Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8


صارم شاہ اپنی زندگی میں مگن ہو چکا تھا۔ رامین خالد کو وہ زیر کر چکا تھا کیونکہ وہ اپنی بےعزتی کا بدلہ لے چکا تھا۔ اب وہ اسے بار بار تڑپائے گا۔ اسے یہ سوچ ہی سکون پہنچا رہی تھی کہ اب رامین خالد اس کے پیچھے پیچھے پھرے گی۔
یونیورسٹی میں ایگزامز کا سیزن شروع ہو چکا تھا۔ ہر سٹوڈنٹ اپنے اپنے ایگزام کی فکر لیے ہوئے تھا۔ ان سٹوڈنٹس کے چہرے پر بھی پریشانی کے آثار تھے۔ جو سارا سیمسٹر پڑھتے نہیں تھے۔
آج اس کا لاسٹ پیپر تھا۔ صارم اپنا لاسٹ ایگزام دے کر جب باہر آیا تو اپنے ڈیپارٹمنٹ سے نکلتے ہوئے اس کی نظر نادیہ پر پڑی تو اسے رامین کی یاد آ گئی۔ اس کا دل کیا کہ کیوں نہ وہ رامین کو تنگ کرے۔ بھئی آخر ایگزامز ختم ہو چکے تھے تو کیوں نا تھوڑی بہت انجوائے منٹ ہی ہو جائے اور اگر یہ انجوائے منٹ رامین خالد کے ساتھ ہو تو مزہ ہی آ جائے گا۔ آخر اب تو وہ اس کی سو کالڈ بیوی تھی۔ اس کا پورا حق بنتا تھا۔
رسمی علیک سلیک کے بعد وہ اصل مدعے پر آیا۔
” رامین کہاں ہے؟”
” وہ تو نہیں آ رہی۔”
” کیوں ایگزامز چل رہے تھے؟”
” اس نے ایگزامز نہیں دیے.”
” کیوں؟”
” پتا نہیں وہ تو کافی ٹائم سے ہی نہیں آ رہی۔ اینؤل فنکشن پر کہہ رہی تھی آئے گی پر تب بھی نہیں آئی۔”
” اس کے بعد بھی نہیں آئی؟
” نہیں۔”
” تم نے اسے کال نہیں کی تھی؟”
” کی تھی پر اس کا موبائل آف ہے۔ اب میں چلتی ہوں۔”
” بات سنو رامین کا نمبر دو۔” صارم نے کچھ سوچتے ہوئے لے لیا۔
نادیہ نے اسے جو نمبر دیا تھا۔ وہی نمبر اس کے پاس بھی موجود تھا۔ اس نے رامین کا نمبر ڈائل کیا۔ اس کا موبائل سوئچ آف آ رہا تھا۔

صارم کو شدید غصہ آنے لگا۔ وہ اس سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتی تھی۔ اگر اسے لگ رہا تھا کہ یونیورسٹی نہ آنے سے اور اپنا نمبر چینج کر لینے سے وہ صارم شاہ سے بچ جائے گی تو یہ اس کی غلط فہمی تھی۔

رامین نے گھر تبدیل کر لیا تھا۔ وہ لوگ نسبتاً چھوٹے محلے میں آئے تھے کیونکہ وہ اس وقت زیادہ کرایا دینا افورڈ نہیں کرتی تھی۔
وہ محلہ چھوڑنے سے پہلے ہی اپنا نمبر تبدیل کر چکی تھی۔ اب اس محلے میں کسی کے پاس بھی اس کا نمبر نہیں تھا۔
رامین اپنی پڑھائی کو خیر باد کہہ چکی تھی کیونکہ اس وقت ان کی فیملی کو کھانے اور چھت کے لالے پڑے ہوئے تھے۔
اپنا گزر بسر کرنے کے لیے وہ محلے کے بچوں کو ٹیوشنز پڑھا رہی تھی اور جگہ جگہ اپنی سی وی دے رہی تھی لیکن کہیں سے بھی مثبت جواب نہ آتا۔

جب کال آ جاتی تو بھی بات نہ بن پاتی کیونکہ وہ لوگ اسے مناسب سیلری نہیں دے رہے تھے۔ وہ لوگ بھی اپنی جگہ درست تھے کیونکہ وہ صرف انٹر پاس تھی اور ایک انٹر پاس کو کوئی کتنی ہی سیلری آفر کر سکتا تھا۔

صارم اس محلے میں آیا۔ جہاں اس دن رامین کو چھوڑا تھا۔ یہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا محلہ تھا۔
یہاں پر رہنے والا کوئی بھی شخص اتنی استطاعت نہیں رکھتا تھا کہ وہ ایلیٹ کلاس کی اس یونیورسٹی میں پڑھے۔ اسے اندازہ ہوا تھا کہ رامین اپنی قابلیت کی بنیاد پر اسکالرشپ پر وہاں پہنچی تھی۔ رامین ایک محنتی لڑکی ہے۔ جو سفارش کی بنیاد پر اس یونیورسٹی تک نہیں آئی تھی۔
وہ دودھ کی دکان پر گیا تاکہ رامین کے گھر کا پتا چل سکے۔ وہ اندر ہی اندر اس سے اپنا آپ چھپانے کا بدلہ لینے کا ارادہ لے کر آیا تھا۔ وہ کیا سمجھتی تھی کہ وہ اس کے گھر تک نہیں آ سکتا تھا؟
کسٹمرز کے جانے کے بعد دودھ والا اس کی طرف متوجہ ہوا۔
” خالد صاحب کا گھر کس طرف ہے؟”
دودھ والا اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔
دودھ والے کی حیرانی سے اسے لگا جیسے وہ کسی خالد صاحب کو نہیں جانتا۔
اس کو لگا شاید رامین نے اس روز اسے غلط ایڈریس بتایا تھا لیکن اس روز اس کی کنڈیشن ایسی نہیں تھی کہ وہ کسی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتی۔
” کون خالد صاحب؟”
صارم نے اپنے والٹ سے کچھ نوٹ نکالے اور اس کے کاؤنٹر پر رکھے۔
” جن کی بیٹی کی شادی کچھ ماہ پہلے ہوئی ہے۔” صارم کو رامین کی بات یاد آئی۔
” ان کا تو انتقال ہو گیا۔”
” کب؟”
” وہ جی ایک دن ان کی بیٹی رات کو دیر سے آئی تھی۔ حالت بھی کچھ ٹھیک نہیں تھی پھر اسی رات خالد صاحب کو ہارٹ اٹیک آیا اور انتقال کر گئے۔
محلے والوں نے رہنے نہیں دیا۔ نہ ہی ان کی بیوی کی عدت کے ختم ہونے کا انتظار کیا۔ ایک ہفتے کے اندر مکان خالی کروا لیا۔”
” آپ کو کیا لگتا ہے؟”
” اللہ جانے کیا معاملہ تھا۔ ویسے شریف بچیاں تھیں۔ محلے میں کبھی ادھر ادھر پھرتے بھی نہیں دیکھا گیا۔ بس پڑھنے کے لیے نکلتی تھیں۔”
” اب وہ لوگ کہاں رہتے ہیں؟”
” پتا نہیں یہ محلہ تو چھوڑ گئے۔”
” تم کون ہو میاں؟”
” ان کا دور کا رشتہ دار ہوں ملنے آیا تھا۔” ہاتھ مصافحہ کرتا وہ دوکان سے باہر آ گیا۔
یہ اس نے کیا کر دیا تھا۔ اس نے اپنے ایک تھپڑ کے انتقام لینے کے چکر میں رامین کا پورا خاندان تباہ کر دیا اور انہیں بے گھر کر دیا۔

اتنی بے عزتی شاید اس کی یونیورسٹی میں نہیں ہوئی تھی۔ جتنی اس نے رامین کی کروا دی تھی۔ صارم گہری سانس بھرتا گاڑی سٹارٹ کر گیا۔

” آنٹی مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی۔ آپ لوگ جب تک مجھے نظر انداز کرتے تھے۔ تب تک ٹھیک تھا۔ اب آپ لوگوں نے میرے گھر والوں کو نظر انداز کر کے ان کی ہی نہیں میری بھی بے عزتی کر دی۔ ہمیں کسی نے پوچھا تک نہیں۔ کب وہ لوگ آئے؟ انہوں نے کھانا کھایا نہیں کھایا؟ کسی نے نہیں دیکھا۔ نہ قل پر میری فیملی اور میری بہنوں کے سسرال والوں کو پوچھا نہ ساتویں پر اور آج چہلم پر بھی یہی کچھ ہوا۔”
” کسے پوچھتے کسے دیکھتے ہمیں تو یہاں اپنی ہوش نہیں رہی۔ ہماری تو دنیا ہی اجڑ گئی۔”
” آنٹی یہ دن بھی آپ کی بیٹی نے ہی دکھایا ہے۔ اللّٰہ جانے اس رات کہاں سے آئی تھی؟ کیا ہوا جو انکل یہ صدمہ برداشت نہ کر سکے۔”
” اس میں رامین کا کوئی قصور نہیں۔” فرح بیگم نے نگاہیں چرائیں۔
” آپ مجھے بتائیں یا نہ بتائیں پر مجھے پتا چل گیا ہے کہ قصور رامین کا ہے۔
بس غیروں کی طرح کال کر دی۔ رابعہ پاپا کی طبیعت خراب ہو گئی ہے۔ ہاسپٹل آ جاؤ۔ میں نے تو کہا کوئی فائدہ نہیں جانے کا۔ تم ان کی سگی بیٹی ہو۔ یہ کوئی طریقہ تھا بلانے کا لیکن وہ تو بیٹی تھی نا رہ نہ سکی۔ میں نے بھی سوچا وقت کا پتا نہیں ہوتا۔ اس کے گھر والوں نے برا کیا ہے۔ میں روک کر کیوں برا بنوں؟” حسن نے چبھتے ہوئے لہجے میں کہا۔
” جیسے ہی خالد صاحب کی طبیعت خراب ہوئی تھی اسی وقت کال کی ہے۔” فرح بیگم تڑپ اٹھیں۔
حسن نے سر جھکا۔

” جاؤ رابعہ کچھ کھانے کو لے کر آؤ۔ اس گھر میں تو اب ہمیں کسی نے کھانے کو کچھ پوچھنا نہیں ہے۔”

جاری ہے