No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
” امی اس کی شادی ایاز سے کر دیں۔ گھر کی بات گھر میں رہ جائے گی۔”
” کہا تو تھا صاف منع کر دیا۔”
” امی ضد کریں کبھی تو مانے گی۔”
” صحیح کہہ رہی ہو۔ کرتی ہوں بات۔”
” امی حسن مجھے بہت باتیں بناتا ہے۔ اگر رامین نہیں مانے گی تو وہ مجھے گھر سے نکال دے گا۔ آپ پلیز رامین کو سمجھائیں۔”
” رابعہ وہ نہیں مانتی وہ کہتی ہے وہ کچھ نہیں کرتا۔ مجھے اس سے شادی کر کے کیا ملے گا؟”
” امی وہ کون سا کسی سلطنت کی شہزادی ہے اور اب تو جو اس کے ساتھ ہوا ہے اسے ایسے ہی رشتے ملیں گے بلکہ اس سے برے ہی ملیں گے۔ ایاز میں کوئی خامی نہیں پھر بھی وہ رامین کو اپنی عزت بنانے کو تیار ہوا ہے۔”
” ایسا کچھ بھی نہیں ہوا رابعہ جو تم لوگ شور مچا رہے ہو۔”
” امی آپ لوگوں کی زبانیں نہیں بند کر سکتیں۔”
” رابعہ لوگوں کو زبانیں تمہارے سسرال والوں نے دی ہیں پھر بھی میں بات کروں گی اس سے۔”
” رامین یہاں کیا کر رہی ہو؟” ایاز اچانک آ دھمکا۔
” میں اپنے باس کے ساتھ آئی ہوں۔” رامین نے ناگواریت سے کہا۔
” خالہ کو پتا ہے کہ تم کہاں ہو؟”
” ہاں پتا ہے اب جاؤ۔” رامین نے کوفت سے کہا۔
” کیا خالہ کو پتا ہے کہ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟”
” کیا ہو رہا ہے یہاں؟” صارم جو کسی ورکر کی بات سننے کے لیے سائیڈ پر ہوا تھا۔ رامین کے پاس کھڑے انجان شخص کو دیکھ کر وہیں آ گیا۔
” میں ان کا رشتے دار ہوں انہیں اکیلے کھڑا دیکھا تو پریشانی میں یہاں آ گیا۔”
” یہ میرا رشتے دار نہیں ہے۔” رامین نے چبا چبا کر کہا۔
” کیوں رامین میں تمہیں اپنا اپنا سا نہیں لگتا؟”
” نہ اپنا نہ غیر۔” رامین بدک گئی۔
” ہاں کر لو پھر تو میں تمہارا سب کچھ بن جاؤں گا۔
ویسے اب سمجھ آیا تمہارے یہاں ہونے کی وجہ۔”
” کیا بکواس کر رہے ہو؟” صارم غصے سے آگے بڑھا۔
” نہیں پلیز۔۔۔” رامین نے صارم کے بازو پر ہاتھ رکھا۔
” اوئے ہوئے ہوئے کیا بات ہے انہیں کچھ کہو تو آپ کو برا لگتا ہے۔ آپ کو کچھ کہو تو یہ تڑپ جاتی ہیں۔” ایاز نے کمینگی سے کہتے اس کے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا۔
رامین نے ہاتھ جھٹکے سے پیچھے کر لیا۔
” سر ویسے ہمارے لیے بھی کچھ نکالیں۔ آپ نے ان کو بھی تو جاب دی ہے۔ حالانکہ یہ انٹر پاس ہیں۔
مجھے اب سمجھ آئی ہے کہ ان کو اتنی اچھی جاب قابلیت کی بنیاد پر نہیں ملی۔ ہمارے لیے بھی کوئی راہ نکالیں۔ ہم تو قابل بھی ہیں۔”
” ہے نا گیٹ آؤٹ۔” صارم دھاڑا۔
رامین اچھل کر رہ گئی۔
” بتاؤں گا رامین خالہ کو تمہارے بارے میں کہ تم یہاں کیا کرتی پھر رہی ہو؟” ایاز دھمکی دیتا چلا گیا۔
” گاڑی میں بیٹھو.” صارم نے انتہائی سنجیدگی سے کہا۔
گاڑی اپنے راستے پر گامزن تھی۔
” اگر یہ تمہارا رشتے دار نہیں ہوتا نا رامین تو میں اسے بتاتا کہ میں کون ہوں۔”
” یہ میرا رشتے دار نہیں ہے۔” رامین ہتھے سے اکھڑ گئی۔
” اس کا تعلق تمہاری فیملی سے ہے اور یہ وہی شخص ہے جس کو تمہاری امی نے تمہارے لیے چنا ہے۔ دیکھا کیا انہوں نے اس میں؟
تم اس کی خاطر مجھ سے ڈیورس کا تقاضا کر رہی تھی نا؟” صارم نے چبھتے ہوئے پوچھا۔
کچھ دیر خاموشی کے بعد صارم کی آواز گاڑی میں گونجی۔
” کچھ نہیں دیکھا اس نے۔ ایسے ہی بکواس کر رہا ہے۔” صارم نے یو ٹرن لیتے ہوئے کہا۔
” لیکن میں آئندہ سائٹ وزٹ پر نہیں آؤں گی۔”
” میں تم سے پوچھ کر نہیں چلوں گا اور نہ تم ایک دن بھی اپنی مرضی سے آئی ہو۔ میرا جب دل کرے گا جہاں دل کرے گا تمہیں لے کر جاؤں گا۔”
” میں کوئی بچہ نہیں ہوں جو مجھے ارد گرد کا ہوش نہ ہو۔”
رامین اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔
” صارم تم نے تو کہا تھا اسلام آباد میٹنگ میں جانا ہے لیکن تم تو مجھے یہاں لے آئے ہو۔”
” ہاں یار میرے دوست کی شادی ہے۔ تم میرے ساتھ چلو۔”
” ان کپڑوں میں؟ میرے پاس شادی کے لیے کوئی کپڑے نہیں ہیں۔”
” مجھے اندازہ تھا اس لیے میں نے پہلے ہی تمہاری شاپنگ کر لی تھی یہ دیکھو۔” صارم نے بیڈ پڑے ڈریس کی طرف اشارہ کیا۔
” اب تم جلدی سے تیار ہو جاؤ پھر ہمیں نکلنا ہے۔ پہلے شادی پر جائیں گے پھر آ کر چینج کریں گے اور پھر ایئر پورٹ کم آن ہری اپ۔” صارم نے جلد بازی سے کہا۔
رامین نے بیڈ پر پڑا ہینگر اٹھایا۔
” یہ ساڑھی؟” رامین نے اس کی طرف ہینگر کیا۔
وہ ریڈ کلر کی نیٹ کی ساڑھی تھی۔ جس کا بلاؤز چھوٹا اور سلیو لیس تھا۔
” میں یہ نہیں پہنوں گی۔” رامین نے صاف انکار کیا۔
” کیوں؟”
” صارم تم دیکھو یہ کوئی پہننے والا ڈریس ہے؟”
” اس میں کیا برائی ہے؟ ہمارے سرکل میں یہ چلتا ہے.”
” اس میں کوئی اچھائی بھی نہیں ہے اور تمہارے چلتا ہو گا لیکن میں یہ نہیں پہنوں گی۔”
” کیوں نہیں پہنو گی؟”
” میں نے کبھی ساڑھی نہیں پہنی۔” رامین نے جان چھڑانی چاہی۔
” تو آج پہن لو۔”
” تم چلے جاؤ شادی پر۔ میں تمہارا انتظار کر لوں گی۔”
” تم چل رہی ہو رامین اب کوئی بحث نہیں۔ جلدی کرو ہمیں لیٹ ہو رہی ہے۔”
” سی تھرو ہو گا۔” رامین نے بےبسی سے کہا۔
” تم اس میں اتنی برائیاں نکال رہی ہو۔ میں نے تمہارے لیے اس کے ساتھ اتنا کچھ لیا ہے۔ تم ایک بار پہن کر تو دیکھو۔ تم بہت اچھی لگو گی۔”
” ٹھیک ہے لیکن میں اس کو اپنے مطابق ایڈجسٹ کروں گی۔”
” اوکے.” صارم نے زیادہ بحث نہیں کی تھی۔ پہلے ہی وہ بہت مشکل سے مان رہی تھی۔
کچھ دیر بعد رامین تیار ہو کر باہر آئی۔
صارم کی نگاہیں اس پر سے ہٹنے سے انکاری تھیں۔
وہ ہتھیاروں سے لیس اس کا چین اڑانے کے لیے اس کے سامنے تھی۔ صارم کا دل بے ایمان ہونے لگا۔ اس نے پہلی بار اسے اس طرح سے سجا سنورا دیکھا تھا۔ ورنہ وہ ہمیشہ اس کے سامنے سادہ سے حلیے میں ہوتی تھی۔
اس پر ریڈ کلر کی یہ ساڑھی بہت جچ رہی تھی۔ اسے آج پہلی بار اندازہ ہوا تھا کہ رامین کے بال کندھوں سے ذرا نیچے تک ہی تھے۔
صارم اس کی طرف قدم قدم بڑھا۔
اس نے ساڑھی کی فول اس طرح سے سیٹ کی کہ وہ قابل بہتر لگا۔
اس کے بلاؤز کا گلا بھی تھوڑا گہرا تھا۔ جسے رامین نے پن سے سیٹ کرنے کی کوشش کی۔ مزید چھپانے کے لیے رامین نے بال کھول کر آگے ڈال لیے۔ اس کے بال کندھوں سے ذرا نیچے ہی تھے کہ رامین کو آج پہلی بار اپنے بال چھوٹے ہونے کا قلق ہوا کیونکہ آج سے پہلے اس نے کبھی لمبے بالوں کی خواہش نہیں کی تھی۔ اسے لگتا تھا لمبے بال سنبھالنا بہت مشکل ہے۔
صارم نے اس کی سمارٹ نیس کو دل سے سراہا
” تم اب تک تیار نہیں ہوئے؟” رامین نے اس کی نظروں سے گھبراتے ہوئے کہا۔
” ہو جاتا ہوں پہلے تمہیں تو دیکھ لوں۔” صارم نے ساڑھی کے پلو سے پن نکال دی۔ سارا فلیئر کھل گیا۔ جس سے رامین نے سب کچھ عیاں ہونے سے چھپایا تھا۔
اب مکمل سی تھرو ہو رہا تھا۔ اس کا سڈول نرم و نازک سراپا نازک کمر نیٹ کے اس پار سے جھلکتا پیٹ صراحی دار گردن اس پر متضاد ریڈ لپ اسٹک سے سجے ہونٹ۔۔ صارم کو اپنی طرف متوجہ کر رہے تھے۔ صارم کے دل نے زور سے انگڑائی لی۔
” یہ کیا بدتمیزی ہے صارم.” رامین نے ناراضگی سے کہتے دوبارہ چن ڈالنے شروع کیے۔
صارم نے اس کے ہاتھ پکڑتے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لے لیا۔
” ایسے ہی اچھی لگ رہی ہو۔” صارم نے بے خود ہوتے ہوئے کہا۔
” صارم ہمیں لیٹ ہو رہی ہے جلدی کرو۔” رامین نے دھڑکتے دل سے کہا۔
صارم نے لب اس کی دودھیا شفاف گردن پر رکھے۔
رامین کو اپنے ارد گرد خطرے کی گھنٹیاں سنائی دیں۔
صارم کی انگلیاں اسے اپنے پیٹ پر سرکتی محسوس ہوئیں۔
” صارم مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے۔ میں بہت ان کمفرٹیبل فیل کر رہی ہوں ہٹو پیچھے مجھے چینج کرنے دو۔” رامین نے اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کی۔ رامین کی کمر صارم کے سینے سے مس ہو رہی تھی۔
” ابھی کمفرٹیبل بھی ہو جاؤ گی۔” صارم نے اس کی بیوٹی بون پر لب رکھے۔ رامین نے جھٹکے سے اس کا حصار توڑ کر بھاگنا چاہا۔
صارم نے اسی تیزی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔
وہ اس کے ساتھ آ لگی۔
” صارم پلیز نہیں۔۔۔” صارم اس کے لبوں پر جھکا۔
رامین جھٹپٹا کر رہ گئی۔ اسے خود سے دور کرنے لگی لیکن صارم اس کی مزاحمت کو خاطر میں لائے بغیر اپنی پیاس بجھا رہا تھا۔ رامین کو اپنی سانسیں بند ہوتی محسوس ہوئیں۔ اس کی مزاحمت دم توڑ رہی تھی۔
رامین کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں قید کیے وہ اسے لیے بیڈ پر گر گیا۔
بالآخر صارم نے اس کے لبوں کو آزادی بخش دی۔
رامین گہرے گہرے سانس لینے لگی۔
صارم اس کی گردن پر جھکا اپنی شدتیں لٹا رہا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر لائٹ آف کر دی۔
” صارم پلیز یہ غلط ہے۔”
رامین نے جھٹکے سے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اب کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اسے احساس ہو گیا تھا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ وہ صارم سے اپنا آپ چھڑوانے میں ناکام رہی تھی۔
” کچھ غلط نہیں ہے۔ تم میری بیوی ہو۔”
” صارم پلیز۔”
صارم نے اس کی گردن پر زور سے دانت گاڑھے۔
رامین سسک کر رہ گئی۔
” رامین میرے غصے کو ہوا مت دو۔” صارم اس کے لبوں پر ایک بار پھر جھک گیا۔
رامین تڑپ کر رہ گئی۔
صارم رامین کے ہاتھوں کو بیڈ سے پن کیے اس پر پورے طریقے سے قابض ہو چکا تھا۔
رامین کی مزاحمت دم توڑ رہی تھی۔ اب اس سے زیادہ اس میں ہمت نہیں تھی۔
صارم مکمل طور پر اس پر حاوی ہو گیا اور اپنی مرضیاں چلانے لگا۔ رات آہستہ آہستہ گزر رہی تھی۔
” امی دیکھیں رامین نے آپ کو بھی تو کپڑے لے کر دیے ہیں۔ میں نے کہا تو کہتی ہے اگلے مہینے دوں گی۔ میرے پاس پیسے نہیں ہیں اور اسلام آباد چلی گئی ہے۔ اب پیسے ہیں اس کے پاس؟”
” رابعہ اس نے صرف رانی کے لیے کپڑے بنوانے ہیں کہ اسے یونیورسٹی جانا ہوتا ہے اور مجھے لے دیے۔ اس نے اپنے کپڑے بھی نہیں بنائے۔ اگر وہ تمہیں کہہ رہی ہے کہ اگلے مہینے لے دے گی تو انتظار کر لو لے دے گی۔
اور آفس والے کام کے لیے لے کر گئے ہیں۔ وہ خود تھوڑی گئی ہے۔”
” گرمی دیکھیں کتنی ہے اور آپ کہہ رہی ہیں انتظار کر لوں۔” رابعہ رو رو کر گھر سر ہر اٹھا چکی تھی۔
” کیا انتظار کروں؟ وہ مجھے صرف ٹالتی ہے۔ دیتی کچھ بھی نہیں ہے۔” رابعہ نے مبالغہ آرائ کی حد کر دی۔
” پاپا کیا گئے میری تو دنیا ہی اجڑ گئی۔”
فرح بیگم کے دل کو ہاتھ پڑا۔
” ایسے نہ کہو رابعہ تم۔ میں رامین سے خود کہوں گی۔ اس طرح مت کرے۔”
” میں نے آپ سے پہلے ہی کہا تھا یہ بدل جائے گی۔ ایک ایک روپیہ اپنے اندر دبا کر رکھے گی پر آپ کو اس وقت میں بری لگی تھی۔”
” میں ابھی زندہ ہوں وہ ایسے میری بچیوں کو ذلیل نہیں کر سکتی۔”
فرح بیگم نے رابعہ کے لیے بازو وا کیے اور اسے اپنے سینے سے لگا گئیں۔ رابعہ جو رونا شروع ہوئی تو چپ نہ کی۔
جاری ہے
