341.6K
4

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tum Or Eid Episode 2

Tum Mein Or Eid by Umme Hani

” ڈاکٹر بیگ میں نہیں آ سکتا ہوں مری آپ سمجھتے کیوں نہیں ڈاکٹر حمنہ اور ڈاکٹر اصفر ہیں تو۔۔۔۔ سنبھال لیں گئے سب اور باقی بھی بہت سئنر ڈاکٹر موجود ہیں ” فارس نے فون پر ڈاکٹر بیگ کو مری آنے سے صاف انکار کیا تھا

” فارس مجھے کوئی ایکسکیوز نہیں چاہیے عید کے دوران یہاں لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے اور ایکسڈنٹ کیسز بھی بہت ہوتے ہیں ۔۔ تم لائبہ کو لیکر آ رہے ہو بنا کسی بہانے کے ۔۔۔ اور یہ میرا حکم ہے ” ڈاکٹر بیگ نے بھی فارس کو دھمکی کے انداز میں کہہ کر فون بند کر دیا ۔۔۔ فارس نے فون بیڈ پر لاپروائی سے پھنک دیا ۔۔۔ لائبہ اسے غصے میں دیکھ کر کچھ نہیں بولی اسے پتہ تھا کہ فارس کچھ بھی کر سکتا ہے لیکن ڈاکٹر بیگ کو منع نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ فرساپنس جی جلاتے ہوئے بولا

” سمجھتے کیا ہیں خود کو ۔۔۔ جب دیکھوں میرا باپ بننے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔ میری اپنی بھی کوئی لائف ہے ۔۔۔۔ لیکن نہیں ۔۔۔ بس حکم دے کر سمجھ لیا کہ فارس تو حکم کا غلام ہے انکار کر ہی نہیں سکتا لیکن میں بھی نہیں جاؤں گا ” فارس اپنا غصہ نکال رہا تھا ۔۔۔ لائبہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی پھر وہ لائبہ کو چپ دیکھ کر اسے گھورتے ہوئے بولا

“یہ تمہاری بولتی کیوں بند ہے ۔۔۔۔ “

” مجھے آپ کے غصے سے ڈر لگتا ہے ” لائبہ کی شادی کو بس دو ماہ ہی تو گزرے تھے ۔۔۔ پھر وہ پہلے بھی فارس سے گھبراتی تھی ۔۔۔ فارس اس سے قریب ہو کر بیٹھ گیا اپنا موڈ بھی بحال کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔

” اتنا بھی خطرناک نہیں ہوں میں لائبہ کہ تم مجھ سے بات کرتے ہوئے بھی یوں گھبراؤ ۔۔۔ میرا تو مزاج ہی بہت شوخ تھا ۔۔۔ ہر وقت میں ہنستا ہنساتا رہتا تھا جب تک کہ حمنہ میری زندگی میں تھی ۔۔۔۔۔” یہ کہہ کر فارس کی زبان کو برجستہ بریک لگی تھی ۔۔۔ جلدی بازی میں شاید کچھ غلط کہہ گیا تھا

لائبہ کی جانب دیکھا تو وہ نظریں چرا گئ ۔۔۔۔ آنکھوں میں بھری نمی صاف کرنے لگی ۔۔۔ فارس کو خود پر غصہ آنے لگا تھا

“لائبہ ایم سو سوری وہ ۔۔۔۔ “

ذ” معذرت کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو ۔۔۔ میں جانتی ہوں میں کچھ کر لوں آپی کی جگہ شاید لے ہی نہیں سکتی ” یہ کہہ وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئ

“” شٹ ۔۔۔۔ “” فارس خود سے بری طرح سے جھنجھلایا تھا

” آج پھر رولا دیا میں نے اسے ۔۔۔۔ جلد بازی میں ایک غلط فیصلہ کر لیا ہے ۔۔۔۔ مجھے شادی کرنی ہی نہیں چاہیے تھی ۔۔۔ خود تو جس آگ میں جل رہا ہو اس سے

خاک ہو ہی رہا ہو لیکن لائبہ ہو نا جانے کیوں اپنے ساتھ اس آگ میں کھنچ کر لے آیا ۔۔۔ ہر لڑکی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ شوہر کے گھر کے ساتھ ساتھ شوہر کے دل پر بھی راج کرے ۔۔۔ دل ۔۔۔۔ کم بخت اس دل نے ہی تو مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا ہے ۔۔۔۔

بس میں نہیں ہے میرے آج بھی حمنہ کے نام پر دھڑکتا ہے ۔۔۔۔ ” ایک بے بسی سی فارس پر طاری تھی ۔۔۔ پھر خود بھی کمرے سے باہر نکل گیا لائبہ سسکیوں سے رو رہی تھی ۔۔۔ فارس پشیمان سا اس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔ فارس کو دیکھ کر لائبہ نے جلدی سے آنسوں صاف کر لئے

” غلطی کر دی میں نے لائبہ ۔۔۔۔ مجھے تم سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی ۔۔۔ ” فارس نے نظریں چراتے ہوئے کہا ۔۔۔

” نہیں یہ بات نہیں ہے ۔۔۔ بس شاید میں ہی آپ کو ایسی محبت نہیں دے سکی کہ آپ پچھلا سب کچھ بول جاتے ” لائبہ کی بات پر اس کا دل کٹ کے رہ گیا تھا لائبہ نے اس دو ماہ میں اپنی ہر اس عادت کو بدلنے کی کوشش کی تھی جو فارس کو پسند نہیں تھی ۔۔۔اس کا خیال بھی بہت رکھتی تھی ۔۔۔

” ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔ تم نے تو مجھے اس مقام پر لا کر بیٹھا دیا ہے جو مجھ جیسا بندہ ڈیزو ہی نہیں کرتا تھا ۔۔۔۔ میرا سب کچھ تمہارا ہے لائبہ ” فارس اسے اپنے ساتھ لگائے بولا وہ اس کے ساتھ لگی سسکتے ہوئے دل گرفتگی سے بولی ۔۔۔

” بس ایک آپ کا دل میرا نہیں ہے ۔۔۔۔ ” فارس کے دل کے مقام پر سر رکھ کر بولی

” او کم آن یار یہ بھی تمہارا ہی ہے ۔۔۔۔ بس تھوڑا سا وقت دو مجھے ۔۔۔۔ با خدا بہت کوشش کرتا ہوں کہ تم سے انصاف کر سکوں ۔۔۔۔ ” بے بس تو وہ بھی بہت تھا لائبہ کو ساتھ لگائے نم آنکھوں سے سوچنے لگا کہ ۔۔۔۔ معاملہ جب دل پر آ جائے تو ۔۔۔۔ انسان کی ہر کوشش بے کار سی ہونے لگتی ہے اور ابھی تو زخم بھی تازہ تھا ۔۔۔ اس پر ڈاکٹر بیگ کا اصرار ۔۔۔ وہ نا چاہتے ہوئے بھی اگلے روز تیار ہو کر لائبہ کے ساتھ مری کے لئے روانہ ہو گیا تھا ۔۔۔

******…….

نیناں اور شاہزیب ٹرین کے ذریعے پنڈی پہنچے تھے نیناں نے پہلی بار ٹرین کا سفر کیا تھا ۔۔۔ شاہزیب نے سارا سفر سو کر گزارا تھا البتہ ہادی اور سعدی نے بہت انجوائے کیا تھا ۔۔۔۔ دوسری طرف عزیر اور ہادیہ جہاز کے ذریعے پنڈی پہنچے تھے اسلام آباد کی فلائٹ انہیں عید کے رش کی وجہ سے مل نہیں رہی تھی ۔۔۔ ہوٹل میں کچھ گھنٹے کے اسٹے کے بعد ہی انہیں مری روانہ ہونا تھا

” عزیر میں بس میں سفر نہیں کروں گی پلیز پروائٹ کار کا انتظام کریں ” ہادیہ پنڈی کے ہوٹل کے روم میں بھی تھی دوپہر کو ہی انہیں مری کے لئے نکلنا تھا

” لوگوں کا بہت رش ہے مسز پروایٹ کار تو ممکن نہیں ہے لیکن ایک بڑی ہائیکس ہے چوبیس سیٹوں کی ۔۔۔۔ میرے خیال سے تم کنفرٹیبل رہو گی ۔۔۔”

” لیکن عزیر ” ہادیہ کا سفر کا سوچ کر جی کی متلانے لگا تھا ۔۔۔

“میں میڈسن میں تمہیں سحری میں دے چکا ہو ۔۔۔ تم بس سو کر پورا سفر گزار لینا ۔۔۔ بلکل ڈسڑب نہیں کروں گا تمہیں میری کندھے پر سر رکھ کر بے خبر ہو جانا ” عزیر اسکی حالت دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ اسے ایسے سفر میں کیا پریشانی لاحق ہوتی ہے ۔۔۔ اس لئے اسے چھڑتے ہوئے کچھ حسین پل یاد دلانے لگا ہادیہ نے کن انکھیوں سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔ سفر کا سوچ سوچ کر ہادیہ پریشان تھی

ہائیکس پہلے اسلام آباد جانی تھی اسکے بعد مری کے لئے روانہ ہونی تھی ۔۔۔ پورا پیکج۔ تھا مری ہے ایک ہوٹل کی ڈیل تھی پنڈی کے سفر سے لیکر مری میں ہوٹل کی رہائش اور وہ کے خوبصورت مقامات کی سیر ایک ہفتے کا پیکج تھا دوپہر کو ہی وہ لوگ بس اسٹاپ پر پہنچ گئے تھے اپنی مطلوبہ ہائیکس پر سوار ہوئے تھے

اس وقت عزیر اور ہادیہ کے علاؤہ اس ہائیکس میں

نیناں اور شاہزیب بھی بچوں کے ساتھ پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔

اسلام آباد تک تو انکے سب کے مابین کچھ خاص گفتگوں نہیں ہوئی تھی ۔۔۔ ہادیہ نیند کی میڈسن بھی کھا چکی تھی اس لئے گاڑی کے چلتے ہی وہ کچھ ہی دیر میں سو گئ تھی ۔۔۔ ہادی اور سعدی پوری بس کی سیٹوں پر راج کر رہے تھے ۔۔۔ البتہ نیناں نے اتنا لمبا سفر زندگی میں پہلی بار کیا تھا اس لئے چہرہ کچھ اتر سا گیا تھا پھر تھکن بھی بہت محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ زینب عزیر کی گود میں بیٹھی پیچھے مستیاں کرتے ہادی اور سعدی کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

دوسری طرف نوفل نے بنا پیشگی اطلاع دیئے ہی مری جانے کی تیاری شروع کر دی تھی ۔۔۔ مائرہ بوکھلا کر رہ گئ تھی ۔۔۔

” نوفل یوں۔ اچانک مری ۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔ ” مائرہ سمجھ نہیں پا رہی تھی ایک دم سے مری کی کیاسوجی ہے اور نوفل الماری سے کپڑے نکال کر بیگ میں ٹھونس رہا تھا “

” مائرہ وقت نہیں ہے ۔۔۔۔ بس والا ہمارا انتظار نہیں کرے گا ۔۔۔۔”

” ہم بس میں جائیں گئے نوفل ؟ جب گاڑی ہے تو پھر بس میں کیوں “

” بس نہیں ہے ہائیکس ہے پورے ایک ہفتے کا پیکج ہے ۔۔۔۔ گاڑی ہوٹل کھانا سب ان کا اور سیر تفریح بھی وہی کروائیں گئے ۔۔۔۔ ” نوفل نے جلدی سے بیگ کی زپ بند کی وقت پر ہی وہ بس کے اڈے پر پہنچ گئے تھے جہاں ہائیکس کھڑی تھی ۔۔۔۔ تیسری فیملی بھی اب بس میں سوار ہو چکی تھی ۔۔۔ اور وہ تھی نوفل اور مائرہ کی

عزیر کی شاہزیب سے بس سرسری سی بات ہوئی تھی ۔۔۔ لیکن دونوں کے شوق تقریبا ایک جیسے تھے اس لئے باتوں کا سلسلہ جب چل نکلا تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں کے رہا تھا ۔۔۔۔ ہادیہ سو چکی تھی اور نیناں بور ہو رہی تھی ۔۔۔۔ میاں کو فورا سے دوستی پالنے کا شوق تھا ۔۔۔۔ کیا تھا کہ تھوڑا سا وقت بیوی کو ہی دے دے ۔۔۔۔ نیناں نے دل گرفتگی سے سوچا ۔۔۔ شاہزیب کو یہ سن کر بھی حیرت ہوئی کہ عزیر بھی کراچی میں رہتا ہے اور وہیں۔ سے آیا ہے ۔۔۔

” یار ہماری کراچی میں پہلے کبھی ملاقات کیسے نہیں ہوئی ۔۔۔۔تم تو آدمی ہی بڑے دل چسپ ہو ” شاہزیب عزیر کی باتوں سے خاصا متاثر ہوا تھا ۔۔۔۔

” بس اتفاق ہے کہ ملاقات یہیں مری کے سفر کے دوران ہی ہونی تھی ۔۔۔ لیکن اب ہم مل گئے ہیں انشا اللہ کراچی میں بھی ملتے رہیں گئے ” عزیر نے جواب دیا شاہزیب کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی

” تمہیں دیکھ کر لگتا ہے ہمادی بہت جمنے والی ہے ۔سالوں دوستی رہے گی ہماری ویسے بھی میں دوسری کے معاملے میں بٹا بے تکلف ہوں ۔۔۔ ” شاہزیب نے کہا اور عزیر کا ہاتھ پکڑ ذرا سا دبایا ۔

” دوستی تو میں بھی مدتوں نبھانے کا قائل ہوں ۔۔۔ ایک ہی دوست ہے میرا نوید ۔۔۔۔ اسکول کالج یونیورسٹی کے بعد اب تک اس سے دوستی ہے ۔۔۔ اب تو وہ بہنوئی بھی ہے میرا لیکن ہم اب بھی دوستوں کی طرح ہی ملتے ہیں ۔۔۔ ” عزیر کو نوید کا خیال آتے ہی دل میں ٹھنڈک کا احساس اترا تھا صوفیہ بہت خوش تھی اسکی سنگت میں

شاہزیب

۔۔۔۔ نیناں کی طرف دیکھنے لگا جو بیزاری کی آخری حد پر تھی ۔۔۔۔ کچھ شاہزیب کو عزیر کی سنگت پسند آگئ تھی اور کچھ نیناں کو جان بوجھ کر بھی اگنور کر رہا کیونکہ وہ ہادی اور سعدی کو اپنے ساتھ لائی تھی ۔۔۔ اس لئے اسے کچھ موڈ دیکھا رہا

“میناں تم جا کر وہاں لیڈیز میں بیٹھ جاؤں ۔۔۔ عزیر یار تم یہاں آ جاؤں میرے پاس ذرا کھل کے باتیں ہوں تو مزہ بھی آئے گا ۔۔۔” شاہزیب کی بات پر مجبورا نیناں کو اٹھ کر ہادیہ کے برابر میں بیٹھنا پڑا ۔۔۔ شاہزیب تو اس کے بعد نیناں کو بھول ہی گیا تھا ۔۔۔۔ اگر ہادیہ جاگ رہی ہوتی تو کچھ کمپنی نیناں کو بھی مل جاتی زینب بھی اب عزیر کی گود سے اتر کر ہادی اور سعدی کے پاس جا کر بیٹھ گئ تھی ۔۔۔۔ بچوں کی اپنی ہی باتیں تھیں کاٹون گیمز کی

کچھ دیر ہی گزری نیناں موبائل پر رباب سے چیٹ کر رہی تھی جب ہادیہ نے اسکے شانے کو تکیہ بنایا تھا اور اپنا ہاتھ اسکی شانے پر رکھ کر کروٹ لیکر اپنا آدھے سے زیادہ وزن نیناں ہر ڈال چکی تھی ۔۔۔۔ نیناں پہلے تو چونک ہی گئ تھی لیکن پھر اپنے چہرے کو زرا س جھکا کر ہادیہ کو دیکھنے لگی جو گہری نیند میں تھی ۔۔۔ پہلے تو سوچا کہ اسے جگا دے کیونکہ وہ خود نازک سی تھی دس منٹ تو یہ سب برداشت بھی کر لیتی اتنا لمبا سفر اپنے کندھے کو کسی کا تکیہ نہیں بنا سکتی تھی ۔۔۔۔

لیکن کہہ نہیں پائی ۔۔۔ عزیر پورا رخ شاہزیب کی طرف کیے اسے چوہدری کا قصہ سنا رہا تھا ۔۔۔۔ اپنی بہادری کے جوہر بتا رہا تھا اور شاہزیب اپنی بائیک کی پھرتیاں اسے بتا رہا تھا جب گاڑی اسلام آباد کے بس اڈے پر رکی تھی ۔۔۔۔ کچھ دیر میں تیسری سواری بھاگ بہاری بھی سوار ہو چکی تھی ۔۔۔۔ عائزہ اور منزہ زینب کے پاس جا کر بیٹھ گئیں اور ولی وہ ماں کی گود میں بیٹھا ہوا تھا کھڑکی کی جانب مائرہ بیٹھی تھی اور نوفل اسکے ساتھ ۔۔۔۔ کچھ دیر تو وہ عزیر اور شاہزیب کی باتیں ہی بنا کسی دلچسپی سے سنتے رہے ۔۔۔ پھر نوفل مائرہ کی طرف دیکھنے لگا اس کے کان کے قریب جا کر بولا

” آپ کو میرا سرپرائز کیسا لگا مائرہ ۔۔۔ “

” اچھا ہے ” مائرہ کو یہ افراتفری اچھی تو نہیں لگی تھی لیکن بچے خوش تھے اور نوفل بہت خوش تھا اس لئے یہی جواب دینا ٹھیک لگ رہا تھا

” مائرہ جو باتیں اس دن ادھوری رہ گئیں تھیں وہ مری میں جا کر کسی حسین سے منظر کے سامنے کہنا اور سننا آپ کو اور بھی دلفریب سا لگے گا بہت ساری باتیں کرنی ہے مجھے آپ سے اور سننی بھی ہے ۔۔ پیار بھری ۔۔۔۔ محبت کے اظہار سمیت ” مائرہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی مائرہ کا ہاتھ نوفل کے ہاتھ میں تھا ۔۔۔ مائرہ اور نوفل کی سیٹ نیناں اور ہادیہ کے بلکل پیچھے تھی اگلی سیٹ پر بیٹھی نیناں کا ان دونوں کی باتیں سن کر جی جل کر خاک ہوا تھا ۔۔۔ ایک یہ میاں بیوی ہیں تین بچوں کے بعد بھی میاں کتنا رومنٹک ہے ۔۔۔۔ مری میں جا کر وقت کیسے گزارنا ہے یہ پلان کر رہے ہیں

اور ایک شاہزیب ہیں بس اپنی ون ویلنگ اور نو ون ویلنگ سے ہی فرصت نہیں ملتی ۔۔۔ خود تو گپیں ہانک رہے ہیں اور میرا کندھا آج ویسے ہی جواب دے جائے گا اس سے بہتر تھا کہ میں یہاں آتی ہی نا کراچی میں نمی اور روبی کے ساتھ ہی عید کر لیتی ۔۔۔ نیناں کو اپنے آنے پر افسوس ہو رہا تھا

۔ گاڑی اب مری کی جانب گامزن ہونے والی تھی کہ ایک خاتون نے باقاعدہ گاڑی کے سامنے کھڑے ہو کر گاڑی کو روکا تھا ۔۔۔۔ گاڑی بڑی زور کے جھٹکے سے رکی تھی ۔۔۔۔ سب کے سب ہی اپنی جگہ سے ہل کر رہ گئے تھے سوائے ہادیہ کہ جو بس ذرا سا نیناں کے کندھے سے کھسکی تھی لیکن اگلے ہی لمحے پھر اسکے کندھے پر سر رکھ چکی تھی ۔۔۔ ہائیکس کا دروازہ پوری قوت سے دھڑدھڑایا گیا تھا سب ہی کی نظریں دروازے پر تھیں شیشے سے ناہید کی شکل دیکھ کر عزیر نے حیرت سے زیر لب اس کا نام لیا اور پھر دروازہ کھول دیا ۔۔۔۔

عزیر کو دیکھ کو ناپید کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی

” ہائے میں مر گئی عزیر ! تو ایتھے کیتھے ” ناہید نے حیرت سے پوچھا ڈرائیور کچھ متذبذب سا ہوا تھا کہ خاتون آتے ہی تعلقات جوڑنے لگی ہے

“کون ہو آپ لوگ اور محترمہ خود کشی کا ارادہ تھا تو کسی اور گاڑی کے سامنے آ جانا تھا ۔۔۔۔ ” ڈرائیور چڑ کر بولا

” مرن میرے دشمن ” ناہید نے جواب دیا اور اندر اگی اسکے پیچھے ہمزہ کو دیکھ کر عزیر نے اسے سلام کیا تھا ۔۔۔

” آپ یہاں ۔۔۔۔ ” ہمزہ نے بھی عزیر کو دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا تھا ۔۔

۔ ” ہم تو مری عید کرنے جا رہے تھے اور آپ لوگ؟ ” جتنی حیرت ہمزہ کو عزیر کو دیکھ کر ہوئی تھی اتنی ہی عزیر کو بھی ہوئی تھی

“ہم بھی مری ہی جا رہے لیکن بس خراب ہو گئ اس لئے سوچا لفٹ مانگ لوں لیکن مجھ سے پہلے تو ناہید کو جلدی تھی ۔۔۔ اس لئے گاڑی کے سامنے ہی کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔ “, ہمزہ نے ناہید کو گھورتے ہوئے عزیر کو وضاحت دییکن ناہید کو کچھ خاص پروا نہیں تھی

” یہ کہاں سدھر سکتی ہے ۔۔۔ آؤں تم لوگ ” عزیر نے ایک تاسف سی نظر ناہید پر ڈالی اور پھر ڈرائیور سے کہا کہ یہ ہمارے ساتھ ہیں ہمزہ عزیر کے سامنے سیٹ پر ہی بیٹھ گیا اس سے پہلے کہ عزیر شاہزیب سے ہمزہ کا تعارف کرواتا ۔۔۔ ناہید کی نظر سوئی ہوئی ہادیہ پر پڑی ۔۔۔

ہائے پرجائی ” اس سے پہلے کہ ناہید ہادیہ کی طرف بڑھتی عزیر نے فورا سے ٹوک دیا ۔۔۔

“ناہید پلیز اسے مت جگانا ۔۔۔ اگر یہ اٹھ گئ سب کا سفر خراب ہو جائے گا ۔۔۔ “, عزیر کی بات سن کر ناہید نے منہ کےزاوہے بگاڑے تھے ۔۔۔ اور وہ دوسری سیٹ پر بیٹھ گئ ۔۔۔ نوفل اور مائرہ کو ہی دیکھ رہے تھے ۔۔۔

” یہ کیا چیز ہے ؟ ” نوفل نے دھیرے سے مائرہ سے کہا

” بہت عجیب ہے ” مائرہ نے ناہید کا سر سے پیر تک جائزہ لیا تھا حلیہ اس کا خاصا سوبر سا تھا لیکن انداز بلکل مختلف تھے اچھی خاصی خوبصورت لڑکی تھی لیکن جب تک چپ چاپ بیٹھی رہتی ۔۔۔

نیناں بھی ناہید کو ہی دیکھ رہی تھی جو اکیلی بیٹھی تھی ۔۔۔ کچھ دیر تو ناہید چپ چاپ سب کو ٹکر ٹکر دیکھتی رہی جب اسے اپنی کوئی کمپنی نظر نہیں آئی تو مائرہ سے بولی جو اس وقت اسے ہی دیکھ رہی تھی

” مجھے لگ رہا ہے کہ آپ بور ہو رہی ہیں ۔۔۔ بھائی صاحب آپ کیوں زنانیوں میں بیٹھے ہیں آپ بھی جا کر ادھر بیٹھو مردوں میں کوئی گپ شپ لگاؤں آپ کی ووہٹی کے ساتھ میں شغل لگا لیتی ہوں میرا بھی وققت اچھا گزر جائے گا ” ناہید نے براہ راست مائرہ اور نوفل کو مخاطب کیا تھا ۔۔۔۔ نوفل اٹھ کر وہیں بیٹھ گیا جہاں ہمزہ بیٹھا تھا ۔۔۔

ناہید مائرہ کے ساتھ جا کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔ اور مائرہ کو دیکھ کر پوچھنے لگی

” توساں پنجابی ہو ؟ “

” نہیں ۔۔۔ ہم اردو اسپیک ہیں ” مائرہ نے مختصر جواب دیا

” اچھا اچھا میری یہ جو ہرجائی ہے ناں اے جو اگلی سیٹ پے سو رہی ہے یہ بھی اردو ہی بولتی ہے ۔۔۔ اوہ جو سامنے ہے اوہ میرا کزن ہے ہم پنجابی ہیں ” ناہید نے خود ہی اپنی گلابی اردو میں ہادیہ اور عزیر کی جانب انگلی کا اشارہ کر کے تعارف کرواتے ہوئے مائرہ سے بات شروع کی تھی ۔۔

” اچھا ” مائرہ نے مختصر سا جواب دیا

“٫ آپ کو پتہ ہمارے پنجابی۔۔۔ اردو بولن والوں کے گھر شادی نہیں کرتے ۔۔ پر میرے کزن کی محبت کی شادی ہوئی ہے اس لئے ہو گئ ۔۔۔۔ ” ناہید کی بات مائرہ کو کچھ عجیب سی لگی

” لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ لڑکی اردو سپیک ہواور لڑکا پنجابی “

” لو دسوں ۔۔۔ فرق کیوں نہیں پڑتا ۔۔۔۔ بڑا فرق پڑتا سیدھا فرق تو یہ ویکھ لیں کہ دو منٹ میں نے آپ سے اردو بولی ہے اور میرے چباڑے دکھنے لگ گئے ہیں ۔۔۔ پہلا فرق تو یہی ہے ” ناہید نے اپنا ہاتھ اپنے جبڑوں پر رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔

” دوسرا فرق یہ کہ ہمارے ریت رواج الگ الگ ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ہائے ۔۔۔۔ ” ناہید نے اپنے ہاتھ پر ہاتھ مار کر یوں جوش دیکھایا جیسے کوئی بہت بڑی بات یا آئی ہو

” ہمارے تو شادی ویا کی اتنی کوئی ودیا رسمیں ہیں کہ کیا بتاؤں آپ کو ۔۔۔ یہ جو میرا کزن ہے نا ” ناہید نے عزیر کی طرف اشارہ کیا مائرہ نے ایک نظر عزیر پر ڈالی جو حلیے سے کچھ مذہبی ٹائپ کا لگ رہا تھا

” ایک دم سڑیل تے کوجا قسم کا بندہ ہے اپنی شادی بڑی کوئی روکھی پھیکی سی کی تھی ” ناہید کا ٹیپ ریکارڈر شروع ہو چکا تھا ۔۔۔۔ مائرہ بس خاموشی سے اسکے رسموں رواجوں کو سن رہی تھی

گاڑی آگے جا کر پھر رکی تھی ایک کم سن سی لڑکی تھی جو رو رہی تھی وائٹ یونیفارم پہنے

ان کی گاڑی کو رکنے کا اشارہ کر رہی تھی ۔۔۔ نوفل کھڑکی کے پاس ہی بیٹھا تھا اسے دیکھ کر ڈرائیور کو گاڑی روکنے کے لئے کہا ۔۔۔ گاڑی کا دروازہ کھلا تو

وہ بچی کہنے لگی کہ وہ میٹرک کلاس کی اسٹوڈنٹ ہے اور اسکول ٹرپ کر ساتھ بس میں مری جا رہی تھی انکی بس کا ٹائر پنکچر ہو گیا سب لڑکیاں اچھا ویو دیکھ کر سیلفی بنانے لگیں وہ بھی اسی چکر میں کچھ مناظر کے ساتھ سیلفی کے چکر میں آگے نکل گئ لیکن جب واپس آئی تو بس جا چکی تھی اور وہ اب اکیلی رہ گئ تھی اس لئے رو رہی تھی ۔۔۔

” تم اوپر آ جاؤں مری پہنچ کر ہو سکتا ہے کہ تمہیں تمہاری بس مل جائے ” نوفل نے اسے اندر آنے کی دعوت دے دی ۔۔۔۔ وہ گاڑی میں نوفل کے برابر ہی بیٹھ گئ ۔۔۔ بہت گھبرائی ہوئی سی لگ رہی تھی نوفلکو دیکھ کر بولی

” بھائی مجھے میری بس مل تو جائے گی نا ؟ ۔۔۔ میں گم تو نہیں ہو جاؤں گی ” وہ روتے ہوئے پوچھنے لگی اب نوفل اسے کیا جواب دیتا کہ گم تو وہ ہو ہی چکی ہے

” نہیں گڑیا آپ پریشان مت ہو موبائل ہے آپ کے پاس رابطہ ہو جائے گا ۔۔۔ نام کیا ہے آپ کا “۔

” فائقہ ” اس بچی نے آنسوں بہاتے ہوئے بتایا

” فائقہ ہم آپ کو آپکی بس تک پہنچا دیں گئے اب رونا بند کرو ۔” ۔۔ فائقہ نے فورا سے آنسوں صاف کیے تھے ۔۔۔۔

دوسری جانب فارس بھی لائبہ کے ساتھ ڈاکٹر بیگ کے گھر پہنچا تھا ۔۔۔۔۔ گاڑیوں کاواقع بہت رش تھا ۔۔۔ ہوٹلز میں جن لوگوں نے پہلے سے بکنگ کروائی تھی ہوٹل والوں نے انہیں کمروں کو دوسرے لوگوں کو بک کر لیا تھا ہوٹل پہنچتے ہی ایک الگ ہنگامہ سا مچ گیا تھا ۔۔۔ وہ سب لوگ

پنڈی سے مری تک کے ایک پیکج کے ساتھ آئے تھے جس میں ہوٹل روم بھی شامل تھے اور سواری بھی ۔۔۔۔۔ پورے راستے عزیر اور شاہزیب کی خوب بنی تھی جیسے بڑی مدت بعد کوئی بچھڑے ہوئے دوست ملے ہوں ۔۔۔۔ ہمزہ کی ہلکی پھلکی نوفل سے بات چیت ہوتی رہی ۔۔۔۔ ناہید مائرہ کو عزیر اور ہادیہ کی تقریبا پوری لو اسٹوری سنا چکی تھی ۔۔۔۔ مائرہ نے اسکی کمپنی کو انجوائے بھی کیا تھا مری پہنچ کر ہادیہ کی آنکھ کھلی تھی نیناں کا کندھا بلکل سن ہو چکا تھا آنکھ کھلتے ہی ہادیہ نے جب اوپر چہرہ کر کے دیکھا تو نظر عزیر کے بجائے کسی لڑکی پر پڑی تو کرنٹ کی مانند پیچھے ہٹی

” آپ کون ۔۔۔ ” وہ یک دم ہی بوکھلائی تھی اتنی دیر سے وہ عزیر کا کندھا سمجھ کر مزے سے سو رہی تھی

” نیناں ” نیناں نے اپنا کندھا دباتے ہوئے کہا اس وقت نیناں کے چہرے پر تھکن کے آثار دیکھ ہادیہ کو خفت سی ہوئی تھی

” ایم سو سوری ۔۔۔ مجھے بلکل ہوش نہیں تھی مجھے لگاعزیر ہے ۔۔۔ ایم رئیلی سوری ” ہادیہ نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا

” کوئی بات نہیں اٹس او کے ” ہوٹل آ چکا تھا ۔۔۔

سب ہی گاڑی سے نیچے اترے تھے ۔۔۔

اب کمروں کی باری آئی تو نوفل کو اپنے کمرے کی چابی مل چکی تھی ۔۔۔ فائقہ کو وہ مائرہ اور بچوں کے ساتھ اپنے کمرے میں ہی لے گیا فائقہ بھی اسلام آباد سے آئی تھی ۔۔۔ اسکی بس کا ملنا تو شاید مشکل تھا لیکن اسلام آباد تک وہ اسے پہنچاسکتا تھا ۔۔۔ سب سے پہلے کمرے میں جا کر نوفل نے فائقہ کے والد سے بات کی تھی انہیں ساری سچویشن بتا کر کہا تھا کہ انکی بیٹی محفوظ ہاتھوں میں ہے اگر تو اسکی بس مل گئ تو وہ اسے بھیج دے گا ورنہ وہ جب اسلام آباد آئے گا تو اسے اسکے گھر تک چھوڑ دے گا نوفل نے ڈبل روم لیا تھا کمرے اندر ہی دوسرا کمرہ موجود تھا جو بچوں کے لئے تھا ۔۔۔ فائقہ کی عائزہ منزہ سے اچھی دوستی ہو گئ تھی کچھ وہ مطمئن بھی ہو گئ تھی کہ گھر تک پہنچ جائے گی ۔۔۔۔ مغرب ہونے والی تھی اب ٹھنڈ بھی کچھ بڑھ گئ تھی ۔۔۔ نوفل نے فون پر کی افطاری کا آڈر دیدیا تھا۔۔۔۔

آج تیس رونے پورے ہو چکے تھے ۔۔۔۔

روزہ افطار کرتے ہی عائزہ منزہ فائقہ سے باتیں کرنے لگیں مائرہ بھی وہیں بیٹھنے لگی تھی جب کمرے سے منسلک گیلری سے نوفل نے مائرہ کو پکارا تھا مائرہ وہاں بیٹھنے کے بجائے گیلری میں چلی گئ ۔۔۔ جہاں رات کے بجائے ملجگے سے اندھیرے میں بھی سامنے کے سرمئ پہاڑ اب بھی دلکش لگ رہے تھے ہوا میں بڑھتی کنکی اچھی لگ رہی تھی نوفل کا رخ باہر کی جانب تھا۔۔۔ لوہے کی گرل پر دونوں ہاتھ جمائے وہ کھڑا تھا

” نوفل آپ نے بلایا ۔۔؟ کوئی کام تھا ؟ ” مائرہ کے بات پر اس نے پلٹ کر اسے دیکھا

” آئیے نا کچھ دیر یہاں کھڑے ہو کر باتیں کرتے ہیں

” آگے بڑھ کر نوفل نے مائرہ کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ کھڑا کرلیا

” نوفل وہ میں فائقہ کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔۔ میں نے سوچا اسے کمپنی دیدو ” نا جانے کیوں مائرہ نوفل کے قریب آنے سے گھبراتی تھی دور ہونے کے بہانے تراشتی تھی

” عائزہ منی ہے اس کے پاس اور ولی صاحب بھی تو وہیں ہیں ۔۔۔ اچھا ہے کچھ تو ہمہیں اپنی باتیں کرنے کا بھی موقع ملے ورنہ ولی کسی باڈی گارڈ کی طرح سے آپ کے ساتھ رہتا ہے ۔۔۔ ” نوفل کی بے تاب نظروں پر وہ نروس ہوتے ہوئے سامنے پہاڑوں کو دیکھنے لگی ڈوپٹہ اب بھی سر اچھی طرح لپیٹ رکھا تھا جسے ذرا سا کھنچا تو وہ کھسک کر سر سے اتر گیا تھا ۔۔۔ مائرہ کے بال سب تیز ہوا سے اڑنے لگے تھے ۔۔۔۔

اس سے پہلے کے وہ دوبارہ سے ڈوپٹہ سر پر لیتی نوفل نے اسے ٹوک دیا

” یہاں کوئی غیر نہیں ہے ۔۔۔ میں ہوں اور مجھ سے آپ کو اتنا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ ایسے ہی اچھی لگ رہیں ہیں ۔۔۔۔ ” نوفل کے بدلتے لہجے پر مائرہ کی دھڑکنیں کسی ساز کی طرح سے تیز تیز بجنے لگیں تھیں ۔۔۔۔

” آپ جانتی میں آپ کے ساتھ کیوں آیا ہوں ” وہ دھیمہ س مخمور سا لہجہ جو مائرہ کی جان ہی لینے لگتا تھا ۔۔۔

” تا کہ ہم بہت سے لمحوں جو یاد گار بناسکیں ۔۔۔۔

ہم ہر چند ماہ بعد ادھر آیا کریں گئے ۔۔۔۔ اور اسی طرح سے حسین گزارا کریں گئے ۔۔۔ اور جب ہم بوڑھے ہو جائیں گئے عائزہ منزہ اپنے گھر کی ہو جائیں گئ ولی اپنے بیوی بچوں والا یا جائے گا تو پھر ہم دونوں بیٹھ کر انہی لمحوں جو یاد کیا کریں گئے ۔۔۔۔ ” نوفل کی بات سن کر بجائے مسکرانے وہ آنکھوں کی نمی صاف کرنے لگی کبھی یہ سب باتیں مائرہ نے زریاب سے بھی کی تھیں ۔۔۔۔

اور وہ ہسنے لگا تھا کہنے لگا تمہیں ابھی سے بڑھاپے کی فکر ہے کہ بڑھاپے میں یاد کرنے کے لئے حسین لمحوں کا اسٹاک اکھٹا کیا جائے ۔۔۔۔ مائرہ تم بہت عجیب لڑکی ہو یار ۔۔۔۔” زریاب کی یاد نے آنسوں چھلکانے پر مجبور کیا تھا اور نوفل یہ سوچ رہا تھا کہ اس میں رونے والی کون سی بات تھی۔۔۔

” کبھی ایسے لمحوں کے خواب میں نے زریاب کے لئے دیکھے تھے ۔۔۔۔ بہت چاہا تھا کہ ہم ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر مائرہ اپنے آنسوں پر اختیار کھو بیٹھی تھی لیکن اس بار آنسوں نوفل نے اسکے رخسار سے چنے تھے

” تمہیں پتہ ہے نوفل میرے بھی زریاب سے یہی سب کہا تھا اور ہسنے لگے تھے مجھے کہتے تم عجیب ہو ۔۔۔۔ اب تو ایسی کوئی خواہش ہی نہیں رہی بس یہ عمر جلد کٹ جائے اور جلدی سے عائزہ اور منزہ اپنے گھر کی ہو جائے اور میں بھی زریاب کے پاس ۔۔۔۔۔۔ “

” مائرہ ” نوفل کے سخت لہجے پر مائرہ کو خاموش ہونا پڑا تھا

” ایسا سوچتی ہیں آپ؟۔۔۔۔ کیا میں کچھ نہیں ہوں آپ کے لئے ۔۔۔۔ ٹھیک محبوب نا سہی لیکن۔ کچھ تو لگتا ہوں آپ کا ۔۔۔ میرے بارے میں بھی سوچا کریں ۔۔۔ مجھے آپ کے ساتھ ساری زندگی گزارنی ہے ۔۔۔ اور بہت سے حسین لمحے بھی ۔۔۔۔ اگر آپ کے لئے بھائی کی ہر یاد صرف آنسوں ہی آنکھوں میں لا سکتی ہے تو آج کے بعد میں آپ کے منہ سے بھائی کا نام بھی سننا نہیں چاہوں گا “

” نوفل ” مائرہ بے ساختہ چلائی تھی ۔۔۔

” کیا نوفل ۔۔۔۔ میں یہاں اس لئے نہیں آیا کہ آپ کو یادوں کے سہارے روتے دیکھوں ۔۔۔۔ مجھے آپ کے ساتھ یہاں بہت اچھاوقت گزارنا ہے ۔۔۔۔

آج کے بعد آپ کو روتے ہوئے نا دیکھوں ۔۔۔ ” نوفل بھی غصے میں یہ کہتے ہوئے کمرے میں چلا گیا ۔۔

******……

” ارتضی ہمہیں اس بار عید پر مری جانا ہے پتریاٹہ جانا ۔۔۔۔ اور خوب انجوائے کرنا ہے۔۔۔۔” حیا کی فرمائش سن کر ارتضی نے صاف انکار کیا تھا ۔۔۔

” جی نہیں عید پر رش اتنا ہوتا ہے ۔۔۔۔ دوسرے شہروں سے لوگ آئے ہوئے ہوتے ہیں اس لئے انہیں انجوائے کرنے دو تمہارا کیا پھر کبھی چلی جانا ۔۔۔ “

” آپ توایسے کہہ رہے ہیں جیسے روش ۔جھے گھمانے لیکر جاتے ہیں مجھ سے بہتر وہ لوگ ہیں جو دوسرے شہر سے آکر گھوم پھر تو جاتے ہیں ایک میں ہوں ۔۔۔ بس گھر بیٹھ کر جی جلاتی رہو ” حیا کے موٹے موٹے آنسوں فٹافٹ سے بہنے لگے تھے ۔۔۔ ارتضی نے فہمائشی نظروں سے اسے دیکھا تھا

” چلو جی ہو گئ ڈرامے بازی شروع ” رومان بھی وہیں بیٹھا تھا حیا کی آنکھوں آنسوں وہ کہاں برداشت کر سکتا تھا ۔۔۔ اس لئے ارتضی کے سامنے ا کر بیٹھ گیا

” بابا مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ آپ کے اندر اتنی قدیم روح کیوں بسی رہتی ہے ۔۔۔۔ بڑے بور ہیں آپ ۔۔۔ آپ کو ممی کے آنسوں بھی نظر آتے ۔۔۔ ” رومان کی ہمدردی پا کر حیسن کی سسکیاں تیز ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ جانتی تھی رومان ارتضی سے بات منوا کر ہی رہتا ہے ۔۔۔

” تم دونوں کی ڈرامے بازی کا مجھ بلکل اثر نہیں ہونے والا ۔۔۔ اس لئے میری طرف سے صاف انکار ہے “

” اچھا تو ٹھیک افطاری آپ بنائیں گئے ۔۔۔ ممی کوئی ملازمہ نہیں ہیں جو سارے کام کرتی رہیں ۔۔۔ اور آپ انہیں کہیں سیر و تفریح پر بھی نا لیکر جائیں ” رومان اپنی طرف سے دھمکی دی تھی

” ہاں ویسے جیسے تمہاری ماں اکیلی ہی پورا ٹیبل لوازمات سے بھر دیتی ہے ” ارتضی یہ کہہ کر کچن میں چلا گیا کچن کے کاموں کے علاؤہ حیا کو ہر کام میں دلچسپی تھی ۔۔۔۔ بس پکانے سے جسم جاتی تھی اس لئے ارتضی کو ہی اسکی مدد کرنی پڑتی تھی

حیا اب بھی رو رہی تھی

” ممی رونا بند کر دیں کوئی فایدہ نہیں ہے ۔۔۔ بابا نہیں ماننے والے ” رومان دھیرے سے حیا کے کام میں سرگوشی کی تھی

” میں بھی دیکھتی ہوں کیسے نہیں مانتے ۔۔۔۔ ” افطاری کے بعد وہ کمرے میں چلی گئ رات کے کھانے پر بھی باہر نہیں آئی ۔۔۔ رومی بھی اسے بلانے کے لئے کمرے میں گیا لیکن وہ باہر نہیں آئی تھی مجبورا ارتضی کو ہی کمرے میں جانا پڑا تھا آنکھوں پر ہاتھ رکھے وہ سو سو کر رہی تھی کمرہ بند ہونے کی آواز پر اب سسکیاں شروع ہو چکیں تھیں ارتضی مسکراتے ہوئے اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا ۔۔۔

” حیا ۔۔۔ یہ کیا بچپنا ہے یار تم جانتی ہوں اس وقت مری اور پتراٹہ میں مچھلی بازار کی طرح سے رش لگا ہو گا پھر ایسے موقعے پر فیملیز کم اور منچھلے ذیادہ موجود ہوتے ہیں اور ایک طوفان بدتمیزی کا سما ہوتا ہے ۔۔۔۔ سمجھا کرو نا یار بس عید کا رش چھٹتے ہی آئی پرومس تم جہاں کہوں گی تمہیں وہاں کے جاؤں گا ارتضی نے اس کا بازو آنکھوں سے ہٹاتے ہوئے ہوئے اس کی گلابی ہوتی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے کہا حیا نے غصے سے اس کے ہاتھ چھٹکا

” آپ تب بھی نہیں لیکر جائیں گئے کہیں گئے عید کی چھٹیوں کے بعد اب تو اسکول کھلیں ہیں نوکری چھوڑ کر تمہیں گھما نہیں سکتا ۔۔۔ سچ تو یہ ہے ارتضی کے آپ کے دل میں میرے لئے ایسے کوئی ارمان ہی باقی رہے سارے شوق تو آپ نے تانیہ کے ساتھ پورے کئے ہیں ۔۔۔ “وہی ہمیشہ کا طعنہ ارتضی کو ملا تھا

” ہاں اب یہ کہہ دو کہ سچی محبت نہیں ملی تمہیں مجھ سے ۔۔۔ مسکان تو بس بنا محبت کے ہی آگئ تھی ۔۔۔ ” ارتضی کی بات پر وہ کچھ جھینپ کر رہ گئ تھی ۔۔۔۔۔

” اب میں نے ایسا بھی نہیں کہا ” حیا خفت کا شکار ہوئی تھی

” لیکن آپ سوچیں ارتضی لڑکیوں کے کچھ اور بھی ارمان ہوتے ہیں ۔۔۔ ہم بھی دو دن کے لئے ہوٹل میں چلتے ہیں ۔۔۔۔ اور بھی بہت سے کپلز آئے یوں گئے ۔۔۔ ایک رومنٹک سا ماحول ہو گا ۔۔ کتنا اچھا لگے گا ” حیا نے نادر خیالات سن کر ارتضی اسے بس تاسف سے ہی دیکھ سکتا تھا

” تمہارا مطلب ہے اپنا گھر چھوڑ کر میں مری میں جا کر ایک ایک ہوٹل کادروازہ بجا کر یہ پوچھوں کہ کیاسپ کے پاس کوئی کمرہ خالی ہے ۔۔ ؟ کیونکہ میری بیوقوف سی بیوی کو گھر کے بجائے ہوسٹل میں رومانس کرنے کا شوق چڑھ گیا ” ارتضی کی بات پر حیا کی پیشانی پر کئ بل پڑے تھے

” ہاں میں ایسا ہی چاہتی ہوں ۔۔۔ آپ مجھے بے شرم سمجھتے ہیں تو وہ اپنی مرضی ہے ۔۔۔ لیکن اس بار مجھے دو دن کے لئے ہوٹل میں رہ کر عید انجوائے کرنی میں کچن کا کوئی کام نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔ نا ہی گھر پر بیٹھ کر عید منانا چاہتی ہوں ہمیں مری میں رہنے کے ذرا بھی فایدہ نہیں ہے آپ کہیں لیکر نہیں جاتے ہیں ” حیا اٹل انداز سے بولی تو ارتضی کو ہی ہار ماننی پڑی

” او کے کرتا ہوں کچھ میرے ایک دوست کا ہوٹل ہے اگر وہاں کوئی روم خالی مل گیا تو پھر چلیں ورنہ میں دوسرے ہوٹلز کی خواری بلکل برداشت نہیں کروں گا “

” مجھے منظور ہے “

” چلو پھر کھانا کھاؤ باہر آ کر ۔۔۔ مسکان بھی ابھی تک بھوکی ہے ” ارتضی نے اس کا ہاتھ پکڑا کر اسے کھڑا کیا پھر اپنے ساتھ لاونج میں لے آیا ۔۔ رومان مسکان کو گود ۔میں لئے بیٹھا تھا حیا کی بھرپور مسکراہٹ اور رومان کو دیکھ کر انگوٹھا دیکھانے ہر سمجھ گیا تھا حیا نے میدان مار لیا ہے ۔۔۔

حیا ارتضی کے اس دوست سے پہلے ہی کہہ کر کمرہ بک کروا چکی تھی جس ہوٹل کی ارتضی بات کر رہا تھا اس لئے اب سو فیصد عید اچھی منانے کے چانس تھے

******…….

فارس اور لائبہ ڈاکٹر بیگ کے گھر ڈنر کر رہے تھے جب ڈور بیل بجی تھی ۔۔۔۔ دروازہ مسز بیگ نے کھولا تھا ۔۔۔ سامنے سے حمنہ اور اصفر کو ساتھ اندر آتے دیکھ کر جہاں فارس کا چمچ رکا تھا ۔۔۔ وہیں حمنہ کی اسپر نظر پڑتے ہی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی ۔۔۔۔ حمنہ کو نہیں معلوم تھا کہ بیگ صاحب نے فارس سے ملوانے کے لئے اسے بلوایا ہے ۔انہوں نے حمنہ کو فون کر کے بس یہی کہا تھا گھر پہنچوں تمہیں کسی سے ملوانا ہے ۔۔۔ اصفر بھی فارس کو دیکھ کر خاموش سا ہوا تھا ۔۔۔ لائبہ حمنہ کو دیکھ کر خوشی کے مارے اٹھنے لگی تا کہ حمنہ سے گلے مل سکے لیکن فارس اس کا ہاتھ پکڑ چکا تھا دھیرے سے اسے بولا

” کوئی ضرورت نہیں ہے ملنے کی خاموشی سے کھانا کھاو۔۔۔ ” فارس کی بات پر لائبہ بجھ کر دوبارہ سے کھانا کھانے لگی ۔۔۔۔ حمنہ یہ سب دیکھ چکی تھی اس لئے نظریں بدل کر مسز بیگ سے گلے ملنے لگی البتہ دونوں بچے دوڑ کر فارس کے پاس آئے تھے اس سے گلے لگ کر ملنے لگے

” فارس انکل آپ آئے ہیں یہ تو زبردست سرپرائز ہو گیا ہے ” ایمان اس کی گود میں بے تکلفی سے بیٹھ کر خوش ہوتے ہوئے بولا ۔۔ فارس کچھ بھی کر سکتا تھا لیکن بچوں سے پیار کرنا نہیں چھوڑ سکتا تھا اس لئے بے ساختہ سے ایمان کو اپنے ساتھ بینچ کر گلے لگایا تھا پھر اسکے گسل چومنے لگا

” ہاں میں نے سوچا اپنے نور ایمان کو عید پر سرپرائز دے دوں ” ایمان کے بعد اب وہ نور کو بھی ایک ہاتھ سے پکڑ کر اپنی گود میں بھر چکا تھا ۔۔۔ حمنہ خود چل کر لائبہ کے پاس آئی تھی ۔۔۔ لائبہ کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر جان گئ کہ وہ سب فارس کے حکم کی پابند ہے اس لئے بس اس سے ہاتھ ہی ملایا تھا ۔۔۔ اسکی خیریت پوچھنے لگی ۔۔۔ لائبہ سرسری سا جواب دے رہی تھی ۔۔۔ اصفر نے چاہا تو یہی تھافارس اٹھ کر اس سے گلے ملے لیکن جب فرس جی طرف سے ایسا کوئی جوش نظر نہیں آیا تو اس کی طرف مصافے کے لئے ہاتھ بڑھا دیا فارس نے بھی زبردستی کی مسکراہٹ چند لمحوں کے لئے سجائی اور ہاتھ ملا کر پیچھے کر لیا

” آئیے نا اصفر صاف کھانے میں ہم کو جوائن کریں ” فارس کے طنز بھرے لہجے کو اصفر نے مسکرا کر نظر انداز کیا تھا ۔۔۔۔

” ارے ان دونوں کو میں نے کھانے پر ہی تو بلایا ہے

اصفر حمنہ بیٹا آؤں کھانا کھاؤ ۔۔۔ ” ڈاکٹر بیگ نے دونوں کو مخاطب کیا دونوں ہی کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔

” دیکھوں تم چاروں یہاں موجود ہو اور میرے ہسپتال کے سب ہی ڈاکٹرز مجھے میرے بچوں کی طرح سے عزیز ہیں میں چاہتا ہوں کہ پچھلی باتوں کو بھلا کر سب اچھے سے ملیں جلیں تو بہتر ہے ۔۔۔ دل کو صاف کرنا بے حد مشکل امر ہے ۔۔۔ لیکن نا ممکن ہر گز نہیں ۔۔۔ پھر قسمت کے سامنے انسان ہمیشہ ہی بے بس ہو جاتا ہے ۔۔۔ ” ڈاکٹر بیگ ل تعلق سے بیٹھے فارس کو ذو معنی میں سمجھانا چاہ رہے تھے جو دوبارہ مری کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔ فارس کے لئے اصفر کے دل میں کوئی میل نہیں تھی ۔۔۔۔ فارس کا وہ احسان مند تھا اپنا خون دے کر اس نے اصفر کی زندگی بچائی تھی اپنی محبت قربان کر کے حمنہ کے راستے ہموار کیے تھے ۔۔۔۔ ایسے نوجوان بہت کم ہوتے ہیں ۔۔۔ جو قربانی دینے کا ظرف رکھتے ہیں اصفر اس بات کا بھی دل سے قائل تھا۔۔۔۔۔

لیکن فارس کو دیکھ کر کچھ مایوس سا ہوا تھا ۔۔۔ لائبہ کا بجھا چہرہ بتا رہا تھا کہ فارس اب بھی حمنہ کو دل میں بیٹھائے بیٹھا ہے ۔۔۔ یہ بات اصفر کو بے چین کرنے کے لئے کافی تھی ۔۔۔۔

ڈاکٹر بیگ نے کہا کہ کل سے ہاسپٹل میں سب ڈاکٹرز ڈیوٹی دین گئے اور ڈیوٹی اوور کی کوئی قید نہیں ہو گی جو جس قدر زیادہ وقت دے سکتا ہے وہ دے گا ۔۔۔۔ کیونکہ اکثر ڈاکٹر عید کی وجہ سے واپس اپنے گھروں میں چلے جاتے ہیں اور ایمرجنسی کے وقت مشکل ہو جاتی ہے ۔۔۔ ان سب سے بات کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مل کر کام پر فوکس دے سکیں اپنی ذاتیات کے بنا پر اپنے اختلافات کی وجہ سے مریض پر توجہ کم نا کر سکیں پھر فارس سے ڈاکٹر بیگ کو دلی وابستگی بھی بہت تھی بلکل بیٹے کی طرح سے اڈے چاہتے تھے ۔۔۔۔ اس لئے یہی کوشش تھی وہ واپس آ جائے