341.6K
4

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tum Or Eid Episode 1

Tum Mein Or Eid by Umme Hani

“شاہو جی اب تو عاصم اور رباب بھی ہنی مون سے واپس آ گئے ہیں اور ہم ۔۔۔۔ ہم ایک بار بھی گھومنے پھرنے نہیں گئے ۔۔۔ ” نیناں نے نروٹھے ہوئے لہجے میں کہا شاہزیب نے مسکرا کر اپنی دل۔ و جان سے پیاری بیوی کو بڑی محبت سے دیکھتے ہوئے شوخ لہجے میں کہا ۔۔

“, میری مینا نے ہنی مون پر جانا ہے ۔۔۔ ؟ شاہزیب نے اسے چھڑنےہی والے انداز سے کہا وہ نا فہمی سے مسکرا کر اثبات میں سر ہلانے لگی ۔۔۔

” مجھے منظور ہے ویسے بھی عید کی۔ چھٹیاں مل رہی۔ ہیں ۔۔۔ ایک ہفتے کے لئے مری چلتے ہیں لیکن ہادی اور سعدی ساتھ نہیں جائیں گئے ۔۔۔ ” شاہزیب نے فیصلہ کن انداز سے کہا

” کیوں شاہزیب بچے کیوں نہیں جائیں گئے ۔۔۔۔ “

“اس لئے کہ نیناں جی ہنی مون پر بچوں کا کیا کام ہے ۔۔۔ وہ دادا دادی اور چچا کے پاس ہی رہیں تو اچھا ہے ” شاہزیب نے نیناں کے کندھے پر بازو رکھ کر معنی خیز انداز سے کہا ۔۔۔۔ وہ شاہزیب کی بات کا مطلب سمجھ کر نظریں چرا گئ گئ ۔۔۔

” تو پہلے تم سے کہہ رہا تھا کہ اب ہماری ایک بیٹی بھی ہونی چاہیے ۔۔۔۔ ” دھیمے لہجے میں وہ اپنی فرمائش بتانے لگا۔۔۔ نیناں نے اسکے ہاتھ اپنے کندھے سے پھرے ہٹائے

” میں بچوں کے بغیر نہیں جاؤں گی اور جب میاں کو ہنی مون اتنی عرصے بعد یاد آئے تو اسکی یہ سزا تو ہونی ہی چاہیے کہ بچے بھی ساتھ جائیں ” نیناں نے خفگی سے جتایا ۔۔۔۔ شاہزیب نے کچھ ثانیے اسے غور سے دیکھا پھر اپنا تکیہ درست کیے لیٹ گیا اور آنکھوں پر اپنا بازو رکھ کر لیمپ آف کیااور دھیرے سے بولا

” بھول جاؤں پھر ہنی مون کو ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر کروٹ بدل کر سو گیا ہادی اور سعدی اب ڈرائنگ میں عاصم کے بیڈ پر سوتے تھے عاصم کے پاس اب شازمہ اور نمیرہ کا کمرہ تھا چند دن پہلے ہی وہ مری کاغان سے لوٹے تھے رباب کے منہ سے حسین وادیوں کا ذکر سن کر نیناں کی جان جلی تھی ۔۔۔۔ شادی کے بعد سے اب تک وہ شاہزیب کے ساتھ بس

برنس روڈ کی چاٹ کھانے ہی گئ تھی ۔۔۔۔۔

اور سب بھی شاہزیب کی بات پر جی جلانے لگی تھی ۔۔۔ منہ کے زاویے بگاڑے لیٹ گئ ۔۔۔ اب ایک ماں کے لئے بچوں کو چھوڑ کر جانا تو مشکل امر تھا ۔۔۔۔

******……….,

عورت نا تو کمزور ہے نا ہی بے کس لاچار اور نا مجبور ۔۔۔۔ ہمارا معاشرہ صرف مردو کا معاشرہ ہی نہیں ہے ۔۔۔ نا ہی عورت ثانوی حیثیت رکھتی ہے ۔۔۔۔ وہ مرد کے قائم مقام ہے ۔۔۔۔ ہمارے دین میں مرد عورت کے حقوق برابر رکھ کر عورت کی حیثیت اور اس کا مقام بتا دیا ہے ۔۔۔۔ لیکن ایک حد بندی رکھی گئ ہے۔۔۔۔ اگر وہ مرد سے دو قدم پیچھے چلتی بھی ہے تو اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ وہ مرد سے کم تر اور کمزور ہے ۔۔۔۔ بلکہ وہ اپنے محرم سے دو قدم اس لئے پیچھے چلتی ہے ۔۔۔ تا کہ اس کاشوہر یااس کا محرم اسکی راہوں کو ہموار کر سکے ۔۔۔

ایک بار

حضرت اسماؓ بنت یزید انصاری صحابیہ حضور اقدسؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان میں مسلمان عورتوں کی طرف سے بطور قاصد حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں بیشک آپؐ کو اللہ جل شانہ نے مرد او عورت دونوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا۔ اس لئے ہم عورتوں کی جماعت آپؐ پر ایمان لائی اور اللہ پر ایمان لائی لیکن ہم عورتوں کی جماعت مکانوں میں گھری رہتی ہے۔ پردوں میں بند رہتی ہے مردوں کے گھروں میں گڑی رہتی ہے اور مردوں کی خواہشیں ہم سے پوری کی جاتی ہیں ہم ان کی اولاد کو پیٹ میں اٹھائے رہتی ہیں اور ان سب باتوں کے باوجود بہت سے ثواب کے کاموں میں وہ ہم سے بڑھے رہتے ہیں ۔جمعہ میں شریک ہوتے ہیں جماعت کی نمازوں میں شریک ہوتے ہیں بیماروں کی عیادت کرتے ہیں جنازوں میں شرکت کرتے ہیں۔ حج پر حج کرتے رہتے ہیں اور ان سب سے بڑھ کر جہاد کرتے رہتے ہیں اور جب وہ حج کے لئے یا عمرہ کے لئے یا جہاد کے لئے جاتے ہیں تو ہم عورتیں ان کے مالوں کی حفاظت کرتی ہیں ان کے لئے کپڑا بنتی ہیں ان کی اولاد پالتی ہیں کیا ہم ثواب میں ان کی شریک نہیں۔ حضور اقدس ؐ یہ سن کر صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ تم نے دین کے بارے میں اس عورت سے بہتر سوال کرنے والی کوئی سنی صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ ہم کو خیال بھی نہ تھا کہ عورت بھی ایسا سوال کر سکتی ہے اس کے بعد حضور اقدس ؐ اسماؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ غور سے سن اور سمجھ جن عورتوں نے تجھ کو بھیجا ہے ان کو بتا دے کہ عورت کا اپنے خاوند کے ساتھ اچھا برتائو کرنا اور اس کی خوشنودی کو ڈھونڈنا اور اس پر عمل کرنا ان سب چیزوں کے ثواب کے برابر ہے۔ اسماؓ یہ جواب سن کر نہایت خوش ہوتی ہوئی واپس ہو گئیں )))

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضع کر دیا کہ عورت کوکس کی خوشنودی حاصل کرنی ہے وہ کس کے پیچھے چلنے کے لئے آئی ہے ۔۔۔ عورت مرد سے مقابلہ کرنے کے لئے نہیں آئی ۔۔۔۔ بلکہ کسی سے بھی مقابلہ کرنے نہیں آئی ۔۔۔۔ ہم مسلمان صرف اللہ کی اطاعت اور اپنی اپنی ذمداریاں نبھانے آئے ہیں

اللہ نے اپنے بندوں جو حکم دیا ہے جس پر اگر ہر انسان چلے تو زںدگی جنت بن جائے مرد کی اپنی زمہ داریاں ہیں اور عورت کی اپنی ۔۔۔۔۔ ہم عورتوں کے حقوق کا نعرہ لگائے عورتوں کے حقوق کے لئے جھنڈے اٹھا کر گلی کوچوں میں ننگے سر نکلنے کے لئے نہیں آئیں ہیں ۔۔۔۔ مرد عورت کا محافظ ہے اس کا حریف نہیں جس سے وہ مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں آ جائے یہاں موجود میری سب طالبات سے گزارش ہے کہ کتاب کو اٹھانے والی فاطمہ جناح بننے کی کوشش کریں جنہوں کے قائد اعظم کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر یہ بتایا کہ عورت مرد کے شانہ با شانہ چل کر اس کاساتھ دے کر کیسے کامیابیوں کی منزلوں کو طے کر سکتی ہے ۔۔۔۔

نا کے چند آذاد خیال خواتین کی غلط باتوں میں آ کر عورت کے حقوق کے جھنڈے پکڑ کر خود کو گلی کوچوں میں ذلیل و خوار کرتی رہے ۔۔۔ ہمیں کتاب کواٹھانا ہے اور چھنڈوں کو گرانا ہے ۔۔۔۔ ہمہیں تعلیم کو عام کرنا شعور کی چادر کو اوڑھنا ہے یاد رکھے کہ ایک مرد اگر تعلیم حاصل کرتا ہے تووہ اسی تک محدود رہتی ہے لیکن جب ایک عورت تعلیم سے آرستہ ہوتی ہے تو نسلیں تشکیل پاتی ہیں بچوں کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے ۔۔۔ اس لئے یہاں موجود تمام طالبات یہ عہد کر کے اٹھیں کہ وہ خوب محنت کریں گئی۔ اور تعلیم کو عام کریں گئیں ۔۔۔۔ ” تالیوں کی گونج نے ہادیہ کے جذبات کو مزید بولنے سے روکا تھا جو کہ اب پروفیسر ہادیہ بن چکی تھی گورنمنٹ گرلز کالج میں لیکچرار تھی ۔۔۔۔ لڑکیوں میں تعلیم کے جذبے کو بڑھانے کے لئے اور ایک سیدھی راہ دیکھانے کے لئے اس نے یہ تقریر کی تھی ۔۔۔۔ جس پر ہر طلبہ نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں تھیں ۔۔۔ وہاں موجود انکے مقابل کھڑی دوسری پروفیسر جو ہادیہ سے پہلے عورتوں کے حقوق کی فیور میں تقریر کر کے گئ تھی ہادیہ کے لئے بجنے والی تالیاں اس خاتوں کے منہ پر کسی زور دار تھپڑ کی طرح لگیں تھیں ۔۔۔ باہر عزیر گاڑی میں بیٹھا اس کاانتظار کر رہا تھا سفید شلوار قمیص میں ملبوس چہرے پر سجی داڑھی سے اس کا چہرہ اور بھی پر رونق لگنے لگا تھا ۔۔۔ اسکی گود میں زینب بیٹھی بار بار یہ پوچھ رہی تھی کہ مما کب باہر آئیں گئیں اسپیکر پر کی جانے والی تقریر کی آواز باہر تک آ رہی تھی عزیر نے زینب کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور کہا

” تمہاری مما جب تک سب کی چھٹی نہیں کروا دیتی واپسی کا کوئی چانس ہی نہیں ہے ۔۔۔ ” ابھی وہ زینب کو تسلی دے رہا تھا جب ہادیہ برقعہ اوڑھے تیز قدم اٹھاتے ہوئے عزیر کی گاڑی کی جانب ہی بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے لمبی گہری سانس لی تھی

” جیت مبارک ہوسوئٹ ہارٹ ” عزیر نے گہری مسکراہٹ سے بیوی کا خیر مقدم کیا تھا ساتھ ہی اسکی جیت کی مبارک بعد دی تھی

” آپ کو کیسے پتہ کہ میں ہی جیتوں گی ؟ ” ہادیہ نے تعجب سے پوچھا

” مجھے تو یقین تھا کہ تم کچھ بھی کر سکتی ہو کوئی میدان مارا تمہارے بس سے باہر نہیں ہے ۔۔۔ ” عزیر کی وہی۔ بھر پور مسکراہٹ تھی

” ہاں آپ جو میرے مقابل نہیں تھے ورنہ شاید ہار جاتی ۔۔۔ جیسے پہلے کئ بار ہار چکی تھی ” ہادیہ نے عزیر کو یونیورسٹی کازمانہ یاد کروایا تھا عزیر نے خوفزدہ ہونے کی اداکارہ کرتے ہوتے اپنے کانوں کو پکڑا تھا

” نا بابا نا میری توبہ جو میں کبھی تم سے جیتے کی کوشش بھی کرو ۔۔۔ بلکہ میں کیا میرے بچوں کی بھی توبہ ” یہ کہہ کر عزیر نے زینب سے کہا

” چلو زینی تم بھی اپنی مما سے کہہ دو کہ میری توبہ میرے باپ کی بھی توبہ ” عزیر کے کہنے پر پہلے تو زینب ماں کو دیکھ کر ہسنے لگی جو خفگی سے عزیر کو گھور کر دیکھ رہی تھی پھر کان پکڑ کر بولی

” مما میری توبہ میرے باپ کی توبہ ” زینب نے بھی چہرہ ڈرامائی خوفزدہ سا بنا کر کہا تھا پھر وہ اور عزیر ہسنے لگے ہادیہ دونوں باپ بیٹے کی ہنسی سے زچ سی ہوئی تھی

“, گھر تو چلو ذرا تم دونوں ابا سے تم دونوں کی خاطر نا کروائی تو پھر کہنا ۔۔۔ ” ہادیہ کی یہ دھمکی دونوں باپ بیٹی کو سیدھا کرنے کے لئے کافی تھی

” یہ تم ابا کو ہر بار بیچ میں کیوں لے آتی ہو ۔۔۔۔ میں نے اس بار کیا کیا ہے ۔۔۔ ایک بار تم سے جیتنے کی غلطی کر کے بہت بری سزا پائی تھی اس لئے اب ڈرتا ہوں ۔۔۔۔ میرے شادی اور ہنی مون پر کیسے پانی پھیرتے ہوئے تم مجھے گاؤں لے گئ تھی یاد ہے تمہیں ” اس بار عزیر نے نے اسے خفگی سے کہا ہادیہ نے مسکرا کر نظریں چرائی۔ تھیں یہ طعنہ تو ہر چند دن بعد عزیر سے سنتی تھی ۔۔۔ اس لئے اس بار دھیمے لہجے سے بولی

“” ہاں تو کوئی بات نہیں ہم اب مری چلے جاتے ہیں “” ہادیہ کی بات پر عزیر نے اسے گھور کر دیکھا تھا زمہ داریاں پہلے سے بڑھ گئیں تھیں اس لئے جانا اتنا بھی آسان نہیں رہا۔ تھا اس لئے اسے جتاتے ہوئے بولا

” جی ضرور ۔۔۔ ابا تو اب بلکل اجازت نہیں دیں گئے اب تو چار چار دکانیں مجھے اکیلے کو دیکھنی پڑتیں ہیں ۔۔۔ “,

” ابا کو میں منا لوں گی ۔۔۔ میری بات وہ ٹال ہی نہیں سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ جیسے مجھے کالج پڑھانے کی بھی اجازت دے دی وہ بھی مسکراتے ہوئے ۔۔۔۔ ” ہادیہ کے چہرے پر خوشی کی الگ سی چمک تھی

” بابا میں کچھ نہیں جانتی مجھے بھی مری دیکھنا ہے تو بس دیکھنا ہے ” زینب نے عزیر سے ضد باندھتے ہوئے کہا

” بابا کی جان ابا اجازت نہیں دیں گئے ۔۔۔۔ نا مجھے نا تمہیں ۔۔۔ تمہاری مما ہی ہیں انکی چہتی اگر اس نے ابا کو منا لیا تو بس پھر ہم چلیں گئے مری ۔۔ “,

عزیر کی بات پر ہادیہ نے اتراتے ہوئے کہا

” ابا مجھے انکار کر ہی نہیں سکتے ۔۔۔”

یہ بات تو عزیر بھی جانتا تھا کہ اقبال صاحب ہادیہ کی کسی بات کو رد نہیں کر سکتے

ہادیہ نے جب اقبال صاحب سے یہ بات کی تو پہلی مرتبہ تو صاف انکار سننے کو ملا تھا ۔۔۔

“کوئی ضرورت نہیں عید پر جانے کی ۔۔۔ ہمارے گھر کی رونق تو تم سے اور زینب سے ہے ۔۔۔ کہاں ہے یہ سکو کا پٹھا اسی کی خواہش ہو گئ ہر الٹا کام اسی کے دماغ کی پیداوار ہے اور آگے تمہیں کر دیتا ہے اچھی طرح جانتا ہے کہ میں تمہیں انکار نہیں کر سکتا ” عزیر منظر سے غائب تھا جانتا تھا کہ شامت ہر صورت اسی کی آنی ہے ۔۔۔

ہادیہ نے دھیمے لہجے میں کہا

” ابا انہوں نے کچھ نہیں کہا بس میرے کالج کہ چھٹیاں تھیں تو میں نے ہی سوچا کہ زینب کو مری گھما دوں ۔۔۔ لیکن کوئی بات نہیں رہنے دیں ” جس معصومیت سے ہادیہ نے کہا تھا اقبال صاحب کے ماتھے پر پڑے بلوں میں کمی سی سنے لگی۔۔۔۔

” زینی کو شوق ؟ ہمم ” کچھ سوچتے ہوئے اقبال صاحب کچھ ثانیے کے لئے خاموش ہوئے پھر کہنے لگے ٹھیک ہے چلے جاؤں ” یہ سنتے ہی ہادیہ خوش ہو گئ تھی ۔۔۔۔ مری جانے سے پہلے کچھ دن وہ میکے رہنے چلی گئ تھی ۔۔۔ لیکن بس دو دن ہی گزرے تھے کہ عزیر اسے لینے آ گیا تھا ۔۔۔ جب سے زینب انکی زندگی میں آئی تھی ۔۔۔ وہ جب بھی ہادیہ کو میکے لینے پہنچتا بس یہی کہتا کہ میرا زینی کے بغیر دل نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔ حبیب صاحب کے گھر پہنچ کر بھی زینب کو ہی گود میں بیٹھائے

پیار کرتا رہتا ہادیہ کہ لئے وہ وقت اب خواب سے ہو گئے تھے جب وہ اپنی بیقراریوں کا اظہار اس سے کیا کرتا تھا ۔۔۔ اب تو بس زینب ہی تھی گھر واپس آ کر زینب کو سلا کر وہ خفگی سے اپنا دل جائے اپنی چوڑیاں اتار کر دراز میں پھنک رہی تھی ساتھ ہی ساتھ منہ میں بڑبڑا بھیرہی تھی

” زینی زینی بس زینی۔ میں تو جیسے کچھ ہوں ہی نہیں ۔۔۔ کیا تھا جو ایک بار یہ کہہ دیتے کہ ہادیہ میں تمہیں بہت مس کر رہا تھا ۔۔۔ لیکن نہیں ۔۔۔ میں کہاں یاد رہتی ہوں ۔۔۔ مرد کی محبت بس چار دن کی چاندنی جیسی ہی چمکتی ہے اسکے بعد جیسے ہی اپنی اولاد نظر آتی ہے بس نہیں چلتا اسی کو سرا وقت اور اہمیت دیدیں ۔۔۔ ” جب عزیر کمرے میں داخل ہوا وہ چوڑیاں رکھ چکی تھی عزیر جو دیکھ کر زور سے دراز بند کیا تھا ۔۔۔ ہادیہ کے برہم مزاج کو دیکھ کر وہ ہمیشہ ہی

نافہمی سا ہی رہتا تھا کہ نا جانے اب کون سی بات پر اس کا منہ بنا ہو ہے ۔۔۔۔

” ابھی تو میکے سے رہ کر آئی ہے اور آتے ہی اتنا غصہ ۔۔۔ کیا کروں میں اس کا ۔۔۔۔ انسان جب دو دن بعد میکے سے رہ کر آئے تو مسکراتا ہے شوہر کو مشکور نظروں سے نوازتا ہے کہ پھر ہسن کر میکے کی کوئی اچھی یاد سناتا ہے ۔۔۔ ایک یہ کہ مزاج ہی نہیں مل رہے ۔۔۔۔ ہادیہ کے بگڑے تیور دیکھ کر وہ یہ سوچتا ہوا خاموشی سے بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔۔ کہ خود ہی صبح تک ٹھیک ہو جائے گی

لیکن وہ چلتی ہوئی اس کے سر ا کر غصے سے بولی

” مجھے ابھی اور رہنا تھا عزیر آپ مجھے دو دن بعد ہی کیوں لیکر آ جاتے ہیں ” جب عزیر کو خاموشی اختیار کیے لیٹتے دیکھا تو ہادیہ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا

” تم جانتی تو ہو ہادیہ کہ زینہ کے بغیر تو یہ دو دن بھی میرے بڑی مشکل سے گزرتے ہیں ۔۔۔

وہ اٹھ کر بیٹھ گیا وہ دھڑام سے اسکے سامنے بیٹھ گئ

” اگلی بار زینی کو یہیں رکھ لیجیے گا ۔۔۔ ویسے آپ کے ساتھ رہ لے گی ۔۔۔ اسی کی پروا چین نہیں لینے دیتی آپ کو میں تو کچھ ہوں ہی نہیں ۔۔۔۔ میں بھلے سے دس دن نا آؤں آپ کو کیا فکر ہے ۔۔۔ ” ہادیہ کی ناراضگی وہ سمجھا تھا یہ کہہ کر وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔ تا کہ اپنے جگہ پر جا سکے ۔۔۔ لیکن عزیر اس کا ہاتھ تھام چکا تھا ۔۔۔

” عزیر مجھے نیند رہی ہے ۔۔۔ ہاتھ چھوڑیں میرا “

” مسز ادھر بیٹھو ۔۔۔ ” ہادیہ کو دوبارہ اپنے سامنے بیٹھا کر اسکے نروٹھے چہرے کو دیکھنے لگا

” تمہیں کیا لگتا میں صرف زینی سے اداس تھا ۔۔۔۔ ؟ “

” ہاں اسی سے۔ اداس تھے ۔۔۔۔ سچ ہی کہتے ہیں لوگ بچے ہو جائیں تو شوہر کی محبت بیوی سے ختم ہو جاتی ہے ۔۔۔ بس میں ہی پاگل ہوں جو دیوانوں کی طرح آپکو چاہتی ہوں ۔۔۔۔ آپکے قدموں چاپ سن کر میرا دل دھڑکتے ہوئے آپ کی آمد کی خبر دے دیتا ہے ۔۔۔۔ میرے چہرے پر خوشی رنگ سے سج جاتے ۔۔۔ میں شام سے آپ کو انتظار کر رہی میرا دل کہہ رہا تھا آپ ضرور لینے آئی۔ گئے لیکن آپ کی آتے ہی نظریں صرف زینب کی متلاشی تھیں ۔۔۔ یہ بھی نہیں دیکھا کہ میں بلیک کلر کا سوٹ پہنا تھا ۔۔۔ چوڑیاں بھی پہنی تھی ۔۔۔ ” شکوے تھے ختم نہیں ہو رہے تھے ۔۔۔ شادی کے بعد آج وہ اس سے شکوے کر رہی تھی ۔۔۔ ورنہ تو اب تک اس کے ساتھ قدم ملا کر بس س کے خواب ہی پورے کرتی ا رہی تھی ۔۔۔۔ عمیر کی بیٹیاں اب با اعتماد ہو چکیں تھیں ۔۔۔۔ باپ کو ماں پر ہاتھ نہیں اٹھانے دیتیں تھیں ۔۔۔۔ یہ سب ہادیہ کی تربیت کا نتیجہ تھا ۔۔۔ عزیر بھی مارکیٹ کا صدر منتخب ہو چکا تھا اس لئے ماکیٹ میں ہونے والی ہر اونچ نیچ اسکے۔ پاس آتی تھی ۔۔۔۔ اسکے ہوتے ہوئے کسی کی اتنی ہمت نہیں تھی کہ بازار میں چلتی لڑکی کو کوئی لڑکا ٹچ کرتے ہوئے بھی گزر جائے ۔۔ یا کوئی دوکاندار کسی خاتون سے بدتمیزی بھی کر جائے ۔۔۔

لیکن معاشرے کو نیا رنگ دینے کے لئے بس آپس کی محبت کچھ ماند سی پڑ گئ پھر زینب باپ کی دیوانی تھی جب عزیر گھر آتا تو سارا وقت زینب کی نظر ہی ہو جاتا تھا ۔۔۔ اس کے پاس باپ کو سنانے کے لئے ہزاروں قصے تھے ۔۔۔۔

ہادیہ نے بھی مزید تعلیم حاصل کی تھی اور اب کالج میں پروفیسر لگ گئ تھی اس لئے مصروفیت بڑھ گئ تھی ۔۔۔

لیکن عزیر کی اسے اگنور کرنا ہادیہ سے اب بھی برداشت نہیں تھا ۔۔۔

” ہم پنجابی مرد تو ایسے ہی ہوتے ہیں سوئٹ ہارٹ ۔۔۔ منہ پر کم ہی کچھ کہتے ہیں

تمہیں تو اندر داخل ہوتے ہی دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔ سچ پوچھو تو میں صرف تم دونوں سے ملنے آیا ۔۔۔ واپس گھر لانے کا ارادہ تو تمہیں دیکھ کر کیا تھا ۔۔۔ بلکل بلیک کوئن لگ رہی تھی ۔۔۔۔ “

” مکھن لگانے کی کوشش مت کریں ۔۔۔۔ میں جانتی ہوں آپ زینب کی وجہ سے آئے تھے ۔۔۔۔ جھبی آتے ہی زینب کا پوچھنے لگے ” ہادیہ۔ نے نخرہ دیکھاتے ہوئے کہا

” تو سب کے سامنے کیا کہتا ہادیہ کہاں ہے ۔۔۔ میں اپنی بیوی سے اداس ہو گیا ہوں ۔۔۔ وہ دو دن مجھے نظر نا آئے تو مجھے میرا کمرہ کھانے کو دوڑتا ہے ۔۔۔۔ ایسی باتیں سسرال میں کرتا ہوا میں خاصا بے شرم سا نہیں لگو گا ۔۔۔ پانچ سال سے میری سنگت میں رہ کر تمہیں تو اب تک میری عادت سمجھ جانی چاہیے تھی ۔۔۔۔ جب میں کہتا ہوں مجھے زینب بہت یاد آ رہی تھی تو سمجھا کرو تمہارے لئے کہہ رہا ہوں ۔۔۔ جب کہو کہ زینب کے بغیر مجھے کچھ اچھا نہیں لگتا تو سمجھا کروں تمہارے بنا اچھا نہیں لگتا ۔۔۔۔ ہم پنجابی مرد ایسے ہی ہوتے ہیں ۔۔۔ سب کے سامنے بچوں کی آڑ رکھ کر۔ بیوی سے محبت کا اظہار بھی کر دیتے ہیں ۔۔۔ سمجھی مسز ” ہادیہ کا ناک محبت سے دبا کر وہ بولا ۔۔۔۔ پھر اسے اپنے حصار میں بھر لیا ۔۔۔

” مری چلو میرے ساتھ تمہاری ساری شکایتیں دور کر دوں گا ” عزیر کی بات پر ہادیہ کو اب یقین نہیں تھا ۔۔۔۔

******………

رومان اب پندرہ برس کا ہو گیا تھا سبحان تین برس کا اور مسکان ایک سال کی ۔۔۔ لیکن حیا کے مزاج میں ذرا فرق نہیں آیا تھا ۔۔۔۔ ارتضیٰ کو لگا تھا کہ وہ شادی کے تین سال بعد کچھ تو مچور ہو جائے گی ۔۔۔۔ لیکن نہیں وہ حیا تھی نخریلی سی حیا ۔۔۔ اب بھی کمرے میں ڈرسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی نظر کے چشمے کا فریم آنکھوں پر پہنے بالوں کی سیدھی سی چٹیاں کیے

وہ پرفیسر کی بیوی بننے کی کوشش کر رہی تھی جب ارتضیٰ مسکان کو گود میں لئے اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔ حیا کو دیکھ کر اس نے کوفت سے بھرا ہو منہ بنایا تھا ۔۔۔ حیا نے مسکراتے ہوئے ارتضیٰ کی طرف دیکھا

” کیسی لگ رہی ہوں میں ۔۔۔ لگ رہی ہوں نا پروفیسر صاحب کی پڑھی لکھی ہونہار ۔۔ سمجھدار سی بیوی ” ایک ایک قدم وہ ارتضی کئ جانب بڑھاتے ہوئے بول رہی تھی ۔۔۔ ارتضی نے کن انکھیوں سے اسے دیکھا تھا ایک ابرو چڑھا کر ایک ایک لفظ جما کر بولا

” ہونہار ؟۔۔۔۔ سمجھدار۔؟۔۔۔ پڑھی لکھی ؟….

پھر مسکان کو حیا کی گود میں دینے کے بعد بولا

” یہ سب تو پتہ نہیں ۔۔۔ہاں لیکن پروفیسر کی بیوی ضرور لگ رہی ہو ۔۔۔ ” یہ سن کر حیا کی پیشانی پر کئ بل پڑے تھے ۔۔۔ارتضی نے اسکے بگڑے موڈ کی پروا نا کرتے ہوئے کہا

” بیوی صاحبہ اس وقت مجھے بھوک لگی ہے ۔۔۔ صبح سے۔۔۔ اب شام کو گھر لوٹا ہوں اس لئے میرے کھانے کا انتظام کریں ۔۔۔ خالی پیٹ توعشق بھی اچھا نہیں لگتا ۔۔۔ ” ارتضی کی بات سن کر حیا کی آنکھیں پوری کی پوری کھل گئیں تھیں جیسے اسے اچانک سے کچھ یاد آیا ہو

” اوہ میں تو بریانی کو دم دیکر آئی تھی ۔۔۔۔ ” وہ تیزی سے کمرے کی دروازے کی طرف لپکی تھی

” جی ہاں اگر میں اسٹو بند نا کرتا تو بریانی کا دم نکل چکا ہوتا ۔۔۔ ” ارتضی کی بات سن کر حیا کے قدم رکے تھے ۔۔۔ پھر مسکراکر اسے دیکھنے لگی

” شکر ہے آپ نے دیکھ لیا ورنہ مجھے آپ کا یہ طعنہ بھی نا جانے کتنے سال تک سننا پڑتا۔ ” وہ مدافعانہ اندراز سے بولی اسی وقت کمرے کی دستک سے ہوئی تھی ساتھ ہی دروازہ بھی بڑے بے دھڑک انداز سے کھلا تھا رومان تین سالہ سبحان کو گود ۔میں لئے اندر داخل ہوا اس اسے بیڈ بیٹھایا

” بابا اس چوزے کو آپ ہی سمجھا دیں اگر اس نے میرے ساتھ سونا ہے تو بلکل تمیز کے دائرے میں سوئے ورنہ پٹ جائے گا مجھ سے “, رومان بیزار سا بول رہا تھا رات بھر سبحان اس پر اپنی دونوں ٹاںگیں رکھ کر سوتا تھا اور رومان کو اکیلے پھیل کر سونے کی عادت تھی ۔۔۔

” بری بات ہے رومی اتنا سا تو ہے سبحان ۔۔۔ “, ارتضی کی بات پر سبحان نے رومان کو چڑاتے ہوئے آبرو چڑھائے تھے ۔۔۔۔ رومان نے اسے گھور کر دیکھا

” اتنا سا نہیں ہے یہ ۔۔۔ بڑی چیز ہے یہ بابا آپ کو نہیں پتہ ۔۔۔۔ آپ کے سامنے ہی میسنا بن جاتا ہے۔۔۔۔”

سبحان اب ارتضیٰ کی گود میں جا بیٹھا تھا ۔۔۔

” رومان ٹھیک کہہ رہا ہے ۔۔۔۔ مسکان کو مار کر بھاگ جاتا ہے میں اسے صرف آپ کی وجہ سے کچھ نہیں کہتی لیکن اگر یہ بعض نہیں آیا تو کسی دن بہت برا پٹے گا مجھ سے ۔۔۔ ” حیا نا جانے کیوں محبت میں اب تک انصاف نہیں کر پائی تھی ۔ جو محبت رومان اور مسکان سے کرتی تھی وہ سبحان سے نہیں کر پاتی تھی ۔۔۔۔ ارتضی ہی سبحان کے ذیادہ لاڈ اٹھاتا تھا اور وہ ارتضی کا ہی چہیتا تھا ۔۔۔۔ شرارتی بھی وہ زیادہ تھا ۔۔۔۔ اول تو رومان کی کمبختی لائے رکھتا تھا ۔۔۔

” اچھا بس رومی حیا اب مجھے کچھ بھی نہیں سننا ہے ۔۔۔ سبحان بابا کی بات بلکل نہیں ٹالتا اس لئے ۔۔۔ میں اسے خود سمجھا دوں گا ۔۔۔۔ ٹھیک ہے نا سبحان ۔۔۔۔۔سبحان بابا کی بات ماننے گا ؟

” جی بابا ۔۔۔ سبحان صرف بابا کی بات مانتا ہے ” سبحان نے ارتضی کے دونوں بازوں اپنے گرد حمائل کرتے ہوئے کہا

” سبحان اب کسی کو تنگ نہیں کرے گا ؟ ” ارتضی نے سبحان سے پوچھا

” جی بابا سبحان اچھا بچہ ہے کسی کو تنگ نہیں کرے گا سوائے بھیا کے ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ رومان کو ناک چڑھانے لگا ۔۔۔۔ اور ارتضیٰ کی سینے سے لگ گیا ۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی سب ہی اسکی بات پر مسکرانے لگے تھے ۔۔۔۔

*******………

گرمی کے موسم میں بھی کی شامیں ٹھنڈی ہی رہتی تھیں رات کو حمنہ نے سوئے ہوئے نور اور ایمان کو کنفرڈر اوڑھایا اور انکے کمرے سے باہر آ گئ کافی کا ایک کپ بنا کر وہ جب اپنے کمرے میں آئی تو اصفر کمرے میں موجود نہیں تھا اسی کمرے سے منسلک گیلری میں ڈبل سیٹر کرولنگ صوفے پر شال اوڑھے بیٹھا تھا اور بے تابی سے حمنہ کا منتظر تھا ۔۔۔۔ وہ کافی لیکر گیلری میں آ گئ آجکل دوپہر کچھ گرم ہوتی تھی اس لئے رات کی ہلکی سی خنکی والی ہوا بھی اچھی لگ رہی تھی حمنہ اصفر کے بابر میں بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔ اس باہر اپنی شال حمنہ کو اوڑھانے میں اصفر نے پہل کی تھی ۔۔۔۔ اپنا ہاتھ اس کے کندھے کے گرد پھیلا کر خود سے قریب کیا تھا ۔۔۔۔ حمنہ کچھ جھجک سی رہی تھی ۔۔۔۔۔ چند دن پہلے ہی اصفر کی بینڈیج اتریں تھیں ۔۔۔ دو ماہ حمنہ نے اصفر کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔۔۔۔۔۔ اب وہ پہلے سے کافی بہتر ہو چکا تھا ۔۔۔ اس دو ماہ میں وہ جس قدر زخمی تھا حمنہ کے قریب نہیں س پایا تھا ۔۔۔ اور جب سے وہ کچھ بہتر ہوا تھا حمنہ اس سے کچھ کترا رہی تھی یا شاید چھ سال کی جدائی اور انکے بیچ جو کچھ بیت چکا تھا وہ اصفر سے محبت کرنے کے باوجود جھجک رہی تھی ۔۔۔ اس بار پہل اصفر نے کی تھی ۔۔۔۔

” کافی ” حمنہ نے کافی کا کپ اسکی طرف بڑھایا پورا کپ دیکھ کر ایک مدھم سی مسکان اصفر کے چہرے پر سجی تھی ۔۔۔۔

“پہلے تم پیو ” اصفر نے دھیمے لہجے سے حمنہ سے کہا

” پہلے آپ پی لیں ۔۔۔ میں ہمیشہ بعد میں ہی پیتی آئی ہوں “

” آج کے۔ بعد میں بعد میں پیا کروں گا ۔۔۔۔ ” کپ حمنہ کے ہاتھ سے لیکر اصفر نے حمنہ کے لبوں پر لگایا تھا ۔۔۔ بڑی حیرت سے وہ اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

” حمنہ ایسے مت دیکھوں ۔۔۔ ان چھ سالوں کی جدائی نے ۔۔۔ مجھے یہ اچھی طرح سے بتا دیا ہے بیوی کیا ہوتی ہے ۔۔۔ اور اس کے بغیر زندگی کیسے بے رنگ ہو جاتی ہے ۔۔۔ میں نے تمہاری ویسے قدر نہیں کی جیسی تم ڈیزو کرتی تھی ۔۔۔۔ اس لئے اب میں چاہتا ہوں کہ تمہیں وہ مقام دوں جس کی تم حق دار ہو ۔۔۔۔ ” اصفر کے اتنے سے التفات پر ٹپ ٹپ حمنہ کے آنسوں بہہ کر کافی میں گرے تھے ۔۔۔ وہ اصفر کے سینے سے لگ کر رونے لگی تھی ۔۔۔۔

دل کا بھرسوں کا غبار تھا ۔۔۔۔ جو وہ اپنے آنسوں سے بہا رہی تھی ۔۔۔ چھ سالوں نے غموں نے چور کر دیا تھا ۔۔۔۔ اصفر نے اسے چپ نہیں کروایا چاہتا تھا کہ وہ رو لے اپنے اندر کی گھٹن کو آنسوں سے بہا کر ختم کر دے ۔۔۔۔ کافی کا کپ سائیڈ پر رکھ کر وہ اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا ۔۔۔۔ اسکی سسکیاں سن رہا تھا اس کے شکوے سن رہا تھا پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ ہمیشہ چپ رہنے والی حمنہ کئ گھنٹے سے بول رہی تھی اپنی ہر بات پر غم ہر آزمائش ہر اذیت کو بتا رہی تھی ۔۔۔۔ وہ صرف سن رہا تھا ۔۔۔۔۔ اسے ساتھ لگائے خود کو بھی یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اب آزمائشیں ختم کو چکیں ہیں ۔۔۔۔ اگلی صبح بہت روشن تھی ۔۔۔۔ پرندوں کی چہچہانے کی آواز سے صرف اصفر کی آنکھ کھلی تھی حمنہ اسکے برابر میں بے خبر سو رہی تھی ۔۔۔ شاید بہت دن بعد ایسی بے خبر سوئی تھی ۔۔۔۔ اسکی پیشانی پر بوسہ دے کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا نور اور ایمان کے کمرے میں گیا تو وہ جاگ رہے تھے ۔۔۔۔ کچھ دیر وہ انکے پاس بیٹھا رہا نور کی میٹھی میٹھی باتیں سنتا رہا ۔۔۔ ایمان کی بہادری کے قصے سن کر ہنستا رہا ۔۔۔ پھر ان کے لئے ناشتہ بنا کر انہیں اپنے ہاتھوں سے کھلایا ۔۔۔۔

جب حمنہ کمرے سے باہر آئی تو دن کے دس بج رہے تھے ۔۔۔

” میں اتنی دیر سوئی رہی ۔۔۔ آپ نے مجھے جگایا کیوں نہیں “

” سوئی ہوئی اور بھی سوئٹ لگ رہی تھی اس لئے ” حمنہ نے اصفر کو کن انکھیوں سے دیکھا تو وہ ہسنے لگا ۔۔۔۔

نور اور ایمان بھی ہسنے لگے پھر اصفر نور سے پوچھنے لگا

” نور تمہاری مما سوئٹ ہے نا ؟ “

“, ہاں ہیں تو لیکن ڈیڈ مجھے آپ زیادہ سوئٹ لگتے ہیں ” نور کے جواب پر ایمان برجستہ بولا تھا

” لیکن مجھے تو مما ہی زیادہ سوئٹ لگتی ہیں ۔۔۔ ” حمنہ کا ہاتھ پکڑ کر وہ چومتے ہوئے بولا ۔۔۔

” ڈیڈ دیکھیں ایمان مما کو مکھن لگانے کی کوشش کر رہا ہے ” نور فورا سے بولی ۔۔۔

” ہاں جیسے تم ڈیڈ کو مکھن لگا رہی ہو ” ایمان نے بھی دو با دو جواب دیا

” چلو بس بہت بولنے لگےہع تم لوگ ۔۔۔ کل سے رمضان شروع ہونے والا ہے۔۔۔ اور اسبار تم دونوں بھی روزہ رکھوں گئے ۔۔۔”حمنہ نے موضوع بدلہ تھا

” اور پھر بابا نور کی بڑی سی روزہ خوشائی کریں گئے ۔۔۔ ” نور اب اصفر کی گود میں چڑھ کر بیٹھ گئ

” بلکل کریں گئے اور نور اپنی سب دوستوں کو بھی انوئٹ کرے گی ” اصفر نے نور کی پیشانی چومتے ہوئے کہا

” ڈیڈ ہم اپنی روزہ خوشائی پر فارس انکل کو بھی بلائیں گئے ہر بار وہ ہماری برتھ ڈے پر پورا لاونج غباروں سے سجاتے تھے ۔۔ اتنا بڑا کیک لاتے تھے اور بیگ نانا کو بھی بلائیں گئے وہ میرے لئے اسپورٹس کار لیکر آتے تھے ” ایمان کی بات پر حمنہ اور اصفر کی نظروں کا تصادم ہوا تھا دونوں ہی اگلے لمحے نظریں چرا گئے تھے ۔۔۔ فارس کا ذکر ہی کچھ ایسا تھا پچھلے چھ سالوں میں فارس حمنہ اور بچوں کی زندگی میں کسی فرد کی طرح سے شامل رہ چکا تھا ۔۔۔۔ اس لئے بچوں باتوں میں فارس کا ذکر ہمیشہ رہتا تھا البتہ حمنہ اس کا نام اپنی زبان پر کبھی نہیں لائی تھی ۔۔۔ وجہ شاید یہ تھی کہ اصفر کو شاید یہ اچھا نہیں لگتا ۔۔۔۔

اصفر نے ایمان کو کوئی جواب نہیں دیا بات کو ٹال گیا تھا ۔۔۔۔

******……..

ہمزہ نے دھیرے دھیرے سے ناہید کی آنکھوں سے ہاتھ ہٹایا تھا ۔۔۔۔ سامنے بنے بورڈ پر بڑا سا امینہ گرلز اسکول لکھا تھا ۔۔۔۔ ناہید کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ اب وہ ہمزہ کو دیکھ کر خوشی سے چپک کر بولی

” ہائے ہمزہ باو کہنا ودیا اسکول بنایا ہے تو نے پھپی کے نام دا “

” ہاں اسکول تو بنا لیا لیکن ووہٹی جی کی زبان کو ابھی تک نہیں بدل سکا ۔۔۔ شوہر کو” تو “نہیں آپ کہتے ہیں ۔۔۔۔ ناہید نے ہمزہ بات پر توجہ نہیں۔ دی بس اسکول کے اندر داخل ہو گئ ۔۔۔۔ بہت خوبصورتی سے اسکول کو بنایا اور سجایا گیا تھا

پرنسپل کا آفس دیکھ کر ناہید کے منہ میں پانی بھر آیا ہمزہ بڑے میٹھے انداز سے کہنے لگی

” ہمزہ مجھے تو اسکول میڈیم صاحب بنا دے ہائے رب دی سوں ناہید دا ٹیکا پورے پینڈ ویکھے گا ” یہ کہہ کر وہ سامنے کرولنگ چیر پر دڑھم سے بس بیٹھی اور کرسی گول گھمایا ۔۔۔ جسے ہمزہ نے آکر رکا تھا پھر ناہید کے قریب ہو کر بولا

” میری جان جگر اس کرسی کے لئے پنج جماعتیں بہت کم ہیں اس لئے تمہارے لئے میں نے ایک اور کرسی بنوائی ہے آؤں میرے ساتھ ” یہ کہہ کر ہمزہ نے نائیڈو کا ہاتھ پکڑا اور پرنسپل کے آفس سے باہر لے جا کر چھٹی جماعت کے کمرے میں لے گیا ۔۔۔ اور رکھے بینچ پر بیٹھا دیا ۔۔ ناہید حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔

” یہاں بیٹھا کرو گی اور اگلے تعلیم حاصل کرو گی ۔۔۔۔ ” یہ سن کر تو ناہید کے ہوش اڑنے لگے تھے ۔۔۔ فورا سے کھڑی ہو گئ

” ہائے میں مر گئی ہمزہ ۔۔ نکیاں نکیاں بالڑیاں نال تو مینوں بیٹھائے گا ۔۔۔۔۔ پورے پینڈ دی لڑکیاں مینوں ویکھ ہسن گئ نا رہن دے میں گھر وچ ای چنگی آں ۔۔۔۔ ” ناہید بری طرح گھبرائی تھی ۔۔۔۔ سوچ کر ہی دل دہلا تھا ۔۔ ہمزہ نے اسے دونوں بازوں سے پکڑ کر بڑی رسانیت سے بات شروع کی

” ناہید یہ میری خواہش ہے ۔۔۔۔ اور تین حاصل کرنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی بہت سی خواتین کو میںنے بڑی عمر میں بھی تعلیم کے خوبصورت زیور سے آراستہ ہوتے دیکھا ہے ۔۔۔۔

” رین دے نا ہمزہ تینوں نئیں پتہ فرازنہ میرا بڑا مزاق اڑانا اے” ناہید کو یہ سوچ سوچ سبکی سی محسوس ہونے لگی تھی

” اتنی ہمت ہے کسی میں کہ میری ناہید کو کچھ کہہ جائے لوگوں کی پروا مت کرو بس اپنے مقصد پر دھیان دو ۔۔۔ میرا تمہاری پوری مدد کروں گا اور میرا وعدہ کہ جب تم ایم اے کر لو گی تو پرنسپل کے آفس میں کرسی تمہیں اپنی منتظر نظر آئے گی ۔۔۔۔ ” ہمزہ کوئی بات ناہید کو تسلی نہیں بخشی دہی تھی ۔۔۔

” ہمزہ ؟” اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور دلیل دیتی ہمزہ نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔۔

” میرے خاطر اتنا بھی نہیں کر سکتی ہو ناہید ۔۔۔ دیکھوں ابھی کچھ دن میں ہم مری گھومنے جائیں گئے اس کے اجر تم پوری توجہ پڑھائی کو دو گی ۔۔۔ اور اردو پر خاص توجہ دو گی ۔۔۔ ٫ مری کاسن کر ناہید کی آنکھوں چمک ہی بدلی تھی ۔۔ ہمزہ نے اسکے منہ سے ہاتھ پیچھے ہٹایا

” سچی ہمزہ ۔۔۔ توں مینوں مری لے کے جائیں گا “

” ہاں بلکل “

” ہائے میں مر گئی ۔۔۔ سوہنے سوہنے نظارے ۔۔۔ اوچے اوچے پہاڑ ۔۔۔ ۔۔ ٹھیک ہے۔ ہمزہ مینوں کوئی اعتراض نئیں ۔۔۔ میں نوں تیری گل منظور اے”

ناہید مری کی تفریح کا سوچ کر خوش ہوئی تھی

******…….

نوفل مائرہ کو اپنے حصار میں لئے بول رہا تھا

” ماہرہ ہم بہترین دوست ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ یہ دوستی۔ ہمیشہ برقرار رہے ۔۔۔ میری طرف سے آپ پر کوئی پابندی نہیں ہے جو چاہیں کہیں ۔۔ بس ہنستی مسکراتی رہا کریں ” ماہر اب بھی اسکے حصار سے لگی کپکپا رہی تھی ۔۔۔۔۔ دل کی دھڑکنوں کا شور اسے اب بھی بے چین کر رہا تھا ۔۔۔۔ بے شک وہ اسکا شوہر تھا لیکن اتنا آسان تو نہیں تھا کہ زریاب جیسے جذبات وہ اسکے لئے اتنی جلدی محسوس کرنے لگے ۔۔۔ نوفل اسکی جھجک کو محسوس کر چکا تھا ۔۔۔۔۔ اس کے دل کا مکیں بننے کا ارادہ تو اسی دن کر چکا جب کچن میں کھڑے مائرہ نے اس سے صاف کہہ دیا تھا کہ دل میں اسکی گنجائش نہیں ہے ۔۔۔۔ سوچ چکا تھا کہ پیچھے نہیں ہٹے گا ۔۔۔

” ایک بار مجھے اپنی زندگی میں تو آنے دیں مائرہ ۔۔۔ دل تک کیسے رسائی کرنی ہے یہ نوفل اچھی طرح سے جانتا ہے ۔۔۔۔ اور اب اسی کی ابتدا کرنے جا رہا تھا ۔۔۔ مائرہ کو خود سے جدا کر کے اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا ۔۔۔

” میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں مائرہ ۔۔۔۔۔ اور جانتی ہیں کب سے ۔۔۔؟ جب سے آپ کو نکاح میں قبول کیا تھا میرا دل بدلنے لگا لیکن اس دن جب آپ نے مجھ پر اپنا حق جمایا ۔۔۔ مت پوچھیں میرے اندر کیسی ہل چل مچا دی تھی ۔۔۔ نا بے چین دل کو قرار آیا تھا نا نظروں کو ایک پل چین ۔۔۔۔ نیند اڑ کر رہ گئیں تھیں میری ۔۔۔ ” نوفل نے جو بات اسے یاد دلائی تھی مائرہ کے دل کی دھڑکنیں مزید بڑھانے کے لئے کافی تھی ۔۔۔ پہلے وہ خوف کے زیر اثر تھی ۔۔۔ خود کو بڑی مشکل سے اس رشتے کے لئے راضی کیا تھا وہ بھی صرف زریاب کی خوشی کی خاطر ۔۔۔ ذہن میں اب بھی زریاب تھا ۔۔۔ لیکن جو بات نوفل شروع کر چکا تھا ۔۔۔ مائرہ اپنی کی جانے والی حرکت پر نئے سرے سے شرمندگی سی ہوئی تھی ۔۔۔ وہ پہلے ہی اس سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی اور اب تو مزید جھکا گئ تھی

” مجھے آپ سے اظہار محبت سننا ہے ” ابھی وہ اسی کیفت سے باہر نہیں آئی تھی کہ نوفل کی اگلی فرمائش نے اسے مزید نروس کر دیا تھا اس کے ہاتھوب کو اپنے چہرے سے ہٹا کر وہ دامن بچانے کی کوشش کرنے لگی

” میں پہلے تم سے کہہ چکی ہوں کہ ” ۔

” مجھے اظہار محبت سننا ہے۔ ماہرہ ۔۔۔ سچ کہنے کو کس نے کہا ہے ۔۔۔۔ ” مائرہ کے شانوں پر اپنے دونوں بازو رکھ کر اسکے سارے راستے بند کیے تھے ۔۔۔ عجیب مشکل میں وہ اسے ڈال چکا تھا

” کہیں نا مائرہ کہ نوفل میں آپ تم سے بہت محبت کرتی ہوں ۔۔۔۔ کہیں مجھ سے کہ جس دن مجھ پر آپ مہربان ہوئیں تھیں نیند تو آپ کو سکون سے نہیں آئی تھی ۔۔۔۔ چین تو آپ کا بھی کھونے لگا تھا ۔۔۔۔ دل کی دھڑکنوں نے ادھم تو آپکے دل نے بھی مچا دی تھی ۔۔۔۔ جبھی مجھ سے نظریں چرانے لگیں تھیں ۔۔۔۔ مجھ سے کترانے لگیں تھیں ۔۔۔۔ کہیں مائرہ ۔۔۔۔ ” مائرہ کی ساری کیفیت وہ اسے بڑے مخمور لہجے میں بتا رہا تھا ۔۔۔۔ مائرہ بری طرح سے نروس ہوئی تھی اپنے دل کا حال اسکے منہ سے سن کر پھر وہ اس سے کہنے لگا

“بے شک یہ سب جھوٹ ہے ۔۔۔۔ آپ کے ساتھ تو ایسا کچھ نہیں ہوا ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی مجھے سننا ہے ۔۔۔ ” ایک سچ کو وہ اگلے ہی لمحے جھوٹ کہہ گیا تھا ۔۔۔۔ یہ بھی جانتا تھا کہ سچ ہے ۔۔۔ لیکن یہ پتہ تھا کہ بیوی اس بات کو اتنی جلدی ماننے گی نہیں کہ دل کی ڈور اسکی بھی نوفل کے دل کے ساتھ بندھ چکی ہے ۔۔۔۔۔ اس لئے سچے اظہار کو جھوٹ کے لبادہ پہنائے ہی صحیح لیکن اظہار مائرہ سے سننا چاہتا تھا یہ دل کی خواہش تھی اور اپنا حق بھی ۔۔۔۔ لیکن وہ چپ تھی نظریں جھکائے اپنی بے ترتیب دھڑکنوں کو اعتدال پر لانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔ نوفل سے اظہار ہی مشکل تھا کجا محبت کا اظہار کیسے کرتی ۔۔۔۔ مائرہ کے چہرے کی بد حواسی دیکھ کر وہ بولا

” مائرہ آج خلاصی ممکن ہی نہیں ہے میں رات بھرا یہیں کھڑا آپ کے اظہار کا منتظر رہوں گا ” یہ کہہ کر گویا نوفل نے اسکی ہر راہ بند کی جس سے دامن بچاتی ۔۔۔۔ مائرہ نے اپنی آنکھیں بند کیں ۔۔۔ اسکی آنکھوں کی وافتگی دیکھتے ہوئے تو لب کہنے سے انکاری تھی ۔۔۔

” نوفل۔۔۔۔ میں آپ سے ۔۔۔ ” بڑی مشکل سے وہ بس یہی کہہ پائی تھی جب کمرے کا دروازہ بری طرح سے کھڑکا تھا ۔۔۔ یوں لگا جیسے کوئی پاؤں زور زور سے دروازے پر مار رہا تھا ۔۔۔ نوفل اور مائرہ دونوں ہی چونکے تھے ۔۔۔ نوفل کے بازو خود سے پیچھے کر کے مائرہ جلدی سے دروازے کی جانب بڑھی تھی

” اس وقت کون ہے ” نوفل کو جتنا غصہ آتا اتنا کم تھا ۔۔۔ دل کی خواہش بس پورے ہونے کے در پر ہی تھی کہ ۔۔۔۔۔

” ولی ہو گا ۔۔۔” مائرہ نے کہہ کر دروازہ کھولا سامنے ولی صاحب نیند سے بوجھل آنکھیں لئے غصے سے دونوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ نوفل اسے دیکھ کر زچ کی آخری حد پر پہنچا تھا کس موقعے پر ولی نے اسکے ارمانوں پر پانی پھیرا تھا ۔۔۔۔ نوفل دروازے کی طرف بڑھا

” تمہیں میں عائزہ آپی کے پاس سلا کرایا تھا ۔۔۔ جاگ کیسے گئے تم ” اس وقت نوفل کو اسکے جاگ جانے پر بھی غصہ آنے لگا تھا جسے وہ ضبط کر رہا تھا

” مجھے مما کے پاس سونا ہے ۔۔۔۔۔ ” مائرہ کا ہاتھ پکڑے وہ بیڈ پر چلا گیا ۔۔۔ نوفل بس اسے بیچارگی سے دیکھتا ہی رہ گیا تھا ۔۔۔۔

مائرہ ولی کے ساتھ بیڈ پر لیٹ گئ ۔۔۔۔ نوفل بیڈ کی دوسری جانب بے دلی سے لیٹ گیا ۔۔۔۔ لیکن دل کو آج کہاں چین تھا ۔۔۔۔ بہت کچھ مائرہ سے سننا چاہتا تھا لیکن ولی نے ملیا میٹ کر دیا تھا ۔۔۔۔ پہلے تو نوفل دائیں بائیں کروٹیں بدلتا رہا سونے کی نا کام کوشش کرتا رہا ۔۔۔ لیکن جب چین نہیں آیا تو مائرہ کی جانب کروٹ بدل کر اس کا ہاتھ تھام لیا ولی مائرہ کے بازو پر سر رکھے لیٹا تھارخ نوفل کی جانب تھا جب نوفل کے ہاتھ میں مائرہ کا ہاتھ دیکھا تو مائرہ کا ہاتھ کھنچ کر اپنے سینے پر رکھ لیا ۔۔۔

” یہ میری مما ہیں ” ولی کو نا جانے کس بات کی خار ہو رہی تھی باپ سے۔۔۔۔ تیوری چڑھائے بڑے غصے سے نوفل سے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔ مائرہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی نوفل اسے تعجب اور غصے کے ملے جلے جذبات سے دیکھ رہا تھا ۔

” ہاں تمہاری ہی ماں لیکن میری بھی تو کچھ لگتیں ہیں کہ نہیں “

۔۔ مائرہ کو بھی شرارت سی سوجی تھی

” آپ ہی بیٹا ہے ۔۔۔۔ اپنا حق لینا جانتا ہے “

نوفل نے کن اکھیوں سے مائرہ کو دیکھا تھا ۔۔۔

” ہاں ۔۔۔۔ لیکن میں بھی باپ ہوں اس کا ۔۔۔۔ اس کا تو ایسا انتظام کرو گا کہ یاد کرے گا ” یہ کہہ کروٹ بدل کر لیٹ گیا ۔۔۔۔۔

ارمانوں بھری یہ رات بھی ولی صاحب کی نظر ہو چکی تھی ۔