

” لائبہ پر کیوں پابندیاں لگا رہے ہو ۔۔۔ “

” میری بیوی ہے ۔۔۔ اس لئے “

” اسے پہلے ایک انسان بھی ہے ۔۔۔ میری بہت اچھی دوست ہے ۔۔۔ کل سے مجھ سے ٹھیک سے ملی نہیں ہے ” حمنہ کی بات وہ استزائیہ مسکرایا تھا

” مجھے نہیں معلوم تھا کہ بیوی اتنی فرمابردار بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔ لیکن اب ماننا پڑے گا بیوی کے معاملے میں میں ڈاکٹر اصفر جیسا خوش نصیب ہوں ” حمنہ اس کا ططنز سمجھ گئ تھی

” تم مجھ سے جو چاہے شکوے کر سکتے ہو ۔۔۔ تمہارا حق ہے “

” حق کی بات مت کرو حمنہ ۔۔۔۔ بس ایک حق ہی تو نہیں ہے ۔۔۔۔ خیر چھوڑو ان باتوں کو ابھی زخم تازہ ہے بھرنے میں وقت لگتا ہے جس دن پورا بھر جائے تو پھر سوچوں گا کہ کسسے کتنے مراسم بڑھانے کی دل اجازت دیتا ہے ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر فارس نے اپنی گھڑی دیکھی

” میں لیٹ ہو رہا ہوں او کے بائے ” یہ کہہ کرخوہ آگے بڑھ گیا لیکن حمنہ کی چیخ پر اسے پلٹ کر دیکھنا پڑا ایک کالی پینٹ شرٹ میں ملبوس کالا نقاب پہنے وہ شخص حمنہ کے سر پر پسٹل تانے کھڑا تھا حمنہ کی چیخ پر جہاں فارس پلٹا تھاایمر جنسی سے اصفر بھی باہر آچکا تھا ۔۔۔ حمنہ کو دیکھ کر تو بد حواسی سے اسکی طرف لپکا تھا

” وہیں کھڑے رہو ورنہ گولی مار دوں گا اسے ” اس نقاب پوش کی بات پر اصفر کے قدم وہیں رکے تھے بہت سے ڈاکٹر اکٹھے تو کو چکے تھے لیکن ڈر کے مارے سب ہی پیچھے تھے ۔۔۔

” دیکھوں میری بیوی کو چھوڑ دو ۔۔۔ کیا چاہیے تمہیں میں تمہیں وہ سب دے دوں گا ” اصفر کی تو جان لبوں پر آئی تھی لائبہ بھی یہ سب دیکھ کر پریشان ہوئی تھی

” ہمہیں دو تین ڈاکٹر چاہیے اور میڈسن وغیرہ بھی کچھ ایسے اوزار کو ٹخنوں کوسینے کے کام آ سکیں سر ایک سرجن بھی ۔۔۔ جلدی کروں سب کچھ ورنہ ہم اسے مار ڈالیں گئے۔۔۔ ” پسٹل کی نوک حمنہ کے سر پر تھی ۔۔۔

” میں سرجن ہو میں تم لوگوں کے ساتھ چلتا ہوں لیکن میری بیوی کو چھوڑ دو ۔۔ “

” میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ چلتا ہوں لیکن پلیز آپ لوگ انہیں چھوڑ دیں ” فارس بھی اگے بڑھا تھا ۔۔۔

” ہمہیں چار ڈاکٹرز کی ضرورت ہے ۔۔۔ یہ بھی ہمارے ساتھ جائے گی ۔۔۔ ” تم دونوں بھی چلو

کافی میڈسن کے ساتھ لائبہ بھی ان لوگوں کے ساتھ چلی گئ تھی ۔۔۔ ان چاروں کو بھی ہال نما کمرے میں ہی رکھا گیا تھا ۔۔۔

******…..

” کچھ تو کرنا چاہیے ۔۔۔ اگر ہم سب ایک ہو جائیں تو ان کا مقابلہ کر سکتیں ہیں ۔۔۔۔ اور اگر ہم یہاں سے لوگوں کو نکالنے میں کامیاب ہو گئے تو سمجھو ہمہیں۔ انکی ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کرنی پڑے گی ہمارا ایک منہ توڑ جواب انکے بڑھتے قدم روک سکتا ہے ” عزیر کی بات شازیب کے ساتھ ساتھ ہادیہ نے بھی سنی تھی زینب ہادیہ کی گود میں سو رہی تھی

” عزیر یہ بہت خطرناک لوگ ہیں ۔۔ گاؤں کا چوہدری یا آئی جی کا بیٹا نہیں ہے جس سے مقابلہ کرنا آسان ہو ۔۔۔ “

” معلوم ہے مجھے کہ سب آسان نہیں ہے ۔۔۔ بہت شاطر دماغ کے لوگ ہیں لیکن ہاتھ پر ہاتھ دھرے رکھ کر تو نہیں بیٹھ سکتے نا مسز نا جانے کتنے بے گناہوں کو یہ لوگ موت کے گھاٹ اتارے۔ گئے “عزیر کے اٹل انداز ہر ہادیہ کی جان پر بنی تھی عزیر کے پہلوسے لگ کر رونے لگی تھی

“عزیر آپ ایسا کچھ نہیں کریں گئے

نینان بھی شاہزیب کے ارادے بھانپ کر گھبرا گئ تھی

” شاہو پلیز یہ کوئی ہیوی بائیک کا ٹریک نہیں ہے کہ جہاں ڈیمو دیکھا کر لوگوں کو برائی سے روکا جائے ۔۔۔ سیدھا سیدھا جان جانے کا خطرہ ہے “

” جانتا ہوں میری مینا ۔۔۔ لیکن بزدلوں کی طرح جینے سے شیر جوانوں کی طرح جان کا نظرانہ دیتے ہوئے مر جانا ذیادہ بہتر ہے ہم اگر آج کوشش نہیں کریں گئے تو لوگوں کی سوچ کیسے بدلے گی “

” میں کچھ نہیں جانتی آپ ایسا کچھ نہیں کریں گئے ۔۔۔۔” نیناں بھی شاہزیب کے ساتھ لگی آنسوں بہانے لگی تھی ۔۔۔ دونوں ہی جانتی تھی کہ دونوں کے میاں خبطی دماغ کے مالک ہیں جو دھن سوار کر چکے ہیں وہ پوری کیے بنا پیچھے نہیں ہٹیں گئے ۔۔۔

دوسری جانب ارتضی بھی نوفل اور ہمزہ کا ساتھ دینے کو تیار تھا ۔۔۔۔

لیکن بات وہی تھی حیا کا رونا جو شروع ہوا تو ناہید اپنا رونا بھول گئ تھی ۔۔۔ بھیں بھیں کر کے روتی لڑکی اس نے پہلی بار دیکھی تھی

” ارتضی آپ ایسا کچھ نہیں کریں گئے ۔۔۔۔ میں آپ کے بغیر کیسے جی سکتی ہوں ۔۔۔ مجھے تو قدم قدم پر آپ کی ضرورت ہے مجھے توآپ کے بغیر ٹھیک سے ناشتہ بھی بنانا نہیں آتا اور زندگی تو ویسے بہت بڑی ہے ۔۔۔ ” حیا کے منہ جو ا رہا تھا بولے جارہی تھی ساتھ رو بھی رہی تھی ارتضی اڈے ساتھ لگائے دبے لہجے میں ڈانٹنے لگا

” تم اپناوالیم کچھ کم رکھ کر نہیں رو سکتی ۔۔۔۔ویسے مجھے گولی لگے یا نا لگے تمہارے رونے سے وہ لوگ ضرور مجھے گولی مار دیں گئے ” ارتضی کے احساس دلانے پر وہ کچھ چپ ہوئی تھی ۔۔۔ اپنی پریشانی کا اظہار جیسے اسے آتا تھاویسے ہی کر رہی تھی ۔۔۔

” بس ایک مائرہ چپ تھی ۔۔۔ “

” میں سوچ رہا ہوں کہ ابھی تو پولیس کا شور شروع ہو جائے گا ۔۔ اس لئے کل رات تک موقع ملتے ہی ہم میں سے کوئی ایک کھڑی سے باہر اگر نکل جائے تو انکی پوزشن ہم دیکھ سکتے ہیں اگر انکا ایک بھی ہتھیار ہمارے ہاتھ لگ جائے تو پھر فرق نہیں پڑتا کہ سامنے کتنے لوگ ہیں ایمان کے ساتھ جب کلمہ پڑھ کر فائر کریں گئے تو انشاء اللہ ایک بھی نشانہ نہیں چونکے گا ۔۔ کیا خیال ہے ” نوفل کی بات پر ارتضی اور ہمزہ نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔۔

” لیکن یہ پہلی جرت دیکھائے گا کون”

” میں جاؤں گا ” نوفل کی ہامی بھرنے نے مائرہ کی جان نکالی اسوقت دل کی حالت ایسی تھی کہ خود کو روکنا مشکل ہو رہا جو بات نوفل بہت دنوں سے سمجھانا چاہ رہا تھا اس مشکل وقت نے اڈے ایک پل میں سمجھا دی تھی نوفل کے ساتھ لگ کر بلک بلک کر رونے لگی

” نہیں نوفل تم کہیں نہیں جاؤں مر جاؤں گی گی میں تمہارے بغیر ۔۔۔ بہت محبت کرتی ہوں تم سے ۔۔۔ مجھے دینی ہے اور آزمائش ۔۔۔۔ ” آج اس کی گرفت بھی نوفل پر مضبوط اور نام بھی نوفل کا زبان پر تھا