Mein Tera Deewana Hua By Arfa Khan Readelle50206 Last updated: 30 August 2025
No Download Link
Rate this Novel
Mein Tera Deewana Hua
By Arfa Khan
وہ دن آ گیا تھا جس کا خالد صاحب کی فیملی کو شدت سے انتظار تھا۔ حسن اور اس کی فیملی مل کر جا چکے تھے اور رابعہ کے ہاتھ پر شگن کے پیسے رکھ گئے تھے۔ وہ لوگ جلد شادی چاہتے تھے۔ تنویر صاحب نے بھی ان کی مکمل یقین دہانی کروائی تھی۔ اس طرح رابعہ کا رشتہ حسن سے طے ہو گیا تھا۔ رامین اور رانیہ رابعہ کی مسلسل ٹانگ کھینچ رہی تھیں۔ جو شرماتی لجاتی نظر آ رہی تھی۔ ------------------ رامین اور نادیہ تیزی سے سیڑھیاں اتر رہی تھیں۔ جب رامین کا پاؤں پھسلا اور وہ گرنے لگی تھی۔ جب ایک مہربان ہاتھ نے تیزی سے اسے گرنے سے بچایا۔ رامین نے خوف سے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ صارم ان بند آنکھوں کی لرزتی جھالر کو دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ وہ جو آنکھیں بند کیے ہوئے تھی۔ خود کو کسی کے حصار میں محسوس کرتی اس نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔ سامنے صارم شاہ کو دیکھ کر سٹپٹا کر پیچھے ہوئی۔ " تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی؟" " میں اگر تمہیں نہ پکڑتا تو تم سیڑھیوں سے نیچے جاتی۔ تمہیں تو میرا شکر گزار ہونا چاہیے۔" صارم نے آگ لگانے والے انداز میں کہا۔ " اوہ ریئلی صارم شاہ۔ مجھے عام لڑکی سمجھنے کی غلطی مت کرنا۔ میں تمہارے پیچھے پھرنے والی تتلیوں جیسی نہیں ہوں۔ جو ایسی بے ہودہ حرکتوں سے تمہاری دیوانی ہو جاتی ہیں۔" " اوہ ہیلو مس ہولڈ آن تم خود اس قابل نہیں ہو۔ جو صارم شاہ تمہاری جیسی معمولی سی لڑکی پر نظر کرم بھی ڈالے۔ ایک تو مدد کرو۔ اوپر سے فضول کی بکواس بھی سنو۔" صارم نے تنفر سے کہا۔ " تم۔۔" رامین اسے ٹکا سا جواب دینے لگی تھی۔ جب نادیہ نے مداخلت کر دی۔ " رامین چلو یہاں سے سب دیکھ رہے ہیں۔" نادیہ اس کا ہاتھ کھینچتی لے گئی۔ صارم نے نفرت سے اسے جاتے دیکھا پھر جیسے کسی خیال کے تحت چونکا۔ " رامین." وہ زیر لب بڑبڑایا۔ --------------- صارم شاہ ٹریڈ میل پر بھاگ رہا تھا۔ سپیڈ حد سے زیادہ سوا تھی۔ جسم پسینے سے شرابور تھا۔ ایک معمولی اور بے وقوف لڑکی کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت اور حقارت دیکھنا اسے برداشت نہیں ہوا تھا۔ وہ ہمیشہ چاہا گیا تھا سراہا گیا تھا اور وہ۔۔۔۔ اسے کس بات پر اتنا زعم تھا۔ وہ اس کا یہ غرور چکنا چور کر دے گا۔ وہ اس پر یہ ثابت کر دے گا کہ وہ بھی انہیں عام لڑکیوں میں سے ایک ہے۔ جو اس کے پیچھے گھومتی ہیں۔ صارم ٹاول سے پسینہ خشک کرنے لگا۔ اب اس کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ رقصاں تھی۔ ----------------
