258.6K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maseer E Mamnu Episode 26 Behind Closed Doors

ادھر وی وی آئی پی کمرے میں وہ تین افراد جو واپس آئے تھے، خاموشی سے وہاں بیٹھے تھے۔ میلیسا تھوڑی شرمندہ نظر آ رہی تھی اور وضاحت کرتے ہوئے بولی،

 “میرا وہ مطلب نہیں تھا، ثالث۔ میں تو صرف حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ بات کہہ گئی۔ براہِ کرم، کوئی غلط فہمی نہ رکھیں۔”

حالانکہ مہدی اور پاشا خاندانوں کے درمیان دوستانہ تعلقات تھے، لیکن ثالث کی شناخت صرف مہدی فیملی کے سربراہ ہونے تک محدود نہیں تھی۔ مزید یہ کہ، ثالث کو عورتوں کے ساتھ وابستگی سخت ناپسند تھی۔ میلیسا نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس کی بات سے ناراض ہو۔

ثالث کی نظریں فروین پر جمی ہوئی تھیں جو نیچی نظریں کیے اپنے گلاس میں پانی ہلانے میں مصروف تھی۔ اس کے چمکتے ہوئے نقوش اور اس کے ارد گرد کی سرد مہری نے کسی کو بھی اس سے ناراض ہونے نہیں دیا۔

نہ صرف یہ کہ وہ ناراض نہیں ہوا، بلکہ اس کی آنکھوں کے کونے پر ہلکی سی مسکراہٹ بھی تھی۔

 ” ایسا کچھ نہیں  ہے۔”

میلیسا اور ثالث نے رسمی بات چیت جاری رکھی۔ جب میلیسا کو معلوم ہوا کہ فروین پرسوں نیویارک جا رہی ہے، تو وہ مسکرا کر بولی،

 ” فروین، تمہارے ماموں اور میں بھی سوچ رہے تھے کہ تم نیویارک میں ہمارے ساتھ رہو۔”

اس کی آنکھیں نم ہو گئیں اور وہ بولی،

 “تمہاری نانی تمہاری ماں کی گمشدگی کے بعد اتنا روئی ہیں کہ ان کی بینائی ختم ہو گئی ہے۔ وہ ان تمام سالوں میں تمہاری ماں کا ذکر کرتی رہی ہیں۔ وہ تمہیں دیکھ کر بہت خوش ہوں گی۔”

فروین اصل میں اس پیشکش کو رد کرنے والی تھی۔ وہ ایک بالغ تھی؛ اسے ان کے ساتھ رہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن جب اس نے یہ سنا تو وہ رک گئی اور بولی،

 “…ٹھیک ہے۔”

اس کے بعد کھانے کی میز سج گئی، اور تینوں نے کھانا شروع کیا۔ ثالث نے سامنے بیٹھی فروین کا مشاہدہ کیا۔ اس نے دیکھا کہ اس کے کھانے کا انداز دلچسپ تھا۔ وہ بڑے بڑے گوشت کے ٹکڑے منہ میں ڈال کر چبانے کی عادی تھی، پھر بھی اس کے معمولی انداز میں کوئی بدنظمی نہیں تھی۔

ثالث نے جن خواتین کو دیکھا تھا، وہ عموماً آرام سے کھاتی تھیں، لیکن فروین نے پلیٹ کا اسٹیک چند ہی نوالوں میں ختم کر دیا، نہایت مؤثر انداز میں۔

ثالث یہ کیسے جانتا کہ فروین صرف شمائل کے ساتھ وقت گزارنے کے علاوہ کسی چیز پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی؟

میلیسا نے ابھی صرف چار نوالے لیے تھے جب فروین نے کٹلری رکھ دی۔

“آنٹی میلیسا، مجھے تھوڑی دیر بعد کچھ کام ہے، اس لیے میں پہلے جا رہی ہوں۔”

میلیسا دنگ رہ گئی۔ فروین  نے یہ کہہ کر پرائیویٹ روم چھوڑ دیا۔ جب اس نے مس مارٹا کا میسج دیکھا کہ شمائل واپس پہنچ چکی ہے، تو اس نے اوپر جانے کی زحمت نہیں کی۔ اس نے ایک ٹیکسی روکی اور باہر نکل گئی۔

حالانکہ اسے معلوم تھا کہ کھانے کے دوران اٹھنا مناسب نہیں تھا، لیکن اسے واقعی ایک ضروری کام تھا۔ دو دن پہلے اس نے آئیڈیلاین فارماسیوٹیکلز کے ایکٹنگ ڈائریکٹر،  کے ساتھ ملاقات طے کی تھی۔ اس کی ماں نے کمپنی اسے سونپی تھی، اور اس نے پچھلے 20 سالوں میں اسے سنبھالا ہوا تھا۔

جب فروین کیفے پہنچی، ڈایریکٹر پہلے ہی وہاں موجود تھا۔

وہ خوشی سے کھڑا ہوا اور بولا،

 “تم امریکہ سے واپس آ گئی ہو، فروین! اب تم 24 سال کی ہو گئی ہو؟ اگر تمہاری ماں آج زندہ ہوتیں، تو یقیناً بہت خوش ہوتیں۔”

اس نے پوری نیک نیتی سے کمپنی کو سنبھالا ہوا تھا۔ اتنے سالوں بعد بھی، اس نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی جو اس کی وفاداری پر سوالیہ نشان لگائے۔

فروین ہلکا سا مسکرائی۔ پھر وہ بیٹھ گئی اور پوچھا،

 ” انکل، آج میں نے آپ کو اس لیے بلایا ہے کہ پوچھ سکوں، کیا میری ماں نے کمپنی کے علاوہ میرے لیے کچھ چھوڑا ہے؟ یا کیا کمپنی میں کچھ ایسا ہے جو میرے لیے ہو؟”

اس نے پہلے ہی اس کے بارے میں تحقیق کر لی تھی۔

آئیڈیلاین فارماسیوٹیکلز واقعی ایک چھوٹی سی کمپنی تھی، جس کی سالانہ آمدنی صرف $5,000,000 تھی۔ ان سالوں میں، انہوں نے کئی بار اپنا پتہ بھی بدلا تھا۔

اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ جیلانی اور مہر کاظم خاندان اس چھوٹی سی کمپنی کو لے کر اتنے پریشان کیوں تھے؟

ڈاییریکٹر نے سنجیدگی سے سر ہلایا اور جواب دیا،

“ہاں، اس نے کچھ چھوڑا ہے!”

فروین نے اس کی طرف دیکھا۔

 ” کیا چھوڑا ہے؟”

تو، کمپنی واقعی کچھ چھپا رہی تھی۔ جیسے ہی اس نے یہ سوچا، ڈائیریکٹر نے جواب دیا،

“محبت اور ساتھ۔”

فروین کو کوئی جواب نہ سوجھا جبکہ اس نے بات جاری رکھی،

 “اگرچہ وہ ہمیں جلدی چھوڑ گئیں، لیکن انہوں نے تمہارے لیے راستہ ہموار کر دیا۔ وہ اب ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن ان کا دل ہمیشہ تمہارے ساتھ رہا ہے۔”

ماں کی محبت پر گھنٹوں باتیں سننے کے بعد، فروین  جو ابھی کھانے کے بعد بیٹھی تھی، جمائی لیے بغیر نہ رہ سکی۔ یہ تب تھا جب ڈائیریکٹر کو احساس ہوا کہ وہ بہت زیادہ باتیں کر رہا تھا۔

 ” آپ اب بڑی ہو گئی ہو، فروین۔آپ کب کمپنی سنبھالنے کا ارادہ رکھتی ہو؟”

اگرچہ اس کو کمپنی کے لیے انسیت اور ذمہ داری محسوس ہونے لگی تھی، لیکن کاروبار فروین کا تھا۔ اسے واپس کرنا اس کا فرض تھا۔

فروین نے بےپرواہی سے جواب دیا،

 ” آپ اسے کافی اچھے طریقے سے سنبھال رہے ہیں، تو اسے ایسے ہی چلنے دیتے ہیں ۔”

ایک چھوٹی کمپنی میں وہ مخصوص محکمے نہیں ہوتے جو بڑی کمپنیوں میں ہوتے ہیں۔ مالک کو خود ہر چیز کی دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے، جو اتنا وقت لیتا ہے کہ وہ وقت نیند میں گزارا جا سکتا تھا! یعقوب حیرت زدہ رہ گیا۔

فروین نے پوچھا، “کیا جیلانی صاحب نے کمپنی خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے؟”

اگر جیلانی خاندان واقعی کمپنی کی ترقی کی صلاحیت میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو انہیں تبریز کی شادی کو سودے بازی کا ذریعہ بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ صرف کمپنی کو زیادہ قیمت پر خرید سکتے تھے۔ ان کے پاس پیسہ تو ہے۔

لیکن اس نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا،

“نہیں، انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔”

فروین نے پیشانی پر شکن ڈالی۔ لیکن چونکہ وہ معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچ سکی، اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس بارے میں مزید نہیں سوچے گی۔

“اگر آپ کو کبھی یاد آئے کہ مام نے کوئی چیز میرے حوالے کرنے کو کہا تھا، تو مجھے فون کر دیجئیے گا۔”

“ٹھیک ہے۔”

وہ کچھ دیر رکے۔

” فروین، کیا میں تمہارا بینک اکاؤنٹ نمبر لے سکتا ہوں؟ میں آئندہ کمپنی کے تمام منافع تمہیں براہ راست بھیج دوں گا۔”

اس وقت فروین بچی تھی۔ لیکن جب وہ بڑی ہوئی، تو بیرون ملک چلی گئی۔ اسی لیے ڈائیریکٹر نے منافع اس کے سرپرست کو دے دیے تھے۔ یہ صرف پانچ ملین ڈالر تھے۔ فروین کے لیے یہ کچھ خاص نہیں تھا، لیکن وہ یہ رقم مہر کاظم کو کیوں دیتی؟

اس نے اپنا بینک اکاؤنٹ نمبر دیا اور چلی گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہوٹل فائنیسٹ کی بالائی منزل پر ہاشم مہدی صوفے پر غرور سے بیٹھا تھا اور اسٹڈی میں موجود حارث کو حقارت سے دیکھ رہا تھا۔

اس نسل میں، مہدی کے براہ راست وارثین میں صرف ثالث کا قریبی خاندان اور نیویارک میں ہاشم کا خاندان ہی باقی تھے۔ بطور خاندان کے براہ راست وارث اور سب سے بڑے بیٹے کے، ثالث نے یہ مقام حاصل کیا تھا۔ لیکن اس کے دوسرے چچا نے اسے کبھی قبول نہیں کیا اور کئی مسائل کھڑے کیے۔

مہدی، جو خاندانی گھر میں رہتے تھے، کاروباری جھگڑوں میں شامل نہیں ہوتے تھے۔ ان کا کام صرف خاندانی مسائل کو حل کرنا تھا۔ جہاں تک ہاشم کا تعلق تھا، وہ مارشل آرٹس کا شوقین تھا۔ وہ اپنے خاندان کے طریقوں کو ناپسند کرتا تھا اور ثالث کی دل سے تعریف بھی کرتا تھا۔ لیکن اسے اس بچے سے سخت نفرت تھی جس کی اصل شناخت نامعلوم تھی۔ وہی تھا جس نے ثالث کی شاندار زندگی کو دھندلا دیا!

وہ نہ صرف ذہنی طور پر بیمار تھا بلکہ کمزور اور نحیف بھی تھا۔ ایسا بچہ ثالث کا جانشین بننے کے قابل کیسے ہو سکتا تھا؟

ہاشم نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے نفرت سے نظریں ہٹا لیں۔

اسی لمحے دروازہ کھلا اور ثالث داخل ہوا۔

جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا، اس کی شخصیت کا مضبوط اثر ہاشم تک پہنچا، جس کی وجہ سے وہ جلدی سے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اس نے احتراماً کہا،

” ثالث۔”

ثالث نے ہلکی سی آواز میں جواب دیا اور پوچھا،

“تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”

ہاشم نے اپنی مڑی ہوئی ناک کو بےچینی سے رگڑا اور کہا،

 “دادا نے سنا ہے کہ آپ نیویارک جا رہے ہیں دادی کا علاج کروانے کے لیے، تو وہ چاہتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ جاؤں اور گواہ کے طور پر موجود رہوں۔ اسی دوران میں نے سوچا کہ میں یہ بھی دیکھ لوں کہ آیا مسٹر کوئین مجھے اپنی شاگردی میں لے کر روایتی مارشل آرٹس سکھانے کے لیے تیار ہیں۔”

ایسا لگتا ہے کہ وقت کے ساتھ روایتی مارشل آرٹس زوال پذیر ہو رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عام لوگوں میں اب بھی اس فن کے ماہر موجود ہیں۔

کوئین اسکول آف مارشل آرٹس اور اروِن اسکول آف مارشل آرٹس روایتی فنون کی صفِ اول میں شمار ہوتے ہیں۔ ہاشم کا خواب تھا کہ وہ ان میں سے کسی کا شاگرد بنے۔

ثالث نے اسے دیکھا۔ اسے معلوم تھا کہ اسکول میں شمولیت کی خواہش حقیقی تھی، لیکن گواہ بننے کا حصہ اتنا سچ نہیں تھا۔ لیکن کوئین اسکول آف مارشل آرٹس میں شامل ہونا اور وہاں مارشل آرٹس سیکھنا؟

اس کی گہری آنکھیں اسٹڈی کی جانب دیکھنے لگیں۔ روشنی کی ایک جھلک اس کی نظروں میں آئی اور اس نے کہا،

” حارث کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤ۔ مسٹر کوئین شاگردوں کے انتخاب میں سخت ہیں۔ ہو سکتا ہے تم ان کے معیار پر پورا نہ اترو۔ حارث کے پاس موقع ہے۔”

اس نے حارث کے جسم کا معائنہ تب کیا تھا جب وہ چھوٹا بچہ تھا۔ حارث مارشل آرٹس سیکھنے کے لیے موزوں تھا۔ تاہم، اس وقت وہ اپنے بیٹے کو مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا تھا، اس لیے اس نے اسے کچھ نہیں سکھایا تھا۔ اس کا بیٹا حال ہی میں کچھ ‘منفرد’ برتاؤ کر رہا تھا، اس لیے اسے کوئین اسکول آف مارشل آرٹس بھیجنا اچھا خیال تھا تاکہ وہ اسے درست کر سکے۔

ہاشم نے ناک چڑھا کر کہا،

 “وہ؟”

تاہم، جب اس کی نظر ثالث کی تیز آنکھوں سے ملی، تو اس نے اپنے الفاظ نگل لیے۔ اندر ہی اندر وہ ہنس رہا تھا۔ اس کے خیال میں، حارث کے کمزور اور نحیف جسم کے ساتھ، مسٹر کوئین اسے کیوں منتخب کریں گے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فروین اس وقت ہوٹل واپس آئی۔ اس کا فون بجنے لگا۔ جوتے بدل کر، صوفے پر نیم دراز ہو کر، اس نے سست روی سے فون اٹھایا۔ دوسری جانب سے  غصے میں بھرپور آواز آئی،

“تم پھر کام چوری کر رہی ہو! اور مشق چھوڑ دی؟!”

فروین نے کان کو مسلتے ہوئے، جو اونچی آواز سے چبھن محسوس کر رہا تھا، جواب دیا،

 “مجھے سونا ہے، کوئین۔ میرے پاس وقت نہیں۔”

“پھر شمائل کو بھیج دو! وہ تمہاری بیٹی ہے، اس کا جسم تم سے بھی زیادہ موزوں ہوگا۔ میں اسے اپنا شاگرد بناؤں گا اور اسے اپنا جانشین بناؤں گا! کیا تم نے اپنے بیٹے کو تلاش کیا؟ ہمارا فن لڑکوں کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ اگر تم نے اسے ڈھونڈ لیا ہے، تو دونوں کو لے آؤ!”

فروین نے سست انداز میں کہا،

“کیا کوئین اسکول آف مارشل آرٹس اتنا زوال پذیر ہو گیا ہے کہ اسے زندہ رکھنے کے لیے پانچ سال کی بچی پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے؟”

کوئین نے چلّا کر کہا،

 “…اور اس کا قصور کس کا ہے؟ یہ سب اس لیے ہوا کیونکہ میں نے تم جیسے کاہل شخص کو اپنا شاگرد بنایا! وہ اروِن والا ہمیشہ اپنے شاگردوں کا ڈھنڈورا پیٹتا رہتا ہے۔ میرے شاگرد پیچھے نہیں رہ سکتے! اگر تمہارے پاس وقت ہو تو نیویارک آؤ اور اس کے شاگردوں کے ساتھ مقابلہ کرو!”

فروین نے بےپرواہی سے جواب دیا،

 “میرے پاس وقت نہیں۔”

پھر، اس سے پہلے کہ کوئین غصے میں آتا، اس نے مزید کہا،

“لیکن میں واقعی نیویارک آ رہی ہوں۔ شمائل کو ساتھ لاؤں گی اور تم سے ملوں گی۔”

“کب اور کس وقت؟ میں کسی کو تمہیں لینے کے لیے بھیجوں گا!”

کوئین نے جوش سے کہا، لیکن فوراً ہی فروین کی ہلکی ہنسی سن کر تھوڑا جھینپ گیا۔ پھر اس نے فوراً وضاحت دی،

 “مجھے تمہاری نہیں، شمائل کی یاد آ رہی ہے!”

فروین دوبارہ ہنسی اور اپنی آمد کی تاریخ اور وقت بتا کر کال بند کر دی۔

اس نے میز سے پانی کا گلاس اٹھایا، چند گھونٹ لیے، اور پھر نہانے چلی گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھر کے باہر شمائل، جو اپنے فون کے ساتھ کھڑی تھی، دروازے کے کنارے سے سب دیکھ رہی تھی۔ اس نے وائس چیٹ میں کہا،

” طلال چاچو، ممی واپس آ گئی ہیں!”

حارث نے جواب دیا،

“چپک کر رہو، شمائل ڈیڈی ممی کو دیکھنے نیچے جا رہے ہیں!”

شمائل فوراً زینے کی طرف بھاگی۔ واقعی، اس نے اپنے خوبصورت ڈیڈی کو لفٹ سے نکلتے دیکھا۔ جیسے ہی وہ ان کے سویٹ کے قریب پہنچے اور دیکھا کہ دروازہ کھلا ہے، وہ سیدھا اندر چلے گئے۔

ثالث کے اندر داخل ہوتے ہی، طلال جلدی سے آیا اور دروازے کو ایک بڑی دھات کے تالا بندی سے بند کر دیا۔

اس کے بعد، وہ زینے میں جا کر دبک گیا اور کہا،

 “کیا تم نے وہ پانی پلا دیا جو میں نے تمہیں دیا تھا؟”

شمائل نے جواب دیا،

 “ہاں، ممی نے پی لیا! میں نے اسے ان کے گلاس میں ملا دیا تھا!”

حارث نے بھی جواب دیا،

“اور ڈیڈی نے بھی پی لیا۔”

طلال نے کہا،

“زبردست! شمائل، تمہارا کام اب یہ ہے کہ مس مارٹا کو واپس آنے سے روکو۔ آج رات تمہارے ڈیڈی اور ممی کے درمیان سب بہت اچھا ہونے والا ہے!”

شمائل نے شکی انداز میں پوچھا،

 ” آپ نے ممی کو کس قسم کی دوا دی ہے؟”

طلال نے شرارتی انداز میں مسکرا کر کہا،

 “بچوں کو ایسی باتیں نہیں پوچھنی چاہئیں!”

یہ وہی خاص قسم کی دوا تھی، لیکن ثالث کی مضبوط قوتِ ارادی کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس نے ان کے لیے ایک لگژری اپ گریڈڈ ورژن دیا تھا!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فروین باتھ روم میں نہا رہی تھی جب اس نے اچانک باہر سے کوئی آواز سنی۔ وہ ٹاول اپنے گرد لپیٹے باہر نکلی اور سست روی سے پوچھا،

 ” شمائل، مس مارٹا، کیا آپ واپس آ گئی ہو؟”

بولتے بولتے اس کی نظر صوفے پر بیٹھے ہوئے شخص پر پڑی۔ ثالث فوراً ہی سمجھ گیا کہ کچھ غلط ہے جب اس نے دروازہ بند ہونے کی آواز سنی۔ تھوڑی دیر بعد، جب اسے جسمانی طور پر بے چینی محسوس ہونے لگی، تو وہ کہ اسے زہر دیا گیا تھا۔

نیویارک میں بہت ساری خواتین تھیں جو اس کے قریب آنا چاہتی تھیں، اور سالوں سے انہوں نے مختلف طریقے آزمانے کی کوشش کی تھی۔ ان سب سے بچنا اس کے لیے مشکل تھا۔ چھ ماہ پہلے کی ایک غفلت کے دوران، کسی نے اس کے جسم میں دنیا کی سب سے طاقتور دوا ڈال کر اسے نشے میں مبتلا کر دیا تھا۔

دروازہ بند ہونے کے بعد، جب اس نے باتھروم سے پانی گرنے کی آواز سنی، تو وہ صوفے پر بیٹھ گیا، یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ عورت آخر کیا کرنے والی ہے۔

سچ میں، وہ اس عورت کو زیادہ نہیں سمجھتا تھا لیکن اب دونوں آمنے سامنے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *