No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
” رامین سموسے کیوں نہیں لائی؟” فرح بیگم سامان دیکھ کر ناراض ہو گئیں۔
” آئس کریم بھی نہیں لائی۔” فرح بیگم کو غصہ آ گیا۔
” امی ادھار نہ سموسے ملتے ہیں نہ آئس کریم۔ میں یہ سب کچھ ادھار لائی ہوں۔ میں پیدل آئی ہوں میرے پاس پیسے نہیں تھے۔”
” تمہیں پتا بھی حسن کو سموسے اور آئس کریم پسند ہے پھر بھی؟” فرح بیگم اپنی ہی دھن میں مگن تھیں۔ فرح بیگم نے تو جیسے اس کی سنی ہی نہیں تھی۔
رامین انہیں دیکھ کر رہ گئی۔
” امی آلو لائی ہوں فرنچ فرائز بنا لیں۔ دودھ بھی لائی ہوں کھیر بنا لیں۔”
” ایسے نہیں ہوتا رامین رابعہ کے سسرال والوں نے خود دعوت کا کہہ کر مینیو بتایا ہے۔”
” پہلی بات تو امی آپ کو پتا ہے کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ میں دو دن سے پیدل آ جا رہی ہوں۔ آپ کو سیلری آنے سے پہلے دعوت ماننی ہی نہیں چاہیے تھی۔ ہمارے حالات ان کے سامنے ہیں۔ انہیں بھی شرم کرنی چاہیے۔
میرے پاس تو وہ پانچ ہزار بھی نہیں ہیں جو رابعہ نے مانگے ہیں۔ ابھی تو حسن بھائی نے آ کر میری کتنی بے عزتی کرنی ہے۔”
فرح بیگم ناراضگی سے اٹھ کر چلی گئیں۔
رامین نے کمرے میں آتے ہی وہ پیسوں کا لفافہ چھپا دیا۔ وہ جانتی تھی رابعہ نے اس کے بیگ کی تلاشی ضرور لینی تھی اس کے بغیر اسے یقین نہیں آنا تھا۔
فریش ہونے کے بعد وہ موبائل پکڑ کر بیٹھ گئی۔ اسے پارٹ ٹائم جاب ڈھونڈنی تھی۔ اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ اس کے گھر کے اخراجات صرف اس جاب پر نہیں چل سکتے تھے۔
صارم اپنے آفس میں آیا اور فائل نکالنے کے لیے جیسے ہی ڈراؤر کھولا۔ سامنے ہی ایک انویلپ پڑا دیکھ کر حیران ہوا۔ اس نے وہ انویلپ نکال کر کھولا۔ اس میں پیسے موجود تھے۔ صارم نے رامین کے کیبن کی طرف دیکھا۔ جو مگن انداز میں کام کر رہی تھی۔
اس نے پپیسے نکال کر گنے۔ پیسے اتنے ہی تھے جتنے صارم نے رکھے تھے۔
صارم نے دکھ سے رامین کو دیکھا۔ جو ابھی بھی ارد گرد سے بے نیاز تیزی سے ٹائپنگ میں مصروف تھی۔
وہ اسے کیا سمجھ رہی تھی؟ وہ اس کی مجبوریوں کو خرید رہا ہے؟ وہ اسے اتنا گرا ہوا اور گھٹیا سمجھتی تھی؟ صارم کو ایک بار پھر سے رامین پر غصہ آنے لگا۔
رامین کا موبائل بج رہا تھا۔ رامین صارم کے آفس میں لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھی تیزی سے ٹائپنگ کر رہی تھی۔
” مس رامین کال اٹھا لیں ورنہ آپ کانسنٹریٹ نہیں کر پائیں گی۔” صارم نے سنجیدگی سے کہا۔
رامین نے ہچکچاتے ہوئے کال اٹھا لی۔
” ہیلو۔”
” رامین میرا رزلٹ آ گیا ہے۔” رانیہ کی چہکتی ہوئی آواز رامین کے چہرے پر بھی چمک لے آئی۔
” کتنی پرسنٹیج آئی ہے؟”
” ایٹی نائن۔” رانیہ نے کھلکھلاتے ہوئے کہا۔
” واہ رانی تم نے کمال کر دی بہت بہت مبارک ہو۔ اب آج تم منہ میٹھا کرواؤ ہمارا۔ ایسے پھیکی سی مبارک اچھی نہیں لگ رہی۔”
صارم کو اس کا خوشی سے دمکتا چہرہ بہت بھلا معلوم ہو رہا تھا۔ اس نے رامین کے چہرے پر بہت عرصے بعد یہ چمک دیکھی تھی۔ جو اب مفقود ہو چکی تھی۔
” یار رامین میرا ایڈمیشن ہو جائے گا؟”
” بالکل ہو جائے گا۔ ایسی کوئی یونیورسٹی نہیں بنی جو مستقبل کی ڈاکٹر رانیہ خالد سے پنگا لے۔”
رامین نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
رانیہ کھلکھلا کر ہنسی۔
رامین کی نظر جیسے ہی سامنے بیٹھے صارم پر گئی تو گڑبڑا گئی کیونکہ وہ اپنی چیئر سے ٹیک لگائے وہ بڑی فرصت سے اور گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” رانی میں آفس میں کام کر رہی ہوں بعد میں بات کرتی ہوں۔۔ گھر آ کر بائے۔” رامین نے اس کی سنے بغیر کال کاٹ دی۔
” ہو گئی بات؟” صارم سنجیدگی سے آگے ہو کر بیٹھا۔
” جی۔۔” رامین کو اس کا انداز طنزیہ لگا۔
” ویلکم بیک ٹو یور آفس کمپلیٹ یور ورک۔” صارم نے انتہائی کھردرے انداز میں کہا۔
رامین دل مسوس کر رہ گئی اور اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئی۔
آفس سارا خالی ہو چکا تھا اکا دکا ایمپلائز ہی رہتے تھے۔ رامین بھی اپنا کام ختم کرتی گھر کے لیے نکل رہی تھی۔
رامین لفٹ کے آتے ہی اس میں سوار ہو گئی۔ لفٹ کا دروازہ بند ہونے ہی والا تھا۔ جب صارم تیزی سے اندر آ گیا۔ صارم نے لفٹ کا ڈور بند کرنے کے لیے کال دے دی۔
رامین کو صارم کی موجودگی میں گھبراہٹ ہونے لگی۔ اس نے اسے لفٹ سے اترنے کا موقع ہی نہیں دیا تھا۔
وہ اس وقت کو کوس رہی تھی جب اس نے سیڑھیوں کے بجائے لفٹ میں جانے کا سوچا۔
صارم رامین کو شوخ نظروں سے دیکھتا جھٹکے سے اسے لفٹ کی دیوار سے لگا گیا۔
” صارم۔۔” رامین کی کمر زور سے دیوار سے لگی تھی کہ وہ کراہ کر رہ گئی۔
جاری ہے
