No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
صارم کا رزلٹ آ چکا تھا۔ اس نے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ وہ ہائیر سٹڈیز کے لیے یو ایس جا چکا تھا۔
جہاں ایم بی اے کرنے کے ساتھ ساتھ اس نے وہاں کا بزنس سنبھالنا شروع کر دیا تھا۔ جس میں اس کی مکمل نگرانی علی شاہ کر رہے تھے۔ اس پورے عرصے میں وہ ایک بار بھی پاکستان نہیں آیا تھا۔ ایم بی اے کے بعد بھی وہاں کا بزنس سنبھالتا رہا تھا۔ اس دوران ثمینہ شاہ اور علی شاہ اس سے ملنے کی غرض سے آتے رہتے تھے۔
پاکستان میں ایک ہی چیز اسے کھینچتی تھی۔ وہ رامین تھی۔ جس کی تلاش کے لیے اس نے اپنے دوستوں کو مختص کیا ہوا تھا۔
رامین بیڈ پر لیٹی چھت پر گھومتے پنکھے کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی۔ آنکھوں سے بے آواز آنسو تواتر سے گر رہے تھے۔
” رامین کیوں رو رہی ہو؟ سب ٹھیک ہو جائے گا۔” رانیہ نے رامین کو روتے دیکھا تو اس کے پاس آ بیٹھی۔
” کیسے ٹھیک ہو گا رانی؟ کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو گا۔” رامین روتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔
” رامین میں بھی تمہارے ساتھ ٹیوشنز دوں۔ ہم اور بچوں کو بھی لے لیتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟”
” رانی کوئی بچہ یہاں نہیں آتا۔ یہاں لوگ بچوں کو ایگزامز میں ہی پڑھاتے ہیں۔ ہمارا گزارا صرف ٹیوشنز کے زور پر ناممکن ہے اور تم صرف اس وقت اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔ تمہیں میڈکل کالج میں ایڈمیشن لینا ہے اور میں چاہتی ہوں تم اچھے کالج میں پڑھو کیونکہ ڈاکٹر بننے کا خواب صرف تمہارا ہی نہیں تھا۔ پاپا کا بھی تمہیں ڈاکٹر بنانے کا خواب تھا اور اب میرا بھی ہے تو تم بےفکر ہو کر صرف پڑھو۔” رامین نے اسے سمجھایا۔
” رامین سب ٹھیک ہو جائے گا نا؟” رانیہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
” انشاء اللہ۔” رامین نے بہتی آنکھوں سے سر اثبات میں ہلایا۔ رانیہ روتے ہوئے رامین کے گلے لگ گئی۔
” صارم شاہ تم پل پل تڑپو گے۔ ہمارے آنسو رائیگاں نہیں جائیں گے۔” رامین دل میں صارم سے مخاطب تھی۔
———————–
ثمینہ شاہ صارم سے ویڈیو کال پر محو گفتگو تھیں۔
” تم پاکستان کب آؤ گے؟ میں تمہیں بہت مس کر رہی ہوں۔” ثمینہ شاہ نے محبت سے کہا۔
” ابھی نہیں مام ابھی تھوڑا ٹائم لگے گا۔” صارم نے محبت سے انہیں سمجھایا۔
” میں دو تین پراجیکٹس پر کام کر رہا ہوں تو ابھی آنا ناممکن ہے۔
میں چاہتا ہوں آپ کے ہسبینڈ کو بھی پتا چلے کہ میں بلنڈرز کے علاؤہ اور بھی بہت کچھ خوبصورتی سے مینیج کر سکتا ہوں۔”
” تم باپ بیٹے کی جنگ میں میرا کیا قصور ہے؟ تم دونوں باپ بیٹا مجھے تنہائی کی مار مارتے ہو.”
” تو ڈارلنگ آپ یہاں آ جائیں۔ آپ کی تنہائی بھی ختم ہو جائے گی۔ “
” نیکسٹ منتھ پروگرام بناتی ہوں کیونکہ اس منتھ تو ڈونیشن ایونٹس بہت زیادہ ہیں۔”
” تم بھی اپنا سکیجؤل بتا لینا۔ یہ نہ ہو آفس میں ہی بیٹھے رہو۔ جب میں آؤں تو مجھے تمہارا سارا ٹائم چاہیے۔” ثمینہ شاہ نے دھونس سے کہا۔
” اوکے ڈارلنگ اینی تھنگ فار یو.” صارم نے محبت سے مسکراتے ہوئے کہا۔
کافی دیر ان کا سلسلہ کلام جاری رہا۔
رامین گھٹنوں میں سر دیے آج پھر اپنے سود و زیاں کے شمار میں مصروف تھی۔ مسئلے تھے کہ آئے دن بڑھ رہے تھے اور نجات ندارد۔۔
اس دن کا ایک ایک لمحہ اس کی آنکھوں میں کسی فلم کی طرح گھوم رہا تھا کہ اچانک اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔ اسے کچھ یاد آیا۔
جاری ہے
